Saraiki Rang

Saraiki Rang

Share

Siraiki Adab,culture

16/05/2026

مریم نوازشریف کے لیئے جرائم کے خلاف اور بچی کے تحفظ کا ایک ٹیسٹ کیس

جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا جرائم سکینڈل بے نقاب
اغوا ،پولیس رابطے،لیک کالز اور دبئی کنکشن نے تہلکہ مچا دیا،آڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

مہوش اغوا کیس

اگر ایک کم عمر بچی عدالت میں بیان دے کہ “مجھے اغوا کیا گیا”، عدالت اسے والدہ کے ساتھ بھیج دے، اور پھر اسے دوبارہ اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا جائے… تو سوال صرف ایک کیس کا نہیں بلکہ پوری پنجاب حکومت کے نظامِ انصاف کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔

ذرائع اور سامنے آنے والے کال ریکارڈنگز کے مطابق اس کیس میں نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اور پولیس کے درمیان روابط بے نقاب ہوئے، بلکہ مبینہ طور پر رشوت اور سہولت کاری کے اعترافات بھی سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی الزام سامنے آیا کہ ایک خاتون پولیس افسر نے مسلسل رابطوں کے ذریعے بچی کو مینج کیا، اور بیانات تبدیل کروانے میں کردار ادا کیا، جبکہ نادرہ ریکارڈ کے مطابق بچی اس وقت انڈرایج تھی۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اکرم حجانہ ، جسے ماضی میں سی سی ڈی لاہور گرفتار کر چکی تھی، مبینہ طور پر اسے دبئی بدر ہونے کے لیئے چھوڑ دیا گیا تھا وہی دوبارہ دبئی سے نیٹ ورک کو ہینڈل کرتا رہا ، اور اب اس کی لیک ہونے والی کالز بھی ریکارڈ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
فون کالز میں ڈی جی خان کے بعض پولیس افسران کو رشوت فراہم کرنے اور مزید رقم دینے کی ہدایات بھی دی جارہی ہیں۔

اس وقت مرکزی ملزم شاکر حجانہ قانون کی گرفت میں ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق اس پر سنگین مقدمات اور بھاری مقدار میں منشیات برآمدگی کا کیس بھی درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یادرہے جس سی سی ڈی نے ریکارڈ یافتہ مجرم اور کئی سنگین وارداتوں میں اشتہاری اکرم حجانہ کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے دبئی بھیج دیا تھا وہ اب جنوبی پنجاب خصوصاً ڈویژن ڈی جی خان میں قتل اور جرائم کی بزریعہ فون کاروائیاں کرا رہا ہے اس کی لیک فون کالز اب ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
ایک اور اہم بات یہی اکرم حجانہ اپنے کرائے کے قاتل کو یہ بھی اعترافی کال کر رہا ہے کہ ڈی جی خان میں تو میں CCD کو مینج کر سکتا ہوں لیکن اگر باہر کی سی سی ڈی کہیں سے آگئی تو میرے بس سے باہر ہے(اس میں کوئی شک نہیں ڈی جی خان میں اس کے سہولت کار اور نرم گوشہ رکھنے والے دوست موجود ہیں)
اب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے ایوانوں میں بھی گونج رہا ہے۔
دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ ڈی جی خان پولیس ان جرائم پیشہ اور ریکارڈ یافتہ مجرموں کو کب تک اپنے سینے سے لگا کر رکھتی ہے

عوام مطالبہ کرتی ہے کہ:

• تمام لیک کالز کی فرانزک تحقیقات ہوں۔
• ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کی جائے۔
• متاثرہ بچی اور خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
• سی سی ڈی اور اعلیٰ ادارے دہری نگرانی کے ساتھ نیٹ ورک کی تحقیقات کریں۔

اگر اس کیس میں بھی انصاف نہ ہوا تو عوام کا قانون پر اعتماد مزید مجروح ہوگا۔

14/05/2026

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

03/05/2026

🌸✨زبان خلق

قابلِ رشک پولیس آفیسر — ابرار خان برمانی

کچھ لوگ عہدے سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں…
اور ابرار خان برمانی انہی میں سے ایک ہیں۔

ابتداء میں ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، مگر ایک معاملے میں جب ان کی صلاحیت، لوگوں سے روابط اور اندازِ گفتگو سامنے آیا تو اندازہ ہوا کہ یہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، شریف النفس اور غیر معمولی سوچ رکھنے والے پولیس آفیسر ہیں۔

براہِ راست گفتگو نے ایک اور حقیقت واضح کی—
یہ صرف ایک آفیسر نہیں، بلکہ ایک سوچ ہیں۔
میرٹ، دیانت اور انسانیت ان کی پہچان ہے۔

ان کی سروس کا ریکارڈ خود گواہی دیتا ہے کہ
روایتی “تھانیداری” سے ان کا کوئی تعلق نہیں…
یہ نظام بدلنے والے لوگوں میں سے ہیں، نہ کہ اس کا حصہ بننے والے۔

ایسے افسر کم ملتے ہیں جو
اختیار کو طاقت نہیں، ذمہ داری سمجھیں
اور عوام کو کیس نہیں، انسان سمجھیں۔

ایسے لوگ واقعی قابلِ رشک بھی ہوتے ہیں اور قابلِ فخر بھی۔

سلام ہے ابرار خان برمانی جیسے انسان دوست آفیسر کو۔
لہذا "ڈھینگریوں سے بچ کے،ڈھینگریوں سے بچا کے"
سمجھ تاں گئے ہوسو

کھری گالھ ڈاکٹر عثمان دے نال

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Dubai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

JLT Dubai
Dubai