InfoTech Assistant

InfoTech Assistant

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from InfoTech Assistant, Educational consultant, Islamabad.

29/12/2025

یہ ایک بہترین اور متاثر کن کہانی ہے۔ میں نے اس واقعے کی تاریخی تفصیلات، پس منظر اور اس کے اثرات کو شامل کر کے اسے مزید تفصیل اور گہرائی کے ساتھ لکھا ہے۔
یہ رہی ری ٹاملنسن اور ای میل کی ایجاد کی مکمل اور تفصیلی داستان:
ری ٹاملنسن: وہ خاموش موجد جس نے دنیا کو @ کے ذریعے جوڑ دیا
یہ 1971ء کے موسمِ خزاں کی بات ہے۔ امریکا کی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں "بولٹ، بیرانیک اینڈ نیومین" (BBN) نامی کمپنی کی ایک لیبارٹری میں مشینوں کی دھیمی گونج سنائی دے رہی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب انٹرنیٹ اپنی ابتدائی شکل میں تھا اور اسے 'ارپانیٹ' (ARPANET) کہا جاتا تھا۔
اس لیب میں 29 سالہ کمپیوٹر انجینئر، ری ٹاملنسن (Ray Tomlinson)، ایک ایسے پراجیکٹ پر کام کر رہا تھا جو اس کی سرکاری ذمہ داریوں کا حصہ بھی نہیں تھا۔ اسے کسی نے نہیں کہا تھا کہ وہ دنیا کے مواصلاتی نظام کو بدل کر رکھ دے، لیکن اس کے ذہن میں ایک سوال کھٹک رہا تھا۔
مسئلہ: ڈیجیٹل تنہائی
اس وقت تک کمپیوٹرز پر پیغامات چھوڑنے کا طریقہ بہت محدود تھا۔ سائنسدان اور محققین ایک ہی کمپیوٹر (مین فریم) کو باری باری استعمال کرتے تھے۔ اگر کسی کو دوسرے کے لیے پیغام چھوڑنا ہوتا، تو وہ کمپیوٹر کی لوکل ڈرائیو پر ایک ٹیکسٹ فائل بنا دیتا، بالکل اسی طرح جیسے آپ کسی کی میز پر کاغذ کی پرچی چھوڑ دیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ شخص کسی دوسرے شہر یا دوسری عمارت میں موجود کمپیوٹر پر بیٹھا ہو، تو اسے وہ پیغام نہیں مل سکتا تھا۔
ری ٹاملنسن کا خیال تھا: "ہمیں فائلوں کو نہ صرف ایک ہی کمپیوٹر کے اندر، بلکہ نیٹ ورک کے ذریعے دوسرے کمپیوٹرز تک بھیجنے کے قابل ہونا چاہیے۔"
حل کی تلاش اور 'SNDMSG'
ری ٹاملنسن نے دو موجودہ پروگراموں کو ملانے کا فیصلہ کیا۔ ایک کا نام SNDMSG (سینڈ میسج) تھا جو مقامی پیغامات کے لیے تھا، اور دوسرا CPYNET تھا جو نیٹ ورک پر فائلیں بھیجتا تھا۔ انہوں نے کوڈنگ میں تبدیلیاں کیں تاکہ پیغامات کو ایک مشین سے دوسری مشین تک سفر کرایا جا سکے۔
لیکن یہاں سب سے بڑی تکنیکی رکاوٹ سامنے آئی:
کمپیوٹر کو یہ کیسے سمجھایا جائے کہ یہ پیغام کس "شخص" کے لیے ہے اور وہ شخص کس "مشین" (ایڈریس) پر موجود ہے؟
تاریخی انتخاب: @ کا نشان
ری کو ایک ایسے الگ کرنے والے نشان (Separator) کی ضرورت تھی جو انسان کے نام اور کمپیوٹر کے نام میں فرق کر سکے۔ اس نے اپنے Teletype Model 33 کی بورڈ پر نظر ڈالی۔ اسے ایک ایسا نشان چاہیے تھا جو کسی کے نام کا حصہ نہ بنتا ہو تاکہ کمپیوٹر کنفیوز نہ ہو۔
اس کی نظر "@" (At the rate of) پر پڑی۔ یہ نشان اکاؤنٹنگ اور قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہوتا تھا اور عام گفتگو یا ناموں میں اس کا کوئی کام نہیں تھا۔ ری نے سوچا کہ یہ انگریزی لفظ "At" (یعنی 'پر') کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
اس نے فیصلہ کیا: [صارف کا نام] @ [کمپیوٹر کا نام]۔
مثال کے طور پر: tomlinson@bbn-tenexa
یہ چند سیکنڈز کا فیصلہ تھا جس نے مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد رکھ دی۔
پہلا پیغام اور "خفیہ" ایجاد
ری ٹاملنسن کے کمرے میں دو بڑے PDP-10 کمپیوٹرز ساتھ ساتھ رکھے تھے۔ انہوں نے ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر پر دنیا کا پہلا نیٹ ورک ای میل بھیجا۔ وہ پیغام کیا تھا؟ کوئی فلسفیانہ بات نہیں، بلکہ شاید کی بورڈ کی پہلی قطار کے حروف: "QWERTYUIOP" یا اسی طرح کا کچھ بے معنی ٹیسٹ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ کامیاب ہو گیا، تو ری نے اپنے ساتھی جیری برچفیل (Jerry Burchfiel) کو بلایا اور اسے یہ نظام دکھایا۔ پھر مسکراتے ہوئے کہا:
> "کسی کو مت بتانا کہ میں نے یہ کیا ہے۔ ہمیں یہ کام کرنے کے پیسے نہیں مل رہے، یہ ہمارے کام کا حصہ نہیں ہے۔"
>
اثرات اور میراث
وہ ایجاد جسے "چھپانے" کی کوشش کی گئی تھی، جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ چند ہی سالوں میں ارپانیٹ پر ہونے والی 75 فیصد ٹریفک ای میلز پر مشتمل تھی۔
* آج کی حقیقت: آج دنیا میں روزانہ تقریباً 330 ارب ای میلز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ہر کاروباری معاہدہ، ہر تعلیمی داخلہ، اور ہر اہم رابطہ اسی "@" کے نشان کا مرہونِ منت ہے۔
* بغیر معاوضے کے خدمت: ری ٹاملنسن نے کبھی اس ایجاد کا پیٹنٹ (Patent) نہیں کرایا۔ اگر وہ چاہتے تو اس سے اربوں ڈالر کما سکتے تھے، لیکن انہوں نے اسے انسانیت کے لیے تحفہ سمجھا۔
اختتامیہ
جب 2016 میں 74 سال کی عمر میں ری ٹاملنسن کا انتقال ہوا، تو دنیا نے محسوس کیا کہ ہم نے ایک عظیم محسن کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے شور مچا کر دنیا کو اپنی طرف متوجہ نہیں کیا، بلکہ خاموشی سے دنیا کے ایک کونے کو دوسرے کونے سے جوڑ دیا۔
ان کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو بدلنے کے لیے آپ کو مشہور ہونے کی ضرورت نہیں، بس ایک درست نیت، تھوڑی سی مہارت اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ایسی ہی کوئی اور "ٹیک ہسٹری" (Tech History) کی کہانی (جیسے کہ انٹرنیٹ کی ایجاد یا گوگل کے بننے کی کہانی) آپ کے لیے لکھوں؟



Photos from InfoTech Assistant's post 12/12/2025

The RJ45 connector uses one of two standardized wiring schemes, T568A or T568B, for terminating Cat 6 (or Cat 5e/7) twisted-pair Ethernet cables. Both standards provide the same transmission performance, but the order of the wires is different.
T568A is often used in residential installations, U.S. government contracts, and is recognized as the preferred global standard.
T568B is the more widely used standard in commercial (enterprise) installations in the United States.
Key Difference:
The difference between T568A and T568B is the swapping of the Green and Orange wire pairs (specifically, the wires on pins 1, 2, 3, and 6). The Blue and Brown pairs remain the same.
Cable Types:
Straight-Through Cable: Both ends are terminated using the same standard (A-to-A or B-to-B). This is the most common type used to connect devices of different types (e.g., PC to Switch/Router).
Crossover Cable: One end is terminated with T568A and the other with T568B. This was traditionally used to connect devices of the same type (e.g., PC to PC), but modern networking equipment with Auto MDI-X capability usually makes crossover cables unnecessary

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address

Islamabad