Sada-e-Himalayan

Sada-e-Himalayan

Share

The Echo of Truth from the Peaks. Representing the people of Gilgit-Baltistan with courage and integrity. #SadaEHimalayan

Photos from Sada-e-Himalayan's post 15/05/2026

افسوسناک خبر: یاسین نوح میں شارٹ سرکٹ سے مکان میں آگ لگ گئی-

آج جمعہ کے مبارک دن، یاسین نوح کے رہائشی اور ایک محنت کش انسان، جلال الدین کے گھر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے اچانک آگ بھڑک اُٹھی

آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کے نتیجے میں گھر کے دو کمرے مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تمام اہل خانہ محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلال الدین صاحب اور ان کے اہلخانہ کو اس مشکل گھڑی میں صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے نقصان کا بہترین نعم البدل عطا کرے۔ آمین۔

اور آپ تمام دوستوں سے بھی گزارش ہے کہ جلال الدین صاحب کے لیے خصوصی دعا کریں کہ اللہ ان کی پریشانی دور فرمائے۔ اگر ممکن ہو تو مقامی سطح پر ان کی مدد کے لیے بھی آگے بڑھیں۔

07/03/2026

سوشل میڈیا کی جھوٹی خبریں اور ہماری "کاپی پیسٹ" کی بیماری!

آج کل ہم سب کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے اور جانے انجانے میں ہم سب "بریکنگ نیوز رپورٹر" بن چکے ہیں۔ کوئی بھی سنسنی خیز خبر، تصویر یا ویڈیو ہمارے سامنے آتی ہے، تو ہم سچائی جانے بغیر، ایک سیکنڈ لگائے فوراً "کاپی، پیسٹ اور شیئر" کا بٹن دبا دیتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس اندھی تقلید کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟
ہماری بغیر تصدیق کی گئی ایک چھوٹی سی شیئرنگ یا فارورڈ کیا گیا ایک میسج کتنا بڑا نقصان کر سکتا ہے، اس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا:
• یہ کسی بے گناہ کی عزت اچھال سکتا ہے۔
• یہ معاشرے میں خوف اور افراتفری پھیلا سکتا ہے۔
• یہ دو لوگوں، برادریوں یا فرقوں کے درمیان نفرت اور فساد کی آگ بھڑکا سکتا ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز سچ نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ اپنے فالوورز بڑھانے، پیسے کمانے یا کسی خاص ایجنڈے کے تحت جان بوجھ کر جھوٹی خبریں (Fake News) پھیلاتے ہیں، اور ہم مفت میں ان کے آلے کے طور پر استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے دین میں بھی واضح ہدایت موجود ہے کہ:
"کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تصدیق کے) آگے بیان کر دے۔"
آئیے آج ایک ذمہ دار انسان بننے کا فیصلہ کریں!
اگلی بار فیس بک، واٹس ایپ یا کسی بھی جگہ کوئی خبر یا پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے صرف دو منٹ رکیں اور خود سے یہ 3 سوال پوچھیں:
1. کیا یہ خبر 100 فیصد سچ اور مستند ہے؟
2. کیا میرے شیئر کرنے سے معاشرے میں کوئی بہتری آئے گی یا صرف سنسنی پھیلے گی؟
3. اگر یہ جھوٹ نکلی تو کیا میں اس کا گناہ اٹھانے کو تیار ہوں؟
اگر جواب 'نہیں' ہے، تو اس سلسلے کو اپنے پاس ہی توڑ دیں۔ انگلیاں چلانے سے پہلے اپنا دماغ چلائیں، کیونکہ سچ کو پھیلانا صدقہ ہے اور جھوٹ کو پھیلانا ایک جرم۔

Disclaimer: "Symbolic illustration. Not a photograph of a real event.

Want your business to be the top-listed Photography Service in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Jutiyal Gilgit-Baltistan
Gilgit
15100