Dr Muhammad Amjad
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Muhammad Amjad, Medical and health, Al-Hussaini Health Care Centre, Gilgit.
10/06/2026
Get endoscopic examination for your ear nose throat diseases
18/02/2026
Ramzan Mubarak
Ramzan timing
OPD
Al hussaini health care center
2:30-5:00 pm
SEHHAT FOUNDATION HOSPITAL DANYORE
7:30 - 10:00 pm
23/01/2026
This Sunday InshaaAllah
Sehhat foundation
For your better health
Share please
27/12/2025
بچوں میں کان کے انفیکشن اور قدرتی کان کی میل (Ear Wax) میں فرق کیسے پہچانیں؟
درمیانی کان کا انفیکشن بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے، خاص طور پر کم عمری میں۔ لیکن اکثر والدین قدرتی کان کی میل (Earwax) کو سوزش/انفیکشن کی علامات سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ دونوں میں واضح فرق ہوتا ہے۔
اس تحریر میں ہم یہ فرق آسان الفاظ میں بیان کریں گے تاکہ آپ جان سکیں کب فکر کرنی ہے اور کب نہیں۔
✅ سب سے پہلے: قدرتی کان کی میل کیا ہے؟
کان کی میل ایک پیلی یا بھوری رنگت کی قدرتی مادہ ہے جو کان خود بناتا ہے۔ اس کے اہم کام یہ ہیں:
• کان کو گرد و غبار اور جراثیم سے بچانا
• کان کی نالی کو نم رکھنا
• خود بخود باہر کی طرف نکل جانا، اسے صاف کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی
👉 کان کی میل کا ہونا انفیکشن کی علامت نہیں ہے۔
❗ کان میں انفیکشن (سوزش) کی علامات:
1️⃣ کان کو بار بار کھجانا یا بے چینی
خاص طور پر شیر خوار بچے جو درد کا اظہار نہیں کر سکتے۔
2️⃣ بخار
خاص طور پر اگر درجہ حرارت 38.5°C سے زیادہ ہو۔
3️⃣ مسلسل رونا یا رات کو بار بار جاگنا
کان کے اندر دباؤ کی وجہ سے بچے کو تکلیف ہوتی ہے۔
4️⃣ دودھ پینے سے انکار یا بھوک کم ہو جانا
کیونکہ چوسنے یا نگلنے سے کان میں دباؤ بڑھتا ہے۔
5️⃣ کان سے غیر معمولی رطوبت آنا
جیسے پیلا، سفید، سبز یا بدبو دار مواد۔
6️⃣ عارضی طور پر سننے میں کمی
یہ زیادہ تر بڑے بچوں میں محسوس ہوتی ہے۔
🟡 قدرتی کان کی میل اور انفیکشن کے اخراج میں فرق کیسے کریں؟
قدرتی کان کی میل:
• رنگ: پیلا سے بھورا
• بو: نہیں ہوتی یا بہت ہلکی
• ساخت: ہلکی چپچپی یا خشک
• بچے کے رویے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوتی
انفیکشن یا پیپ والا اخراج:
• رنگ: ہلکا پیلا، سبز، یا خون ملا ہوا
• بو: تیز اور ناگوار
• ساخت: زیادہ تر پتلی یا گاڑھی رطوبت
• ساتھ میں علامات: رونا، بے چینی، بھوک نہ لگنا، بخار
⚠️ فوراً ڈاکٹر کے پاس کب جائیں؟
• اگر بچہ 6 ماہ سے کم عمر ہو اور انفیکشن کا شبہ ہو
• کان سے رطوبت نکل رہی ہو یا شدید درد ہو
• علامات 48 گھنٹے سے زیادہ برقرار رہیں
• بخار کے ساتھ سستی، الٹی یا دیگر خطرناک علامات ہوں
✅ ڈاکٹر کے پاس جانے تک گھر میں کیا کریں؟
• ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کان میں کوئی قطرے یا تیل نہ ڈالیں
• روئی یا کاٹن بڈ سے کان صاف نہ کریں، اس سے میل اندر جا سکتی ہے یا زخم لگ سکتا ہے
• درد یا حرارت کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے نیم گرم کپڑے سے سکائی کی جا سکتی ہے
📝 خلاصہ:
ہر وہ چیز جو بچے کے کان میں نظر آئے، انفیکشن نہیں ہوتی۔
کان کی میل قدرتی اور ضروری ہے، لیکن بعض علامات سوزش کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
آٹوسکوپ کے ذریعے ڈاکٹر کا معائنہ ہی درست تشخیص کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔
12/09/2025
🟥 چھوٹےبچوں میں نزلہ زکام اور سانس کی انفیکشن کی وجہ سے ناک کے اندرونی حصے میں رطوبتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں جسکی وجہ سے چھوٹے بچے ڈسٹرب رہتے ہیں۔ بعض اوقات اسکی وجہ سے ناک بند ہو جاتا ہے اور بچے کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ بچے چونکہ اپنے ناک کی صفائی خود نہیں کر سکتے تو اس صورت میں مائوں کو بچوں کے ناک کی صفائی کا طریقہ آنا چاہیے۔ اس سےناک کی اندرونی رطوبتیں باہر نکل آتی ہیں، بچے کو سانس لینے میں آسانی محسوس ہوتی ہے، اور بچہ کمفرٹیبل ہو جاتا ہے۔
🟥 چھوٹے بچوں کی بند ناک کھولنے کے لیے ان اقدامات پر عمل کریں۔ اس مقصد کیلئے آپ کو درج ذیل چیزوں کی ضرورت ہے اور یہ ہر اچھی فارمیسی پر دستیاب ہوتی ہیں۔
1). Saline Nasal Drops
2). Bulb Syringe/Bulb Sucker
دو طرح کے بلب سرنج\بلب سکر ملتے ہیں۔
Diposable and Reusable
(اپنی سہولت کے مطابق کوئی بھی لے سکتے ہیں)۔
👈 بچے کو اپنی گود یا بیڈ پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا سر اور سینہ تھوڑا اونچا رہے۔
Saline Nasal Drops 👈
کے 2 یا 3 قطرے ایک نتھنے میں ڈالیں اور چند سیکنڈ انتظار کریں تاکہ قطرے ناک میں چلے جائیں۔
👈 بلب سرنج کو پیچھے سے دبائیں تاکہ اس میں سے ہوا باہر نکل جائے۔ (بچے سے تھوڑا پیچھے رکھ کر)
پھر بلب سرنج کی ٹپ اسی دبائی ہوئی حالت میں بچے کے ناک کی اس سائیڈ میں داخل کریں جس میں قطرے ڈالے ہیں۔ اب بلب سرنج کو آہستہ سے چھوڑیں، اس سے سکشن پریشر بنے گا جو بچے کی ناک سے رطوبت اور زکام کھینچ لے گا۔
👈 بلب سرنج کو دوبارہ پیچھے سے دبا کر سنک یا کپ میں اس کے مواد کو نکال دیں۔
👈 ناک کی دوسری سائیڈ کی بھی اسی طرح صفائی کر لیں۔
👈 بچے کی کنڈیشن کے مطابق یہ عمل دن میں 1-3 بار کر سکتے ہیں۔ اور کچھ دن تک جاری رکھ سکتے ہیں۔
🟥 اگر آپ کا بچہ بےچین ہے تو دوسرے فرد سے مدد لیں، جو کہ بچے کے سر اور ہاتھوں کو پکڑنے میں مدد کرے گا۔
نتھنوں کو صاف کرنے کے لیے گرم واش کلاتھ یا کاٹن سویب کا استعمال کریں۔
🟥 اس کے ساتھ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات جاری رکھیں۔
21/08/2025
ہماری روزمرہ زندگی میں کان، ناک اور گلے کی صحت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر آپ کو درج ذیل مسائل کا سامنا ہے تو فوری ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں:
✅ کانوں میں انفیکشن یا سنائی دینے میں کمی
✅ ناک بند ہونا، الرجی یا سائنوس کا مسئلہ
✅ گلے میں انفیکشن، خراش یا آواز بیٹھ جانا
✅ خراٹے یا سانس لینے میں دشواری
ہمارے ماہر ENT (Ear, Nose & Throat) اسپیشلسٹ جدید آلات اور علاج کے ذریعے آپ کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
آج ہی اپائنٹمنٹ کے لیے رابطہ کریں اور اپنی زندگی کو آسان بنائیں۔
𝐓𝐨 𝐛𝐨𝐨𝐤 𝐚𝐧 𝐚𝐩𝐩𝐨𝐢𝐧𝐭𝐦𝐞𝐧𝐭:
📱: +𝟗𝟐 *3487171746*
👤: *Al-Hussaini health care center*
📍: *Khazana road Gilgit*
20/08/2025
بہت سے والدین ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب، ہمارے بچے کو بار بار ٹانسلز (Tonsils) کا انفیکشن کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا یہ اس کی قوتِ مدافعت (immunity) کی کمزوری کی علامت ہے یا کسی قسم کی جینیاتی (Genetic) بیماری؟ یہ سوال بجا ہے کیونکہ بار بار ٹانسلز کی سوزش بچے کی صحت، تعلیم اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹانسلز کیا ہوتے ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں۔
ٹانسلز سائز میں چھوٹے مگر کام کے لحاظ سے بہت اہم ہوتے ہیں۔ یہ گلے کے پچھلے حصے میں موجود ہوتے ہیں اور جسم کے مدافعتی نظام کا ایک اہم جزو سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ منہ اور ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کو روکیں، ان کی شناخت کریں اور پھر ان کے خلاف دفاعی ردِعمل (antibodies) پیدا کریں۔ یوں یہ ٹانسلز ہمارے جسم کے پہلے محافظ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر آنے والے بیکٹیریا یا وائرس کو فلٹر کرتے ہیں تاکہ وہ جسم میں مزید داخل نہ ہو سکے۔ لیکن جب کچھ طاقتور بیکٹیریا یا وائرس ٹانسلز پر حملہ کرتے ہیں تو وہ سوج جاتے ہیں اور اس سوجن کو ٹانسلائٹس (Tonsillitis) کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں بچوں کو گلے میں درد محسوس ہوتا ہے، کھانے پینے میں دقت ہوتی ہے، اور اکثر بخار بھی ہو جاتا ہے۔ ٹانسلائٹس کا سبب بننے والے سب سے عام بیکٹیریا کا نام Streptococcus pyogenes ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کچھ بچوں کو ہی بار بار ٹانسلز کا انفیکشن کیوں ہوتا ہے؟ اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ جینیاتی یا موروثی ہے۔ جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن بچوں کو بار بار ٹانسلز کا انفیکشن ہوتا ہے، ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ ان بچوں کے جینز میں کچھ ایسی تبدیلیاں پائی جاتی ہیں جو ان کے مدافعتی نظام کو کمزور بنا دیتی ہیں، جس کے باعث وہ بار بار بیکٹیریا اور وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ موروثی کمزوری ان کے جسم کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرنے دیتی۔
دوسری وجہ مدافعتی نظام میں مخصوص قسم کی تبدیلی ہے۔ عام طور پر ٹانسلز جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کی شناخت کے لیے T-helper cells نامی خلیات استعمال کرتے ہیں۔ یہ خلیات جراثیم کی معلومات B cells کو منتقل کرتے ہیں تاکہ وہ اینٹی باڈیز بنا کر ان جراثیموں کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن جن بچوں کو بار بار ٹانسلز کا انفیکشن ہوتا ہے، ان میں T-helper cells کی تعداد تو زیادہ ہوتی ہے، مگر وہ B cells کی مدد کرنے کے بجائے انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے B cells صحیح طریقے سے اینٹی باڈیز نہیں بنا پاتے، اور بچہ بار بار ٹانسلائٹس کا شکار ہو جاتا ہے۔
سائنسدان اس مسئلے کا دیرپا حل نکالنے کے لیے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں اور ایک مؤثر ویکسین بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ بچوں کو اس تکلیف دہ اور بار بار ہونے والے انفیکشن سے بچایا جا سکے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Gilgit
Opening Hours
| Monday | 15:00 - 19:00 |
| Tuesday | 15:00 - 19:00 |
| Wednesday | 15:00 - 19:00 |
| Thursday | 15:00 - 19:00 |
| Friday | 15:00 - 19:00 |
| Saturday | 15:00 - 19:00 |
| Sunday | 10:00 - 15:00 |