Fourth Pillar
Fourth Pillar
05/11/2025
غزر کے علاقے گلاپور سے تعلق رکھنے والے خادم حسین نے غذر حلقہ نمبر دو سے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ خادم حسین اس وقت یوگنڈا میں کاروبار سے وابستہ ہیں اور وہاں ایک کامیاب بزنس مین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، خادم حسین نہ صرف کاروباری میدان میں سرگرم ہیں بلکہ سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ماضی میں بلاورستان نیشنل فرنٹ (BNF) یوگنڈا زون کے پہلے صدر رہ چکے ہیں، جہاں انہوں نے پارٹی کی تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خادم حسین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد علاقے کی ترقی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرناہے۔
28/10/2025
سر پر گولی کھا کر وطن کے پرچم کو سربلند کیا۔🇵🇰
25 اکتوبر کو حولدار منظور حسین اور ان کے چار ساتھیوں کا شمالی وزیرستان میں 25 دہشت گردوں کے ساتھ بہت ہی قریب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، منظور حسین کو ایک گولی پاؤں اور دوسرا گولی بازو پہ لگی لیکن اس نے اپنی ساتھیوں کو ہمت دی اور مزید زخمی حالت میں لڑنے کا فیصلہ کیا۔۔
اس جھڑپ میں منظور حسین اور ان کی ساتھیوں نے 25 ملک دشمن دہشت گردوں کو جہنم واصل کیے، اور سر پہ گولی لگنے سے چار ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر گئے۔
حوالدار منظور حسین کا تعلق وادی پھنڈر کے گاؤں شنگلاٹ سے ہے۔
23/09/2025
24/06/2025
گلگت بلتستان کے ضلع نگر سے تعلق رکھنے والے معروف سوشل ایکٹیوٹس یاور عباس نگر میں پہاڑی سے گر کر لاپتہ ہوچکے ہیں ان کو فوری ریسکیو کرنے کیلئے اہل خانہ اور نوجوانوں کی طرف سے پرزور اپیل سامنے آگئی ہے صوبائی حکومت اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے اپیل ہے کہ وہ نوجوان کو ریسکیو کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم کریں ۔
13/06/2025
آہ مقصود حجازی۔
کتنا خوبصورت ہوگا وہ لمحہ آپ کو جس کی محفل میں بیٹھنے کی تمنا تھی وہ پوری ہورہی ہوں دنیا کے غم پریشانی سے آزاد ہوکر خوب دل کھول کر باتیں کر رہے ہوں صرف مسکراہٹیں بکیھر رہے ہوں باتوں سے پھول کھل رہے ہوں سارا دن یوں گزرے اور آدھی رات ہونے پر صبح جلد ملنے کا حکم دیکر جانے والے کا جب آدھے گھنٹے کے بعد ہمشہ ہمیشہ کے لئے جدائی کی خبر ملے ، احساسات اور جذبات دل و دماغ پر ہتھوڑے کی طرح وار تو کرتے ہیں وہ واراتنا گہرا ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا ہم سب کی بس کی بات نہیں۔ خصوصاََ میرے جیسے بندے کو جسے نا اچھی طرح پڑھنا آتا ہو نا لکھنا بس کوئی سینے سے دل کھینچ کر نکال رہا تھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر روک بھی نہیں سکتے تھے دس جون کا دن بھی مرحوم بھائی مقصود الرحمن کے رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے کچھ ایسی ہی خبر لیکر آیا جسے سن کر ہربندے پر سکتہ طاری ہوچکا تھا وہ خبر تھی دلوں پر حکمرانی کرنے والے ہر وقت مسکراہٹوں کو بانٹنے والے حافظ قرآن انبیاء کا وارث ساری زندگی مدینہ منورہ میں گزارنے والا حجاج کا خادم اخلاق کا پیکر صبر کا پہاڑ سخاوت جس پر ختم تھی، ہر بندے کی مشکل میں کھڑے ہونے والا بچوں سے لیکر بزرگوں تک جس کو دیکھ کر دل بے ساختہ مسکرانا شروع کردیتا تھا اس محسن کی ہم سے ہمیشہ کے لئے جدائی کا بس یہی کہوں گا
اب لوگ تذکرے کرینگے اچھے لوگوں کی
میں کیسے بات کروں اب کہاں سے لاؤں اسے
جس نے بغیر منہ سے کچھ کہے ہم سب دوستوں کی ایسی تربیت کی اور اتنا کچھ سیکھایا جس پر ہم عمل کرینگے تو انشاء اللہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہونگے کچھ لوگ ہمیں اچھا راستہ دکھانے کے لئے آتے ہیں اپنے ساتھ جوڑ کر اچھے راستوں پر چلنا سکھاکر خود نئے راستوں پر نکل پڑتے ہیں الحمدللہ ہم مسلمان ہیں ہمارا ایمان ہے اس دنیا میں جو بھی آتا ہے اس نے ایک دن جانا ہے لیکن جدائی کا دکھ گہرے زخم کے درد کی طرح بار بار اٹھ جاتا ہے عید الاضحی کے دن خوشی کے موقع پر ایسے دنوں کا ہم سب دوستوں کو انتظار ہوتا تھا سب علماء قراء جمع ہوکر صبح سے رات گئے تک ہم مقصود بھائی کے ارد گرد بیٹھے رہتے تھے کچھ دوستوں کی جدائی اور بچھڑنے کا دکھ انسان کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے لوگ کہتے ہیں انسان کے جانے کے بعد اس کی قدر ہوتی ہے لیکن یہاں معاملہ یہ تھا بھائی مقصود اپنی زندگی میں ہی ہم سب کا قیمتی اثاثہ تھا دل سے قدر تھی کیونکہ وہ ایک پھول تھا جس کا خوشبو سب کو مہکاتا تھا اس خوشبو کا موازنہ کون کرسکتا ہے،
میں اتنا یقین سے کہ سکتا ہوں ہمیں جب بھی مل بیٹھنے کا موقع ملتا تھا سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی تھی کہ آپ کے ساتھ وقت گزرے گا اسی طرح جب آپ راولپنڈی آنے کی اطلاع کرتے تھے تو دل کی خوشی سے ایک عجیب کیفیت ہوتی تھی کیونکہ میں آج سب دوستوں کی دل کی کیفیت کی ترجمانی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں دل سب کا زخمی ہو چکا ہے
دکھ سب کا مشترک تھا مگر حوصلہ جدا
کوئی سنبھل گیا کوئی بکھر گیا اس لئے ہزاروں باتیں جو میرے دل میں ہے ان کا ذکر نہیں کروں گا
یہاں جو حوصلہ دوستوں رشتہ داروں کو ملا وہ سب سے زیادہ مرحوم کے گھر والوں سے ملا بھائی بیٹے بلخصوص چچا الحاج حافظ محبوب احمد کو رب نے کیا ہمت حوصلہ دیا ہے ایسے مظبوط عقیدے والا انسان آج تک نہیں دیکھا زبان پر جزاکم اللہ الحمدللہ کے الفاظ تھے جسے دیکھ کر آنے والے ہر عزیز کو ہمت بندھ گئی نماز جنازے میں جو خلق خدا ہزاروں کی تعداد میں دور دراز علاقوں سے گھنٹوں کا سفر کر کے تشریف لائے سب کا تہ دل سے شکریہ اللہ پاک سب کو بہترین جزائے خیر عطاء فرمائے آمین
آپ جب حیات تھے آپ نے ہر تعلق رشتے کو خوب نبھایا وفاداری، محبت خلوص سب پر نچھاور کر دیا رب العالمین ہر نیکی کو قبول فرمائے اور بھترین بدلہ عطاء فرمائے میری تمام دوستوں سے گزارش ہے ایک دفعہ سورہ فاتحہ تین دفعہ سورہ اخلاص پڑھ کر بخشش کی دعا ضرور کریں شکریہ جزاکم اللہ خیرا
شہزاد عالم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit