Afzal Ahmed Raja

Afzal Ahmed Raja

Share

#THERE IS NO DOUBT AT ALL #ISLAM IS A RELIGION OF PEACE /#ISLAM IS A RELIGION OF MANNERS AND MORAL VALUES .

25/05/2026

دوستو! صدیوں سے خواتین کے لیے بولے جانے والے جملے اگر مردوں کے لیے استعمال کیے جائیں تو وہ کچھ یوں ہوں گے:
*بھئی مرد ہو تو تھوڑا جھکنا بھی سیکھو، ہر بات میں انا اچھی نہیں لگتی۔
*زیادہ پڑھا لکھا مرد بھی گھر خراب کر دیتا ہے، پھر بات نہیں مانتا۔
*مرد کا اصل زیور شرم اور خاموشی ہے۔
*اگر بیوی ڈانٹ دے تو مرد کو صبر کرنا چاہیے، آخر گھر بچانا بھی تو اُس کی ذمہ داری ہے۔
*ہر کامیاب عورت کے پیچھے ایک خاموش اور برداشت کرنے والا مرد ہوتا ہے۔
*مرد رات گئے باہر رہے تو کردار پر سوال تو اٹھیں گے نا۔
*اچھے مرد وہی ہوتے ہیں جو بیوی کے ہر فیصلے پر بس سر ہلا دیں۔
*مرد کو زیادہ آزادی دے دو تو ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
*مرد کی آواز گھر سے باہر نہیں جانی چاہیے۔
*بیوی اگر فون چیک کر لے تو مرد کو برا نہیں ماننا چاہیے، وہ فکر ہی تو کرتی ہے۔
*تھوڑی بہت مار پیٹ تو محبت میں چلتی ہے، مرد اتنا بھی نازک نہ بنے۔
*طلاق یافتہ مرد میں ضرور کوئی کمی ہوتی ہوگی، اچھی بیوی گھر چھوڑ کر نہیں جاتی۔
*مرد کو اپنی خواہشات مارنا سیکھنا چاہیے، اصل عزت اسی میں ہے۔
*زیادہ بولنے والے مرد ویسے بھی اچھے نہیں لگتے۔
*مرد اگر کمائے بھی تو اصل فیصلہ بیوی کا ہی ہونا چاہیے، آخر گھر وہ چلاتی ہے۔

(ماریہ صدف)

25/05/2026

رسول اللہ ﷺ کا فرمان: “جو کسی کو نقصان پہنچائے گا، اللہ اس کا نقصان کر دے گا...”
حدیث کی روشنی میں میڈیکل، نفسیاتی اور سماجی تحلیل_
ڈاکٹر طارق حسین سومرو، فیملی فزیشن، لاڑکانہ 0345-3854833

1. حدیث کا متن اور سند
عربی:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ»
اردو ترجمہ:
“جو کسی کو نقصان پہنچائے گا، اللہ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی کو مشکل میں ڈالے گا، اللہ اس پر سختی کرے گا۔”
حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 2342، شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے۔
مطلب سادہ: یہ قانونِ مکافاتِ عمل ہے۔ تم جو بوؤ گے، وہی کاٹو گے۔ ظلم کا بیج بولو گے تو ذلت کی فصل کاٹو گے۔
2. میڈیکل سائنس کیا کہتی ہے؟ — “ظالم کا جسم خود اسے سزا دیتا ہے”
جب انسان کسی کو ناحق تکلیف دیتا ہے، تو اس کا جسم فوراً ردعمل دیتا ہے:
ظلم کا اثر جسم پر میڈیکل نقصان .
1. دل پر High BP, Heart Attack ظلم کرتے وقت Cortisol اور Adrenaline 300% بڑھ جاتے ہیں۔ شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔
2. دماغ پر Insomnia, Anxiety, Depression رات کو ضمیر جاگتا ہے۔ “میں نے غلط کیا” یہ سوچ نیند مار دیتی ہے۔
3. مدافعت پر بار بار انفیکشن، کینسر رسک بڑھنا دائمی غصہ اور جھوٹ Immune System کو مار دیتا ہے۔
4. چہرے پر چہرے کا نور ختم، آنکھوں کے نیچے کالے حلقے گناہ کا داغ چہرے پر نظر آتا ہے۔ اسے “نور کا چھن جانا” کہتے ہیں۔
مثال: لاڑکانہ میں ایک وڈیرہ تھا۔ 20 سال غریبوں کی زمین کھاتا رہا۔ 55 سال کی عمر میں فالج ہوا۔ ڈاکٹر نے کہا: “آپ کا BP 20 سال سے 200/120 ہے۔ غصہ اور ظلم نے رگ پھاڑ دی”۔
حدیث سچ ثابت ہوئی: “من ضار ضار اللہ بہ”
3. نفسیاتی پہلو “ظالم سب سے بڑا قیدی ہوتا ہے”
ظالم باہر سے آزاد نظر آتا ہے، مگر اندر سے 3 جیلوں میں قید ہوتا ہے:
1. خوف کی جیل. ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کوئی بدلہ لے گا۔
2. تنہائی کی جیل: کوئی مخلص دوست نہیں ہوتا۔ سب مطلب کے لیے ہوتے ہیں۔
3. ضمیر کی جیل: رات کو سوتے وقت اپنے ہی گناہ آنکھوں میں ناچتے ہیں۔
نفسیات اسے “Moral Injury” کہتی ہے۔ جب انسان اپنی فطرت کے خلاف چلتا ہے، تو روح بیمار ہو جاتی ہے۔
جبکہ مظلوم رات کو سکون سے سوتا ہے۔ کیونکہ اس کا دل صاف ہے۔
حدیث کا دوسرا حصہ یہی کہتا ہے: “من شاق شاق اللہ علیه” جو دوسروں کو مشکل میں ڈالے، اللہ اس کی زندگی تنگ کر دے گا۔
4. اسلام کا نظام رحمت، آسانی، حسنِ سلوک
یہ حدیث صرف ڈرانے کے لیے نہیں، سیدھا راستہ دکھانے کے لیے ہے:
اگر تم نرمی کرو گے تو:
1. دنیا میں: لوگ تمہارا احترام کریں گے، کاروبار میں برکت ہوگی، دل مطمئن رہے گا۔
2. آخرت میں: اللہ تم پر آسانی کرے گا۔ حدیث: “جس نے کسی مسلمان کی مشکل آسان کی، اللہ قیامت کے دن اس کی مشکل آسان کرے گا”۔
اگر تم سختی کرو گے تو:
1. دنیا میں: لوگ بددعا دیں گے، رشتے ٹوٹیں گے، سکون ختم ہوگا۔
2. آخرت میں: اللہ تم پر سختی کرے گا۔ الجزاء من جنس العمل بدلہ عمل کے مطابق۔
5. عملی سبق آج سے کیا کرنا ہے؟
3 کام روز کرو:
1. معاف کرو: جس نے تمہارا نقصان کیا، اسے دل سے معاف کرو۔ یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔
2. آسانی پیدا کرو: اگر کوئی مریض کلینک پر ہے، اس سے 5 روپے کم لو۔ اگر کوئی سائل ہے، مسکرا کر جواب دو۔
3. ظلم دیکھو تو روکو: خاموش رہنا بھی ظلم میں شرکت ہے۔ حدیث: “ظالم کا ہاتھ پکڑو”۔
یاد رکھو:
تمہارا ایک نرم لفظ کسی کا دل بچا سکتا ہے۔
اور تمہارا ایک ظلم کسی کی زندگی برباد کر سکتا ہے۔
خلاصہ قبر کا حساب
قبر میں فرشتے نہیں پوچھیں گے:
“تم نے کتنے لوگوں کو جھکایا؟”
وہ پوچھیں گے:
“تم نے کتنے لوگوں کے لیے آسانی کی؟”
جو دوسروں کے لیے آسانی بنے، اللہ اس کے لیے جنت آسان کر دے گا۔
جو دوسروں کے لیے مشکل بنے، اللہ اس کی قبر تنگ کرday gah

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Coventry?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Coventry
CV21BX