JUI Social Media Wing
JUI Social Media Team
24/06/2026
قومی اسمبلی اجلاس۔
امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب:
ایوان میں بہت سی جذباتی باتیں ہوئی ہیں
یہ وقت تحمل و برداشت کا ہے
کل سپیکر صاحب۔ آپ نے بھی جذباتی گفتگو کی ہے جو اپکو نہیں کرنی چاہئے تھی
جلسوں میں جب نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوتے تھے تو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے ؟
کیا فوج کو نواز شریف محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے ؟
میں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے خط کا ویڈیو جواب دیا ہے
میں نے حکومت کو بھی آگاہ کیا ہے ۔
میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفرآباد کی طرف کل کا مارچ موخر کیا ہے
ریاست کی طرف سے تقریروں کی بنیاد پر ایکشن لیا جانا کیسے درست ردعمل ہے
کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے آج ہم کیا کررہے ہیں
خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردعمل بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہئیے تھیں
آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے
عالمی سطح پر عالمی امن سے حکومت نیک نامی کمارہی ہے تو پاکستان نیک نامی گنوا رہی ہے
پاکستان کی فوج کو سرحدوں میں ہونا چاہئے اسے ملک کے اندر استعمال کیا جارہا ہے ۔
خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے
اپوزیشن کو مجبور نہ کریں
ہم نے چارسدہ میں لاکھوں کا اجتماع کیا
حکومتی پارٹی ایسے جلسے کرکے دکھا دے
ہم فوج اسٹیبلشمنٹ اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں
اگر وہ انتخابات میں نتائج تبدیل کرتے ہیں تو پھر ہم جواب دیں گے
اگر وہ سیاست کریں گے تو ہم سیاست میں جواب دیں گے
ہم گونگے نہیں ہیں گونگے شیطان نہیں بنیں گے
ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم بات کریں گے
اگر ادارے ٹیکس کے پیسے لیکر اس کا سیاسی استعمال کریں گے تو پھر اس ایوان میں جواب دیں گے
وزیر اعظم شہباز شریف بتائیں گے کہ جب ہم کنٹینر پر ہوتے تھے تو کیا وہ آرمی چیف اور فوج کا نام نہیں لیتے تھے
کیا ان کے ساتھ سٹیج سے فوج کو محکمہ زراعت نہیں کہا جاتا تھا.
Click here to claim your Sponsored Listing.