Bol Gilgit Media Network
اس پیج کو بنانے کا مقصد گلگت بلتستان کی اندرونی صورتحال مسائل، عمومی علم، خبریں، سماجی مسائل
11/07/2026
گلگت بلتستان کی معروف کاروباری، سماجی اور سیاسی شخصیت، پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن و رہنما جناب بشارت حسین نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ سے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران جناب بشارت حسین نے وزیر اعلیٰ کو منصب سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی، نیک خواہشات اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا، اور ان کی کامیابی، صحت اور عوامی خدمت کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود، بہتر طرزِ حکمرانی اور خطے کے روشن مستقبل سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جناب بشارت حسین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ اپنی قیادت، بصیرت اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں گلگت بلتستان پاکستان کے بہترین انتظامی خطوں میں اپنی نمایاں پہچان بنائے گا اور ترقی و گڈ گورننس کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کرے گا۔
24/06/2026
کربلا کی محبت اور ایک ہندو شاعر کا لازوال نوحہ
تاریخِ کربلا محض ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں گزر جانے کے باوجود کربلا کا پیغام مذہبی، جغرافیائی اور نسلی حدود سے بلند ہو کر دنیا بھر کے انسانوں کے دلوں کو متاثر کرتا چلا آ رہا ہے۔ برصغیر کی عزاداری کی تاریخ میں بھی ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں غیر مسلم اہلِ قلم نے اہلِ بیتؑ کی عظمت اور کربلا کے پیغام کو اپنے فن کا موضوع بنایا۔
شامِ غریباں کی مجالس میں جب بھی نوحۂ "گھبرائے گی زینب" پڑھا جاتا ہے تو فضا سوگوار ہو جاتی ہے اور سامعین کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ اس نوحے کے درد بھرے الفاظ نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں اور آج بھی عزاداری کا ایک لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس لازوال نوحے کے خالق ایک ہندو شاعر، چھنو لال دلگیر تھے۔
یہ حقیقت اپنے اندر ایک غیر معمولی پیغام رکھتی ہے۔ کربلا کی کشش صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہر اس دل کو اپنی طرف متوجہ کیا جو حق، انصاف، وفاداری اور قربانی کی قدر جانتا ہے۔ چھنو لال دلگیر نے جب حضرت زینبؑ کے صبر، استقامت اور کربلا کے المناک واقعات کو اپنے احساسات میں سمویا تو ان کے قلم سے ایسے اشعار تخلیق ہوئے جو آج بھی عزاداروں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔
برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں اہلِ بیتؑ سے محبت کی بے شمار داستانیں ملتی ہیں۔ ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے شعرا اور ادبا نے بھی امام حسینؑ کی قربانی کو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک کربلا کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ ظلم کے خلاف جدوجہد اور انسانی اقدار کی بقا کی علامت تھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ چھنو لال دلگیر کا نام وقت کی گرد میں کہیں دب گیا، مگر ان کا لکھا ہوا نوحہ آج بھی زندہ ہے۔ مجالس میں جب "گھبرائے گی زینب" کی صدا بلند ہوتی ہے تو سامعین شاعر کے مذہب کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ ان الفاظ میں پوشیدہ عقیدت، محبت اور درد کو محسوس کرتے ہیں۔ یہی کسی بھی عظیم تخلیق کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق کی شناخت سے آگے بڑھ کر لوگوں کے جذبات کا حصہ بن جائے۔
کربلا کا پیغام آج بھی انسانیت کو یہ سبق دیتا ہے کہ حق اور باطل کی جنگ میں اصل اہمیت کردار، اصول اور قربانی کی ہوتی ہے، نہ کہ نام، نسل یا مذہب کی۔ چھنو لال دلگیر کا یہ شاہکار نوحہ اسی آفاقی پیغام کی ایک خوبصورت مثال ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبتِ اہلِ بیتؑ دلوں کو جوڑتی ہے، تقسیم نہیں کرتی۔
محمد ہابیل حسین قزلباش
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100
Opening Hours
| 09:00 - 17:00 |