KnowledgeLight Tv
Media And Production
In this Video U can learn about assets and kinds of assets. and also get concept of Accounting in balance sheet and we will cover the important points in this video.
💢 Assets
💢 Types of Assets
💢 Kinds Of assets
💢 Concept of Accounting
1. Types of Accounting +branches of Accounting ▶▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/V9VCcaVXVKQ
2. What is business & Types of Business
▶▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/HH29xm9wxtE
3. What is book keeping & Concept of Book keeping
▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/eWi8Yr6W_YI
For More informative Videos Like Share and Subscribe our channel
Zara Socho......................................
23/10/2021
چینی بچوں میں ویڈیو گیمز کے منفی اثرات
عالمی ادارہ صحت نے پہلی مرتبہ الیکٹرانک گیمز یا ویڈیو گیمز کھیلنے کی لت کو باقاعدہ طور پر ایک ذہنی بیماری تسلیم کیا ہے۔ادارے نے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو بیماریوں کی تازہ ترین فہرست میں شامل کیا ۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایسی فہرست اس سے قبل 1992 میں شائع کی گئی تھی۔..
عالمی ادارہ صحت نے پہلی مرتبہ الیکٹرانک گیمز یا ویڈیو گیمز کھیلنے کی لت کو باقاعدہ طور پر ایک ذہنی بیماری تسلیم کیا ہے۔ادارے نے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو بیماریوں کی تازہ ترین فہرست میں شامل کیا ۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایسی فہرست اس سے قبل 1992 میں شائع کی گئی تھی۔
ویڈیو گیمز بنانے والی صنعت نے ان ثبوتوں کو چیلنج کیا جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا کہ وہ معترضہ اور غیرحتمی ہیں۔
تاہم طبی ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر گیمرز خود کو یا دیگر افراد کو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جنھیں ان گیمز کی لت لگ جاتی ہے اور ان کا علاج کیا جانا چاہیے۔
اس بیماری کی علامتوں میں طویل دورانیے تک گیمز کھیلنا، گیمز کو دیگر معمولاتِ زندگی پر ترجیح دینا، منفی اثرات کے باوجود گیمنگ میں اضافہ شامل ہیں۔
سنوکر کے سابق عالمی چیمپیئن نیل روبرٹسن نے اعتراف کیا کہ ایک زمانے میں انھیں بھی ویڈیو گیمز کی عادت لگ گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہوتا یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ 12 گھنٹے گزر گئے ہیں یا 14۔ پلک جھپکتے وقت گزر جاتا ہے۔ مجھے شدید لت لگ گئی تھی اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ میں کئی برس تک اس سے انکار کرتا رہا اور کہتا تھا کہ مجھے اس کی ضرورت ہے۔
یہ بہت اہم ہے جبکہ میں اصل مسئلے سے نمٹنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔‘برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پہلے ہی گیمنگ کی لت کا علاج نجی سطح پر کیا جا رہا ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کے اس فیصلے کے بعد اب برطانیہ میں اس لت کا شکار افراد سرکاری خرچے پر علاج بھی کروا سکیں گے۔
تاہم اس کے لیے انھیں دکھانا ہو گا کہ کم از کم ایک برس کے لیے اس لت کے ان کی ذاتی زندگی اور تعلیمی یا ملازمتی معاملات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
دنیا کے بہت سے ممالک میں گیمنگ کی عادت سے نمٹنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے کے درمیان ویڈیو گیمز کھیلنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔جاپان میں کھلاڑی اگر مقررہ وقت سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلیں تو انھیں خبردار کیا جاتا ہے جبکہ چین میں انٹرنیٹ کمپنی ٹینسینٹ نے بچوں کے لیے مقبول گیمز کھیلنے کی مدت مقرر کی ہوئی ہے۔
چین میں حکام نے بچوں کی قریب کی نظر کم ہونے کے بڑھتے ہوئے رحجان کو روکنے کے لیے ویڈیو گیمنگ کو کنٹرول کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ریگولیٹرز نئی ویڈیو گیمز کی تعداد کو محدود کرنے، کھیلنے کا وقت کم کرنے اور عمر کی پابندی کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
چین میں سنہ 2015 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 50 کروڑ افراد کو بصری معذوری کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے نصف آبادی پانچ برس کی تھی۔
واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی گیمنگ مارکیٹ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد مقامی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں تیزی سے کمی آئی ہے۔
چین کے صدر شی جنگ پنگ نے رواں ہفتے کے اوائل میں نظر کی قومی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا جس کے بعد چین کی وزارتِ تعلیم نے جمعرات کو نئی پالیسی جاری کی ہے۔
اس پالیسی نے قریب کی نظر کی اعلیٰ سطح پر بھاری مطالعہ کے بوجھ، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کے پھیلاو¿، بیرونی سرگرمیوں اور مشق کی کمی پر الزام عائد کیا ہے۔
گو کہ اس اس پالیسی میں اس امر پر اتفاق نہیں ہے کہ گیمنگ کی وجہ سے بچوں کی قریب کی نظر متاثر ہو رہی ہے تاہم مطالعہ کو ایک ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں لوگوں کی بینائی کم ہونے کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں شرح سب سے زیادہ ہے۔
چین میں حالیہ دنوں میں جاری کی جانے والی نئی پالیسی کے بعد جمعہ کو چین کی گیمنگ کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ (ب
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
34201