Muhammad Sabeel Mughal
Hello and welcome to my page! My name is Muhammad Sabeel,
آذان سحر ہو رہی ہے
ان شااللہ
وہ وقت دور نہیں جب اِس طرف اور اُس طرف کشمیر کے عوام مل کر ایل او سی کی طرف ایک آخری انقلابی مارچ کریں اور خونی لکیروں کو روندتے ہوئے ایک آزاد ریاست کی بنیاد رکھیں گے ۰یہ قربانیاں ایک خوبصورت صبح کی نوید سنا رہی ہیں ۰
゚viralシfypシ゚viralシ
30/09/2025
کشمیر کے غیور عوام آج کے دور کے سعدالدین کوپیک اور کردوغلو کرداروں کو پہچاننے کا یہی وقت ہے ۰ جو اقتدار کیلیے مذہب کا کارڈ بھی کھیلتے ہیں تحریک آزادی کا کارڈ بھی کھیلتے ہیں لیکن حقیقت میں کھڑے اُس صف میں ہیں جس صف کا تعلق نہ کشمیری عوام سے ہے نہ مذہب سے ہے اور نہ ہی تحریک آزادی کشمیر سے ہے یہ اقتدار طاقت اور دولت کے بھوکے گِدھ ہیں ۰انہیں پہچانیں اور ذات پات برادری کے بتوں کو توڑ کر ان کا ساتھ چھوڑ دیں۰
15/08/2025
دو تھپڑ دو رویے
اس سال رمضان المبارک کے مہینے میں مدینہ منورہ میں سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے ایک پاکستانی خاتون نے ایک پولیس آفیسر کو تھپڑ مارا اور بدلے میں پولیس آفیسر نے بھی اسے تھپڑ رسید کیا مکہ اور مدینہ میں خاص کر رمضان المبارک اور حج کے دوران جو سیکیورٹی ادارے فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں اُن کے صبر برداشت اور ڈسپلن کو ہر دیکھنے والا سلام ہی پیش کرتا ہے
دوسرا واقعہ کل باغ میں پیش آیا جب ایک پولیس آفیسر ایک صحافی کو تھپڑ رسید کرتا ہے اگر حقیقت دیکھا جائے تو مدینہ میں عورت کی بڑی غلطی تھی اور یہاں اس صحافی کی بڑی غلطی ہے لیکن بات شعور کی آتی ہے اور قوموں کی آتی ہے سعودیہ کے شیخوں کے پاس شاید اتنی دولت ہے کہ کشمیری شیخوں کو خرید سکتے ہیں لیکن کسی شیخ نے پولیس آفیسر کے لیے انعام کا اعلان نہیں کیا اور شاید پولیس آفیسر کو تھپڑ مارنے کے جرم میں سزا بھی ہوئی ہو دوسری طرف باغ واقعے میں مانا کہ فرط جذبات میں پولیس آفیسر نے تھپڑ مار دیا مگر اب اسے انعامات دے کر کیا پیغام دے رہے ہیں کہ پولیس اور فوسسز آزاد ہیں کہ کہیں بھی کسی بھی شہری کو چوک چوراہے پر لاتیں اور تھپڑرسید کریں گے اور جس کے پاس چند پیسے آجائیں وہ انہیں انعامات دے گا پھر تو کشمیر میں موجود ارب پتی انعامات دے کر کسی کو بھی تھپڑ مروا سکتے ہیں ۰ قانون پر عمل تب ہوتا ہے جب قانون پر عمل کروانے والے خود عمل کریں گے ۰
ایک وقتی واقعے اور فرط جذبات میں کیے گے عمل پر انعامات دینے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے کہ کل اسی طرح کوئی بھی پولیس آفیسر آپ کے کسی عزیز کسی اپنے کو چوک پر تھپڑ رسید کرے گا تو آپ کیا اسے انعام دیں گے ؟؟
عوام کو چائیے کہ پولیس آفیسر کوئی سپاہی ہو یا کوئی فور سٹار آفیسر ہو سب کی عزت برابر ہونی چائیے اور پولیس کا کام بنتا ہے کہ کوئی فارچونر میں ہو یا کوئی رکشے میں ہو سب کے ساتھ مساوی اور قانونی روایہ اپنائے الگ الگ قانون ہوں گے تو کوئی بھی ستایا ہوا کچھ بھی بول سکتا ہے ۰
محمد سبیل
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Bagh
12500