Muhammad Essa

Muhammad Essa

Share

Student | WordPress Web Developer | On-page SEO Specialist | Content Writer | Graphic Designer

14/05/2025

سوشل میڈیا آج کے دور میں ایک ایسی طاقت بن چکا ہے جو کسی بھی چیز کو بہت تیزی سے عام کر دیتا ہے۔ چاہے وہ کوئی واقعہ ہو، کوئی تبصرہ ہو یا کوئی میم، جب یہ بار بار لوگوں کے سامنے آتا ہے، تو وہ اسے معمول کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف اچھی چیزوں کو بلکہ منفی اور نقصان دہ چیزوں کو بھی نارملائز کر دیتا ہے، جو معاشرے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

مثال کے طور پر، آج کل سوشل میڈیا پر موجود میمز پیجز کو دیکھیں، جہاں عورتوں، لڑکیوں یا تعلقات کے بارے میں ہلکے پھلکے انداز میں میمز بنائے جاتے ہیں۔ یہ میمز اکثر ایسی باتوں کو فروغ دیتے ہیں جو نامناسب ہیں، جیسے عورتوں پر غیر ضروری تبصرے یا ان کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ۔ جب یہ چیزیں بار بار شیئر ہوتی ہیں، تو لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ایسی باتیں کرنا یا کمنٹس دینا ان کا حق ہے یا یہ کوئی بڑی بات نہیں۔

اسی طرح، میاں بیوی کے رشتوں، گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کے تصورات کو بھی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ اجاگر کیا جاتا ہے۔ فلموں، ڈراموں اور میمز پیجز میں ان چیزوں کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ معاشرے کا عام حصہ ہیں۔ ویوز اور لائکس کے چکر میں بنائے جانے والے یہ مواد لوگوں کے ذہنوں میں ایک غیر حقیقی دنیا کی تصویر بناتے ہیں۔ نتیجتاً، بہت سے لوگ، خاص طور پر نوجوان، یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ان کی زندگی میں بھی ایسی چیزیں ہونی چاہئیں، حالانکہ حقیقت میں ہمارے معاشرے میں یہ تصورات اتنی گہرائی سے موجود نہیں ہیں۔

یہ صرف میمز یا ڈراموں تک محدود نہیں ہے۔ کچھ مذہبی پلیٹ فارمز یا حتیٰ کہ کچھ علماء کے بیانات میں بھی ایسی باتیں مذاق کے طور پر کی جاتی ہیں۔ یہ سب گپ شپ یا تفریح کے لیے ہوتا ہے، لیکن اس کا اثر عام لوگوں پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ جب کوئی مشہور شخصیت یا پیج ایسی بات کرتا ہے، تو لوگ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں اور سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ چیزیں معاشرے میں معمول کی ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی کہتا ہے کہ "فلاں کی گرل فرینڈ ہے" یا "فلاں نے ایسی بات کی"، تو یہ محض مذاق ہوتا ہے، لیکن سننے والے اسے حقیقت سمجھ کر اپنی سوچ کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

اسی طرح، سوشل میڈیا پر حادثات، چوری، یا دیگر سنگین واقعات کی ویڈیوز اور خبریں اتنی زیادہ شیئر ہوتی ہیں کہ اب وہ ہمیں کوئی نئی بات نہیں لگتیں۔ ہمارے سامنے جب کوئی ایسی ویڈیو آتی ہے، جیسے کہ کوئی ایکسیڈنٹ یا کوئی ناخوشگوار واقعہ، تو ہم اسے سکپ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ چیزیں ہمارے لیے اتنی نارمل ہو چکی ہیں کہ ہم ان پر غور ہی نہیں کرتے۔ یہ صورتحال نہ صرف ہماری حساسیت کو کم کرتی ہے بلکہ معاشرے میں ایک لاتعلقی کا رویہ بھی پیدا کرتی ہے۔

یہاں تک کہ سنگین جرائم، جیسے کہ ریپ یا تشدد کے واقعات، بھی سوشل میڈیا پر اتنی بار دکھائے جاتے ہیں کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ "یہ تو ہوتا رہتا ہے"۔ یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے، کیونکہ اس سے ہماری سماجی اقدار اور اخلاقیات کمزور ہوتی ہیں۔ ہم ان چیزوں کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیتے ہیں جو واقعی ہمارے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔

میرے خیال میں، ہمیں سوشل میڈیا پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس کا کیا اثر ہوگا۔ ہماری پوسٹ، میم یا ویڈیو کس سوچ کو فروغ دے رہی ہے؟ یہ کتنے لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوگی؟ کیا یہ کوئی منفی یا غیر ضروری چیز کو نارملائز کر رہی ہے؟ ہمیں اپنی پوسٹس کے امپیکٹ کو سمجھنا ہوگا۔

ہم جو کچھ بھی شیئر کرتے ہیں، اس کا مقصد صرف تفریح یا ویوز حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ذمہ داری سے مواد شیئر کرنا چاہیے، جو معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دے۔ ہر پوسٹ سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کس طرح کے خیالات کو عام کر رہی ہے اور کیا یہ واقعی وہ پیغام ہے جو ہم دینا چاہتے ہیں۔

میرا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اس کی طاقت کو مثبت انداز میں استعمال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے اثرات کو پرکھنا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر اور زیادہ ذمہ دار معاشرہ بنا سکیں۔

قاسمی

12/05/2025

المیہ

ایسا کیا ہوا کہ ہمیں ایک دوسرے کا درد محسوس ہی نہیں ہوتا
ہم میں ایک دوسرے سے یہ پوچھنے کی بھی ہمت نہیں رہی کہ میاں آج تم پریشان کیوں ہو
اگر پوچھ بھی لیں سامنے والے کو اتنا اعتبار بھی نہیں رہا کہ ہم اس کا غم سمجھ سکتے ہیں آگے سے یہی جواب آتا ہے " نہیں ایسی کوئی بات نہیں میں خوش ہوں"
مجھے "میں خوش ہوں" کے بعد کی پھیکی ہنسی دیکھ کر اپنے معاشرے پر ترس آتا ہے اور کبھی کبھی غصہ بھی

کون سا موڑ تھا، کون سی گھڑی، جب ہمارے دل ایک دوسرے کے دکھ سے بیگانہ ہو گئے؟
کیوں ہمارے وجود میں وہ لمس باقی نہ رہا جو دوسرے کی تکلیف کو اپنی سمجھتا تھا؟
ہماری زبان سے وہ سوال کیوں گم ہوا کہ "میاں، آج تم پریشان کیوں ہو؟" اور اگر کبھی ہمت کر کے یہ سوال لبوں تک آ بھی جائے، تو سامنے والے کے دل میں وہ یقین کیوں نہیں کہ ہم اس کے غم کو سمجھ سکیں گے؟
جواب میں بس ایک پھیکا جملہ ملتا ہے: "نہیں، ایسی کوئی بات نہیں، میں خوش ہوں۔" اور اس "میں خوش ہوں" کے بعد جو ہنسی سنائی دیتی ہے، وہ ہنسی نہیں، بلکہ ایک خاموش چیخ ہے—ایک ایسی چیخ جو ہمارے معاشرے کی بے حسی کی گواہی دیتی ہے۔

یہ المیہ محض افراد کا نہیں، ہمارے اجتماعی شعور کا ہے۔ ہم نے خود کو بے حسی کے اس قدر گہرے کنویں میں گرا لیا کہ دوسرے کا درد ہماری سمجھ سے باہر ہو گیا۔ ہمارا معاشرہ، جو کبھی ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شریک ہوتا تھا، اب ایک ایسی بے رنگ تصویر بن گیا ہے جہاں ہر چہرہ اپنے اندر ایک بند کتاب لیے پھرتا ہے
ایک ایسی کتاب جسے کوئی کھولنے کی جرات نہیں کرتا۔

سوچ کر دیکھیں تو یہ ہماری اپنی تخلیق کردہ جہالت ہے۔ ہم نے رابطوں کی دنیا کو تو وسیع کیا، مگر دل کے رابطوں کو تنگ کر دیا۔ ہم نے ایک دوسرے سے باتیں کرنا تو سیکھا، مگر ایک دوسرے کو سمجھنے کی فن سے محروم ہو گئے۔ یہ وہ وجودی بحران ہے جہاں ہم سب ایک ساتھ موجود ہیں، مگر ایک دوسرے کے لیے غائب۔

اُس پھیکی ہنسی پر ترس بھی آتا ہے اور غصہ بھی۔
ترس اس لیے کہ ہم اپنی انسانی فطرت سے کتنے دور نکل آئے ہیں۔
غصہ اس لیے کہ یہ سب ہماری اپنی مرضی سے ہوا۔

کیا ہم اس المیے سے نکل سکتے ہیں؟
ہاں، اگر ہم دوبارہ سیکھ لیں کہ یہ کہنا کہ " تم پریشان کیوں ہو؟" ہی کافی نہیں—اس کے جواب کو دل سے سننا اور سمجھنا اصل انسانیت ہے۔ تب شاید وہ پھیکی ہنسی ایک سچی مسکراہٹ میں بدل جائے، اور ہمارا معاشرہ دوبارہ ایک زندہ، ہمدرد دل کی مانند دھڑکنا شروع کر دے۔

قاسمی

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Islamabad
29020