Meat Stop
Meat Supplier, Distributor and Retail Unit. Halal Meat Experts. Each Piece, Master Piece!
سگریٹ کی کہانی
کیا آپ جانتے ہیں کہ سگریٹ کس نے ایجاد کی؟ کیا آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال ہے کہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی اموات کے لیے کیا اس شخص کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
موجود شکل کا سگریٹ پہلی دفعہ "جیمز بکانن ڈیوک" نے بنایا تھا۔جیمز بکانن ڈیوک نہ صرف سگریٹ کو اس کی موجودہ شکل دینے کے ذمہ دار ہیں بلکہ انہوں نے سگریٹ کی مارکیٹنگ اور ترسیل میں بھی اہم کردار ادا کیا جس سے ساری دنیا میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔سنہ 1880 میں چوبیس سال کی عمر میں ڈیوک نے ہاتھ سے بنی سگریٹ کے کاروبار میں قدم رکھا جو اس وقت بہت وسیع کاروبار نہیں تھا۔ شمالی كیرولائنا کے شہر ڈرہم میں کچھ لوگوں نے مل کر ’ڈیوک آف ڈرہم‘ کے نام سے سگریٹ بنانے کی شروعات کی جس کے دونوں کونوں کو موڑ کر بند کیا جاتا تھا۔
دو سال بعد ڈیوک نے جیمز بونسیك نامی نوجوان مكینك کے ساتھ کام کرنا شروع کیا جس کا کہنا تھا کہ وہ مشین سے سگریٹ بنا سکتا ہے۔ ڈیوک کو بونسیك کی اس بات میں کاروبار کا ایک اچھا موقع دکھائی دیا۔ انہیں یقین تھا کہ ہاتھ سے بنی چھوٹے یا بڑے سائز کی سگریٹ کی جگہ لوگ مشین سے بنی، ایک ہی شکل کی سگریٹ پینا پسند کریں گے۔
ساتھ ہی اس وقت ڈیوک کے کارخانے میں جہاں لڑکیاں ایک شفٹ میں ہاتھ سے تقریباً دو سو سگریٹ بناتی تھیں، وہیں اس نئی مشین سے ایک دن میں ایک لاکھ بیس ہزار سگریٹ تیار ہونے لگے جبکہ اس وقت امریکہ میں صرف چوبیس ہزار سگریٹ کی ہی کھپت ہوتی تھی۔اردن گڈمین کہتے ہیں،’مسئلہ یہ تھا کہ سگریٹ کی پیداوار زیادہ تھی لیکن فروخت کم۔ اس لیے ڈیوک کو اب سگریٹ فروخت کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنے تھے‘۔
وہ طریقہ تھا اشتہارات اور مارکیٹنگ۔ جیمز ڈیوک نے گھڑ دوڑ کو سپانسر کرنا، مقابلۂ حسن میں مفت سگریٹ تقسیم کرنا اور جرائد میں اشتہار دینا شروع کیا۔ سنہ 1889 میں ہی سگریٹ کی مارکیٹنگ پر انہوں نے آٹھ لاکھ ڈالر خرچ کیے جو آج تقریباً دو کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کے برابر ہے۔صفائی سے بنی سگریٹ اور ان کے صحیح تشہیر، جیمز ڈیوک کی ابتدائی کامیابی کی یہی دو وجوہات تھیں۔ ایک اشتہار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہاتھ سے اور تھوک کے استعمال سے بنائی جانے والی سگار کے مقابلے میں مشین سے بنائی سگریٹ زیادہ صفائی سے بنائی جاتی ہے اور جیمز ڈیوک کی امید کے عین مطابق لوگوں کو مشین سے بنی سگریٹ ہی زیادہ پسند آئی۔
امریکہ میں پاؤں جمانے کے بعد جیمز ڈیوک نے برطانیہ کا رخ کیا۔ سنہ 1902 میں انہوں نے برطانیہ کی امپيريل ٹوبیكو کمپنی کے ساتھ مل کر برٹش امریکن ٹوبیكو نامی کمپنی قائم کی۔
کمپنی کی طرف سے فروخت کی جانے والی سگریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی۔، صرف مختلف صارفین کے حساب سے ان کی پیکیجنگ اور مارکیٹنگ حکمت عملی بدلی جاتی تھی۔مصنف اردن گڈمین کہتے ہیں،’میكڈانلڈز اور سٹاربكس کے طور پر ہم آج جسے گلوبلائزیشن کہتے ہیں، اس کے بانی ڈیوک اور ان کی سگریٹ تھے‘۔
دنیا بھر میں آج بھی سگریٹ نوشی بڑھ رہی ہے اور ترقی پذیر ممالک میں سگریٹ کی طلب میں ہر سال تین اعشاریہ چار فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے تو اگلے تیس سال میں دس کروڑ افراد تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ تعداد ایڈز، ٹی بی، کار حادثوں اور خودکشی سے ہونے والی کل اموات سے زیادہ ہے۔
لیکن کیا اس سب کے لیے جیمز بکانن ڈیوک کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
شائد یہ بات کم لوگوں کو معلوما ہو کہ 1930 تک سگریٹ بطور دوا استعمال ہوتا تھا۔پھیپھڑے کے کینسر اور سگریٹ پینے کے درمیان تعلق کا پتہ 1930 کی دہائی تک نہیں چلا تھا جبکہ جیمز ڈیوک کی موت 1925 میں ہوئی۔ یہاں تک کہ اس وقت سگریٹ کو صحت کے لیے فائدہ مند بتا کر تشہیر کی گئی۔ سنہ 1906 تک سگریٹ، ادویات کے انسائیكلوپيڈيا میں شامل تھی۔
’ٹوبیكو کنٹرول‘ میگزین کے ایک حالیہ مضمون میں رابرٹ پروكٹر لکھتے ہیں کہ تمباکو کی صنعت کے کئی لوگ اس کے ذمہ دار ہیں جن میں انہیں فروخت کرنے والی دکانیں، اشتہاری کمپنیاں، سگریٹ پیکٹ ڈیزائن کرنے والے، اداکار اور سگریٹ کمپنیوں میں کام کرنے والے لوگ سب شامل ہیں۔اردن گڈمین مانتے ہیں کہ جیمز ڈیوک ہیرو بھی ہیں اور ولن بھی۔ وہ کہتے ہیں،’بازار، انسانی نفسیات اور اشتہارات کی دنیا کی سمجھ کے لحاظ سے وہ ہیرو ہیں لیکن سگریٹ اور تمباکو نوشی سے متعلق تنازعات سے یہ سب چھپ جاتا ہے‘۔گڈمین کہتے ہیں، ’جیمز ڈیوک نے دنیا کو سگریٹ دی اور یہی سگریٹ بیسویں صدی کا مسئلہ ہے‘۔
سگریٹ اس وقت دنیا بھر میں شاید سب سے زیادہ بدنام مصنوعات میں سے ایک ہے۔سنہ 2000 تک کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں پھیپھڑوں کے کینسر سے ہر سال تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہو رہے تھے اور ان میں سے تقریباً پچاسی فیصد لوگوں میں اس کینسر کی وجہ صرف تمباکونوشی تھی۔
امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ" رابرٹ پركٹر "کہتے ہیں،’انسانی تہذیب کی تاریخ میں سگریٹ سب سے خطرناک مصنوعات ہے۔ بیسویں صدی میں تمباکو نوشی کی وجہ سے تقریباً دس کروڑ لوگ مر چکے ہیں‘۔
’ٹوبیكو ان ہسٹری‘ نامی کتاب کے مصنف اردن گڈمین کے خیال میں اگرچہ وہ ایسے کسی شخص خاص کا نام لینے سے اجتناب کریں گی لیکن ’امریکہ کے جیمز بکانن ڈیوک سگریٹ کے ایجاد کے ذمہ دار تھے‘۔
(بشکریہ بی بی سی)
14/02/2019
Beautiful Like Beirut.
Sad like Iraq.
Exhausted like Syria.
Destroyed like Yemen.
Wounded like Libya.
Forgotten Like Palestine.
It is humanity slaughtered by the sharp knife of politics
30/01/2019
Technical nd Medical Usage of a Mask.
. ╭┄┅═══❁═══┅┄╮
*پاکستان کے بڑے شہروں کے نام کیسے پڑے، دلچسپ اور حیران کن معلومات*
╰┄┅═══❁═══┅┄╯
ُ╔═════════════╗
*اســـلام آبــاد:-*
1959ءمیں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*راولـپـنـــڈی:-*
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*کــــراچــــی:-*
تقریباً 220 سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اس کا نام کلاچی پڑگیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ 1925ءمیں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔1947ءسے 1959ءتک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*لاھــــــــور:-*
ایک نظریےکے مطابق ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا، لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ’لوہ، آور‘ سے مشہور ہوا
جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر ’لوہ آور‘ لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح سیوستان سبی اور شالکوٹ، کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔
اسی طرح ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور
ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور اور قاصو دو مہاجر بھائی تھے جو اس سرزمین پرآئے جسے لوگ آج لاہور کے نام سے جانتے ہیں، ایک بھائی قاصو نے پھر قصور آباد کیا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قصور پڑا جبکہ دوسرے بھائی نے اندرون شہر سے تین میل دور اچھرہ لااور کو اپنا مسکن بنایا اور بعد میں اسی لاہو کی وجہ سے اس شہر کا نام لاہور پڑ گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اچھرہ کی حدود میں کئی ہندﺅوں کی قبریں بھی ملیں۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*حــــــیدر آبــاد:-*
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدر آباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے 1768ءمیں رکھی۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*پـشــــاور:-*
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑگیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*کــــوئٹــــہ:-*
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*ٹــــوبہ ٹیک سنــــگھ:-*
اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے.
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*ســــرگــــودھـا:-*
یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ 1930ءمیں باقاعدہ آباد ہوا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*بہــــاولپــــور:-*
نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*ملــــتان:-*
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ 4 ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ”کیساپور“ بتایا جاتا ہے۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*فیصــــل آبــاد:-*
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*رحیــــم یار خــــاں:-*
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*عبدالحــــکیم:-*
جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔ یہ قصبہ دریائے راوی کے کنارے آباد ہے.
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*ســــاہیوال:-*
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ”منٹگمری“ کہلایا۔ نومبر 1966ءصدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*ســــیالکوٹ:-*
2 ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*گوجــــرانوالہ:-*
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے 1365ءمیں آباد کیا اور اس کا نام ”خان پور“ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*شیــــخوپـورہ:-*
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ”شیخو“ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*ھــــــــڑپہ:-*
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو 5 ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ”ہری روپا“ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ”ہری روپا“ کو ہڑپہ بنا دیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*ٹیکســــلا:-*
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 326 قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا.
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*بہاولــــنگـر:-*
ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*مظـفــر گــــڑھ:-*
والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ 1880ءتک اس کا نام ”خان گڑھ“ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔
ُ╚═════════════╝ ُ╔═════════════╗
*مــــیانـوالـی:-*
ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ”میانوالی“ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔
ُ╚═════════════╝ ُ╔═════════════╗
*ڈیرہ غــازی خــان:-*
پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔
ُ╚═════════════╝
ُ╔═════════════╗
*جھــــنگ:-*
یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ”جھگی سیالu“ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔
ُ╚═════════════╝
*پاکپتن شریف*
اس شہر کا پرانا نام اجودھن تھا یہ دریائے ستلج کے کنارے واقع یہاں ایک پتن(جہاں سے لوگ دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے ناو کے ذریعے دریا پار کرتے ہیں) تھا جب بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ یہاں قیام پزیر ہوئے تو اس کا نام پتن سے پاک پتن شریف مشہور ہو گیا.
25/01/2019
La Peshawar! 😘💕💋 💫 نوے پیخور
17/01/2019
Ready to Serve you the finest verities of mutton and beef.
+923004559505
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Chakdara Fort
18800
Opening Hours
| Monday | 07:00 - 22:00 |
| Tuesday | 07:00 - 22:00 |
| Wednesday | 07:00 - 22:00 |
| Thursday | 07:00 - 22:00 |
| Friday | 07:00 - 22:00 |
| Saturday | 07:00 - 22:00 |
| Sunday | 07:00 - 22:00 |