Haramosh Times
Your window to latest news, analysis and history of Gilgit-Baltistan (Balawaristan), and Current/World Affairs.
25/05/2024
پھنڈر ریسٹ ہاوس میں25 وی آئی پی کمرے ہیں جن کی تعمیر میں تقریباََ 4 کروڑ خرچ ہوئے ہیں، گرین ٹورزم لمٹیڈ ان 25 کمروں کا ماہانہ کرایہ صرف 41953 روپے ادا کرے گی
پھنڈر سلوپ پلانٹیشن جوکہ سرکار نے بغیر ادائیگی قبضہ کر چکی ہے، اس کا کل رقبہ 736 کنال پر مشتمل ہے، گرین ٹورزم اسی اراضی کا فی کنال 267 روپے ماہانہ ادا کرے گی
حکومت گلگت بلتستان کے بابوں نے صرف سیاحت کے لئے کمپنی کو زمین لیز پر نہیں دی ہیں بلکہ Inter alia کے لفظ کو بار بار پڑھنے کے بعد پوچھا تک نہیں کہ اس لفظ کا کیا مطلب ہے
گرین ٹورزم کے نام پر اتنی بڑی اراضی کو ماہانہ 267 روپے فی کنال حاصل کرنا اور اس پر تعمیرات کے کلی اختیار لینا اس بات کی نشاندہی ہے کہ کمپنی ماحولیات کی تباہی کرے گی
جہاں عوام متحد اور غیرت سے بھرپور ہے وہاں کمپنی کو ان سے خوف بھی ہے، چلاس کے ریسٹ ہاوس میں صرف 3 کمروں کا ماہانہ کرایہ تقریباََ 82 ہزار ادا کرے گی
بابوسر چلاس میں فاریسٹ لینڈ کا ماہانہ کرایہ 11 ہزار سے زائد رکھا گیا ہے
Yarkeen Bazum at Kutwal Valley.
16/05/2023
گلگت بلتستان ایس پی یو پولیس کے بہادر نوجوان حراموش داسو سے تعلق رکھنے والے منور عباس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دریا گلگت میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والے لڑکے کو دریائے گلگت سے نکال لیا۔۔ ہم اس بہادر نوجوان منور عباس کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انسپکٹر جنرل پولیس جی بی سے اپیل کرتے ہے کہ وہ اس نوجوان کی حوصلہ افزائی کرے اور تمغہ جرآت سے نوازیں تاکہ اس نوجوان کی حوصلہ افزائی ہو ۔۔
(جی بی عوام)
SPU Commandos police Gilgit Baltistan
Manwar Abbas
27/04/2023
داسو کے لچکدار لوگ!❤✍🏻
تحریر! طفیل احمد، داسو
پبلشڈ: https://www.humsub.com.pk/506574/tufail-ahmad-dasu
تاریخ: اپریل 25، 2023!
شمالی پاکستان کے شاندار پہاڑوں کے اندر واقع حراموش داسو کم و بیش 500 گھرانوں پر مشتمل گاؤں ہے۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع اور چیلنجنگ خطہ اسے قدرتی آفات، جیسے لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک سیلاب کا شکار بناتا ہے جس کے باعث علاقہ مکین ماضی میں ناقابل تلافی جانی و مالی نقصانات اٹھا چکے ہیں، جنہیں لوک کہانیوں کے طور پر بچے ماوٴں کی گود میں سن کر جوان ہوتے ہیں۔ داسو کے لوگ قدرتی آفات کے ساتھ اپنے ماضی کے تجربات کی وجہ سے ایک فطری ریسکیو ٹیم بن چکے ہیں۔
انہوں نے ایسے حالات کے لیے تیار رہنے کی ذہنیت تیار کر کے اپنے ماحول کے مطابق ڈھال لیا ہے اور یہ تقریباً جینیاتی ہو گیا ہے۔ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں، وہ خود کو بے لوث رضاکاروں کے طور پر یاد کرتے ہیں اور بغیر کسی درخواست کے آفت کے مقام پر پہنچنا علاقے کی ثقافت کا جزو لاینفک ہے۔ وہ دوسروں کی مدد کے لیے اکثر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، اور بچاؤ کی ان گنت یادوں کی وجہ سے گاؤں میں انہیں مقامی 1122 کے نام سے جانا جاتا ہے۔
کبھی کبھار حراموش ماسف پر سے گرنے والے برفانی تودے، مانی گلیشئر کے پہلو میں واقع کوٹوال جھیل کے آس پاس وادی میں گھاس چرتے مویشیوں کے جھنڈ کچل دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ وادی کوٹوال اہالیان داسو کی گرمائی چراگاہ ہے اور مال مویشی پالنا ان کی گزر بسر کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بعض اوقات سکردو کی طرف کھلنے والا برفانی گزرگاہ، حراموش لا، کے ذریعے ٹریک کرنے والے ایکسپیڈیشن اور ٹرکنگ گروپس برفانی طوفان کے زد میں آ کر مصیبت میں پڑ جاتے ہیں جن کے لئے داسو کے لوگ امید اور طاقت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، کم و بیش ایک عشرہ قبل ایک ٹریکنگ گروپ میں شریک ارندو شوگر کے کچھ افراد کو مانی گلیشئر میں داخل ہوتے ہوئے حادثہ پیش آیا جس کی خبر ملنے پر وادی کوٹوال میں موجود داسو کے لوگوں نے خطرے کا پرواہ کیے بغیر جائے وقوعہ پر پہنچ کر مدد کا ہاتھ بڑھایا، یوں ان کی بے لوثی اور بہادری نے انہیں اپنے پڑوسیوں کی عزت اور تعریف حاصل کی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقامی چراگاہ کوٹوال ایک مشہور سیر گاہ میں بدل رہی ہے ایسے میں اہالیان داسو پر سیاحوں کی حفاظت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح، پہاڑوں پر پگھلنے والے برف کی باعث آنے والا سالانہ سیلاب داسو گاوٴں کیے لئے لائف لائن کی حیثیت رکھنے والی 9 کلومیٹر طویل کو ہل کو اکثر تباہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے مشہور سیاحتی مقام کوٹوال لیک جانے والی پونی ٹریک بھی منقطع ہوجاتی ہے۔ جس کی ایک مثال 2018 کے دوران پیش آئی جب شدید بارش اور سیلاب کے نتیجے میں طویل فاصلے تک کو ہل کا نشان تک مٹ گیا تھا۔ اس وقت جی بی اسمبلی میں موجود اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد شفیع خان کی ذاتی دلچسپی اور متاثرہ ایریا کے ہنگامی دورے سے استفادہ کرتے ہوئے داسو کے لوگوں نے بے پناہ ہمت کا مظاہرہ کیا اور مرجھائی ہوئی فصلوں کو بچانے کے لیے نہ صرف گاؤں میں بروقت پانی بحال کرنے کا سبیل کیا بلکہ کو ہل کے ساتھ ملحقہ کوٹوال لیک تک جانے والے ٹریک کی مرمت بھی کیا۔ اس طرح مقامی لوگوں اور سیاحوں کو یکساں سہولت میسر آئی۔ یہی خدمات وہ ہر سال بغیرکسی سرکاری مدد کے انجام دیتے رہتے ہیں۔
موقع پر آئے ہوئے کئی سیاحوں نے اہالیان داسو کے اس بے لوث عمل کا بخوبی مشاہدہ کیا۔ ان سیاحوں کے بیچ موجود لاہور بیسڈ این جی او ”حمودالرحمٰن فاونڈیشن ”کے اہلکاروں نے اس منفرد علاقے میں پانی کی بنیادی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جنہوں نے واپس پنجاب پہنچنے کے بعد ادارے کی جانب سے 42 ہزار فٹ 4 انچ پائپ اہالیان داسو کو فراہم کیا تاکہ کم از کم پینے کا صاف پانی گاوٴں میں بلا تعطل دستیاب ہو سکے۔
تاہم، داسو کے لوگوں کو لاحق خطرات صرف قدرتی آفات تک محدود نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ 1987 ء میں ناقص طریقے سے تعمیر کی گئی گاوٴں کی پر خطر جیپ ایبل سڑک حادثات کی وجہ سے کئی جانیں لے چکی ہے جبکہ 2018 ء سے زیر تعمیر ویگن ایبل ٹورازم روڈ کا انداز تعمیر بھی پہلی سے کچھ مختلف نہیں۔ لالچ اور بدعنوانی کی وجہ سے مقامی حکومت نے علاقے کے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے اپنے فرض سے غفلت برتی ہے۔ نتیجے کے طور پر ، اہل علاقہ خود اپنے محافظ بننے کا ذمہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔
یہ ضروری ہے کہ حکومت رضاکار برادریوں کی نشاندہی کر کے ضروری تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اگرچہ وہ اپنے اردگرد موجود خطرات کو ختم نہیں کر سکتے، لیکن حکومت کی طرف سے صحیح انفراسٹرکچر اور وسائل کے ذریعے حمایت کے ساتھ، لوگ قدرتی آفات کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں اور آس پاس کے دیہاتوں میں اپنے پڑوسیوں کی مدد کر کے ان کے لیے امید اور طاقت کی کرن بن کر رہ سکتے ہیں۔
مزید برآں، حکومت کو خالصتاً انسانی ہمدردی کا نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ متعلقہ حکومتی اہلکار زیر تعمیر کوٹوال روڈ سمیت دیگر مفاد عامہ کے منصوبوں میں بد دیانتی کے ذریعے، قدرتی آفات سے ہونے والی تباہ کاریوں میں اضافے کا سبب نہ بنیں۔
آخر میں، داسو کے لوگوں کی کئی خامیاں بھی ہوں گی، تاہم مصیبت کی گھڑی میں جذبہ فداکاری ایک ایسی خوبی ہے جس میں انسانی روح کی لچک اور بے لوثی کی جھلک نظر آتی ہے۔ مشکلات کو موقع میں بدلنے اور ضرورت کے وقت اپنی برادری اور انسانیت کی مدد کرنے کی ان کی صلاحیت ایک مثال ہے جس کی ثقافتی بنیادوں پر رجحان سازی پر زور دے کر دیگر معاشرتی خامیوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔
قدرتی آفات کے جنگجو: حراموش داسو کے لچکدار لوگ - ہم سب شمالی پاکستان کے شاندار پہاڑوں کے اندر واقع حراموش داسو کم و بیش 500 گھرانوں پر مشتمل گاؤں ہے۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع اور چیلنجنگ خطہ اسے قدرتی آفات، ج...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100