Iqtebaas

Iqtebaas

Share

Iqtebaas • इक़्तिबास • اقتِباس is your go-to destination for timeless quotes and deep insights. Join us in celebrating the power of words.

29/04/2026

Bechain bahut firna, ghabraye huye rahna.
Ek aag si jazbon ki, dahkaye huye rahna....!

28/04/2026

‏ایک زمین/ ردیف پر آٹھ غزلیں پڑھیں

شام تک صُبْح کی نظروں سے اُتر جاتے ہیں
اِتنے سمجھوتوں پہ جِیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

ہم تو بے نام اِرادوں کے مُسافر ٹھہرے
کچھ پتا ہو تو بتائیں کہ کِدھر جاتے ہیں

گھر کی گِرتی ہُوئی دِیوار ہے ہم سے اچھّی
راستہ چلتے ہُوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں

اِک جُدائی کا وہ لمحہ، کہ جو مرتا ہی نہیں
لوگ کہتے تھے سبھی وقت گُزر جاتے ہیں

پھر وہی تلخئ حالات مُقدّر ٹھہری
نشے کیسے بھی ہوں کُچھ دِن میں اُتر جاتے ہیں

وسیم بریلوی
===========

جب کبھی ہم ترے کوچے سے گزر جاتے ہیں
لوحِ ادراک پہ کچھ اور ابھر جاتے ہیں

حسن سے لیجئے تنظیمِ دو عالم کا سبق
صبح ہوتی ہے تو گیسو بھی سنور جاتے ہیں

ہم نے پایا ہے محبت کا خمارِ ابدی
کیسے ہوتے ہیں وہ نشے کہ اتر جاتے ہیں

اتنے خائف ہیں مے و مہ سے جنابِ واعظ
نامِ کوثر بھی جو سنتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں

مے کدہ بند، مقفل ہیں درِ دَیر و حرم
دیکھنا ہے کہ شکیلؔ آج کدھر جاتے ہیں

شکیل بدایونی
===============

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

چھت کی کڑیوں سے اُترتے ہیں مرے خواب مگر
میری دیواروں سے ٹکراکے بکھر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

راسته روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے
کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

نرم آواز، بھلی باتیں، مہذب لہجے
پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اُتر جاتے ہیں

جاوید اختر
========================

شکیل جمالی

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں

موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج
اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے
لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں

پاؤں میں اب کوئی زنجیر نہیں ڈالتے ہم
دل جدھر ٹھیک سمجھتا ہے ادھر جاتے ہیں

کیا جنوں خیز مسافت تھی ترے کوچے کی
اور اب یوں ہے کہ خاموش گزر جاتے ہیں

یہ محبت کی علامت تو نہیں ہے کوئی
تیرا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نادر لکھنوی
سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیں
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں

لاکھوں کا خون بہائیں گے وہ جب ہوں گے جواں
جو لڑکپن میں لہو دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

جنبش تیغ نگہ کی نہیں حاجت اصلاً
کام میرا وہ اشاروں ہی میں کر جاتے ہیں

ان کو عشاق ہی کے دل کی نہیں ہے تخصیص
کوئی شیشہ ہو پری بن کے اتر جاتے ہیں

برق کی طرح سے بیتاب جو ہیں اے نادرؔ
تار گھر کس کی وہ لینے کو خبر جاتے ہیں

==≠===================

احمد نثارؔ

ہم بھی گمنام کسی نام پہ مرجاتے ہیں
اور مر کر بھی تِرا نام ہی کر جاتے ہیں

جانے کس نام سے رشتوں کو نبھانا ہے ہمیں
اور کس نام سے ایام گذر جاتے ہیں

وقت کی شام کسی نے نہیں دیکھی لیکن
شام کا وقت تِرے نام ہی کر جاتے ہیں

جس طرف جاکے کوئی لوٹ کے آیا ہی نہیں
جانے کیوں لوگ اسی راہ گذر جاتے ہیں

اپنی منزل کا پتہ پوچھتے پھرتے پھرتے
جانے کس راہ پہ جانا تھا کدھر جاتے ہیں

زیست کو زیست کی صورت نہیں دیکھی ہم نے
چاہت ِ زیست لیے جیتے ہیں مر جاتے ہیں

میرے اندر بھی کئی موج ابھر تے ہیں نثارؔ
جانے کیوں کر میرے اندر ہی اتر جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حبسِ دنیا سے گزر جاتے ہیں
ایسا کرتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے؟
ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں

دل جو ٹوٹے تو سرِ محفل بھی
بال بے وجہہ بکھر جاتے ہیں

اب نہ دیکھو میری بنجر آنکھیں
چڑھتے دریا تو اتر جاتے ہیں

دھوپ کا روپ رچانے والے
شام کو اور نکھر جاتے ہیں

اب نہ مڑ مڑ کر پکارو ان کو
لوگ رستے میں ٹھہر جاتے ہیں

خالی دامن سے شکایت کیسی؟
اشک آنکھوں میں تو بھر جاتے ہیں

تم کہاں جاؤ گے سوچو محسنؔ؟
لوگ تھک ہار کے گھر جاتے ہیں...!

محسنؔ نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پِلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عباس تابش

اگر یہ کاوش پسند آئے تو کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔

02/03/2026

जब भी ज़मीर ओ ज़र्फ़ का सौदा हो दोस्तो
क़ायम रहो हुसैन के इन्कार की तरह
~अहमद फ़राज़

बहादुरी को सलाम!!!

22/10/2025

احمد فراز کا فیض صاحب کو شاندار خراج تحسین

قلم بدست ھوں حیران ھوں کہ کیا لکھوں
میں تیری بات کے، دنیا کا تذکرہ لکھوں

لکھوں کہ تُو نے محبت کی روشنی لکھی
ترے سخن کو ستاروں کا قافلہ لکھوں

جہاں یزید بہت ھوں حسینؓ اکیلا ھو
تو کیوں نہ اپنی زمیں کو بھی کربلا لکھوں

ترے بغیر ھے ھر نقش، نقشِ فریادی
تو پھول دستِ صبا پر ہے آبلہ لکھوں

مثالِ دستِ تہہِ سنگ تھی وفا ان کی
سو کس طرح انہیں یارانِ با صفا لکھوں

حدیثِ کوچۂ قاتل ھے نامۂ زنداں
سو اس کو قصۂ تعزیرِ ناروا لکھوں

جگہ جگہ ھیں صلیبیں مرے دریچے میں
سو اسمِ عیسیٰ و منصور جا بجا لکھوں

گرفتہ دل ھے بہت شامِ شہر یاراں آج
کہاں ھے تُو کہ تجھے حالِ دلبرا لکھوں

کہاں گیا ھے مرے دل مرے مسافر تُو
کہ میں تجھے رہ و منزل کا ماجرا لکھوں

تو مجھ کو چھوڑ گیا لکھ کے نسخہ ھائے وفا
میں کسطرح تجھے اے دوست بے وفا لکھوں

شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ھیں
خدا نکردہ کہ میں تیرا مرثیہ لکھوں

احمد فراز

21/10/2025

✍️Faiz Ahmad Faiz 🥀 "Kuch Ishq kia, kuch kaam kia"
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
(فیض احمد فیض)

12/10/2025

ہر شخص کی نظر میں وہ محبوب ہو گئے،
جو لوگ تیری ذات سے منسوب ہو گئے۔

سب اپنی مصلحت کے پرستار تھے اور ہم،
اپنی انا کے دار پہ مسلوب ہو گئے۔

تیرا خیال، تیرا تصور ہے زندگی،
ہم جیسے تیری یاد میں مجذوب ہو گئے۔

تم وجہِ زندگی ہو کسی اور کے لیے،
ہم تو غمِ حیات کے مطلوب ہو گئے۔

تم کھو گئے یوسفِ بے مصر کی طرح،
ہم بھی فغاں و گریۂ یعقوب ہو گئے۔

Har shakhs ki nazar mein wo mahboob ho gaye,
Jo log teri zaat se mansoob ho gaye.

Sab apni maslehat ke parastaar the aur hum,
Apni anaa ke daar pe masloob ho gaye.

Tera khayal, tera tasawwur hai zindagi,
Hum jaise teri yaad mein majzoob ho gaye.

Tum wajah-e-zindagi ho kisi aur ke liye,
Hum to gham-e-hayat ke matloob ho gaye.

Tum kho gaye Yusuf-e-be-Misr ki tarah,
Hum bhi fighan o giriya-e-Yaqub ho gaye






Share your valuable views in comment box below.
چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو سبسکرائب ضرور کردیں
جزاک اللہ خیراََ

https://youtu.be/Z61OBmLxy94?si=-Y812FbUWErzb1ku

Link to Follow:
https://www.facebook.com/iqtebaaas/
https://www.instagram.com/iqte.baas/
https://www.youtube.com//

20/09/2025

زمانے بھر کی ہر ایک نعمت، اُنہیں کے صدق خدا نے دی ہے۔
گر اُنکے عزت پر حرف آیا ، ہم اپنی عزت کا کیا کرینگے۔

15/09/2025

عرفان ستار

13/09/2025

रोज़ तारों को नुमाइश में ख़लल पड़ता है
चाँद पागल है अँधेरे में निकल पड़ता है

एक दीवाना मुसाफ़िर है मिरी आँखों में
वक़्त-बे-वक़्त ठहर जाता है चल पड़ता है

अपनी ताबीर के चक्कर में मिरा जागता ख़्वाब
रोज़ सूरज की तरह घर से निकल पड़ता है

रोज़ पत्थर की हिमायत में ग़ज़ल लिखते हैं
रोज़ शीशों से कोई काम निकल पड़ता है

उस की याद आई है साँसो ज़रा आहिस्ता चलो
धड़कनों से भी इबादत में ख़लल पड़ता है

राहत इंदौरी

Hudakchullu Exposed: The Truth They’ll Never Show You on TV | Sameer Siddiqui Sir IAS Coach #shorts 11/09/2025

:P

Hudakchullu Exposed: The Truth They’ll Never Show You on TV | Sameer Siddiqui Sir IAS Coach #shorts What if the biggest floods, broken bridges, and villages washed away never make it to your TV screen?What if all you’re shown is fear, hate, false pride, and...

Want your business to be the top-listed Media Company in Azamgarh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Jahanaganj
Azamgarh
276131