UBL
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from UBL, Investment Management Company, Cairo.
19/08/2020
Happy islamic new year
#1442
إنا لله وإنا إليه راجعون
30/05/2020
#تجارت
اصلی اور نسلی تاجر
کہتا ہے: چالیس سال گزر گئے ہیں اس بات کو، لیکن مجھے آج بھی اس دکاندار اور اس دکاندار کے بیٹے کی شکل ہر زاویئے سے یاد ہے۔
جیسے ہی میرا مڈل سکول کا نتیجہ اخباروں میں چھپا، میرے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ حالانکہ میں نے کوئی معرکہ بھی نہیں مارا تھا۔ بس آٹھویں جماعت کو فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تھا۔ لیکن مجھے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا کہ اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔
دوسرے دن میں نے منصوبہ بنایا کہ اپنے قصبے "سویداء" سے "دمشق" جا کر سیر کر کے آتا ہوں۔ میرے لیئے امتحان میں پاس ہونے کا اس سے بڑا جشن نہیں ہو سکتا تھا۔ میری جیب میں ایک "لیرے" کا سکہ تھا اور پانچ لیرے کا کڑکتا نوٹ۔ میں نے سیدھا بس کے اڈے پر جا کر دم لیا۔ بس والے نےسکے والا ایک لیرا کرایہ لے لیا، باقی کے پانچ لیرے میرے جیب میں موجود تھے۔ میں نے منصوبہ بنا لیا تھا کہ ان پیسوں سے دمشقی مٹھائی گھر لے کر جاؤنگا اور مزے کرونگا۔ میرا شامی کیک خریدنے کا تو پکا ارادہ تھا۔
دمشق کے بازار ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت۔ الصالحیہ بازار اور الحمیدیہ بازار کی تو کیا ہی بات تھی۔ وہیں جابی گیٹ کے پاس مجھے مٹھائی کی ایک بڑی دکان نظر آئی۔ میں نے اندر جا کر دکاندار سے، جس کے پہلو میں اس کا ایک بیٹا بھی بیٹھا ہوا تھا، کلو کیک، کلو برازق اور ایک کلو غُرائیبہ مانگا۔ لیکن جیسے ہی پیسے دینے کیلیئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب خالی تھی، میرے پانچ لیرے جیب میں نہیں تھے۔
میری حالت دیدنی تھی اور شاید میرے چہرے سے یاسیت بھی نظر آ رہی ہو گی۔ میں نے دکاندار سے معذرت کرتے ہوئے کہا: جناب، میں کچھ دیر بعد آوںگا اپنا سامان اٹھانے کیلیئے۔
دکاندار نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا اور کہا
پیسے گھر بھول آئے ہو؟
میں نے کہا:
نہیں پیسے تو میری جیب میں ہی تھے۔ پورے پانچ لیرے کا ایک ہی نوٹ تھا،
کدھر رہتے ہو؟ دکاندار نے پوچھا۔
سویداء میں رہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا۔
اچھا، ادھر آؤ، پہلے ذرا بیٹھ لو، تھوڑا آرام کرو۔
پھر اس نے چائے کا ایک کپ مجھے بھر کر پکڑاتے ہوئے کہا؛ میرے بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیو۔
اتنی دیر میں دکاندار نے جو میرا سامان تول کر رکھا تھا، لفافوں میں پیک کر کے مجھے دیتے ہوئے کہا: یہ لو تمہارا سامان، جب کبھی دوبارہ دمشق آنا تو پیسے دے جانا۔
میں نے انکار کرتے ہوئے کہا: سیدی ، میں نے اتنی جلدی دوبارہ دمشق نہیں آنا۔ اور پھر یہ چیزیں کوئی ضروری بھی نہیں ہیں۔ معذرت کے ساتھ، میں اب یہ نہیں خریدنا چاہتا، آپ رہنے دیجیئے۔ آپ کا شکریہ۔
دکاندار نے کہا: بیٹے، تم دمشق ضرور آؤ گے۔ اور مجھے یہ بھی پورا یقین ہے کہ تم میرے پیسے بھی ضرور واپس کروگے۔
اور اس کے ساتھ ہی دکاندار نے اصرار کر کے مجھے سامان اٹھوا دیا۔
میں سامان لیکر شرمندہ شرمندہ دکاندار اور اس کے بیٹے کو سلام کر کے باہر نکلا۔ ابھی چند قدم ہی دور گیا ہونگا کہ دکاندار کا بیٹا مجھے پیچھے سے آوازیں دیتا ہوا دکھائی دیا۔
میں رک گیا، دکاندار کے بیٹے نے مجھۓ آ کر بتایا کہ ابو کو تمہارے پانچ لیرے دکان میں گرے ہوئے مل گئے تھے۔ لگتا ہے تم نے جب جیب میں ہاتھ ڈالا ہوگا تو نیچے گر پڑے ہونگے۔
ابو نے اپنی مٹھائیوں کے پیسے کاٹ لیئے ہیں اور یہ رہے تمہارے باقی کے پیسے۔
میری خوشی دیدنی تھی۔ کہاں میں ادھار کے بوجھ تلے دبا یہ سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ چلو سامان تو ٹھیک ہے مگر سویداء جانے کا کرایہ کس سے مانگوں گا۔ اور کہاں اب یہ ادھار چکتا ہو گیا تھا، کسی کے آگئے ہاتھ پھیلائے بغیر کرائے کے پیسے نکل آئے تھے اور میں ہلکا پھلکا ہو چکا تھا۔
میں نے دکاندار کے بیٹے کا شکریہ ادا کیا۔ اسے اپنے ابو کو جا کر میری طرف سے شکریہ ادا کرنے کا کہا، باقی کے پیسے جیب میں ڈالے اور اڈے کی طرف چل پڑا۔
گھر جا کر کپڑے تبدیل کرنے کیلیئے میں نے جیسے ہی اپنی پرانی والی پتلون پہنی تو مجھے اپنے پانچ لیرے کا نوٹ اسی کی جییب میں مل گیا۔
ابا جی کو ساری قصہ کہہ سنایا۔ سن کر مسکرا دیئے اور کہنے لگے۔
پُتر، یہ لوگ شام کے تاجر ہیں۔ جدی پشتی تجارت پیشہ لوگ۔ ان کو انسانیت کے سارے معانی اور مطلب آتے ہیں۔ بہر حال پانچ لیرہ تیرے اوپر قرض ہے۔ اپنی امی سے کہہ، کل پرسوں تجھے میٹھے ڈھوڈھے بنا دے، ہماری طرف سے ھدیہ لیتا جا، پانچ لیرہ قرض بھی اتارنا، ہماری طرف سے شکریہ ادا کرنا اور ہماری طرف سے سلام بھی کہنا۔
اگلے ہفتے میں نے امی سے میٹھی روٹیاں پکوا کر، اور پانچ لیرہ قرضہ چکانے کیلیئے لیکر دمشق کی راہ لی۔
دکاندار نے جیسے ہی مجھے دیکھا، ہنس دیا اور کہنے لگا: میں نہیں کہتا تھا کہ تو جلد ہی دمشق واپس آئیگا۔ یہ ایک کلو ھریسہ میری طرف سے واپس لیتے جانا اور سویداء کے لوگوں کو میرا سلام کہہ دینا۔
کہتا ہے: آج بھی جب میں کسی تاجر کو دیکھتا ہوں تو دل فوراً ہی نسلی تاجر اور فصلی تاجر کا موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔“
01/05/2020
1st May
Day
12/02/2020
100 سال بھی رہیں، لگنا آپ کا اقامہ ہی ہے۔۔۔!
بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں سے چند اہم گذارشات:
1. اپنی صحت و خوراک و لباس کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ایک تو آپ کی جان کا آپ پہ پہلا حق ھے، دوسرا پاکستان میں پیسے کبھی پورے نہیں ھوتے!
2۔ آمدن میں سے بچت کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور الگ کریں، اخراجات سے پہلے۔ کیونکہ اخراجات کے بعد کبھی بچت نہیں ھوتی۔ لیکن اس بچت کا مطلب اپنی ذات اور گھر والوں پہ ظلم ہرگز نہیں!
3۔ اپنی رشتہ داریوں کا حلقہ انہی لوگوں تک محدود رکھیں جو آپ کے برے وقت کے ساتھی رہے۔ نکمی کھڑپینچی کیلئے خواہ مخواہ اپنے پاوں نہ پھیلائیں، ورنہ سال یا دو سال بعد پاکستان جا کر اپنی فیملی و بچوں کو وقت نہیں دے سکیں گے۔
4۔ کسی آسمانی صحیفے میں نہیں لکھا کہ کے ساتھ آپ نے
5پلاٹ و کوٹھی کے چکر میں خود کو ہلکان نہ کریں، جتنے وسائل ہیں اس میں آسانی سے جو بنا سکتے ہیں بنا لیں
5 مرلہ کا مکان میاں بیوی اور 2 بچوں کیلئے کافی ہے
باہر کمپنیوں اور بنکوں سے قرضے لیکر پاکستان میں کوٹھی صرف رشتہ داروں کی بلے بلے یا شریکوں کو ساڑنے کیلئے بنانا کون سی عقل مندی ھے، جب کہ خود نہ اچھا کھانا، نہ مناسب پہننا!
6۔ پاکستان میں اپنے گھر والوں کو اپنی آمدن اور وسائل بارے صاف صاف بتا دیں، تا کہ وہ کویت ٹاورز اور الحمرا ٹاورز کے ساتھ آپ کی تصویریں دیکھ آپ کے بارے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ھوں۔ پاکستان میں بیٹھے اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جو باہر بیٹھے ہیں، پیسوں کی تو ان کو کوئی کمی ھو ہی نہیں سکتی!
7۔ پاکستان میں ماہانہ اخراجات ایک شیڈول کے مطابق بھیجیں ورنہ ہمیشہ ذہنی دباو کا شکار رہیں گے۔ اگر آپ ماہانہ 50 ہزار گھر بھیجتے ہیں، تو تجربے کے طور ایک مہینے لاکھ روپے گھر بھیج کر دیکھ لیں، اگلے مہینے پاکستان سے آپ کو کوئی فون نہیں کرے گا کہ اس مہینے پیسے نہ بھیجیں، پچھلے مہینے آپ نے ڈبل بھجوا دئیے تھے! و علی ھذا القیاس؟
8۔ پلاٹوں کی تعداد کے بجائے اپنے بچوں کی تعلیم پہ توجہ دیں، اچھی جگہ پڑھائیں اور ان کے سکول کی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں۔ ان سے ان کی سکول کی سرگرمیوں بارے بات کریں۔ یہ نہیں کہ صرف بیگم سے گفت و شنید ھو رہی ھو!
9۔ پاکستان جائیں تو واجب نہیں کہ ائیرپورٹ پہ ایک فلائنگ کوچ بیس بندوں کے ساتھ آپ کو لینے آئے اور واپسی پہ اتنے ہی چھوڑنے آئیں۔ اور کئی جگہ تو یہ بھی دیکھا کہ خاندان کی ولیمہ نما دعوتیں ھو رہی ہیں۔ اس کے بجائے اگر ارد گرد کوئی ایسا بچہ یا بچی ہے جسکی تعلیم میں مالی مسائل حائل ہیں، تو اس کی مدد کر دیں۔
10 آخری بات، اپنے اہداف مقرر کر لیں کہ آپ نے وہ حاصل کر کے پاکستان واپس جانا ھے وہ بھی
اگر آپ مڈل ایسٹ میں ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ کا یہاں لانگ ٹرم کوئی مستقبل ہے
گی
منقول
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
1000000