Ahmad Raza Qadri
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
انشاء اللہ تعالیٰ اس چینل پر عقائد اہل سنت اور اس پر وارد ہونے والے اعتراضات پر مدلل بحث کی جائے گی۔
*حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کا علم تھا & دیابنہ کے اعتراضات کے جوابات بنام "حضور جانتے ہیں" (قسط 03)🌹❤️💯*
` E Rasul`📚🌎
` E Mustafa`🌹🫶🏻
Reply to:
https://library.ahnafmedia.com/18-masail-aur-dalail/644-ilm-ghaib
```الحمد لله الذى خلق الانسان و علمه البيان والصلاة و السلام على سيد المرسلين عالم ماكان و مايكون وعلى اله واصحابه اجمين اما بعد:``` 🕋💯
الحمد اللہ عزوجل *اہل سنت و جماعت* کا یہ عقیدہ ہے کہ *ابتداء خلق سے یعنی مخلوق کی ابتداء سے قیامت تک ایک ایک ذرے کا علم چاہے* ہو یا جزئی تمام علم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں. اور *یہ عقیدہ ہم نے خود سے نہیں* گھڑا بلکہ اعلیٰ حضرت نور اللہ مرقدہ سے قبل بھی یہ عقیدہ موجود تھا۔💯
*🔑امام الحرمین الشریفین شیخ الاسلام ابن حجر مکی ھیتمی 973ھ سے دلیل:📚*
و وجه كون علم اللوح و القلم من بعض علومه صلى الله عليه وآله وسلم- ان الله تعالى اطلعه ليلة الاسراء على جميع ما للوح المحفوظ و زاده علوما آخر كالاسرار المتعلقة بذاته سبحانه و تعالى و صفاته.
*اور لوح و قلم کے علم کا نبی کریم ﷺ کے بعض علوم میں سے ہونا اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شبِ معراج لوحِ محفوظ کی تمام چیزوں پر مطلع فرمایا، اور اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کو مزید دیگر علوم بھی عطا کیے، جیسے کہ وہ راز جو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق ہیں۔🥀*
`[العمدة فى شرح البردة لابن حجر صفحہ 669]`🇵🇸📚
لہذا یہ کوئی نیا *عقیدہ نہیں بلکہ اعلیٰ حضرت سے قبل بھی یہی* عقیدہ تھا اسی لیے تو دیابنہ جو منصف ہیں *وہ علم ما کان و ما یکون کے قائل کی تکفیر نہیں کرتے* ثتی کے تھانوی صاحب نے بھی نہیں کی۔💯🕋
آئیے اب ان کے *اعتراضات* کی طرف بڑھتے ہیں جو *قرآن کی جامعیت پر حملے کرتے ہوئے* اور حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم ما کان و ما یکون پر اعتراض کرتے ہوئے مفتی امتیاز نے *"احناف لائبریری"* میں کیے ہیں۔🌟
*اعتراض نمبر:01🌎✒️*
> سورۃ توبہ نزول میں آخری ہے اور اس میں یہ ارشادِ باری تعالیٰ ”لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ“ ( آیت نمبر 101) منافقین کے بارے میں ہے کہ آپ ان منافقین کا علم نہیں رکھتے ہم ان کا علم رکھتے ہیں۔
سورہ توبہ نزول میں آخری ہے اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ آیت 101 سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے⁉️
جب کہ ہمارا علم ما کان و ما یکون کے *حصول کا دعوی قرآن کے ذریعے مکمل نزول قرآن کے بعد کا ہے کہ علم ما کان و مایکون کے حصول کی تکمیل مکمل نزول قرآن کے بعد ہوئی۔* اب اگر اس سے پہلے کہیں حضور کو کچھ معلوم نا تھا تو ہمارے دعوے کے خلاف نہیں۔🌟
اب زرا ملاحظہ فرمائیں کہ *قرآن کریم کی آخری آیت کونسی ہے۔❤️*
*🔑حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ثبوت📚*
سورہ بقرہ آیت نمبر 281 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:🌟
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما (أنها آخر آية نزل بها جبريل عليه السلام وقال ضعها في رأس المائتين والثمانين من البقرة)
*اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آخری آیت تھی جو جبرائیل علیہ السلام لے کر نازل ہوئے، اور فرمایا: اسے سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 280 کے آغاز میں رکھ دو۔🌹*
`انوار التنزیل و اسرار التاویل جلد 01 صفحہ 163`📚🇵🇸
*🔑دار العلوم دیوبند کا فتوی نزول کے آعتبار سے آخری آیت کے بارے میں📚*
Fatwa:854-781/M=8/1439
*نسائی وغیرہ کی روایت کے مطابق* *قرآن کی سب سے آخری آیت* نزول کے اعتبار سے یہ ہے: *وَاتَّقُوا یَوْمًا تُرْجَعُونَ فِیہِ إِلَی اللَّہِ ثُمَّ تُوَفَّی کُلُّ نَفْسٍ مَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ* O(البقرة: ۲۸۱) (بخاری شریف: ۲/ ۲۵۸) (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۶۵۷، ط: زکریا دیوبند)😁
*🔑جامعہ بنوریہ والوں کا فتوی آخری آیت کے بارے میں📚*
قرآن پاک میں آخری اترنے والی آیت کونسی ہے⁉️
جواب:💯
*قرآن پاک میں آخری اترنے والی آیت یہ ہےوَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (البقرہ،281)🌟*
فتوی نمبر : *144403100124*
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن🆗
لہذا ثابت ہوا کہ *نزول کے اعتبار سے آخری آیت سورہ توبہ 101 نہیں* بلکہ سورہ بقرہ کی 281 ہے تو پھر *ہمارا دعوی ابھی بھی باطل نہیں ہوا* کہ حضور کو پہلے پہلے منافقین کا علم نا تھا *(جو کہ ما کان و ما یکون کا بعض علم ہے)* لیکن جیسے جیسے قرآن مکمل ہوتا گیا *علم رسول مکمل ہوتا چلا گیا* حتی کہ *کوئی بھی شیئ حضور سے پوشیدہ نا رہی* اور چونکہ علم ما کان و ما یکون *علم ما کان و ما یکون کا بعض علم ہے* تو جن آیات سے *ہم نے حضور کا مکمل علم ثابت کیا* منافقین کا علم علم ما کان و ما یکون کا بعض ہونے کی وجہ سے *وہیں سے ثابت ہے* بحمد اللہ تعالیٰ وہ آیات یہ ہیں:💯
🌟 وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ(89 سورہ النحل)🌹
🌟 وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰـكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (سورہ یونس 37)🌹
🌟 مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ(38 سورہ الانعام)🌹
🌟 وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(113 النساء)🌹
ان آیات سے *علم کان و ما یکون* کے *حصول کی تفصیل کے لیے* علم غیب شریف کے متعلق *پچھلی تحاریر کی طرف* رجوع فرمائیں💯❤️
*اعتراض نمبر:02🌎✒️*
> حضرات مفسرین کرام یہی فرماتے اور بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان منافق لوگوں کا علم نہ تھا کیونکہ یہ اس نص قطعی سے ثابت ہے اور سورۃ محمد جس میں”وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ“ الآیۃ ہے پہلے نازل ہوئی ہے۔
*یہ بات تو دلیل کی محتاج ہے کہ و لتعرفنھم والی آیت سورہ توبہ کی 101* سے پہلے نازل ہوئی اور دیوبندی اس پر نا کبھی *کوئی دلیل پیش کرسکے ہیں اور نا ہی کبھی پیش کر پائیں گے* محض قیاس آرائیوں سے ان کا مدعی *سورہ توبہ آیت 101 کے* بارے میں ثابت نہیں ہوگا۔🥀
رہے مفسرین تو *اسی آیت کے تحت ملاحظہ* فرمائیں *مفسرین* کیا فرماتے ہیں:🗝️✨
*🔑اللہ نے بعد میں علم دے دیا تھا تفسیر خازن سے صراحت📚*
فيحتمل أن يكون بعد أن أعلمه الله حالهم وسماهم له لأن الله سبحانه وتعالى قال لا تعلمهم نحن نعلمهم ثم بعد ذلك أعلمه بهم
*پس اگر یہ روایت صحیح ہے تو ممکن ہے کہ یہ اس کے بعد ہوا ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے ان منافقین کے حال اور ان کے نام بتادیے ہوں کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ محبوب آپ انھیں نہیں جانتے یم انھیں جانتے ہیں پھر اس کے بعد حضور کو اللہ نے مطلع کردیا۔🗝️*
`[تفسیر الخازن لباب التاویل جلد 02 صفحہ 401]`📚🇵🇸
*🔑حضور کو اللہ نے بعد میں بتادیا تھا "صفوۃ التفاسیر" سے صراحت📚*
تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ} أي لا تعلمهم أنت يا محمد لمهارتهم في النفاق بحيث يخفى أمرهم على كثيرين، ولكن نحن نعلمهم ونخبرك عن أحوالهم✨
*"تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ" یعنی: اے محمد (ﷺ)! آپ ان کو نہیں جانتے، کیونکہ وہ نفاق میں اس قدر ماہر ہیں کہ ان کا معاملہ بہت سے لوگوں پر مخفی رہتا ہے، لیکن ہم ان کو جانتے ہیں اور آپ کو ان کے حالات سے باخبر کردیں گے۔🗝️*
`[تفسیر صفوۃ التفاسیر جلد 01 صفحہ 521]`📚🇵🇸
*🔑محدثین کا عقیدہ "حضور ہو بعد میں علم ہوگیا تھا"🗝️*
قوله تعالى: لا تَعْلَمُهُمْ فيه وجهان: أحدهما: لا تعلمهم أنت حتى نُعْلِمَكَ بهم۔✨
*اللہ کے فرمان : آپ انھیں نہیں جانتے میں دو پہلو ہیں ان میں سے پہلا یہ ہے کہ آپ انہیں نہیں جانتے یہاں تک کہ ہم آپ کو ان منافقین کا علم دے دیں گے🗝️*
`[تفسیر زاد المسیر جلد 02 صفحہ 292]`🇵🇸📚
*🔑حضور کو بعد میں معلوم کرادے گا "تفسیر السمرقندی" سے صراحت📚*
لا تعرفهم أنت بسبب إيمانهم بالعلانية. نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ، لأني عالم السر والعلانية، ونعلم نفاقهم، ونعرفك حالهم✨
*یعنی آپ انھیں نہیں جانتے ان کے علانیہ طور پر ایمان لانے کے سبب۔ ہم انھیں جانتے ہیں کیونکہ بےشک ہم چھپے اور پوشیدہ کو جاننے والے ہیں اور آپ کو ان کا حال بتادیں گے۔🗝️*
`[تفسیر السمرقندی جلد 02 صفحہ 84]`🇵🇸📚
*🔑حضور کو بعد میں رب بتادے گا "تفسیر العز بن عبد السلام" سے صراحت📚*
{لا تَعْلَمُهُمْ} حتى نعلمك بهم
*اے محبوب آپ انھیں نہیں جانتے حتی کہ ہم آپ کو ان منافقین کا علم دے دیں گے۔✨*
`[تفسیر العز بن عبد السلام جلد 02 صفحہ 46]`🇵🇸📚
*🔑حضور کو بعد میں اعلام ہوگیا تھا "تفسیر ابن ابی زمنین" سے صراحت📚*
{لَا تَعْلَمُهُمْ نَحن نعلمهُمْ} قد أعلمهم الله وَرَسُوله بعد ذَلِك.
*آپ انھیں نہیں جانتے ہم۔انھیں جانتے ہیں کے بعد اللہ اور اس کے رسول نے ان منافقین کا معاملہ ظاہر کردیا۔✨*
`[تفسیر ابن ابی زمنین جلد 02 صفحہ 229]`🇵🇸📚
*🔑تفسیر ماوردی سے دیابنہ کے منہ پر زور دار تھپر📚*
لا تعلَمُهُمْ} فيه وجهان: أحدهما: لا تعلمهم حتى نعلمك بهم
*آپ انھیں نہیں جانتے اس میں دو پہلو ہیں ایک یہ کہ آپ انھیں نہیں جانتے یہاں تک کہ ہم۔آپ کو ان کا علم دے دیں گے۔*
`[تفسیر ماوردی جلد 02 صفحہ 396]`📚🇵🇸
*Quran Her Cheez Ki Tafsil H*
`قرآن کریم میں ہر شیئ کا علم ہے`
*🔑حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دلیل📚*
أَنْزلَ فى القرآن كل علم، وبَيَّنَ لنا فيه كل شىء، لكن علمنا يقصر عما بَيَّنَ لنا فى القرآن
*حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے قرآن کریم میں ہر علم نازل فرمایا ہے اور ہمارے لیے ہر شیئ کو بیان فرمایا ہے لیکن ہمارا علم اس کو سمجھنے سے قاصر ہے جو اللہ نے ہمارے لیے قرآن میں نازل فرمایا ہے۔✨*
ان کتب میں اس روایت کو بطور تائید نقل کیا گیا ہے ملاحظہ فرمائیں :👤 💯
`[الإكليل في استنباط التنزيل للسیوطی ص 12]`🇵🇸📚
`[الابانة الكبرى ج 06 ص 148]`🇵🇸📚
`[فتح البيان فى مقاصد القرآن ج 07 صفحہ 301]`🇵🇸📚
`[کتاب تفسیر روح المعانی ج 14 ص 98]`🇵🇸📚
*🔑حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے دلیل📚*
جَمِيعُ الْعِلْمِ فِي الْقُرْآنِ لَكِنْ ... تَقَاصَرَ عَنْهُ أَفْهَامُ الرِّجَالِ.
*جمیع علم قرآن میں ہے لیکن لوگوں کی سمجھ اس کے ادراک سے قاصر ہے*
`[کشف لاسرار شرح اصول بزدوى ج 03 صفحہ 271]`🇵🇸📚
`[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاہ ج 06 ص 2266]`🇵🇸📚
*حافظ عماد الدین ابن کثیر* اور امام طبری سمیت کئی ائمہ نے یہی *تفسیر تبیان لکل شیئ کی فرمائی ہے جس سے ثابت ہے* کہ قرآن میں کل شیئ کا علم موجود ہے جس میں *لوح محفوظ کا علم* قلم کا علم کائنات کے ذرے ذرے کا علم سمندر کی گہرائی میں کونسی شیئ ہے حتی کہ تمام *زمینوں اور آسمانوں میں موجود تمام شیئ کے تمام علوم قرآن مجید میں ہیں جن میں لوح محفوظ میں لکھا تمام کا تمام علم ما کان و ما یکون ابتداء خلق سے قیامت تک* تمام علم شامل ہے۔💯❤️
اس پر ہم نے پہلے بھی *آیات اور ان کی تفسیر نقل کی تھی* کہ *لوح محفوظ* کی تفصیل قرآن مجید میں موجود ہے۔ آج مزید دو تفاسیر ملاحظہ فرمائیں:👤
امام احمد صاوی مالکی اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:💯❤️
قوله: {وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ} أي مفصل لما في الكتاب، وهو اللوح المحفوظ، فالقرآن مفصل لما كتب في اللوح المحفوظ، من علم ما كان وما يكون، وما هو كائن في الدنيا والآخرة، فمن أعطي شيئاً من أسرار القرآن، فلا يحتاج للإطلاع على اللوح المحفوظ، بل يأخذ منه ما أراده
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ} (اور کتاب کی تفصیل) کا مطلب ہے:
*یہ قرآن اُس کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) کی تفصیل ہے۔ پس قرآن، لوحِ محفوظ میں جو کچھ لکھا گیا ہے — یعنی جو کچھ ہو چکا، جو ہونے والا ہے، اور دنیا و آخرت میں جو کچھ واقع ہوگا — اُس سب کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ لہٰذا جسے قرآن کے اسرار میں سے کچھ عطا ہو جائیں، تو اسے لوحِ محفوظ پر نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ وہ قرآن ہی سے وہ سب کچھ حاصل کر لیتا ہے جو مطلوب ہو۔✨*
`[حاشیہ صاوی علی جلالین ج 01 ص 800]`🇵🇸📚
*🔑وہابیوں کے شیخ کی تفسیر سے قرآن کی جامعیت📚*
الإنسان يعنى محمدا - صلى الله عليه وسلم - علمه البيان يعنى القران فيه بيان ما كان وما يكون من الأزل الى الابد
*سورہ رحمن میں خلق الانسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور علمہ البیان میں بیان سے مراد قرآن ہے جس میں بیان ہے اس کا جو ہو چکا اور جو ہوگا ازل سے ابد تک۔✨*
`[تفسیر المظھری ج 09 ص 145]`🇵🇸📚
وهو قوله تعالى: ما فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْءٍ يعني في اللوح المحفوظ لأنه يشمل جميع أحوال المخلوقات وقيل إن المراد بالكتاب القرآن يعني أن القرآن مشتمل على جميع الأحوال
*یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "ما فَرَّطْنَا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْءٍ" ہم نے کتاب میں کسی چیز کو چھوڑا نہیں، یعنی اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے، کیونکہ اس میں مخلوقات کے تمام حالات شامل ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں کتاب سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن تمام احوال پر مشتمل ہے۔✨*
`[تفسیر الخازن ج 02 ص 111]`🇵🇸📚
اور یہ اختلاف *اعلیٰ حضرت* سے پہلے کا موجود ہے جنہوں نے *قرآن میں ما کان و ما یکون* کو نہیں مانا انھوں نے حضور کی *وسعت علمی* کا انکار کردیا اور جنہوں نے قرآن میں *تمام جمیع ما کان و ما یکون* مان لیا انھوں نے حضور کے لیے *ما کان و ما یکون* ثابت مانا۔💯
چناچہ اسی اختلاف کو ذکر کرتے ہوئے امام سلیمان جمل اسی آیت کے تحت فرماتے ہیں:
و الختلفو فى الكتاب ما المراد به فقيل اللوح المحفوظ و على هذا فالعموم ظاهر لان الله اثبت ما كان و ما يكون فيه و قيل القرآن و على هذا فهل العموم باق منهم من قال نعم و ان جميع الاشياء مثبت فى القرآن اما بالصريح و اما بايماء و منهم من قال انه ايراد به الخصوص والمعنى من شيئ يحتاج اليه المكلفون📚
"الكتاب" (کتاب) سے مراد کے بارے میں اختلاف ہے:🔑
`ایک گروہ کی تشریح`
تو بعض نے کہا: اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے، اور *اس صورت میں آیت کا عموم (یعنی ہر چیز شامل ہونے کا مفہوم) بالکل ظاہر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہونے والا ہے،* سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔❤️
`دوسرے گروہ کی تشریح`
اور بعض نے کہا: *اس سے مراد قرآن ہے* ،
تو اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ *کیا یہاں عموم (ہر چیز کا شامل ہونا) برقرار ہے؟ ان میں سے کچھ کا کہنا ہے: ہاں، عموم برقرار ہے — یعنی ہر چیز قرآن میں موجود ہے،* یا تو صراحتاً یا اشارے کے طور پر۔🌹
`تیسرے گروہ کی وضاحت`
اور *بعض نے کہا: نہیں* ، یہاں خصوص مراد ہے، یعنی: *وہ چیزیں جن کی مکلف انسانوں کو ضرورت ہے* بس وہی مراد ہیں۔🌹
`[حاشیة جمل على جلالين ج 02 صفحہ 345]`📚🇵🇸
ثابت ہوا کہ قرآن کریم میں علم ما کان و ما یکون اور *تمام مخلوقات کے احوال بریلویوں نے نہیں گھڑے* بلکہ یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی *رحمۃ اللہ علیہ سے قبل علماء مشائخ سے بھی ثابت ہیں* اور جب تمام احوال اور تمام *ما کان و ما یکون* قرآن میں موجود ہے اور وہی قرآن سینے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے *تو ثابت ہوا کہ قرآن کریم کے ما کان و ما یکون* کو مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باطنی نگاہ سے جانتے ہیں اور *جب پڑھانے والا سکھانے والا رب ہے* جس کی عطاء کی کوئی حد نہیں تو یہ *کیسے تصور ہوسکتا ہے کہ علم ما کان و ما یکون حضور* کو قرآن سے نا ملا ہو جبکہ اللہ پاک خود قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے.📚🌹
وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ *وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ* -وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(113 سورہ النساء)✒️
*اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔*
اللہ پاک نے پہلے *قرآن کریم کے نزول کا ذکر فرمایا اور پھر پھر سکھانے* کا ذکر فرمایا جس سے ثابت ہے کہ *حضور کو جو علم ملا وہ* کتاب اللہ کے ذریعے ملا۔🌹
جید مفسرین کی تفاسیر بھی اب ملاحظہ فرمائیں 💯❤️
`امام المفسرین ابو جعفر الطبری سے صراحت`📚
﴿وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ﴾ مِن خبرِ الأوَّلين والآخرين، وما كان وما هو كائنٌ (١)، فكل ذلك مِن فضلِ اللهِ عليك
*اور اس نے آپ کو سکھادیا جو کچھ آپ نہیں جانتے تھے اولین و آخرین کی خبریں اور جو ہوچکا اور جو ہوگا۔ پس یہ سب (سکھانا) اللہ کی طرف سے آپ پر عظیم فضل ہے۔*
`[تفسیر الطبری ج 07 ص 481]`🇵🇸📚
و علمك ما لم تكن تعلم اي علوم عواقب الخلق و علم ما كان و ما سيكون
*"وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ" اور اس نے آپ کو وہ سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے — یعنی: مخلوق کے انجام کے علوم، ور جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے — ان سب کا علم عطا فرمایا۔❤️*
`تفسیر عرائس البیان ج 01 ص 274]`🇵🇸📚
امام محمد اسماعیل حقی حنفی استامبولی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں:📚
وَعَلَّمَكَ بالوحى من الغيب وخفيات الأمور ما لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ذاك الى وقت التعليم وَكانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيماً💯
*اور اے محبوب اس نے آپ کو سکھایا وحی کے ذریعے غیب میں سے اور پوشیدہ معاملات میں سے جو کچھ آپ نہیں جانتے تھے۔ یہ علم اس وقت حاصل ہوا جب آپ کو رب نے سکھایا۔ اور یہ اللہ کا آپ پر عظیم فضل ہے۔✨*
`تفسیر روح البیان ج 02 ص 282]`🇵🇸📚
اس سے *ثابت ہوا کہ یہ تمام علم تعلیم ہونے کے بعد ملا اس سے قبل* اگر کوئی علم سید عالم سے پوشیدہ تھا تو اس سے ہمارے دعوے کو ضرر نہیں پہچے گا۔🌹
*کیونکہ بعد میں رب تبارک و تعالیٰ نے تمام علم ما کان و ما یکون* اپنے حبیب کو قرآن کریم کے ذریعے عطا کردیا تھا۔❤️
`قرآن کریم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم منافقین کا اثبات`🌹
یہ ان چوروں کی پرانی کرتوت ہے کہ اپنے مطلب *جو جہاں جیسے نظر آئے لے لیتے ہیں باقی آیات کو پس پشت ڈال* دیتے ہیں۔
اللہ قرآن کریم میں فرماتا ہے:🥀
مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ📚
*اللہ کی یہ شان نہیں کہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑے جس پر(ابھی)تم ہو جب تک وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کردے اور (اے عام لوگو!)اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ اپنے رسولوں کو مُنتخب فرمالیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے۔❤️*
اب زرا اہل بدعت بتائیں یہاں کن ناپاکوں کو پاکوں سے جدا کرنے کا ذکر فرمارہا ہے؟
سب سے پہلے اس آیت کریمہ کا *شان نزول* ملاحظہ فرمائیں:🌹
وَقَالَ السُّدِّيُّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي فِي صُوَرِهَا [٣] فِي الطين كما عرضت عَلَى آدَمَ، وَأُعْلِمْتُ مَنْ يُؤْمِنُ بِي وَمَنْ يَكْفُرُ بِي» ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْمُنَافِقِينَ، فَقَالُوا اسْتِهْزَاءً: زَعَمَ مُحَمَّدٌ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرُ مِمَّنْ لَمْ يُخْلَقْ بَعْدُ، وَنَحْنُ مَعَهُ وَمَا يَعْرِفُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ طَعَنُوا فِي عِلْمِي لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّاعَةِ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ» ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «حُذَافَةُ» ، فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ:🥀
يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا وَبِكَ نَبِيًّا فَاعْفُ عَنَّا عَفَا اللَّهُ عَنْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ» ؟ ثُمَّ نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ
`قیامت تک سب منافقین کو حضور جانتے ہیں`
حضرت امام تابعی سُدِّي رحمہ اللہ نے بیان کیا:🌹💯
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:😘
"میری امت مجھے اس حالت میں دکھائی گئی کہ وہ مٹی میں اپنی صورتوں کے ساتھ پیش کی گئی، جیسے کہ حضرت آدم علیہ السلام پر ان کی اولاد پیش کی گئی تھی،
اور *مجھے بتایا گیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔"*
یہ بات منافقین تک پہنچی، *تو وہ استهزاء (مزاح و طنز)* کے طور پر کہنے لگے:🥹
"محمد ﷺ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا،💔
حالانکہ وہ ان لوگوں کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں *جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے،*
جبکہ ہم اُن کے ساتھ موجود ہیں *اور وہ ہمیں بھی نہیں پہچانتے!"😍*
یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی،
تو *آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے،* اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا:🥀
"کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو، جو میرے علم پر طعن کرتے ہیں⁉️
*تم مجھ سے جو بھی سوال کرو تمہارے اور قیامت کے درمیان کے کسی معاملے کے بارے میں، میں تمہیں اس کی خبر دے دوں گا!"* چنانچہ عبداللہ بن حذافہ السہمی کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
"یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے⁉️"
آپ *ﷺ* نے فرمایا: " *حذافہ* ۔"
پھر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:💯
*"یا رسول اللہ! ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، قرآن کے امام ہونے* اور آپ ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں،🥀
لہٰذا ہمیں معاف فرما دیجیے،"
تو *نبی کریم ﷺ* نے فرمایا:😍
"تو کیا تم (مزید اعتراض سے) باز آؤ گے⁉️"
پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔
*پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔*
`شان نزول کی تخریج`
1. امام محيي السنة، أبو *محمد الحسين بن مسعود البغوي* : تفسیر بغوی ج 02 ص 140🥀
2. أبو الحسن علي بن أحمد الواحدي، *الشافعي* ٤٦٨هـ : اسباب النزول للواحدی ص 136🥀
3. *علاء الدين علي* بن محمد أبو الحسن، المعروف بالخازن ٧٤١هـ : تفسیر خازن ج 01 ص 324🥀
4. أبو إسحاق أحمد بن إبراهيم الثعلبي ٤٢٧ هـ : *تفسیر ثعلبی* ج 09 ص 482🥀
5. *نجم الدين عمر* النسفي الحنفي ٥٣٧ هـ : تفسیر التیسیر فی التفسیر ج 04 ص 374🥀
6. أبو الفضل *أحمد ابن حجر العسقلاني٨٥٢هـ* : العجاب في بيان الأسباب ج 02 ص 782🥀
7. نظام الدين الحسن النيسابوري ٨٥٠هـ : تفسیر النیسابوری ج 02 ص 317🥀
8. عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي ٥٩٧هـ : زاد المسیر ج 01 ص 351🥀
لہذا ثابت ہوا کہ اس *آیت کے نزول کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام منافقین کا علی التعیین علم تھا* تو یہ اعتراضات ھو معترض نے مختلف تفاسیر نقل کر کے لیے ہیں کہ حضور کو یقینی علم غیب نہیں ہے *صرف نشانیوں سے منافقین کو جانتے ہیں* تو یہ اعتراضات بھی باطل ہوگیا *کیونکہ آیت کریمہ میں وحی سے جاننے کا ذکر ہے* جو کہ علی التعیین ہوتا ہے۔🥀
اس پر اب مزید مفسرین کی تفاسیر ملاحظہ فرمائیں جن کو خود معترض نے پیش کیا ہے۔😍💯
*وہابیوں کے شیخ قاضی ثناء اللہ پانی پتی الحنفی سے تفسیر:🥀💯*
وَما كانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ حتى *تعرفوا المنافقين من المؤمنين قبل التميز من الله تعالى* وَلكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشاءُ فيطلعه على البعض من علوم الغيب أحيانا *كما اطلع نبيه صلى الله عليه وسلم على احوال المنافقين بنور الفراسة* نظير هذه الاية قوله تعالى فى سورة الجن عالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ💯
اور اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا *کہ تم خود مومنین میں منافقین کو جان لو* اللہ کا فرق ظاہر ہونے سے پہلے لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے پس *وہ اسے مطلع کرتا ہے علوم غیب میں سے بعض پر* جیسا کہ اس نے اپنی *نبی علیہ السلام منافقین کے احوال پر مطلع کیا* ان کے نور فراست سے اور اور اس کی تائید سورہ جن میں *رب عز و جل کا قول* بھی کرتا ہے کہ *وہ عالم الغیب ہے اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرمایا مگر رسول میں سے جسے چن لے۔*
> ان کے اپنے گھر سے ثابت ہوا کہ یہاں بات نشانیوں سے جاننے کی نہیں بلکہ غیب پر مطلع کر کے علی التعیین منافقین کا علم دینے کی بات ہورہی ہے کیونکہ نشانیوں سے تو کوئی بھی پہچان لے لیکن وہ غیب نہیں یے۔
`[تفسیر مظھری ج 01 ص 105]`🇵🇸📚
*علامات سے پہچاننا تو عام لوگوں کے لیے بھی ہے "روح المعانی"😍🥀*
إن حاصل المعنى ليس لكم رتبة الاطلاع على الغيب وإنما لكم رتبة العلم الاستدلالي الحاصل من نصب العلامات والأدلة، والله تعالى سيمنحكم بذلك فلا تطمعوا في غيره فإن رتبة الاطلاع على الغيب لمن شاء من رسله۔💯
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ: تمہیں *غیب پر براہِ راست مطلع* ہونے کا مقام حاصل نہیں ہے،🥀
بلکہ تمہارے لیے صرف وہ درجہ ہے کہ *تم نشانیوں اور دلائل کے ذریعے استدلالی علم حاصل کرو۔❤️*
اور اللہ تعالیٰ تمہیں اسی طریقے سے علم عطا فرمائے گا،🥀
لہٰذا تم اس سے آگے کسی ایسی چیز کی طمع نہ رکھو *جس کا درجہ تمہارے لیے مقرر نہیں* — کیونکہ غیب پر براہِ راست اطلاع کا مرتبہ *صرف ان رسولوں کے لیے ہے* جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے اور منتخب کرے۔❤️
`[روح المعانی ج 02 ص 349]`🇵🇸📚
> روح المعانی محرف ہے لیکن مخالفین اس عبارت میں تحریف کرنا بھول گئے بحمد اللہ تعالیٰ۔ اس سے ثابت ہے کہ منافقین کا علم بالاستقلال (نشانیوں سے) یہ تو مخلوق کی شان ہے جب کہ علی التعین دل کے حالات پر مطلع ہونا رسولوں کی شان ہے جن کے سردار جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
*حافظ عماد الدین ابن کثیر کی تفسیر سے دیابنہ کا رد📚*
﴿وَما كانَ اللهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ﴾ أي أنتم لا تعلمون غيب الله في خلقه حتى يميز لكم المؤمن من المنافق لولا ما يعقده من الأسباب الكاشفة عن ذلك. ثم قال تعالى: وَلكِنَّ اللهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشاءُ۔
اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا یعنی *تم مخلوق کے بارے میں رب کے غیب کو نہیں جان سکتے حتی* کہ وہ تمہارے لیے جدا کردے مومن اور منافق کو۔ اگر نا ہوتے وہ اسباب جو وہ منافقین کو ظاہر کرنے کے لیے وہ کرتا ہے (یعنی تم صرف نشانیوں سے جان سکتے ہو اے لوگو) *مگر اللہ جسے چاہے اپنے رسولوں میں سے اسے چن لیتا ہے* (کہ مخلوق کے بارے میں غیب کو جانیں).❤️
`[تفسیر ابن کثیر ج 02 ص 153]`🇵🇸📚
> ابن کثیر خود مانتے ہیں کہ منافقین کا علم اللہ اپنے رسولوں کو بذریعہ وحی عطا فرماتا ہے لیکن ابن تیمہ کی صحبت جا شاید یہ اثر ہو کہ حضور کے علم کو فقط علامات و اسباب کی حد تک محصور کردیا۔ واللہ اعلم و رسولہ الکریم اعلم
*تفسیر مدارک سے وہابیت کی تدفین😍💯*
وما كان الله ليؤتى أحدا منكم علم الغيوب فلاتنوهموا عند إخبار الرسل بنفاق الرجل وإخلاص الآخر أنه يطلع على ما في القلوب إطلاع الله فيخبر عن كفرها وإيمانها {وَلَكِنَّ الله يَجْتَبِى مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاء} أي ولكن الله يرسل الرسول فيوحي إليه ويخبره بأن في الغيب كذا وأن فلاناً في قلبه النفاق وفلاناً في قلبه الإخلاص فيعلم ذلك من جهة إخبار الله لامن جهة نفسه۔
اور نہ ہی اللہ کسی ایک کو تم میں سے غیب کا علم دینے والا ہے،🥀
لہٰذا جب رسول کسی *شخص کے نفاق یا دوسرے کے اخلاص* کی خبر دیں تو یہ گمان نہ کرو کہ *وہ اللہ کی طرح دلوں پر مطلع ہوتے* ہیں، پس کفر و ایمان کی خبریں دیتے ہیں۔💯
*{وَلَكِنَّ الله يَجْتَبِي مِن رُسُلِهِ مَن يَشَاء}*
لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے چُن لیتا ہے، *یعنی اللہ رسول بھیجتا ہے، پھر اس کی طرف وحی کرتا ہے* اور اسے بتاتا ہے کہ غیب میں کیا ہے، *اور یہ کہ فلاں کے دل میں نفاق ہے اور فلاں کے دل میں اخلاص ہے* — پس وہ یہ سب کچھ اللہ کے بتانے سے جانتا ہے، نہ کہ ذاتی طور پر از خود جانتا ہے۔🥀
`[تفسیر مدارک ج 01 ص 315]`🇵🇸📚
*امام علاء الدین نیساپوری قمی سے شان رسول😍💯*
ولفظ الطيب والخبيث وإن كان مفردا إلا أنه للجنس والمراد جميع المنافقين من المؤمنين۔
"لفظ ' *طیب* ' (پاکیزہ) اور ' *خبیث* ' (ناپاک) اگرچہ واحد (مفرد) آیا ہے،❤️
*لیکن یہ جنس کے لیے آیا ہے* یعنی مراد یہ ہے کہ *تمام منافقوں کو مؤمنوں* سے الگ کیا جائے۔😍
اس کے بعد آگے فرماتے ہیں:
ووجه النظم على القول الأول: لا تظنوا أن هذا التمييز يحصل بأن يطلعكم الله على غيبه ويقول إن فلانا مؤمن وفلانا منافق، فإن سنة الله جارية بأنه لا يطلع العوام على غيبه ولا يكون لهم سبيل إلى معرفة الأمور إلا بالامتحان والقرائن المفيدة للظن الغالب، ولكنه يصطفي من رسله من يشاء، فيعلمهم أن هذا مؤمن وذاك منافق۔
*یہ گمان نا کرو کہ مومن اور منافق میں فرق اس طرح ہوگا* کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر مطلع کرے اور وہ بتادے کہ *فلاں مومن ہے اور فلاں منافق* کیونکہ یہ اللہ کا دستور ہے کہ کبھی بھی لوگوں کو اس پر مطلع نہیں فرماتا۔ *اور ان کے پاس کسی کو پہچاننے کا طریقہ امتحان اور وہ نشانیاں ہوتی ہیں جو غالب گمان* کا فائدہ دیتی ہیں اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے چن لیتا ہے *پس وہ انھیں معلوم کروادیتا ہے کہ فلاں مومن ہے فلاں منافق۔😘*
`[تفسیر نیشاپوری غرائب القران ج 02 ص 317]`🇵🇸📚
*تفسیر البحر المحیط سے دیوبندیت کی بربادی❤️*
ثُمَّ بَيَّنَ بِهَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُجْعَلَ هَذَا التَّمْيِيزُ فِي عَوَامِّ النَّاسِ بِأَنْ يُطْلِعَهُمْ عَلَى غَيْبَهِ فَيَقُولُونَ: إِنَّ فُلَانًا مُنَافِقٌ، وَفُلَانًا مُؤْمِنٌ. بَلْ سُنَّةُ اللَّهِ تَعَالَى جَارِيَةٌ بِأَنْ لَا يُطْلِعَ عَوَامَّ النَّاسِ، وَلَا سَبِيلَ لَهُمْ إِلَى مَعْرِفَةِ ذَلِكَ إِلَّا بِالِامْتِحَانِ. فَأَمَّا مَعْرِفَةُ ذَلِكَ عَلَى سَبِيلِ الِاطِّلَاعِ عَلَى الْغَيْبِ فَهُوَ مِنْ خَوَاصِّ الْأَنْبِيَاءِ، وَلِهَذَا قَالَ تَعَالَى: وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ، فَيَخُصُّهُمْ بِإِعْلَامِ أَنَّ هَذَا مُؤْمِنٌ وَهَذَا مُنَافِقٌ💯
پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے بیان فرما دیا کہ *یہ جائز نہیں کہ یہ امتیاز (یعنی مؤمن و منافق کی پہچان) عام لوگوں کو دے دیا جائے، اس طرح* کہ اللہ انہیں *اپنے غیب پر مطلع کر دے* اور وہ یوں کہیں: فلاں شخص منافق ہے اور فلاں مؤمن ہے۔✨
بلکہ *اللہ تعالیٰ* کی سنت یہ ہے کہ وہ *عام لوگوں کو غیب پر مطلع نہیں کرتا* ، اور ان کے لیے ایسی باتوں کو جاننے کا *کوئی راستہ نہیں سوائے امتحان* (یعنی آزمائش) کے ذریعے۔🥀
پس *اگر کسی کو غیب کے علم کے* ذریعے سے کسی شخص کے حال کی پہچان ہو،
تو یہ *انبیاء علیہم السلام* کے خاصے میں سے ہے۔🌹
اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:🌹❤️
﴿وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ﴾
"لیکن اللہ *اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے چن لیتا ہے* — یعنی وہ اپنے ان خاص *رسولوں کو اس علم سے* نوازتا ہے کہ یہ مؤمن ہے اور وہ منافق۔🥀
`[تفسیر البحر المحیط ج 03 ص 450]`📚🇵🇸
مولوی تھانوی صاحب سورہ مائدہ آیت 34 کے تحت لکھتے ہیں:😚
*سو قریب امید یعنی وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی کامل فتح (کا دن ان کفار کے مقابلے میں جن سے یہ دوستی کر رہے ہیں) ظہور فرماوے (جس میں مُسلمانوں کی کوشش کا بھی دخل ہوگا) یا کسی اور بات کا خاص اپنی طرف سے (ظہور فرماوے یعنی ان کے نفاق کا علی التعیین بذریعہ وحی کے عام اظھار فرمادے جس میں مسلمانوں کی تدبیر کا اصلا عمل دخل نہیں۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کی فتح اور ان کی پردہ دری دونوں امر قریب ہونے والے۔❤️*
اب *کوئی کسی قسم کا اشکال نہیں* رہا ان کے گھر سے ثابت ہوگیا کہ *منافقین کی پول علی التعیین بذریعہ* وحی کھلنی ہی کھلنی تھی۔❤️🌹
اب مزید سنیے اسی کے کچھ *نیچے تھانوی کیا لکھتا* ہے:😁
چناچہ یہ پیشنگوئی صادق ہوئی ان منافقوں کی زیادہ دوستی مدینہ کے یہود اور مکہ کے مشرکین سے تھی کہ مکہ فتح ہوگیا اور یہود خستہ و خراب ہوئے جس کا ذکر کئی بار آچکا ہے *اور قرائن و واقعات سے تو اکثر اوقات منافقین کا نفاق کھلتا رہتا تھا مگر عموم فتوحات کے بعد تصریحًا و تعیینًا معلوم کردیا گیا۔💯*
`[بیان القرآن ج 01 ص 489]`📚🇵🇸
ان دلائل سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو *آخر زمانے میں علی التعیین تمام منافقین کا نفاق کا علم دے دیا گیا* تھا اور حضور نے دور حاضر کے منافقین کے ابؤ اجداد چن چن کر پکڑے تھے *تب ہی یہ آج یہ کہتے نظر آتے ہیں* کہ حضور کو ہمارے اباؤ اجداد کا نہیں پتا تھا۔🌹
*تاکہ امت یہ نا جان سکے کہ ان کے اباؤ* اجداد بری طرح رسوا ہوئے تھے کہ سیک ایک کی رب نے پول کھول دی تھی۔🥀
آخر میں *امام روح المعانی* کا ایک حوالہ لگا دیتا ہوں *جس سے واضح ہوجائے* کہ نور الہی سے *منافقوں کا کفر حضور جانتے ہیں۔❤️*
امام روح المعانی آلوسی بغدادی حنفی فرماتے ہیں:🥀
وقيل: كل من رزق قرب النوافل ينظر به تعالى
لحديث «لا يزال عبدي يتقرب إليّ بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به» الحديث
وحينئذ يبصر كل شيء، ومن هنا كان بعض الأولياء الكاملين يرى على ما حكي عنه أعمال العباد حين يعرج بها وسبحان السميع البصير اللطيف الخبير.🌹
اور کہا گیا: *جو کوئی نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب پا لیتا ہے* ، وہ اللہ کے ذریعے دیکھتا ہے۔🥀
جیسا کہ حدیث میں ہے: " *میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے* یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں،
پس جب میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں تو *میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔❤️"*
پھر وہ اس وقت *ہر چیز کو دیکھنے* لگتا ہے۔🌹
اور اسی *بنیاد پر بعض کامل اولیاء کے بارے میں نقل کیا گیا ہے* کہ وہ بندوں کے *اعمال کو دیکھتے تھے جب وہ (اعمال) آسمان کی طرف اٹھائے جاتے تھے۔*
اور پاک ہے سننے والا، دیکھنے والا، باریک بین اور باخبر ہے۔🌹
`(روح المعانی ج 03 ص 237)`📚🇵🇸
ثابت ہوا کہ *اعلی حضرت* سے قبل بھی یہ عقیدہ تھا کہ *جو اللہ کا محبوب بن جائے وہ ہر شیئ دیکھنے لگتا ہے* اس کے سامنے سے بشری پردے ہٹ جاتے ہیں حتی کہ *وہ دلوں میں چھپے بھید اور لوگوں کے اعمال بھی دیکھ لیا کرتا ہے* تو اہل بدعت بتائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون رب کا محبوب ہے۔⁉️❤️
> اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
وما علینا الاالبلاغ المبین 🕋
*از قلم سگ امام احمد رضا ✒️*
صفت عالم الغیب خاصۂ خداوندی Ahnaf Digital Library
30/06/2025
With Ubaid E Raza Qadri – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
23/06/2025
*امام محمد اسماعیل حقی حنفی استامبولی "انا اول المسلمین" کے تحت فرماتے ہیں:👤💯*
اور (اللہ کے فرمان) "وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ" (یعنی میں سب سے پہلا مسلمان ہوں) کا مطلب یہ ہے کہ:
*میں امرِ کن کے ایجاد کے وقت تیرے حکم کے آگے سب سے پہلے سرتسلیم خم کرنے والا ہوں، اور محبت کے فیض کو قبول کرنے میں بھی سب سے پہلا ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ" (اللہ اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں)۔ اور اس محبت کے آگے جھکنے کی دلیل اللہ کے اس فرمان "يُحِبُّونَهُ" میں موجود ہے۔ اور اس کی تائید نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: أول ما خلق الله نوري" سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نور کو پیدا فرمایا)۔*
> اس آیت سے ثابت ہے کہ روح محمدی اپنی بعثت سے قبل بھی موجود تھی اور جہاں بعثت سے قبل واقعات پر موجود نا ہونے کی نفی ہے اس سے مراد جسمانی طور پر موجود ہونا ہے نا کہ روحانی طور پر۔
`[تفسیر روح البیان جلد 03 صفحہ 129]`📚🇵🇸
حنفیت کے باغی دیوبندی وہابی 🔥
*پوسٹ نمبر:41🌎✒️*
15/06/2025
*مولوی امتیاز دیوخانی کی جھالتوں خیانتوں اور مکاریوں کا جواب بنام "حضور جانتے ہیں"❤️💯*
` `♥️🌹
`Deobandi_Exposed`🔥💯
> الحمد لله رب العالمين الذى علم محبوبه بيان ما كان و ما يكون والصلاة والسلام على غوث المسلمين واله واصحابه اجمين اما بعد:📚🇵🇸
*ہم نے مولوی امتیاز کو اس موضوع پر پہلے بھی کئی جواب دیے ہیں جو کہ اس پر قرض ہیں بجائے ان کا جواب دینے کہ وہی گھسے ہوئے اعتراضات کر رہا ہے جن میں سے اکثر کے ہم جوابات دے چکے ہیں۔🌹*
پہلا اعتراض:💯🔥
> 📖 قُلْ لَا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ [سورہ النمل 65] یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ آسمان و زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے اگر نبی علیہ السلام کو اللہ سکھا دے تو وہ علم غیب نہیں رہتا بلکہ ظاہر ہو جاتا ہے۔
*📖اس آیت کی تفسیر قاضی ثناء اللہ پانی پتی الحنفی المتوفی 1125ھ سے:*
`نفی بغیر کسی واسطے سے جاننے کی ہے`
لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ- يعنى لا يعلم الغيب غيره تعالى الا بتوقيف منه۔
*زمین اور آسمان میں غیب صرف اللہ ہی جانتا ہے یعنی اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا مگر اس کی توفیق سے جانتا ہے۔✨*
`(تفسیر المظھری جلد 1.2 صفحہ 11)`🇵🇸📚
*📖امام آلوسی بغدادی المتوفی 1270ھ سے اس آیت کی تفسیر:*
ولعل الحق أن يقال: إن علم الغيب المنفي عن غيره جل وعلا هو ما كان للشخص لذاته أي بلا واسطة في ثبوته له۔📚
*اور ممکن ہے کہ حق بات یہ ہو کہ کہا جائے: اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے جس غیب کے علم کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد وہ علمِ غیب ہے جو کسی شخص کو بذاتِ خود (یعنی بلا واسطہ) حاصل ہو۔*
`[روح المعانی جلد 10 صفحہ 222]`🇵🇸📚
اور ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:😄
فالخواص يجوز أن يعلموا الغيب في قضية أو قضايا كما وقع لكثير منهم واشتهر، والذي اختص به تعالى إنما هو علم الجميع
*پس جائز ہے کہ خواص کسی ایک یا کئی قضیوں میں غیب جان لیں جیسا کہ کثیر کے لیے واقع ہوا ہے اور وہ علم جو رب کے ساتھ خاص ہے وہ جمیع (کل) کا علم ہے۔*
`[روح المعانی جلد 10 صفحہ 222]`🇵🇸📚
ان تفاسیر سے ثابت ہے کہ *اللہ کے ساتھ جو علم خاص* ہے وہ *بلاواسطہ* ہے اور ذاتی ہے چاہے کل ہو یا بعض۔🌹
اور *کل علم غیب ہے* اور زمین و آسمان کے اگر تمام غیب رب سکھادے *تب بھی یہ جمیع غیوب نہیں یہ تو اس کے دریائے علم کا ایک قطرہ بھی نہیں* جیسا کہ مفسرین نے وضاحت کی ہے۔♥️
اور اسی طرح *ابتداء خلق سے قیامت تک کا عرصہ بھی کل نہیں کیونکہ* رب کا علم غیب ان دو حدوں میں منحصر نہیں بلکہ *ابتداء خلق سے پہلے بھی ہمیشہ سے تھا* اور قیامت کے بعد بھی ہمیشہ سے رہے گا۔ *لہذا اتنا علم مان لینے سے شرک فی العلم لازم نہیں آتا۔♥️*
اور غیب جب ظاہر ہوتا ہے اور کوئی اللہ کا پیارا اسے جان لیتا ہے تب بھی وہ غیب ہی رہتا ہے کیونکہ علی سبیل البداھت انسانوں کے حواس اور عقل اس کا ادراک نہیں کرسکتی۔
اور *الھام اور وحی حواس میں یا عقل میں نہیں آتے* لہذا *وہ اظہار سے قبل بھی غیب تھا* اور اظہار کے بعد بھی غیب ہی رہے گا۔🍁
قرآن مجید سے دلیل🌹♥️
اس پر قرآن *مجید شاھد ہے* کہ *غیب اظہار سے قبل بھی غیب تھا اور جب حضور جان گئے تو قرآن تب بھی اسے غیب ہی* کہہ رہا ہے۔💯
وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ (سورہ التکویر 24) *اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔✨*
یعنی حضور کے پاس علم غیب آتا ہے اور حضور بتانے میں بخل نہیں کرتے❤️
اور جب معلوم ہوگیا کہ نفی آیات میں بلا واسطہ کی ہے تو پھر "ولو کنت اعلم۔الغیب الخ" پر قیاس کرلو♥️
*📖امام خازن اس آیت کی تفسیر:*
جواب نمبر : 01🍁
يحتمل أن يكون قاله صلى الله عليه وسلم على سبيل التواضع والأدب والمعنى لا أعلم الغيب إلا أن يطلعني الله عليه ويقدره لي
*یہاں احتمال ہے کہ حضور نے یہ الفاظ بطور عاجزی اور تواضع کرتے ہوئے فرمائے ہوں اور اس کا یہ مطلب ہو کہ میں غیب نہیں جانتا مگر اللہ مجھے اس پر مطلع کردے اور اس پر قدرت دے۔🌹*
جواب نمبر:02🍁
ويحتمل أن يكون قال ذلك قبل أن يطلعه الله عز وجل على الغيب فلما أطلعه الله عز وجل أخبر به كما قال تعالى: فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ۔
*اور یہ بھی احتمال ہے کہ حضور نے یہ تب فرمایا ہو جب ان کو غیب پر مطلع نہیں کیا گیا تھا پھر جب حضور کو اس پر مطلع کیا تو حضور نے اس کی خبر بھی دی۔ جیسا کہ رب کا فرمان ہے :فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ۔💯*
`[تفسیر الخازن جلد 02 صفحہ 280]`📚🇵🇸
*📖حاشیہ صاوی علی الجلالین سے آیت کریمہ کی تفسیر:*
{وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ} الخ إن قلت: إن هذا يشكل مع ما تقدم لنا، أنه اطلع على جميع مغيبات الدنيا والآخرة، والجواب: أنه قال تعالى تواضعاً۔
*{وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ} الخ* ،
*اگر تو کہے: اس کا اشکال ہوتا ہے اس بات سے جو ہم سے پہلے گزر چکی ہے کہ آپ ﷺ کو دنیا و آخرت کے تمام غیوبات کا علم دیا گیا، تو جواب یہ ہے: بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ کلام تواضع کے طور پر فرمایا۔*
`[حاشیہ صاوی علی الجلالین جلد 02 صفحہ 643]`📚🇵🇸
اور یہی تشریح حاشیہ جمل علی الجلالین میں بھی موجود ہے۔🍁
الحاصل یہ کہ *اس سے مراد بلاواسطہ جاننے کی نفی ہے اور جمیع غیب کی نفی ہے* نا کہ بعض کی کیونکہ بعض تو "فلا یظھر علی غیبه احدا الا من ارتضی من رسول" سے ثابت ہے تو اگر بعض *غیب ہی یہاں مراد لیا جائے تو آیتوں میں تضاد اجائے گا جو کہ باطل ہے۔🍁*
*اور آیت میں ہر برائی پہنچنے کا بھی ذکر ہے جس کی نفی بعض غیوب کے حصول سے درست نہیں ہوگی۔* پس لا محالہ طور پر ماننا پڑے گا کہ یہاں غیب سے مراد کل غیب ہے کیونکہ کل غیب کے احاطے سے یہ نفی درست ہوگی۔🍁
پھر اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ نفی *ذاتی بالاستقلال علم کی ہو کیونکہ صرف علم ہونے سے برائی پہنچنے کی نفی نہیں ہوسکتی* بلکہ اس کے لیے رب کی طرح مستقل قدرت *چاہیے اللہ کی تقدیر کے وقوع کو تبدیل کرنے کے لیے اور واضح بات ہے* قدرت مستقلہ جس کے پاس ہوگی اس کے پاس ذاتی علم بھی موجود ہوگا نا کہ عطائی تو *حضور نے یہاں خود سے الوہیت کی نفی فرمائی ہے* کہ میں خود سے کچھ نہیں جانتا۔🍁
جب اتنے سارے *احتمال موجود ہیں پھر بھی بعض غیوب کے علم کی* نفی کردینا کیونکر صحیح ہوگا⁉️
اور یہ تو اصول ہے کہ جب احتمال پیدا ہوگیا تو استدلال باطل ہے۔
*لہذا اس آیت کریمہ کو علم غیب کی نفی کے دوام پر پیش نہیں کیا گیا جاسکتا۔*
اور یہی تفسیر دیوخانی کے
تیسرے اعتراض:🔥💯
> قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ سورہ (الانعام 50)۔
*📖امام الإستانبولي الحنفي 1127ھ سے تفسیر:*
ولا اعلم الغيب فانه صلى الله عليه وسلم كان يخبر عما مضى وعما سيكون باعلام الحق وقد قال عليه السلام ليلة المعراج (قطرت فى حلقى قطرة علمت ما كان وما سيكون) فمن قال ان نبى الله لا يعلم الغيب فقد اخطأ فيما أصاب۔
*اور میں(ازخود) غیب نہیں جانتا، کیونکہ بے شک نبی ﷺ ماضی اور مستقبل کی خبریں دیتے تھے اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے سے، اور آپ ﷺ نے شبِ معراج فرمایا: میرے حلق میں ایک بوند ٹپکائی گئی، تو میں نے جان لیا جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے، پس جس نے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ غیب نہیں جانتے،تو اس نے خطا کی، جس میں وہ مصیب تھا*
`(روح البیان جلد 03 صفحہ 35)`🇵🇸📚
امام بیضاوی سے اس آیت کی تفسیر:
وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ ما لم يوح إلي ولم ينصب عليه دليل۔
*اور میں غیب نہیں جانتا جب تک مجھ پر وحی نا کی جائے اور اس پر دلیل نا قائم کی جائے۔✨*
`[تفسیر بیضاوی جلد 02 صفحہ 163]`🇵🇸📚
اگر حضور وحی سے غیب جانتے ہی نہیں تو امام بیضاوی نے یہ کیوں فرمایا⁉️
یہ دیوبندی اسلاف سے زیادہ قرآن جان گئے ہیں کیا⁉️
*📖امام نظام الدین قمی نیساپوری سے اس آیت کی تفسیر:*
قلت: ويحتمل أن يكون عطفا على لا أَقُولُ أي قل لا أعلم الغيب فيكون فيه دلالة على أن الغيب بالاستقلال لا يعلمه إلا الله بخلاف كون خزائن الله عنده وكونه ملكا فإن النبي صلى الله عليه وسلم يحتمل أن يكون له هذه المقامات ولكن لا يظهرها۔
*میں کہتا ہوں یہاں احتمال ہے کہ اس کا "لا اقول الخ" پر عطف ہو یعنی اے محبوب فرما دیجیے کہ میں غیب نہیں جانتا پس اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ بےشک غیب بالاستقلال (بغیر واسطے کے) اللہ کے سواہ کوئی نہیں جانتا برخلاف اللہ کے خزانے ان کے پاس یا ان کی ملکیت میں ہونے کہ ممکن ہے کہ آقا کو یہ مقام حاصل ہوں لیکن حضور نے انھیں ظاہر نا فرمایا ہو۔🍁*
`[تفسیر النیسابوری جلد 03 صفحہ 81]`🇵🇸📚
*📖تفسیر کبیر للرازی سے اس آیت کی تفسیر (مبنی بر تواضع):*
فَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ: أَنَّ الْمُرَادَ مِنْهُ أَنْ يُظْهِرَ الرَّسُولُ مِنْ نَفْسِهِ الْتَّوَاضُعَ للَّه وَالْخُضُوعَ لَهُ وَالِاعْتِرَافَ بِعُبُودِيَّتِهِ، حَتَّى لَا يُعْتَقَدَ فِيهِ مِثْلُ اعْتِقَادِ النَّصَارَى فِي الْمَسِيحِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
*پس پہلا قول یہ ہے: کہ اس (آیت) سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے حضور تواضع، عاجزی، اور اپنی عبودیت کا اظہار بنفسِ نفیس کریں، تاکہ ان کے بارے میں ایسا عقیدہ نہ قائم کیا جائے جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قائم کیا۔❤️*
`(تفسیر کبیر للرازی جلد 12 صفحہ 538)`🇵🇸📚
*📖عرائس البیان سے اس آیت کی تفسیر:*
و تواضع حین اقام نفسه مقام الانسانية بعد ان كان اشرف خلق الله من العرش الى ثرى
*حضور نے یہ کلمات تواضع کے طور پر فرمائے اس وقت اپنی ذات کو ایک عام انسان کی جگہ پر رکھ کر اگرچہ آقا عرش سے ثری تک ہر مخلوق سے افضل ہیں۔*
`[تفسیر عرائس البیان جلد 01 صفحہ 360]`🇵🇸📚
ولا اعلم الغيب فانه صلى الله عليه وسلم كان يخبر عما مضى وعما سيكون باعلام الحق وقد قال عليه السلام ليلة المعراج (قطرت فى حلقى قطرة علمت ما كان وما سيكون)
*اور میں(ازخود) غیب نہیں جانتا، کیونکہ بے شک نبی ﷺ ماضی اور مستقبل کی خبریں دیتے تھے اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے سے، اور آپ ﷺ نے شبِ معراج فرمایا: میرے حلق میں ایک بوند ٹپکائی گئی، تو میں نے جان لیا جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے🌹*
`[تاویلات نجمیة جلد 02 صفحہ 351]`🇵🇸📚
ثابت ہوا آیت کریمہ میں ذاتی علم کی نفی یے عطائی کی نفی نہیں ہے کہ حضور اللہ کے بتادینے سے خبر دے دینے سے اطلاع کردینے سے علم غیب رکھتے ہیں۔🍁
چوتھا اعتراض:💯🔥
> 🌙 قرآن نے ایک اصولی قاعدہ دیا "وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ" الأنعام: 59] یہ اصول تمام فرقوں کے لیے حتمی ہے یہ نہیں کہا کہ غیب کی تمام کنجیاں صرف اللہ کو حاصل ہیں، باقیوں کو کچھ تھوڑا تھوڑا حصہ مل سکتا ہے یہ تقسیم قرآن سے نہیں، بریلوی ذہن سے ہے۔
*📖تفسیر ابن کثیر سے اس آیت کی تفسیر:*
هذه مفاتيح الغيب التي استأثر الله تعالى بعلمها، فلا يعلمها أحد إلا بعد إعلامه تعالى بها
*یہ وہ غیب کی کنجیاں (مفاتیح الغیب) ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے لیے رکھا ہے، پس ان کو کوئی نہیں جانتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود کسی کو ان کا علم نہ دے۔💯🍁*
`[تفسیر ابن کثیر جلد 06 صفحہ 315]`📚🇵🇸
*📖صاحب کتاب نور الانوار سے اس کی تفسیر:*
ولك ان تقول ان علم هذه الخمسة و ان كان لا يملكه الا الله لكن يجوز ان يعلمها من يشاء من محبيه و اوليائه بقرينة قوله تعالى ان الله عليم حكيم على ان يكون الخبير بمعنى المخبر
*اور تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اگرچہ ان پانچ چیزوں کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، لیکن یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں اور اولیاء میں سے جسے چاہے ان کو یہ علم دے دے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی دلیل سے: "بیشک اللہ علیم حکیم ہے" — اس صورت میں "خبیر" کا مطلب ہوگا "خبر دینے والا"*
`[تفسیرات احمدیہ جلد 01 صفحہ 492]`📚🇵🇸
*فائدہ:🔥🌹*
اس سے ثابت ہوا کہ خبر علم کا فائدہ دیتی ہے اور جس کی خبر دی جائے اس کا علم بھی حاصل ہوجاتا ہے تب ہی امام صاحب نے "خبیر" کو حصول علوم خمسہ پر دلیل بنایا "ولکن وهابية قوم يعتدون"💯
*📖امام مناوی سے اس آیت کریمہ کی تشریح:*
لا يعلمها إلا هو} فمفسر بأنه لا يعلمها أحد بذاته ومن ذاته إلا هو لكن قد تعلم بإعلام الله فإن ثمة من يعلمها وقد وجدنا ذلك لغير واحد كما رأينا جماعة علموا متى يموتون وعلموا ما في الأرحام حال حمل المرأة بل وقبله.
*{لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ} کی تفسیر یہ ہے کہ ان چیزوں کو کوئی اپنی ذات سے، بذاتِ خود، نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ اللہ کے بتانے سے کوئی ان کو جان لے، کیونکہ بعض لوگوں کو ان باتوں کا علم حاصل ہوا، اور ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں معلوم ہو گیا کہ وہ کب مریں گے، اور بعض نے حمل کی حالت میں یا حتیٰ کہ اس سے پہلے بھی جان لیا کہ عورت کے ہاں بچا ہوگا یا بچی❤️*
`[فیض القدیر جلد 05 صفحہ 525]`🇵🇸📚
*شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے اس کی تفسیر & خزانوں کے مالک رب کے حبیب:*
عن ابن مسعود: (أوتي نبيكم [مفاتيح] كل شيء سوى هذه الخمس)، والمراد لا يعلم بدون تعليم اللَّه منه
*حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ تمہارے نبی کو ان پانچ علوم خمسہ کے سواہ ہر شیئ کی کنجیاں عطا کردی گئی اور اس سے یہ مراد ہے کہ ان علوم خمسہ کو حضور اللہ کے علم دیے بغیر نہیں جانتے۔🌹❤️*
`[لمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 01 صفحہ 217]`🇵🇸📚
اس حدیث پاک کا بھی ہم جواب دے چکے ہیں کہ یہاں احتمال ہے کہ یہ نزول قرآن سے پہلے کی بات ہے یا بعد کی۔🌟
نزول قرآن کے بعد کی ہے تو یہ بات دلیل صریح کی محتاج ہے اور اگر نزول قرآن سے قبل کی بات ہے تو ہمارے دعوے میں کچھ مضر نہیں۔🌟
کیونکہ ہمارا دعوی نزول قرآن کے بعد کا ہے:💯♥️
*امام صاوی مالکی سے اس کی تفسیر & یہ بھی بریلوی تھے⁉️*
وهذا قبل اعلامه بوقتها، فلا ينافي أنه صلى الله عليه وسلم لم يخرج من الدنيا حتى أعلمه الله بجميع مغيبات الدنيا والآخرة، ولكن أمر بكتم أشياء، منها كما تقدم التنبيه عليه غير مرة
*اور یہ (یعنی ان امورِ غیبیہ کا نہ جاننا) اس وقت کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے وقت پر مطلع نہیں فرمایا تھا، لہٰذا یہ وقتی نفی اس بات کے منافی نہیں کہ نبی کریم ﷺ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا و آخرت کے تمام غیبی امور کا علم عطا فرما دیا تھا، البتہ کچھ باتوں کو چھپانے کا حکم دیا گیا، جن میں سے بعض کی طرف پہلے متعدد بار تنبیہ کی جا چکی ہے۔♥️*
`[حاشیہ الصاوی علی الجلالین جلد 01 صفحہ 2113]`📚🇵🇸
اس عبارت سے واضح ہوا کہ یہ اصول ہم نے نیا نہیں گھڑا کہ *وقتی نفی یا بلا واسطہ نبی عطائی علم کی نفی کو مستلزم نہیں۔* اور اب کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ امام صاوی تو مستند نہیں ہیں لیکن ان کا یہ وھم بھی دور کردیتے ہیں۔🌹
*📜امام صاوی دیوبند کے فتوے سے مستند:*
علامہ صاوی *مشہور مالکی عالم ہیں، وہ اہل السنة والجماعت میں سے ہیں* ، ان کا حاشیہ درحقیقت ان کے استاذ کی شرح ”الفتوحات الالھیة“ کی تلخیص ہے....
`فتوی دار العلوم دیوبند 601282`📌
`Fatwa : 252-188/SN=04/1442`🗒️♦️
نیچے لنک سے فتوی پورا پڑھ سکتے ہیں:
https://darulifta-deoband.com/home/ur/the-holy-quran/601282
🌟ان کے نزدیک مشھور عالم ہیں بقول ان کے اہل سنت والجماعت میں سے ہی ہیں تو اب بتائیں شرک و کفر کی مشین چلانے والو ان پر کیا فتوی ہے جو سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح علم ما کان و ما یکون کے قائل ہیں۔📚🌎
*📖امام ابن حجر عسقلانی سے اس کی شرح:*
قَالَ: وَالْمُرَادُ بِنَفْيِ الْعِلْمِ عَنِ الْغَيْبِ الْحَقِيقِيِّ
*اور یہاں نفی سے مراد غیب حقیقی جاننے کی نفی ہے۔*
`[فتح الباری جلد 13 صفحہ 365]`📚🇵🇸
پانچواں اعتراض:🍁💯
> "عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ" [الجن: 26-27] یعنی عالم الغیب صرف اللہ ہے رسول کو صرف اطلاع دی جاتی ہے وہ عالم الغیب نہیں بنتے ائمہ احناف بھی عقیدہ توحید کے محافظ ہیں۔
*اطلاع علم کا فائدہ دیتی ہے جس واقعے معاملے پر اطلاع دی جائے وہ علم میں آجاتا ہے یہ تو ایک بدیھی* سی بات ہے لیکن عجیب طبقہ ہے انھیں آج تک سمجھ نہیں آئی۔ پھر اظہارِ غیب کو علم غیب کس نے کہا ہے لیجیے۔♥️
*📖امام ابو البرکات نسفی رحمہ اللہ سے تفسیر:*
إِلاَّ مَنِ ارتضى مِن رَّسُولٍ} إلا رسولاً قد ارتضاه لعلم بعض الغيب ليكون إخباره عن الغيب معجزة له.
*یعنی: مگر وہ رسول جسے اللہ پسند فرمائے (چُن لے) بعض غیب کے علم کے لیے، تاکہ وہ غیب کی خبریں دے جو اس کے لیے معجزہ ہوں۔*
`[تفسیر مدارک جلد 03 صفحہ 554]`🇵🇸📚
*کتاب "التیسیر" سے اس آیت کی تفسیر:*
ليجعلَكم كلَّكم عالِمِين بالغيب فتَستغنوا عن الرسل، بل يخص بالرسالة مَن يشاء
*تاکہ تم سب کو غیب جاننے والا نہ بنا دے کہ تم رسولوں سے بے نیاز ہو جاؤ، بلکہ وہ (اللہ) اپنی رسالت کے لیے جسے چاہے خاص کر دیتا ہے۔*
`[التیسیر فی التفسیر جلد 04 صفحہ 374]`🇵🇸📚
*اس حوالے سے واضح ہے کہ حنفیوں کے نزدیک اظھار غیب اطلاع غیب اصل میں علم غیب عطائی ہیں* تب ہی انھوں نے اطلاع غیب کی تفسیر عالمین بالغیب سے *فرمائی اور دیوبندیت کے منہ پر کالک مل دی۔💯🍁*
*📖امام ابو منصور ماتریدی حنفی سے اطلاع کی تفسیر:*
ذلك قوله: (وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ) إلا من اجتباه لوحيه، وجعله موضعا لرسالته، أي: لا يجعلكم رسلًا؛ إذ علم الغيب آية من آيات رسالته، واللَّه أعلم
*اللہ کے فرمان: اور اس کی شان یہ نہیں کہ تمہیں غیب پر مطلع کرے مگر وہ اپنی وحی کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اسے اپنی رسالت کا مقام عطا کردیتا ہے یعنی وہ تمہیں رسول نہیں بناتا کیونکہ علم غیب رسول کی رسالت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔✨*
`[تاویلات اہل السنة جلد 02 صفحہ 541]`🇵🇸📚
*📖امام حضرت ابو برکات نسفی سے اطلاع کی تفسیر:*
كَانَ الله لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الغيب} وما كان الله ليؤتى أحدا منكم علم الغيوب
*اور اللہ کی شان نہیں ہے کہ وہ تمہیں مطلع کرے یعنی اس کی یہ شان نہیں ہے کہ تمہیں علم غیب عطا کرے۔*
`[تفسیر مدارک جلد 01 صفحہ 315]`🇵🇸📚
امام مدارک نے اطلاع کی تفسیر علم غیب عطا کرنے سے کر کے واضح کردیا کہ *اطلاع علم کا فائدہ دیتا ہے اور جس شہئ پر اطلاع دی جائے وہ شیئ علم میں آجاتی ہے اور یہاں آیت کریمہ سے ثابت ہے* کہ اطلاع غیب پر دی جارہی ہے لہذا جتنے غیب پر اطلاع دی اتنا غیب انبیاء کے علم میں آگیا اور یہی بحمد اللہ تعالیٰ ہمارا موقف ہے۔🍁
*📖 امام ابن عابدین الشامی حنفی سے تصریح:*
قُلْتُ: وَحَاصِلُهُ أَنَّ دَعْوَى عِلْمِ الْغَيْبِ مُعَارِضَةٌ لِنَصِّ الْقُرْآنِ فَيَكْفُرُ بِهَا، إلَّا إذَا أُسْنِدَ ذَلِكَ صَرِيحًا أَوْ دَلَالَةً إلَى سَبَبٍ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى كَوَحْيٍ أَوْ إلْهَامٍ.
*میں کہتا ہوں کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ علمِ غیب کا دعویٰ صریح قرآن کے خلاف ہے، اس لیے ایسا دعویٰ کفر ہے، سوائے اس صورت کے جب یہ دعویٰ صراحتاً یا دلالتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی سبب (یعنی وحی یا الہام) کی بنیاد پر کیا جائے۔*
`[کتاب رد المحتار جلد 04 صفحہ 243]`📚🇵🇸
اگر وحی اور الھام سے حاصل شدہ علم غیب کا نہیں ہوتا تو امام نے ان کا ذکر کیوں کیا؟
چھٹا اعتراض:🔥💯
> اگر اطلاع علمِ غیب ہے تو جبرائیل صحابہ اور امت کے بعض افراد بھی عالم الغیب ہو جائیں گے؟
جی نہیں ایسا کہنا خیانت ہے کیونکہ عالم الغیب میں لام تعریف استغراق کا ہے جس میں *کل غیب شامل ہیں چاہے وہ موجود ہوں یا معدوم ممتنع ہوں یا ممکن واجب یا واجب۔ اور کائنات* میں رب کے سواہ کسی کو کل علم غیب حاصل نہیں لہذا بعض کے حصول سے عالم الغیب ہونا لازم نا آئے گا۔🍁
*📖امام روح المعانی آلوسی حنفی سے تصریح:*
وحمل الغيب على المطلق هو المتبادر، وأل فيه للاستغراق إذ لا قرينة للعهد، ومقام المدح يقتضيه مع قوله تعالى: عَلَّامُ الْغُيُوبِ [المائدة: ١٠٩، ١١٦، التوبة:
٧٨، سبأ: ٤٨] فيشمل كل غيب واجبا كان أو ممكنا موجودا أو معدوما أو ممتنعا لم يتعلق به علم مخلوق۔
*اور غیب کو مطلق پر محمول کرنا ہی ظاہر و متبادر مفہوم ہے، اور اس میں "ال" استغراق کے لیے ہے، کیونکہ کوئی قرینہ موجود نہیں جو اسے عہد پر محمول کرے۔اور چونکہ آیت کا سیاق مقامِ مدح (تعریف کا مقام) ہے، اس لیے بھی استغراق مراد ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {عَلَّامُ الْغُيُوبِ} [المائدہ: 109، 116؛ التوبہ: 78؛ سبأ: 48]، تو اس سے مراد ہر قسم کا غیب ہے: چاہے وہ واجب ہو یا ممکن، موجود ہو یا معدوم، یا محال (امتناع) ہو — یعنی وہ غیب جس کے ساتھ مخلوق کت علم کا تعلق نہیں۔*
`[روح المعانی جلد 14 صفحہ 255]`🇵🇸📚
ابھی ایک حوالے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہے کہ عالم الغیب وہی ہوتا ہے جو تمام کے تمام غیوب کا از خود علم رکھے اور یہ اللہ ہی کی شان ہے۔ *کوئی مخلوق کل تو کیا ایک ذرے کا بھی علم محیط نہیں رکھ سکتا تو پھر اسے عالم الغیب کہنا کیونکر صحیح ہوگا۔* اور حضور کے علم کی ابتداء کی حد بھی ہے اور انتہاء کی حد بھی ہے لہذا اتنا علم مان لینے سے کل نہیں کہلائے گا بعض ہی رہے گا کیونکہ *رب کا علم صرف ان دو حدوں کے درمیان محصور نہیں بلکہ وہ تو لا محدود ہے۔ لہذا عالم الغیب صرف اللہ رب العزت ہے۔💯🍁*
ساتواں اعتراض:💯🔥
> علمِ غیب وہ علم ہے جو بغیر ظاہری اسباب، محسوسات اور کسی انسانی ذریعے کے حاصل ہو یعنی ماورائے اسباب علم۔
یہ تعریف *کسی مستند عالم مفسر* متکلم نے نہیں کی *وحی اور الھام کا حواس سے کوئی تعلق نہیں لہذا ان* سے جو خبریں غیب کی حاصل ہوں گی وہ علم غیب ہی ہوگا۔ جہاں تک *مستند تعریفات کی بات ہے تو لیجیے۔♥️💯*
*📖امام فخر الدین رازی سے غیب کی تعریف:*
وَهُوَ قَوْلُ جُمْهُورِ الْمُفَسِّرِينَ أَنَّ الْغَيْبَ هُوَ الَّذِي يَكُونُ غَائِبًا عَنِ الْحَاسَّةِ ثُمَّ هَذَا الْغَيْبُ يَنْقَسِمُ إِلَى مَا عَلَيْهِ دَلِيلٌ، وَإِلَى مَا لَيْسَ عَلَيْهِ دَلِيلٌ
*اور جمہور مفسرین کا یہ قول ہے کہ غیب وہ ہے جو حس سے پوشیدہ ہو پھر اس غیب کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جس پر دلیل وسئم ہے اور دوسرا وہ غیب جس پر دلیل قائم نا ہو۔*
`[تفسیر کبیر للرازی جلد 02 صفحہ 273]`📚🇵🇸
*📖امام راغب اصفھانی سے غیب کی تعریف:*
يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ [البقرة/ ٣] ، ما لا يقع تحت الحواسّ ولا تقتضيه بداية العقول، وإنما يعلم بخبر الأنبياء عليهم السلام،
*غیب سے مراد وہ جو حواس کے تحت واقع نا ہو اور نا ہی عقل بدیھی طور پر اس کا ادراک کرسکے اور غیب کو صرف انبیاء کی خبروں سے جانا جاتا ہے۔* 💯
`[المفردات فی غریب القرآن صفحہ 616]`🇵🇸📚
امام صاحب فرمارہے ہیں کہ *غیب کا علم انبیاء کی خبروں سے حاصل ہوتا ہے۔ میں پوچھتا ہوں اگر انبیاء کو خود* غیب کا زرا بھی علم نہیں تو ان کی خبروں سے غیب کا علم کیسے حاصل ہوگا⁉️
الحاصل یہ کہ حضور پر جو بھی وحی ہوئی یا اولیاء پر *جو بھی الھام ہوئے وہ حواس کے تحت نہیں آتے۔* لہذا وہ غیب ہی ہے ظاہر ہونے سے قبل بھی اور بعد بھی البتہ وہ غیب اضافی ہے۔🍁
وحی یا الھام کا ادراک انسانی حواس نہیں دیگر علوم کی طرح کرسکتا۔ لہذا غیب ظاہر ہونے کے بعد لغوی طور پر تو غیب نا رہے مگر اصطلاحی طور پر وہ غیب ہی ہے کہ اس کا ادراک انسانوں کے حواس نہیں کرسکتے۔💯♥️
آٹھواں اعتراض:🔥💯
> یہ سب اطلاع ہے، علمِ غیب نہیں اسی لیے تمام اہل سنت کہتے ہیں العلم بالغيب من خصائص الله، و ما أُخبر به لا يسمى علماً بالغيب۔
متعصب بندے کا کوئی حل نہیں ہے پتا نہیں کونسے اہل سنت ہیں جو یہ کہتے ہیں خیر یہ اپنے من گھڑت اہل سنت کی ہی مان لیجیے۔😄
*📖مولوی مرتضی حسن چاند پوری کی وضاحت:*
حفظ الایمان میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب بعطائے الہی حاصل ہے۔
`[توضیح البیان فی حفظ الایمان ,صفحہ 124]`🔥
حوالے اور بھی ہیں پر ایک ہی پر اکتفاء کرتا ہوں۔
نواں اعتراض 🔥💯
> 5 بریلوی عوام کو دھوکہ بریلوی علماء اپنے خاص جلسوں میں، خاص کتابوں میں واضح الفاظ میں لکھتے ہیں نبی ﷺ کو سارا غیب عطا کیا گیا ہے آپ زمین و آسمان کے غیب جانتے ہیں آپ کو لوح محفوظ کا سارا علم ہے م اور عام عوام سے کہتے ہیں ہم نے کب کہا نبی عالم الغیب ہیں۔
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
*ہمارے حضور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام موجودات جملہ ما کان و ما یکون الی یوم الی یوم القیامہ جمیع مندرجات لوح محفوظ کا علم دیا۔*
`[انباء المصطفی صفحہ 06]`📚🇵🇸
کون اس علم ہو کل کہتا ہے؟ ہم نے واضح *کردیا کل علم میں صرف موجودات ہی نہیں دیگر بھی علوم شامل ہیں اور کل علم لا محدود ہے جبکہ اہل سنت* ابتداء خلق سے قیامت تک کا صرف تمام علم مانتے ہیں۔ تو پھر یہ کل *کیسے ہوگیا اور اس کا عالم کیسے عالم الغیب بن گیا؟*
عجیب ذھنیت کے مالک ہیں اور زرا یہ تو بتاؤ *جب اللہ تعالٰی نے قلم کو لکھنے کا حکم دیا۔ تو قلم نے ما کان و ما یکون لکھ دیا۔* اگر قلم کو علم ہی نہیں تھا کہ لکھنا کیا ہے تو پھر اس نے کیسے لکھا⁉️
اور اگر اسے علم تھا تمام ماکان و مایکون تو *پھر تمہارے اصول سے وہ معاذاللہ خدا کا شریک ٹھہر گیا* کہ تم ما کان و مایکون کے اثبات کو سید عالم کے لیے شرک قرار دیتے ہو تو *کیا قلم غیر اللہ نہیں؟*
*اس کا جواب لازمی دینا اگر جرت ہوئی انتظار رہے گا😄۔*
*باقی علم ما کان و ما یکون ایک محدود علم ہے اور اس کو تو دریائے* علم الہی کے قطرے سے بھی نسبت نہیں یہ اتنا کم ہے اور یہ مولوی صاحب *اس محدود علم کو کل قرار دے کر رب کے علم کو محدود کرنے پر تلے ہیں یعنی لا محالہ طور پر یہ ماننا پڑے گا کہ ان کے نزدیک رب* کا علم صرف زبانی کلامی دعووں کی حد تک غیر محدود ہے لیکن عقیدہ یہ اس کے خلاف رکھتے ہیں۔(یہ الزامی جواب ہے).💯🔥
دسواں اعتراض 🔥💯
> 📢 اب یہ عوام پر واضح ہو چکا کہ بریلوی عقیدہ علمِ غیب شرک میں لپٹا ہوا ہے۔
شر کا مرتکب کافر و مشرک ہوتا ہے لیکن تھانوی صاحب ہمیں کافر بھی نہیں جانتے مشرک تو دور کی بات😄
ملاحظہ فرمائیں قارئین کرام:
مولوی تھانوی صاحب کہتے ہیں:
*کتنی سخت بات ہے ایک شخص نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کا قائل ہے اس کے لیے کیا حکم ہے میں مے کہا کہ جو شخص علم بلا واسطہ کا قائل ہے وہ کافر ہے اور جو علم بواسطہ کا قائل ہو یعنی خدا کی عطا کے واسطے کا وہ کافر نہیں اگرچہ علم محیط کا ہی ہی قائل ہو گو یہ اعتقاد کذب تو ہے مگر ہر کذب تو کفر نہیں ہسں البتہ عقیدے کی معصیت فسق ضرور ہے۔*
`(ملفوظات حکیم الامت جلد 08 صفحہ 96 /97)`🔥😄
تھانوی صاحب کہہ رہے ہیں علم محیط بلواسطہ *کا قائل بھی کافر نہیں مولوی صاحب علم ما کان و ما یکون* تو علم محیط کے مقابلے کچھ نہیں۔💯
علم محیط زیادہ ہوتا ہے اور وہ دیوبندیوں کے *نزدیک اس کا قائل کافر* نہیں۔✊🏻
اور تم شرک و کفر کے فتوے لگانے میں اتنے بد *مست ہو کہ جو علم محیط کا قائل نہیں اس کو مشرک قرار* دینے پر تلے ہو۔🍁
> اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اہل سنت کا بول بالا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم♥️🤲
وما علینا الاالبلاغ المبین 🕋
*از قلم سگ امام احمد رضا ✒️*
darulifta-deoband.com کیا فرماتے ہیں علمائے دین حاشیةالصاوی کے بارے میں جوکہ علامہ احمد الصاوی المالکی رحمةاللہ علیہ کی تصنیف ہے جلالین شریف کی شرح میں،سناہے کہ اس تفسیر میں وہابیت کے بار...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
50000