Arkan-e-Adab
فروغ ادب کے لئے
21/08/2024
قسط 1
مُرشد کا پان
✒ جمیل اختر شفیق
مرشد میاں حاجی ظہور کی سب سے اہم ترین خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے مکروہ سے مکروہ ترین عمل پہ بھی ایسا تقدّس کا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ سماعتیں بِلبلا اُٹھتی ہیں، مجھے مرشد کی پُراسرار گفتگو سُن کر بعض دفعہ یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ بد قسمتی سے اگر وہ کسی نیم مولوی کے ہتّھے چڑھ گئے تو آسمانِ اسلام سے ارضِ کفر پہ بےرحمی سے کب پھینک دیے جائیں گے کوئ ٹھکانہ نہیں -
میں نے ایک روز بصد احترام عرض کیا حضور! آپ پان کثرت سے نوش فرماتے ہیں، دانت سے جھانکتی ہوئ غلاظت، منہ سے آنے والی متنوع قسم کی مہک سے بہت اُبکائ آتی ہے، آپ کے شگفتہ اور حسین چہرے پہ اِس نشہ کا سایہ یوں معلوم پڑتا ہے جیسے گلاب کی پتیوں کو کسی بدذوق پرندے نے نجس کر دیا ہو-
میرے خلافِ توقع استفسار پہ مُرشد کی آنکھیں دفعتاً یوں سُرخ ہوگئیں جیسے اچانک ایکسیڈینٹ کے بعد مسافر کے کپڑے سُرخ ہوجاتے ہیں میں نے اُن پہ رونما ہونے والی اس تبدیلی پہ ازارہِ مذاق عرض کیا *حضور! گستاخی معاف یہ اچانک آپ کے پان کا رنگ آنکھوں میں کیوں اُتر آیا ہے؟ میرے اس جراءتِ تفنّن پہ مزید اُن کی آنکھیں سُرخ ہوگئیں،لب کانپنے لگے ، بدن کی بڑھتی ہوئ کپکپی کسے نئے طوفان کا پیغام دے رہی تھی-*
تیری خاموشیاں بتاتی ہیں
کوئ طوفان اُٹھنے والا ہے
میں نے حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر بلا تاخیر سراپا عجز کے ساتھ مُرشد کے حضور ٹھنڈا پانی پیش کیا،ان کی پیشانی پہ تیرنے والی پسینے کی بوندیں رفتہ رفتہ جب خشک ہونے لگیں تو مجھے کچھ حد تک قرار آیا ورنہ مرشد جب جلال میں آجائیں تو عقیدت مندوں کو ویسے بھی قبل از مرگ ہی آتشِ جہنم کا خوف ستانے لگتا ہے-
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
مُرشد نے اپنے بکھرے ہوئے حواس پہ قابو پاتے ہوئے حسبِ عادت پوری ادائے بے نیازی سے مزید ایک پان کو اپنے منہ تک پہونچنے کا شرف بخشا،زیرِ لب تبسّم آراستہ کیا،اُگلدان میں پِک کی پہلی قسط انڈیلنے کے بعد اپنے خاص پان زدہ لہجے میں گویا ہوئے، ہاں تو میاں.... تم کیا کہہ رہے تھے پان میری شخصیت کو مجروح کر رہا ہے؟ میں نے کہا.... نہیں نہیں..... حضور میں نے یہ کب کہا کہ...... کہنے لگے ارے ہاں یہ الفاظ نہ سہی لیکن تمہاری گفتگو کا نچوڑ یہی ہے تھا نا؟ *دراصل میاں! تم بہت معصوم ہو، تمہیں اس کی تاریخ معلوم نہیں، یہی تو ایک وراثت بچی ہےمیرے بزرگوں کی جسے میں نے اپنی مسلسل کوششوں سے دانتوں تلے دباکر رکھی ہے ورنہ انگریز تو اتنے چالاک تھے کہ اگر اُنہیں یہ اندازہ ہو جاتا کہ یہ منہ میں دبانے کے بعد گھنٹوں دنیائے فکر وشعور کو متحرک رکھتی ہے تو کمبخت منہ اور دانت سمیت چھین کر لے جاتے،* ابھی تمہارا ذوقِ طعام سفر میں ہے ارتقاء کی منزل کو نہیں پہونچا ہے ورنہ تمہیں میری اس عیب نُما خوبی سے عشق ہوجاتا،ویسے تم اسے صفحہء احساسات پہ ذوقِ مُرشد کی اعلا ترین عبارت بھی کہہ سکتے ہو-
26/07/2024
سخن کا شوق سفر , فلسفہ ادھورا ہے
ترے بغیر مرا ہر نشہ ادھورا ہے
جمیل اختر شفیق
26/07/2024
ابن صفی، کلامِ شاعر بخط شاعر
26 جولائی 1928:- : یوم پیدائش
26 جولائی 1980 :-: یوم وفات
دل کسی طور بھی غیروں کا طلبگار نہیں ہے
شاعر : ارکان احمد صادق
Click here to claim your Sponsored Listing.