Yasin Click
We are here to serve you ! Welcome everyone we are working as News Media and Tour Guide Agency 💫❤️
06/05/2026
دیدار
عشقِ باطن، وہ آگ جو دکھائی نہیں دیتی
محبت کا ایک قانون ہے جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا جو چیز جتنی گہری ہو، اتنی ہی خاموش ہوتی ہے۔ سمندر کی سطح پر شور ہوتا ہے، طوفان ہوتے ہیں، لہریں ہوتی ہیں مگر سمندر کی تہہ میں ایک ایسی خاموشی ہے جسے کوئی آواز نہیں توڑ سکتی۔ مرشد اور مرید کا رشتہ اسی تہہ میں رہتا ہے سطح پر نہیں، گہرائی میں۔ اور جو اسے سطح پر لے آئے، وہ نہ جانے کہ اس نے کیا کھو دیا۔
آج کے اس دور میں ایک عجیب المیہ ہے۔ انسان کے پاس ہر چیز کہنے کا ذریعہ ہے مگر کہنے کے قابل کچھ بچا نہیں۔ وہ ہر جذبے کو لفظوں میں ڈھالنا چاہتا ہے، ہر کیفیت کو اسکرین پر سجانا چاہتا ہے، ہر عقیدت کو دنیا کو دکھانا چاہتا ہے جیسے جب تک کسی نے نہ دیکھا، محبت مکمل نہیں ہوتی۔ مگر یہ سوچ ہی محبت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ جس لمحے تم نے اپنے عشق کو دنیا کی نگاہ کا محتاج بنایا، اس لمحے وہ عشق تمہارا نہیں رہا وہ دنیا کی ملکیت بن گیا۔
مرشد اور مرید کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے، اسے سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مرشد کون ہے۔ مرشد محض ایک انسان نہیں مرشد وہ آئینہ ہے جس میں الٰہی نور منعکس ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات سے نہیں چمکتا، وہ اس نور سے چمکتا ہے جو اسے ودیعت کیا گیا ہے۔ اور مرید وہ ہے جس کی آنکھیں اس نور کو پہچان لیتی ہیں اس پہچان کو "معرفت" کہتے ہیں۔ یہ معرفت کسی کو سکھائی نہیں جا سکتی، یہ عطا ہوتی ہے۔ اور جب عطا ہوتی ہے تو مرید کے اندر ایک ایسا انقلاب آتا ہے جو باہر سے دکھائی نہیں دیتا مگر اندر سے سب کچھ بدل دیتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب دیدار کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ عام آنکھ سمجھتی ہے کہ دیدار یعنی دیکھنا جسمانی آنکھوں سے مرشد کے چہرے کو دیکھنا۔ مگر صوفیاء نے جب دیدار کی بات کی تو وہ کسی اور چیز کی بات کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اصل دیدار وہ ہے جو آنکھ نہیں، روح کرتی ہے۔ جسمانی آنکھ تو صرف ظاہر دیکھتی ہے رنگ، روپ، شکل، حلیہ۔ مگر روح کی آنکھ وہ دیکھتی ہے جو ظاہر کے پیچھے ہے وہ نور، وہ حقیقت، وہ تجلّی جو اس وجود میں سمائی ہوئی ہے۔ اور جب روح یہ دیدار کرتی ہے تو ایک ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جسے نہ بیان کیا جا سکتا ہے، نہ کیمرے میں قید کیا جا سکتا ہے، نہ الفاظ میں سمویا جا سکتا ہے۔
حضرت مولانا رومؒ نے اسی کیفیت کو بیان کرنے کی کوشش کی اور پھر خود ہی کہا کہ میں اسے بیان نہیں کر سکا۔ انہوں نے شمس تبریزؒ سے پہلی ملاقات کا قصہ کبھی مکمل طور پر بیان نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جو اس لمحے ہوا، اسے الفاظ میں لانا اس لمحے کی بے حرمتی ہوتی۔ بس اتنا کہا کہ "شمس آئے اور مجھے جلا گئے" اور یہ جلنا موت نہیں تھی، یہ ایک نئی زندگی کا آغاز تھا۔
یہی وہ جلنا ہے جو ہر سچے مرید کو نصیب ہوتا ہے جب وہ اپنے مرشد کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ اس حاضری میں سب سے پہلے جو چیز جلتی ہے وہ "انا" ہے وہ "میں" جو ہر انسان اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ وہ "میں" جو کہتی ہے کہ میں بہت کچھ جانتا ہوں، میں بہت اچھا ہوں، میں بہت عاشق ہوں، میں بہت مومن ہوں یہ سب کچھ امام کی نگاہ کے سامنے ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ اور اس ریزہ ریزہ ہونے میں ایک عجیب لذّت ہے جیسے برسوں کا بوجھ ایک لمحے میں اتر گیا ہو۔
اب ذرا سوچو کہ وہ مرید جس نے یہ کیفیت محسوس کی، کیا وہ اسے سوشل میڈیا پر بیان کر سکتا ہے؟ کیا وہ لکھ سکتا ہے کہ "آج میں نے دیدار کیا اور میری انا جل گئی"؟ نہیں کیونکہ جس کی انا جل گئی ہو، وہ دکھاوے کی طرف جاتا ہی نہیں۔ دکھاوا تو انا کا کام ہے میں نے دیکھا، میں نے پایا، میں نے محسوس کیا۔ جب "میں" ہی باقی نہ رہے، تو دکھائے کون اور کسے؟
اور پھر وہ لوگ جو دوسری روایت میں ہیں، جو اس باطنی عقیدے کو نہیں مانتے، جو امامِ حاضر کو ایک عام انسان سمجھتے ہیں وہ غلط نہیں ہیں اپنے نقطۂ نظر سے۔ کیونکہ معرفت کا یہ قانون ہے کہ جسے عطا نہ ہو، وہ محسوس نہ کر سکے۔ گلاب کے باغ میں کھڑے شخص کو خوشبو آتی ہے دور کھڑے شخص کو نہیں آتی۔ کیا دور کھڑا شخص غلط ہے؟ نہیں وہ بس دور ہے۔ اور جب تم اپنی عقیدت کو بازار میں لے آتے ہو تو دور کھڑے شخص سے جھگڑا شروع ہو جاتا ہے وہ کہتا ہے خوشبو نہیں، تم کہتے ہو ہے اور یہ جھگڑا کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ تم دونوں اپنی اپنی جگہ سچے ہو۔
اس لیے جو مومن سمجھدار ہے، جو عاشق پختہ ہے، وہ اپنی محبت کو اپنے سینے کی گہرائیوں میں رکھتا ہے جہاں کوئی نگاہ نہیں پہنچتی، کوئی سوال نہیں پہنچتا، کوئی فتویٰ نہیں پہنچتا۔ وہ رات کو اٹھتا ہے جب دنیا سوئی ہوتی ہے تب روتا ہے، تب دعا مانگتا ہے، تب امام کا نام لیتا ہے۔ اس اندھیرے میں، اس خاموشی میں، اس تنہائی میں جو تعلق استوار ہوتا ہے وہ کسی کو نہیں بتایا جا سکتا، کیونکہ اسے بتانے کے لیے جو زبان چاہیے وہ ابھی انسانیت کے پاس ہے ہی نہیں۔
دیدار کی بات کریں تو جب مولانا ہاضر امام گلگت اور چترال کے پہاڑوں کے دامن میں دیدارگاہ میں تشریف رکھیں گے تو ہزاروں آنکھیں ایک سمت ہوں گی۔ مگر جو دیکھے گا وہ سب ایک جیسا نہیں دیکھیں گے۔ کچھ آنکھیں ایک انسان دیکھیں گی اچھا، معزز، قابلِ احترام۔ کچھ آنکھیں اپنے روحانی پیشوا کو دیکھیں گی محبوب، مقدس، پوجنیی۔ مگر کچھ روحیں ہوں گی گنتی کی جو اس لمحے وہ دیکھیں گی جو آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ وہ دیکھیں گی اس نور کو جو چودہ سو سال سے ایک سینے سے دوسرے سینے میں منتقل ہوتا آیا ہے، جو حضرت علیؑ سے شروع ہوا اور آج شاہ رحیم الحسینی میں جلوہ گر ہے۔ اور جس لمحے وہ نور دکھے گا، وہ روح بے اختیار ہو جائے گی اس کے آنسو اسے پوچھ کر نہیں آئیں گے، اس کا دل اسے بتائے بغیر ٹوٹے گا اور جڑے گا، اور اس کے اندر ایک ایسی خاموشی طاری ہوگی جو شور سے بھی زیادہ گہری ہے۔
اور پھر جب وہ واپس آئے گا گھر وہ کسی کو نہیں بتائے گا کہ اس نے کیا دیکھا۔ نہ اس لیے کہ بتانا نہیں چاہتا، بلکہ اس لیے کہ بتانے کے لیے الفاظ نہیں ہوں گے اس کے پاس۔ وہ بس چپ ہو جائے گا اور یہ چپ ہونا اس کی سب سے بڑی گواہی ہوگی کہ اس نے کچھ ایسا پایا جو دنیا کی کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی۔
یہی فرق ہے اصل عاشق اور نمائشی عاشق میں۔ نمائشی عاشق دیدار کے فوراً بعد فون اٹھاتا ہے تصویر کھینچتا ہے، پوسٹ کرتا ہے، کیپشن لکھتا ہے۔ اس کا دیدار اسکرین پر ہے۔ مگر اصل عاشق وہ فون رکھ دیتا ہے، بلکہ فون کا خیال ہی نہیں آتا اسے کیونکہ وہ اس وقت کسی اور دنیا میں ہوتا ہے۔ وہ اس وقت اس کائنات کی گہری ترین سچائی سے ہم کنار ہوتا ہے، اور اس لمحے میں سوشل میڈیا ایسا بے معنی لگتا ہے جیسے سمندر کے کنارے کھڑے شخص کو کوئی پانی کا گلاس پیش کرے۔
اس لیے اے عاشقِ امام اپنے عشق کی حفاظت کر۔ اسے سینے میں دفن کر جیسے زمین بیج کو دفن کرتی ہے باہر سے کچھ دکھائی نہیں دیتا، مگر اندر ایک درخت جنم لے رہا ہوتا ہے۔ اپنی عقیدت کو اپنے کردار میں ظاہر ہونے دے اپنے صبر میں، اپنی سچائی میں، اپنے اخلاق میں، اپنی خاموشی میں۔ کیونکہ امام کا عاشق وہ نہیں جو امام کا نام سب سے اونچی آواز میں لے امام کا عاشق وہ ہے جس کے کردار کو دیکھ کر لوگ خود پوچھیں کہ اس انسان کو کس نے سنوارا ہے۔
اور آخر میں بس اتنا کہ مرشد اور مرید کے درمیان جو رشتہ ہے، وہ اللہ کی سب سے خوبصورت عطاؤں میں سے ایک ہے۔ اسے بازار میں مت لاؤ۔ اسے نگاہوں کی بھیڑ میں مت لاؤ۔ اسے اپنے سینے کی اس گہری ترین تہہ میں رکھو جہاں صرف اللہ کی نگاہ پہنچتی ہے اور بس۔ کیونکہ اللہ کی نگاہ کافی ہے دنیا کی ساری نگاہوں سے بڑھ کر۔
تحریر: اک پیادہ
نوٹ : یہ تحریر اس ہر مرید کے لیے ہے جو جانتا ہے کہ سب سے گہرا عشق وہی ہوتا ہے جو سب سے خاموش ہو۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit