Mroi Social Hub
To build a resilient Mroi here every heartbeat echoes humanity ,hope and self_reliance.
14/10/2026
چترال کے قابل طلبہ و طالبات کے لیے یورپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا سنہری موقع! 🇭🇺🎓
ایک ضروری بات آپ سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ یورپ کا ایک خوبصورت ملک ہنگری (Hungary) ہر سال پاکستان سمیت مختلف ممالک کے طلبہ کو Stipendium Hungaricum Scholarship کے تحت اسکالرشپ فراہم کرتا ہے، جس میں ٹیوشن فیس معاف، رہائش کے لیے سہولت، اور ماہانہ تقریباً 60 سے 70 ہزار پاکستانی روپے کے برابر وظیفہ شامل ہیں۔ مزید یہ کہ اسکالرشپ کی شرائط کے مطابق ویزا فیس اور سفری اخراجات کے حوالے سے بھی سہولت یا رقم کی واپسی ممکن ہو سکتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے بہت سے طلبہ و طالبات ایسے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن ہمارے چترال جیسے دورافتادہ علاقوں کے کئی قابل اور ذہین طلبہ کو ان کے بارے میں بروقت معلومات نہیں ملتیں۔
الحمدللہ! ہمارے چترال کے طلبہ میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ دیتے ہیں اور کامیابی بھی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح USAT اور HAT جیسے ٹیسٹ بھی اعلیٰ تعلیم اور مختلف اسکالرشپس کے مواقع تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
میری تمام والدین، اساتذہ اور نوجوانوں سے گزارش ہے اگر آپ کے گھر، خاندان یا محلے میں کوئی قابل طالب علم موجود ہے جس نے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ میں 80 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں، تو اسے ان اسکالرشپس اور متعلقہ ٹیسٹ کے بارے میں ضرور آگاہ کریں۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں اور اسے درست رہنمائی فراہم کریں۔
ہو سکتا ہے کہ آپ کی ایک چھوٹی سی کوشش کسی ذہین بچے کے لیے یورپ کی کسی اچھی یونیورسٹی تک پہنچنے کا راستہ کھول دے اور اس کا مستقبل بدل جائے۔
آئیں! مل کر چترال کے قابل نوجوانوں کو تعلیم کے بہتر مواقع سے روشناس کرائیں، کیونکہ ہمارے بچوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، انہیں صرف درست رہنمائی اور مواقع کی ضرورت ہے۔
13/10/2026
مروئی کا قابلِ فخر سپوت
آج ہم قشقار آرگینکس کے بانی، ماہرِ نباتات (شمس الحق) کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
شمس الحق کا تعلق علمِ نباتات سے ہے اور وہ عملی میدان میں کام کرنے والے ماہر ہیں۔ ان کا کام صرف تحقیق تک محدود نہیں، بلکہ وہ چترال کے بلند و بالا پہاڑوں اور دور دراز دیہاتوں میں جا کر نایاب جڑی بوٹیوں پر تحقیق کرتے ہے۔
ان کی یہی محنت، لگن اور قدرتی وسائل سے گہری وابستگی قشقار آرگینکس کی خالص مصنوعات کی بنیاد ہے۔
تیسری چترال ایکسپو دو ہزار چھبیس میں ان کی کامیاب شرکت ان کی اسی پیشہ ورانہ کاوش کا ثبوت ہے۔ہم دعا کرتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ شمس الحق بھائی کو مزید کامیابی عطا کرے۔
اہلیان مروے اپنے اس قابلِ فرزند پر فخر کرتے ہیں۔
Wathana Shuru beru...
06/10/2026
آن لائن جوا
ایک نشہ جو گھر اجاڑ رہا ہے - چترال کے نوجوان ہوش کے ناخن لیں ۔آج ہمارے اپنے کئی دوست اس جوئے کے نشے میں لگ کر ڈپریشن میں چلے گئے ہیں۔ یہ صرف ایک گیم نہیں رہا، یہ ایک نشہ بن چکا ہے۔نشہ لگنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟نوجوان پہلے اپنی جیب سے پیسہ لگاتا ہے، پھر ماں باپ سے جھوٹ بول کر پیسے لیتا ہے، پھر دوستوں سے ادھار لیتا ہے، پھر قرض لیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگلی بازی میں وہ سب کچھ واپس جیت لے گا۔ لیکن وہ اگلی بازی کبھی نہیں آتی۔ ہمارے علاقے میں پہلے ہی بیروزگاری بہت زیادہ ہے، اوپر سے یہ خیالی امیروں والا سکیم۔ یہ کمپنیاں آپ کو امیر ہونے کا خواب دکھا کر آپ کی جیب خالی کر رہی ہیں۔
خدارا ہوش کے ناخن لو!اس سے آپ کی جان بھی جا سکتی ہے۔ کئی نوجوان قرض کی وجہ سے خودکشی تک کا سوچتے ہیں۔ آخر میں آپ اتنے کنگال ہو جاؤ گے کہ معاشرہ آپ کو نکال دے گا۔ آپ سے آپ کے دوست بھاگ جائیں گے، رشتہ دار منہ موڑ لیں گے، اور آخر میں آپ کے اپنے گھر والے بھی آپ سے تنگ آ جائیں گے۔ کوئی آپ پر اعتبار نہیں کرے گا۔
چترال میں ہونے والے نقصان کی اصل تفصیل فگر کے ساتھ: دروش چترال فراڈ:ہر بندے سے 3,800 روپے لے شروعات کی گئی۔ لوگوں کو روزانہ 10,000 روپے تک منافع دکھایا گیا۔ لالچ میں لوگوں نے 1,00,000 روپے تک لگا دیے۔ آخر میں کروڑوں روپے لے کر کمپنی فرار ہو گئی۔
سینیٹر فالک ناز چترالی کیس:چترال کی سینیٹر سے 5,00,000 روپے لوٹے گئے۔ اسی سکینڈل میں سینیٹر دلاور خان سے 8,50,000 روپے لوٹے گئے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 8 پارلیمنٹیرینز جن میں چترال کے سینیٹر بھی شامل ہیں، ان سے 4,90,000 روپے تک کا فراڈ ہوا۔
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے 46 ایپس کو غیر قانونی قرار دیا ہے جن میں 1xBet, Aviator, Plinko شامل ہیں۔
یاد رکھو! جو پیسہ دو منٹ میں ڈبل ہوتا نظر آئے، وہ اگلے دو منٹ میں آپ کو کنگال کر دے گا۔ خود بھی بچو اور اس پوسٹ کو شیئر کر کے دوسروں کو بھی بچاؤ۔
شکریہ۔
03/10/2026
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے پیارے بھائی عبدل غفور (المغروف بہادر لال)آج دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اس دار فانی سے رخصت ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے۔ تمام دوست احباب سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔ نماز جنازہ آج عصر 4 بجے آبائی گاؤں مروے تورین میں ادا کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ لواحقین کو یہ صدمہ صبر و ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ مروئی سے تعلق رکھنے والے نوروز لال کے زوجہ محترمہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں ہیں۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
نمازِ جنازہ آج 11:30 کو ان کے آبائ قبرستان (مروئ بالا)میں ادا کی جائیگی۔
تمام احباب سے مرحومہ کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔
سوگواران
شیر نواز ( بیٹا)
امیر نواز (بیٹا)
جملہ رشتہ داران
29/09/2026
مروے کے فرزند بہت بہت مبارک۔
شغنیاندور مروئی سے تعلق رکھنے والے محمد تنویر شہزاد نے ونڈز ایگل پولو کلب کی بہادرانہ قیادت کرتے ہوئے سکردو میں جاری اس بڑے ٹورنامنٹ کو جیت کر پورے چترال کا نام روشن کر دیا۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہر سال سلیکشن کے موقع پر تنویر شہزاد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، لیکن اس نوجوان نے ایک بار پھر اپنی شاندار کارکردگی سے پولو ایسوسی ایشن کو غلط ثابت کر دیا۔ ہر سال سلیکشن کمیٹی تنویر شہزاد کے ساتھ زیادتی کرتی ہے، لیکن آج اس نے سکردو کی سرزمین پر پورے چترال کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
اہلیانِ چترال اور بالخصوص اہلیانِ مروئی کی جانب سے ونڈز ایگل پولو کلب اور محمد تنویر شہزاد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔
ہمیں پوری امید ہے کہ آئندہ شندور پولو فیسٹیول کی سلیکشن میں اس محنتی اور باصلاحیت کھلاڑی کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور اسے مزید نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
(احتشام ایوبی)
29/09/2026
اہم اعلان برائے ضلع لوئر چترال
ضلع لوئر چترال میں منشیات کے عادی افراد، یا ان کے اہلِ خانہ/اقارب سے گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل فارم پُر کرکے ضلعی دفتر محکمہ سماجی بہبود، لوئر چترال میں جمع کرائیں، تاکہ انہیں آنے والے منشیات بحالی و علاج کے پروگرام میں شامل کیا جا سکے۔
اگر آپ کے علم میں کوئی ایسا فرد ہے جو منشیات کے استعمال کا شکار ہے، تو اس کی مدد کے لیے فارم ضرور جمع کروائیں۔
آپ کی بروقت اطلاع کسی کی زندگی بچانے اور اسے دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔..
23/09/2026
ہمارے نہایت قابل فخر اور ہردلعزیز شخصیت محترم جناب غفار الدین لال کو نائب تحصیلدار لوٹ کوہ کا چارج سنبھالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
غفار الدین لال ایک نہایت انصاف پسند، خوش اخلاق، ملنسار اور فرض شناس افسر ہیں۔ ان کی تعیناتی لوٹ کوہ کی عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے عوام کی خدمت اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اس نئے منصب پر مزید کامیابیاں، عزت اور استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
23/09/2026
چترال میں خودکشی کیوں بڑھ رہی ہے
دو ہزار تیرہ سے دو ہزار انیس تک چترال میں 176 لوگوں نے خودکشی کی ہے۔ اس میں 102 خواتین اور74 مرد شامل ہیں۔ دو ہزار پندرہ سے دو ہزار انیس تک 83 لوگوں نے اپنی جان دی۔ دو ہزار سولہ سے دو ہزار بائیس تک پولیس ریکارڈ کے مطابق 76 لوگ ذہنی بیماری کی وجہ سے، 36 لوگ گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے اور 12 طالب علم کم نمبر آنے کی وجہ سے فوت ہوئے۔ بیس کیسز کی وجہ معلوم ہی نہیں ہو سکی۔ دو ہزار تیرہ سے دو ہزار انیس تک خودکشی کی کوشش کے 46کیس رپورٹ ہوئے جن میں 21 مرد اور 25 خواتین تھیں۔ اگر دو ہزار پندرہ سے آج دو ہزار چھبیس تک حساب لگایا جائے تو چترال میں 300 سے زیادہ قیمتی جانیں اس وجہ سے ضائع ہو چکی ہیں۔ سب سے زیادہ عمر پندرہ سے تیس سال کے نوجوانوں کی ہے۔ خودکشی کا طریقہ زیادہ تر دریا میں ڈوبنا، پھندا لگانا اور بندوق سے مارنا ہے۔
اب اصل وجوہات سنو یہ صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں للکوں کا بھی ہے۔
پہلی وجہ گھریلو جھگڑے ہیں۔ ماں باپ کا آپس میں لڑنا، بھائیوں کا زمین پر جھگڑا، ساس بہو کا جھگڑا۔ گھر کا ماحول اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ بچہ یا بچی سمجھتی ہے کہ مر جانا اس لڑائی سے بہتر ہے۔
دوسری وجہ زبردستی کی شادی اور محبت میں ناکامی ہے۔ یہ لڑکی اور لڑکا دونوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے اور لڑکے کی پسند کی شادی نہیں ہونے دی جاتی۔ فون پر بات کرنے پر لڑکی کو بدنام کر دیا جاتا ہے اور لڑکے کو دھمکایا جاتا ہے۔ اس بدنامی سے بچنے کے لیے وہ غلط قدم اٹھا لیتے ہیں۔
تیسری وجہ بے روزگاری اور پیسے کا مسئلہ ہے۔ چترال میں نوکری نہیں ہے۔ لڑکے ڈگری لے کر گھر بیٹھے ہیں۔ باہر جانے کے لیے پیسہ نہیں۔ قرض لینا پڑتا ہے۔ جب قرض نہیں اترتا تو لوگ طعنہ دیتے ہیں۔ لڑکا خود کو ناکام سمجھ کر خودکشی کر لیتا ہے۔ کئی کیسز میں لکھا ہے کہ صرف مالی تنگی کی وجہ سے جان دی گئی۔
چوتھی وجہ والدین کا دباؤ ہے۔ ہمارے والدین بچوں سے بہت زیادہ امید لگا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر بنو انجینئر بنو۔ اگر بچے کے نمبر کم آ جائیں تو اس کو گھر میں سب کے سامنے ذلیل کیا جاتا ہے۔ اس کو کہا جاتا ہے تم نے ہماری عزت خراب کر دی۔ بچہ یہ بوجھ برداشت نہیں کر پاتا۔
پانچویں وجہ نشہ اور ذہنی بیماری ہے۔ آج کل چترال میں نشہ بھی عام ہو رہا ہے۔ نشے کے بعد ڈپریشن آتا ہے۔ ڈپریشن کو ہم بیماری نہیں سمجھتے۔ ہم کہتے ہیں یہ ڈرامہ ہے۔ نہ اس کا علاج کراتے ہیں نہ کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں۔ بندہ اندر ہی اندر ختم ہو جاتا ہے۔
چھٹی وجہ اکیلا پن اور کوئی نہ سننے والا ہونا ہے۔ ہمارے ہاں کوئی کسی کی سنتا نہیں۔ لڑکی اپنا دکھ ماں کو نہیں بتا سکتی اور لڑکا اپنا دکھ باپ کو نہیں بتا سکتا۔ وہ سمجھتے ہیں بتانے سے فائدہ نہیں۔ اس لیے وہ چپ چاپ سب سہتے رہتے ہیں اور آخر میں یہ قدم اٹھاتے ہیں۔
اس کا حل کیا ہے۔ حل یہ ہے کہ ہم اپنے گھر کو ٹھیک کریں۔ اپنے بچوں کو سنیں۔ بیٹی کو بھی بیٹے جتنی عزت دیں۔ اس کی شادی میں اس کی رائے لیں۔ بیٹے کو روزگار کے لیے سپورٹ کریں اس کو طعنہ نہ دیں۔ اگر کوئی بچہ فیل ہو جائے تو اس کو مارنے کے بجائے گلے لگائیں۔ محلے میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ کا دوست خاموش ہو گیا ہے تو اس سے بات کریں۔
خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ یہ ایک گھر نہیں پورے خاندان کو ختم کر دیتی ہے۔
احتشام ایوبی
Category
Website
Address
Chitral
17200
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Mroi Social Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.