ALL Pti worker

ALL Pti worker

Share

Will be our aim to free Pakistan from thieves and informal people

29/08/2025

Good morning 🌄 friends

23/08/2025

ضلع بونیر گاؤں دوکڈہ کے مضافات ملنگ درہ میں شیر محمد ماما کا گھر سمیت سارا مال و متاع سیلابی ریلے نے تباہ کیا ہے ۔لیکن آج تک شیر محمد ماما سرکاری یا نجی امداد سے بلکل محروم ہے
برائے مہربانی ویڈیو کو ضرور شیئر کرے تاکہ شیر محمد ماما کا آواز ان بڑے لوگوں تک پہنچ جائیگی

22/08/2025

ابتدائی رپورٹ کے مطابق ضلع بونیر میں اب تک ٹوٹل 401
افراد شھید
اور 671 زخمی ہوچکے ہیں
جبکہ 4054 مال مویشی بھی بہہ چکے ہیں ۔
2300 گھر مکمل طور پر تباہ،
جبکہ 413 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہوا ہے
6 سرکاری سکولز مکمل طور پر بہہ چکے ہیں ۔
دو پولیس سٹیشن بھی پانی کی نظر ہوگئے ہیں
639 گاڑیاں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے ہیں ۔
824 دوکانوں کو جزوی طور پر نقصان ۔جبکہ 127 دوکانیں مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں ۔
چار بڑے پل کو جزوی طور نقصان ۔ جبک دو پل سیلابی ریلے میں بہہ چکے ہیں ۔ تین سرکاری ہسپتالوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ھوا ھے
📢 ضلع بونیر – سیلاب کی تباہ کاریوں کی ابتدائی رپورٹ
حالیہ سیلاب نے ضلع بونیر کو بدترین تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ قدرتی آفت اپنے پیچھے دکھ، غم اور بربادی کی ایک لمبی داستان چھوڑ گئی ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق نقصان کچھ یوں ہے:
🕊️ انسانی جانوں کا نقصان:
اب تک 401 افراد شہید ہوچکے ہیں۔
671 افراد زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
🐄 مال مویشی کا نقصان:
مقامی لوگوں کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ 4054 مال مویشی بھی پانی میں بہہ گئے۔
🏚️ رہائشی مکانات:
2300 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
413 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، جن میں رہائش اب بھی مشکل ہے۔
🏫 تعلیمی ادارے:
6 سرکاری اسکول مکمل طور پر سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔
یہاں کے بچے اب کھلے آسمان تلے تعلیم سے محروم ہیں۔
🚔 سرکاری ادارے:
2 پولیس اسٹیشن بھی پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔
🚗 گاڑیاں:
639 گاڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوچکی ہیں، جنہیں پانی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔
🏪 بازار و دکانیں:
824 دکانیں جزوی طور پر متاثر ہیں۔
127 دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔
🌉 پل:
4 بڑے پل جزوی طور پر متاثر ہیں۔
2 پل مکمل طور پر سیلاب میں بہہ گئے، جس کی وجہ سے آمدورفت میں شدید مشکلات ہیں۔
🏥 ہسپتال:
3 سرکاری ہسپتال جزوی طور پر متاثر ہیں، جس سے علاج معالجہ کے نظام میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
⚠️ یہ اعداد و شمار اس قدرتی آفت کی سنگینی اور تباہی کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ محض اعداد نہیں، بلکہ ہر نمبر کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، ایک ماں کی آنکھ کا آنسو، ایک بچے کی محرومی اور ایک بستی کی بربادی چھپی ہوئی ہے۔
🙏 ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔
آپ کا تعاون اور مدد ہی ان کے لئے زندگی کی نئی امید ہے۔
Copy

22/08/2025

سیلاب کے بعد معصوموں کی پکار۔۔۔ “ہمارا گھر واپس دے دو”

بونیر کے علاقے قادرنگر درہ کے یہ دو معصوم بھائی، جلال اور خمزہ، اپنی ماں کے ساتھ آج زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
سیلاب نے ایک ہی لمحے میں ان کا دو کمروں کا چھوٹا سا گھر، خواب، سہارا اور سب چھین لیا۔
اب ان کے پاس نہ کوئی سایہ ہے، نہ ہی کوئی سہارا۔۔۔

سیلاب کے دنوں سے یہ بچے پیر بابا بازار میں ایک مقامی دکاندار کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔
وہ روزانہ صرف 500 روپے دیتا ہے اور اپنی بساط کے مطابق خیال رکھتا ہے۔
لیکن کیا صرف 500 روپے ان معصوم بچوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟

جلال اور خمزہ کی فریاد دل دہلا دینے والی ہے:
“ہم نے کبھی کسی سے بھیگ نہیں مانگی۔۔۔ ہمیں صرف اپنا گھر واپس چاہیے۔”

یہ جملہ سن کر دل پتھر بھی ہو تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔۔۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک نہ حکومت نے اور نہ ہی کسی NGO نے ان معصوموں تک ریلیف پہنچایا ہے۔
یہ تینوں ماں بیٹے اجڑے مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔



سوال یہ ہے:
کیا ہم سب انسانیت کا قرض نہیں ادا کر سکتے؟
کیا یہ بچے ہمیشہ بے سہارے رہیں گے؟

آئیے ان معصوم جلال اور خمزہ کے خواب بچائیں۔
ان کا گھر دوبارہ بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سب ایک آواز بنیں اور ان معصوموں کا سہارا بنیں۔

یہ کہانی صرف ایک خاندان کی نہیں۔۔۔ یہ ہماری انسانیت کا امتحان ہے۔

اگر آج ہم نے ہاتھ نہ بڑھایا تو کل یہ معصوم امید کھو دیں گے۔

Contact no : +92 330 3366111
copy

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Bunerwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Bunerwal