Minhaj Ud Din
a reader, a writer (to be), a son, a brother, a friend, a poet and a lover.
12/07/2026
قبلہ و کعبہ! اگر تاریخ کے اوراق پلٹیں تو بلوچی شلوار محض ایک پہناوا نہیں، بلکہ کپڑے کی دنیا کا وہ عظیم الشان خیمہ ہے جس کے آگے اچھے بھلے شامیانے پانی بھرتے ہیں۔
پُرانے وقتوں کی بات ہے جب بلوچ قبائل نے صحراؤں کی تپتی دھوپ اور سنگلاخ پہاڑوں میں ڈیرے ڈالے، تو انہیں احساس ہوا کہ ائیر کنڈیشنر تو ابھی ایجاد نہیں ہوا، تو کیوں نہ شلوار کا گھیر ہی اتنا رکھا جائے کہ چلتن کی ساری ہوائیں اسی کے راستے گزرا کریں!
لوگ کہتے ہیں کہ یہ بلوچوں کے بڑے دل اور فراخ دلی کی علامت ہے۔ ارے حضور! جس شلوار میں چالیس فٹ کپڑا کھپ جاتا ہو، اسے فراخ دلی نہ کہیں تو کیا کنجوسی کہیں؟ بگٹی شلوار کا تو یہ عالم ہے کہ درزی اسے سیتے سیتے بسا اوقات خود اس کے گھیر میں گم ہو جاتا ہے اور پھر محلے میں اعلان کروانا پڑتا ہے۔
یہ کوئی عام شلوار نہیں تھی، بلکہ صحرا کے سفر، گھڑ سواری اور اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھنے کے لیے یہ ایسی ہی کارآمد تھی جیسے آج کل کی لگژری گاڑیوں کا شاک ایبزاربر۔
یہ شلوار بلوچوں کے وقار اور موسموں سے لڑنے کا وہ ہتھیار ہے جس نے کپڑے کی صنعت کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ جب تک دنیا میں کپڑے کے تھان اور بلوچوں کا طنطنہ سلامت ہے، یہ شلوار یونہی شان سے لہراتی رہے گی!
(نوٹ: شلوار کے پاس سے گزرتے ہوئے ذرا احتیاط برتیں، کہیں آپ اس کے گھیر میں نہ الجھ جائیں۔)
اور میری غربت نے شلوار کا گھیر بس کوئی دس فٹ ہی رکھ سکا۔ اسکی شلوار کو بلوچی کہنا کافی بڑا ظلم ہے لیکن چلیں کوئی نئیں، شوق سلامت رہے، بلوچ برداشت کر کے عادی ہیں۔ سہ لینگے یہ بھی!
27/06/2026
المیہ یہ ہے کہ تیز لڑکی کے علاوہ ہمیں بقیہ کائنات تیز ہی چاہیے۔
تیزرو، تیزگام، تیزاب، تیز رفتار۔ اور نہ جانے کیا۔ تیز تیز
تیز یا سیدھی سادھی کی خواہش کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیجیے گا کہ گھر کے آنگن میں کھیلنے والی اگلی نسل زمانے سے نبردآزما ہونے والی چاہیے یا سختیوں سے بھاگنے والی؟
جیسی زمین ہوگی، ویسا ہی پھل اگے گا نا!
- ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
Click here to claim your Sponsored Listing.