JUI EDITS

JUI EDITS

Share

محمد عمیر بیگ

08/06/2026

ہم نظریاتی لوگ۔

سنہ 1986کوہم پہلی بار کراچی آئے اور یہاں ایک مدرسے میں داخلہ لیا،تب فدوی کی عمر گیارہ سال تھی اورحفظ کی کلاس میں پڑھ رہاتھا۔ انہی دنوں مولانا فضل الرحمن
کانام سناآنجناب اس عہد میں تقریبا 33
برس کے کڑِيَل جوان تھے۔ان کی گندمی رنگت، اور مردانہ وجاہت سے لبریزچہرے پر ہمیں بےپناہ پیار آیا۔
ان کی گھنی کالی داڑھی میں ہمیں بلا کاحسن نظر آیا، ان کی بھاری مگر دل کش آواز میں ہم نے دل کو موہ لینے والا جادو محسوس کیا۔

ہمیں اپنی چھوٹی سی عمر میں اپنے والد کی عمر کےایک بڑے صاحب سے عشق ساہوگیا۔

پھر ادھر ادھر کچھ اور بڑے لوگ بھی نظر آئے،انہیں سنا،اور وہ بھی اچھے ہی لگے، جیسے عبدالمجیدندیم صاحب، حق نواز جھنگوی صاحب،جلسوں کادور تھا اور اکثر طلبہ کی طرح ہم سے بھی شاید ہی کوئی جلسہ قضاہواہو۔
ہرایک کاانداز اور ڈائیلاگ کسی بھی داخلی جذبے اور پہلے سے قائم کردہ تاثرسےہٹ کر سنا،ان کے الفاظ اور انداز سےلطف اٹھایا۔

مگر زیست اور دانست کاسفر آگے کی طرف جاری رہا اور رفتہ رفتہ ہمیں مولانا صاحب اور دیگر بزرگوں میں ایک باریک سافرق نظر آنا شروع ہوا۔جومولانا صاحب بتاتے نہیں تھے،لیکن وہ محسوس ہوتاتھا۔
ہمیں لگا کہ یہ جو بھاری بھرکم،میانہ قد اور گول چہرے والا مولانا ہے اس کی تقریر میں طرزہے،نہ جذباتیت،لباس اور حلیے میں اسٹائل، نہ انداز میں بناوٹ، اس کے الفاظ مگرجچے تلے، اور غیرضروری مرچ مسالے سے پاک ہوتے ہیں۔
وہ جذبات نہیں ابھارتا، گہری سوچ دیتاہے
ان کی باتوں میں ایک پیغام ہوتاہے، ارد گرد کی دنیا کےاحوال پران کی نظر ہوتی ہے اور اس کےتناظر میں ایک بہترین رہنمائی۔
تو ہماری محبت ان کی ذات کےگرد سمٹنا شروع ہوئی اور دیگر سےمحبت کے باوجود ان میں دل چسپی محدود ہوتی گئی۔

کافی بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ اس شخص نے ہمارےدل میں انقلابیت کاتیر پیوست کیا اور ہمیں شکار کرلیاہے، اور اب ہم انکے زنداں میں بقائمی ہوش وحواس، برضا ورغبت تمام مقید ہیں،خلوت وجلوت میں ہم نے بارہاسوچا کہ کیا ہم ذہنی غلام ہیں،کیا ہم شخصیت پرستی کےبیمار ہیں،کیاہم شعور سےعاری اور اچھے برے کی تمیز سے محروم لوگ ہیں جو ایک شخص کادامن پکڑے کھڑے ہیں اور اپنے مطالعے اورتجربے کی بنیاد پر اپنا راستہ نہیں تلاشتے۔
ہمیشہ ایک ہی جواب ملا کہ نہیں، در اصل اس بھری دنیا میں یہی وہ شخص ہے جو ہمارے شعور کوبیدار کرگیاہے،اور ہمیں حریت کادرس دےگیاہے، یعنی ہمارے مردہ جسد میں مقصدیت کی روح پھونک دی ہے۔
یہ ہمارا محسن ہے،اور ہم جیسوں کارہنما ہے،ایک ایسا رہنما کہ ہم مطالعے اورجستجو کےنتیجے میں جہاں پہنچتے ہیں،ہمیں وہ اس سے بھی کہیں آگے نظر آتے ہیں۔

لوگوں نے اعتراض کیاوہ سیاسی ہے،ہم نےسیاست کوکریدا تو پتہ چلا یہی تو اختیار واقتدار کےحصول کا کاروبار ہے،اور جو خود یہ کاروبار نہیں کرتا،وہ دوسروں کا کارندہ ہوتاہے۔شعوری یاغیرشعوری۔ اس کاروبار میں کسی سیانے کےپیچھے چلنا اوراپنے گروپ کاحجم بڑھانا ہی دانائی ہے،اپنی الگ پرواز تباہی کاراستہ ہے۔

کسی نے کہا وہ جمہوری ہے،ہم نے سرچ کیاتو علم ہوا کہ اس دور میں جو جمہوری نہیں وہ یاتو نام کا خلافتی اور کام کاتکفیری ہے،جو تشدد کاخوگر،حکمت کادشمن اورخون مسلم کاسوداگر ہے، اس کی عقل عصری دانش سےمحروم اور اسلام کی آفاقیت وہمہ گیریت کے ادراک سےقاصر ہے،اس کادماغ چند فقہی عبارات میں الجھاہوا،اور دل کسی جزوی تاریخی منظر میں قید ہے۔
یاپھر کار سیاست اسے کوئی سروکار ہی نہیں
اور دین کو سیاست سے جداسمجھنے والا چنگیزی ہے۔

جبکہ جمہوریت ایک فریم ورک ہے جس میں رہ کر اپنی قوم اور قومی ریاست کی درست رہنمائی اور معاشرے میں تدریجی اصلاحات دانشمندی کاراستہ ہے۔

آج ہمیں چالیس اور مولانا کولگ بھگ پچاس سال ہونے کو ہیں جرنیلوں، ججوں،صحافیوں، بیوروکریٹس،اورسیاست دانوں کی تیسری نسل انہیں سرتاپا دیکھ اور ان کا انگ انگ پرکھ چکی ہے،کسی کو انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کہ بندہ پاکیزہ اور کھرا ہے، ان کی دلیل کےسامنے بڑے بڑے بزرجمہر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔حاسدوں نے از راہ حسد غول کےغول ان کےپیچھے لگائے،آوازے کسے،الزامات لگائے،شور مچایا اور تھک ہار
کر خود ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔

کہتے ہیں وہ پچاس سال سے،اور بزرگوں کوشمار کرو تو ستر سال سے سیاست میں ہیں انہوں اب تک اسلام کیوں نافذ نہیں کیا،
اسلام کو اپنے مفادات کےلئے استعمال کررہے ہیں۔
کہنے کو یہ باتیں آسان ہیں لیکن 70 برس سے اپنے نظریات پر ڈٹا رہنا،ہر باطل فکر کا زبانی اور بیانی مقابلہ اور حق کو غالب کرنے کی ہر ممکن میدانی کوشش یہ بھی معجزے سےکم نہیں۔
یہاں اسلامائزیشن کی جو معاشرتی اور پارلیمانی جدوجہد ہے اس کےپیچھے سب سے طاقتور قوت جمعیت ہی کی ہے۔

انبیاء نے بھی تو مرحلہ وار محنت کی ہے،موسی اور ہارون جیسے نبی میدان تیہ کے ایک عبوری مرحلے میں دنیا سے رخصت ہوئے اور انہیں ارض مقدس میں جانا ہی نصیب نہ ہوا،مگر وہ ناکام نہیں ہوئے،بلکہ ان کی قوم نافرمان تھی اور ان کاساتھ نہیں دے رہی تھی۔سو خدا نے انہیں انعام سےمحروم رکھا۔

نبی اکرم نے فرمایا تھا تم بھی ان کے راستے پہ چلوگے،سو آج چل رہے ہیں۔قوم نے کب چاہاہے اسلام؟

موسی علیہ السلام نےمگر الله کےحکم سے فرعون کاغرور دریا برد کیا اور سامری کا تماشہ بےنقاب کیا،باطل کے شکنجے سے اپنی قوم کو نکالا، مولانا بھی انہی کےنقش قدم پر رواں ہے،وقت کے کتنے فراعین اور سامریوں
کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ اور قوم کو ذہنی غلامی سےنکالا۔یہاں انقلاب کاپہلا داعی شیخ الہند اور عبیداللہ سندھی کاسپاہی مولانا فضل الرحمان ہے۔بعد میں لوگوں نے تبدیلی کےنام سے انہی سے یہ نعرہ مستعار لیا۔جبکہ وہ ایک ڈھونگ کےسوا کچھ نہ تھا،بلکہ دراصل وہ تو اسلامی روایات کی تبدیلی کامشن تھا۔ جسےمولانا نےہی ناکام بنایا۔

پندرہویں صدی میں اسلام کی جتنی اور جیسی خدمت ہوسکتی ہے وہ مولانا کررہے ہیں، معصوم نہیں، غلطیاں بھی ہوتی ہیں،ٹھوکر بھی کھاتے ہیں مگر راستہ ٹھیک ہے، اور دلیل کو ہی زاد راہ بناکر وہ آگےبڑھ رہےہیں، منزل کبھی تو مل جائےگی، نہیں تو حق کےراستے میں جان چلی جائےگی۔ہم بھی اس راہ میں ان کےہم راہ ہیں،کوئی بھلاکہے برا کہے،گالی دے،طعنے دے، جوکرےاس کی مرضی،ہم نظریاتی لوگ ہیں اور جہاں ہیں کسی دلیل سے ہیں، بصیرت کےساتھ اس قافلے میں ہیں۔اور تادم حیات رہیں گے۔
تا
عزیزعظیمی۔
ٰن___صاحب #جمعیت

08/06/2026

*پشاور: وزیر اعلی خیبرپختونخوا وفد کے ہمراہ مفتی محمود مرکز پہنچ گئے*
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمن صاحب سے ملاقات کی
اہم امور پر مشاورت
ٰن___صاحب

07/06/2026

جمعیت کے دوستوں سے گزارش ہے کہ اس اکاونٹ کو فالو کریں

07/06/2026

* ❣️*گلگت بلتستان الیکشن اپڈیٹ*
*الحمدللہ گلگت بلتستان میں جمعیت علمائے اسلام کا انتخابی مہم زور وشور سے جاری ہے اس وقت گلگت کے عام لوگوں کا اور خاص کر نوجوان طبقے کا جمعیت علمائے اسلام کی طرف مائل ہونا نہ صرف جمعیت علمائے اسلام کے لیے بلکہ گلگت بلتستان کے لیے نہایت خوش آئند بات ہے۔
ٰن___صاحب #جمعیت Maulana Fazl ur Rehman Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

07/06/2026

چارسدہ: جےیوآئی سندھ کے صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ راشد محمود سومرو صاحب اور مرکزی ترجمان جناب اسلم غوری صاحب کی چارسدہ آمد،
شیخ الحدیث استاد العلماء حضرت مولانا شیخ محمد ادریس شہ ید رح کی تعزیت انکے صاحبزادے حضرت مولانا انیس احمد صاحب اور ڈاکٹر سلمان صاحب سے کی۔
اس موقع پر ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی دانشمند، حاجی عبدالرحمن، ضلعی کوآرڈینیٹر حسین احمد شیر اور راحت الفت مروت بھی موجود تھے۔

ٰن___صاحب #جمعیت

06/06/2026

احسان فراموش قوم بنوں کا غمخوار لیڈر مولانا فضل الرحمان

ہم افغانستان میں اس لیئے حملے کرتے ہیں کے وہاں دہشتگردی کے مراکز ہیں، لیکن یہاں بنوں میں دہشتگرد کھل کر موجود ہے ،
مولانا فضل الرحمان صاحب #
ٰن___صاحب #جمعیت

04/12/2025

مسلم لیگ ن مخصوص مذہبی تعبیر کی شقیں متعارف کراتی ہے اور پھر اعتراض آنے پر کمال سادگی اور معصومیت سے معترضین کو کم فہم قرار دے دیتی ہے. سوال ہہ ہے کہ یہ ایسے معاملات میں پہلے ہی پارلیمان میں موجود جماعتوں اور قیادت سے مشاورت کیوں نہیں کر لیتی.

کل بیرسٹر ظفراللہ تھے جو فرماتے تھےہماری قانون سازی کو تو سمجھا نہیں گیا ہم تو بڑی نیک نیتی سے حلف نامے کی لفظی اصطلاح کو بدل رہے تھے بس لوگ سمجھ نہ سکے اور آج اقلیتی کمیشن کے معاملے میں مولانا فضل الرحمن صاحب نے اعتراض کیا تو جناب اعظم نذیر تارڑ بھی وہی عذر اختیار کر رہے ہیں اور ان کا بھی یہی خیال ہے کہ ان کی قانون سازی تو درست ہے بس چند ناقدین اسے خاص مذہبی رنگ دے رہے ہیں.

سوال یہ ہے کہ بار بار ایسی مشق کی ہی کیوں جاتی ہے

پارلیمان میں اگر مسودہ دیکھے بغیر ہی یس اور نو کی رسم چلی ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رسم کو ویپنائز کرتے ہوئے ایسی شقیں ڈال لی جائیں جن کا تعلق مذہبی حساسیت سے ہو.

___
آصف محمود رپورٹ سخی گل جمعیتی shared by Muhammad Umair Baig #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

04/12/2025

شق 35 اصل رولا کیا تھا؟

پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں “نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025ء” کی منظوری کے ساتھ اچانک ملک بھر میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آخر اس بل میں ایسا کیا تھا جس پر مذہبی حلقوں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے شدید تشویش ظاہر کی۔ عام شہریوں کی اکثریت کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اصل تنازع کس شق کے گرد گھوم رہا تھا، اور اس شق کو حذف کرنے پر کیوں حکومت سمیت پورا ایوان متفق ہوا۔

یہ کمیشن پہلے سے موجود تھا، مگر اس کی قانونی حیثیت مبہم تھی۔ حکومت کا مقصد یہ تھا کہ کمیشن کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جائے، اس کے دائرہ اختیار، اختیارات اور طریقہ کار کا تعین ہو جائے، اور اقلیتی برادریوں کے مسائل کیلئے ایک مضبوط اور دستوری ادارہ قائم ہو۔ اسی مقصد کیلئے یہ بل سال 2025 میں پیش کیا گیا۔

مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب بل کے مسودے میں شق 35 شامل کی گئی۔ اس شق کا انگریزی متن کچھ یوں تھا:

“The provisions of this Act shall have effect notwithstanding anything contrary contained in any other law.”
یعنی:
“اس ایکٹ کی دفعات کو دیگر تمام موجودہ قوانین پر فوقیت حاصل ہو گی، چاہے کہیں بھی کوئی متضاد قانون موجود ہو۔”

یہ محض ایک جملہ تھا، مگر اسی ایک جملے نے ملک میں ایک حساس بحث کو جنم دیا۔
شق 35 کا مطلب یہ تھا کہ اگر کمیشن کوئی فیصلہ، سفارش یا رپورٹ جاری کرتا ہے تو وہ فیصلہ پاکستان کے کسی بھی موجودہ قانون پر سبقت رکھ سکتا ہے۔ یہاں سے خدشات نے جنم لیا۔

پاکستان کے حساس مذہبی قوانین، خصوصاً:
• آئین کی دفعات 260 وغیرہ
• قادیانی قوانین (Ordinance XX, 1984)
• مذہبی شناخت اور مذہبی آزادی سے متعلق قوانین
• توہینِ مذہب اور مذہبی تحفظ کی دفعات

یہ سب اپنے مخصوص پس منظر، حساسیت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔

تشویش یہ تھی کہ اگر کمیشن میں مستقبل میں کوئی ایسا رکن آ جائے جو سیکولر ذہن رکھتا ہو، یا جس کی مذہبی حساسیت کمزور ہو، تو وہ کسی ایسے معاملے میں “حقوقِ اقلیت” کے نام پر ایسی سفارش یا رپورٹ جاری کر سکتا ہے جو مذکورہ قوانین کی تشریح یا روح پر اثر انداز ہو۔ اور چونکہ شق 35 کمیشن کو دیگر قوانین پر فوقیت دیتی تھی، اس لئے اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ آئین کی مذہبی دفعات یا حساس قوانین کمزور پڑ جائیں یا ان کی قانونی حیثیت متنازع ہو جائے۔

یہ ایک ایسی بات تھی جس پر مذہبی طبقات، آئینی ماہرین اور متعدد سیاسی حلقے اپنی اپنی جگہ فکرمند تھے۔

مشترکہ اجلاس میں جب بل آیا تو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے شق 35 کی حساسیت پر پورے ایوان کو بریف کیا اور حکومت کو آگاہ کیا کہ اس شق کی موجودگی مستقبل میں بہت بڑے قانونی اور نظریاتی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مثالوں اور آئینی نکات کے ساتھ بتایا کہ یہ شق پاکستان کے مذہبی قوانین کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں رہا۔
• پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی مولانا فضل الرحمن کے مؤقف کی تائید کی،
• پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بھی مکمل اتفاق کیا،
• اور سب سے اہم بات کہ حکومت نے بھی نہ صرف اس نکتہ کی سنگینی کو محسوس کیا بلکہ اس سے اتفاق کرتے ہوئے شق 35 کو بل سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔

یوں ایک ترمیم پیش کی گئی، شق 35 بل سے خارج کردی گئی، اور بل نئی صورت میں منظور کر لیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد اب کمیشن کو کوئی ایسا اختیاری اختیار حاصل نہیں ہوگا جو پاکستانی قوانین یا آئین پر فوقیت رکھتا ہو۔ کمیشن کے فیصلے اب محض سفارشات کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں قانونی بالادستی حاصل نہیں۔

یہ کریڈٹ اس لئے جے یو آئی اور مولانا فضل الرحمن صاحب کو دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے وہ نقطہ اٹھایا جو عام لوگوں سے لے کر اکثر سیاستدانوں تک کی سمجھ سے اوجھل تھا۔ شور ضرور بہت ہوا، سوشل میڈیا پر بحثیں بھی چلیں، مگر عوام کی اکثریت کو علم ہی نہیں تھا کہ شق 35 اصل میں ہے کیا اور اس کے کیا نتائج نکل سکتے تھے۔

اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔ شق 35 کا معاملہ محض ایک قانونی تکنیکی غلطی نہیں تھی بلکہ ایک نہایت حساس معاملہ تھا جو مستقبل میں پاکستان کے قوانین کے پورے ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتا تھا
#جمعیتعلماءاسلام #سیاست

04/12/2025

میرے بیانات سے کچھ لوگ ناخوش ہے میں حق بات ہمیشہ کرونگااور مجھے اطلاعات بھی ارہاہے کہ میرے جان کوخطرہ ہےاگر مجھے کچھ ہوا جہاں سے بھی ہوا اسکا زمدار بلوچستان اور پاکستان کے حکومت ہے۔ شاہین جمیعت حافظ حمد اللہ #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

03/12/2025

*جیونیوز کی من گھڑت سرخی* 🖐️
> اصل کلپ یہ ہے کہ ہمیں تو عمران سے شکایت تھی کہ وہ مغربی ایجنڈے کا علمبردار ہے۔
> مگر موجودہ حکومت تو اسی ایجنڈے کو دوام دے رہی ہے۔ #جمعیتعلماءاسلام #سیاست Maulana Fazl ur Rehman

Want your business to be the top-listed Media Company in Chitral?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Mori Lasht
Chitral
17200