Islamic knowledge

Islamic knowledge

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic knowledge, Education, Lucknow.

21/08/2024

_______کرناٹک مناظرہ اور تاج الفقہا______

ازــــــــــ محمد ذاکر (جامعہ علیمیہ جمدا شاہی، بستی)
حضور تاج الفقہا، مصنف کتب کثیرہ، معتمد حضور محدث کبیر، خلیفۂ تاج الشریعہ علامہ الشاہ مفتی *محمد اختر حسین علیمی* صاحب قبلہ کی ذات بابرکات محتاج تعرف نہیں، ہندوستان کے قد آور علما میں آپ اپنی مثال آپ ہیں، چاہے وہ تحریر، تقریر، درس و تدریس ،فقہ و فتاوی، مناظرہ کا میدان ہو، ہر اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں، کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں حضرت نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا نہ منوایا ہو، آیے دن حضرت فتنۂ رافضیت ،خارجیت، منھاجیت وغیرہ کے رد میں سرگرم دیکھائی دیتے رہتے ہیں، ایسے ہی گزشتہ چند ایام سے کرناٹک کی سرزمین پر ایک فتنہ پرور سربلند کرنے کی کوشش کرہا تھا، جس کا سر کچلنا نہایت ہی ضروری تھا، اسی دم علماے کرناٹک نے تاج الفقہا سے رابطہ کیا اور حالات سے آگاہ کیا تو حضرت نے اتوار کے دن کلاس ختم ہونے کے بعد کرناٹک کے فتنہ کو اپنے آخری انجام تک پہنچانے کی خاطر رخت سفر باندھ لیا-

اس سے قبل مفتی صاحب قبلہ نے بہت سے مناظروں میں باطل کو ایسی شکست فاش دیتے رہے ہیں،کہ ان کے شہر میں جاکر دن میں تارے دیکھاے ہیں ، اسی طرح ایک مرتبہ پھر کرناٹک سے مسلسل لوگوں کے عقائد کو خراب کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی تھی لیکن شاید وہ یہ بھول گئے تھے کہ حق کھبی مغلوب نہیں ہوتا، وہ اپنے بل میں ہی یہ سمجھ رہے تھے ہم سے بڑھ کر کوئی ہے ہی نہیں، وہ اسی خواب غفلت میں اوندھےجارہے تھے، تبھی فاتح رافضیت و وہابیت علامہ الشاہ *مفتی اختر حسین علیمی* صاحب کی (دارالعلوم علیمیہ جمدا ،شاہی بستی سے) کرناٹک کی طرف روانگی ہوتی ہے، حضرت مناظرہ کرنے کے لیے تشریف لے گے تھے، کہ باطل کے ایوانوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے لگے، یوں لگا کرناٹک کی سر زمین پر کوئی سلطان محمود غزنوی کا چاہنے ولا آگیا ہے، اب کی بار بت ہی نہیں تمام باطل اپنے کیفرکردار کو پہنچنے والے ہیں، حضرت کے وہاں پہنچتے ہی ایک مرتبہ پھر رافضیت میں کرونا پھیل گیا کہ خود سامنے آنے سے ہی انکار ہوگے آخر چار و ناچار کسی دوسرے کو بھیجا لیکن کیا نا کہ جن کے قائدین راہ فرار اختیار کرلیں تو باقیوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے، خیر تین گھنٹے کی گفتگو ہوئی جس میں سامنے بیٹھے مد مقابل کے بس کی بات ہی نہیں تھی، کہ وہ گفتگو کرے، ایک تو اس لیے کہ تاج الفقہا کے علم کے سامنے اس کی حیثیت ہی کیا تھی، دوسرا اس لیے کہ جاء الحق و زہق الباطل-اس سفر سعید میں حضرت کے ہمراہ ان کے شاگرد رشید حضرت علامہ *مفتی شہزاد عالم مصباحی* صاحب قبلہ بھی موجود تھے -

الحمد للہ! حضور مفتی صاحب قبلہ ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر ظفر یاب ہوکر لوٹے تو طلبہ و محبان مسلک و تاج الفقہا، ان کے استقبال کے لیے صف بستہ صبح کے وقت گھر کے سامنے موجود تھے، لوگ شیفتہ ہوے جارہے تھے، چہرۂ پرنور کی زیارت سے مشرف ہورہے تھے، آج ان کا ڈول ڈال قابل رشک تھا، حضرت کے رعب و دبدبہ کا عالم یہ ہوتا ہے، کہ بڑے بڑے جیوٹ بھی نظر ملانے کی تاب نہیں رکھتے، لیکن شفقت کا عالم یہ ہے، کوئی بھی بے تکلف بات چیت کرسکتا ہے، آج صبح کی فضا کچھ الگ ہی تھی، استاد محترم کے گھر کے سامنے طلبہ کا جم غفیر تھا، ہاتھوں میں پھول لیے، استقبال کے لیے پرامید، اس تاریخی فتح نے طلبہ کے دلوں پر محبت استاد کو اتنا بڑھایا جو آسمان کو چھو رہی تھی، طلبہ کی آپ سے حد درجہ محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن آج وہ اور بھی دل آویز تھی بادشاہوں کی طرح اس بادشاہ ہر دل عزیز کو نعراے تکبیر و رسالت کی صداؤں میں دار العلوم علیمیہ کے صحن تک لاے، پھر حضرت نے ارشاد فرمایا کہ "آپ لوگ سلام پڑھنے چلیں" جن کے نام پر طلبہ شیدا ہوں، وہ ان کے حکم کو کتنی اہمیت دیتے ہونگے؟ سب طلبہ سلام پڑھنے کے لیے چل پڑے -

اللہ تعالیٰ اس مرد مجاہد و داعی حق کو سلامتی والی زندگی عطا فرماے،ان کے فیوض برکات سے ہم سب کو منور فرماے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماے -

ازــــــــــ محمد ذاکر (جامعہ علیمیہ جمدا شاہی، بستی)

Want your school to be the top-listed School/college in Lucknow?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Lucknow