Instant Real Estate

Instant Real Estate

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Instant Real Estate, Estate agent, MI/281 hussainabad karachi, Karachi.

16/04/2025

کراچی میں ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساٹھ سال کی عمر میں جب ان کی پنشن شروع ہوئی تو انہوں نے بیٹی کی شادی کے لیے پیسے جوڑنے کا سوچا۔ بیٹا دبئی میں تھا، اس نے مشورہ دیا: “ابا، ڈیفنس میں ایک چھوٹا سا پلاٹ لے لیں، تین سال بعد بیچ کر بیٹی کا جہیز بھی بن جائے گا اور کچھ بچت بھی ہو گی۔”

بوڑھے نے زندگی کی آخری پونجی ڈیفنس کے ایک کنال کے پلاٹ پر لگا دی۔ دو سال بعد وہی پلاٹ دوگنے دام میں بکا۔ بیٹی کی شادی بھی ہوگئی اور ساتھ ہی بزرگ کی آنکھوں میں ایک نیا خواب پیدا ہوگیا: “زمین ہی سونا ہے!”

یہ خواب 2010 سے 2021 تک پاکستان کے ہر دوسرے شخص نے دیکھا۔ کوئی راولپنڈی میں زمین خرید رہا تھا، کوئی لاہور میں، کوئی گوادر کی مٹی کو سونا سمجھ کر اس میں رقم دفن کر رہا تھا۔

اب آپ دل تھام لیجیے، کیونکہ میں آپ کو وہ سچ بتانے جا رہا ہوں جو ہم میں سے اکثر نہیں جاننا چاہتے۔

پچھلے پندرہ سال میں پاکستان میں ریئل اسٹیٹ صرف ایک صنعت نہیں رہی، یہ ایک نفسیات بن گئی۔ ہم نے ہر مسئلے کا حل “پلاٹ” میں ڈھونڈا۔ نوکری نہیں؟ پلاٹ لے لو، دو سال بعد بیچ دو، لاکھوں کماؤ۔ کاروبار میں نقصان ہوا؟ زمین میں پیسے لگا دو، پچھتاوے کی گنجائش نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی 60 سے 70 فیصد دولت ریئل اسٹیٹ میں پھنسی ہوئی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان کی جائیدادوں کی مالیت 300 سے 400 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تو زبردست بات ہے۔ اتنی بڑی مارکیٹ، اتنی دولت، اتنا روزگار۔ مگر ذرا رکیے! یہ صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس پر ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔

جس ملک میں 50 فیصد سے زائد شہری کچی آبادیوں میں رہتے ہوں، وہاں اگر زمین سونے سے مہنگی ہو جائے تو اسے ترقی کہتے ہیں یا نابرابری؟ ایک عام شہری کی آمدنی بمشکل 30 ہزار روپے ہے اور اوسط گھر کی قیمت 60 لاکھ سے اوپر، تو وہ کہاں جائے؟

ریئل اسٹیٹ نے نہ صرف زمین کو مہنگا کیا بلکہ پورے معاشی نظام کو بگاڑ دیا۔ سرمایہ جو فیکٹریوں میں لگنا تھا، وہ پلاٹوں میں دفن ہو گیا۔ نوجوان جنہیں اسٹارٹ اپ بنانے تھے، وہ زمین کے کاروبار میں لگ گئے۔ بینک جو صنعتوں کو قرض دیتے تھے، اب پلاٹ خریدنے والوں کو دیکھنے لگے۔

ریئل اسٹیٹ کی یہ تلوار صرف چھوٹے کاروباروں پر ہی نہیں گری۔ ایک مکمل معیشت “زمین، سیمنٹ، سریا، اینٹ، بجری” کے گرد گھومنے لگی۔ 2020 میں جب حکومت نے کنسٹرکشن امینسٹی دی تو صرف ایک سال میں 1794 نئی رئیل اسٹیٹ کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، اور 493 ارب روپے کا کالا دھن سفید ہو گیا۔

کیا یہ ترقی تھی یا نظام کی جیت؟

آپ حیران ہوں گے کہ پاکستان میں مورٹگیج ٹو جی ڈی پی کی شرح صرف 0.3 فیصد ہے، جبکہ بھارت میں یہ 11 فیصد ہے، اور ملیشیا میں 30 فیصد سے اوپر۔ یعنی ہم زمین کو خریدتے تو ہیں، مگر بینکوں اور معیشت کو اس سے کچھ نہیں ملتا۔

جب زمین کی قیمت بڑھتی ہے تو ہم خوش ہو جاتے ہیں، لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دکان کے کرائے بھی بڑھتے ہیں، دفتر کا کرایہ بھی بڑھتا ہے، اور نتیجتاً کاروبار مہنگا ہو جاتا ہے۔ چھوٹے تاجروں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، لیکن ہم واہ واہ کرتے رہتے ہیں کہ “پلاٹ نے دگنا منافع دے دیا!”

اور پھر جب یہ بلبلہ پھٹتا ہے، جیسا کہ 2023 میں ہوا، تو زمین کی قیمتیں 15 فیصد گر جاتی ہیں، لاکھوں افراد بیروزگار ہو جاتے ہیں، اور معیشت ایک بار پھر نیچے آ جاتی ہے۔

کراچی میں ایک پراپرٹی ایجنٹ نے مجھ سے کہا: “سر، ہم تو روز دعا کرتے ہیں کہ کوئی نئی اسکیم لانچ ہو، کوئی نیا امینسٹی آئے، تاکہ بازار چلے۔ ورنہ تو کاروبار ختم ہو گیا ہے۔”

آپ خود سوچیے، جہاں معیشت دعاؤں پر چلنے لگے، وہاں ترقی کیسے آئے گی؟

سچ تو یہ ہے کہ ہم نے ریئل اسٹیٹ کو معیشت کا مرکز بنا دیا ہے، حالانکہ یہ ہونا چاہیے تھا معیشت کا نتیجہ۔ جب معیشت مضبوط ہوتی ہے تو زمین کی قیمت بڑھتی ہے، نہ کہ زمین کی قیمت بڑھنے سے معیشت مضبوط ہوتی ہے۔

یاد رکھیے، کوئی بھی ملک زمین بیچ کر ترقی نہیں کرتا۔ زمین اگر سونا ہے، تو وہ تب تک قیمتی ہے جب تک اس پر کچھ اُگتا ہے – فیکٹری، اسکول، اسپتال، یا گھر۔ جب زمین صرف منافع کا ذریعہ بن جائے، تو وہ معیشت کا گڑھا بن جاتی ہے۔

آخر میں، ایک سوال چھوڑے جا رہا ہوں:
کیا ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جو اپنے بچوں کو کاروبار سکھانے کے بجائے پلاٹ خریدنے کا مشورہ دیتا ہے؟
اگر ہاں، تو پھر اگلے 15 سال بھی پچھلے 15 سال جیسے ہی ہوں گے – زمین تو مہنگی ہوگی، لیکن زندگی سستی ہوتی جائے گی۔

03/04/2025

مشتری ہوشیار باش

Photos from Instant Real Estate's post 24/10/2023

پاکستان کے سب سے بڑے منصوبے کو زمینوں کی فروخت سے روک دیا گیا

سندھ بلڈنگ کنٹرول آتھارٹی نے بحریہ ٹاون انتظامیہ کو زمینوں کی فروخت سے روک دیا

بلڈنگ کنٹروک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی سیل اور ایڈورٹائیزمینٹ این او سی کینسل کر دی،

ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک، سیل اینڈ ایڈورٹائیزمینٹ نے بحریہ ٹاؤن پروجیکٹ کی این او سی منسوخی کا لیٹر جاری کر دیا،

بحریہ ٹاؤن کی سیل اینڈ ایڈورٹائیزمینٹ این او سی منسوخی کی اسکروٹنی کی مد میں واجبات ادا نہ کرنے پر کی گئی

بحریہ ٹاون کی جانب سے دیا گیا چیک بھی باونس ہوگیا۔

اس ضمن میں میسرز بحریہ ٹاؤن کو متعدد شو کاز نوٹیسسز بھی جاری کئے گئے ہیں، ایس بی سی اے

بحریہ ٹاؤن نے جاری کئے گئے شو کاز نوٹیسسز کا کوئی جواب نہیں دیا، ایس بی سی اے

شو کاز نوٹیسسز کے جواب نہ آنے اور اسکروٹنی فیس کی مد میں واجبات ادا نہ کرنے کی بناء پر میسرز بحریہ ٹاؤن کی این او سی منسوخ کی گئی ہے، ایس بی سی اے

چیک باؤنس ہونے پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور بیٹے علی ریاض پر ایف آئی آر درج کروادی ، ایس بی سی اے

چیک باؤنس کی ایف آئی آر ایس بی سی اے کی مدعیت میں تھانہ گلشن اقبال میں کروائی گئی ہے

07/09/2023

_*_ #کراچی چل کیسے رہا ہے۔۔_*
کراچی کے ایک شہری اپنے کام سے رات گئے واپس آرہے تھے ،
ان کے پاس ایک کھٹارا سی موٹر سائیکل تھی۔
ایم اے جناح روڈ پر ان کو ایک سپاہی نے رکنے کا اشارہ کیا۔
کچھ دور جا کر ان کی موٹر سائیکل رکی۔
سپاہی بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا اور کہا ۔۔
"آپ کی گاڑی میں ہیڈ لائٹ نہیں"
انہوں نے جواب دیا ،" جی نہیں ہے "
سپاہی نے کہا کیوں نہیں ہے ،
انہوں نے جواب دیا ،بس آپ سے کہا کہ نہیں ہے، جب موقع ہوا لگوا لیں گے۔۔
سپاہی نے کہا لائٹ بھی نہیں ہے اور میں نے بہت دور سے اشارا کیا آپ آگے جا کے رکے ۔۔؟
ان صاحب نے سادگی سے جواب دیا ۔
" بریک نہیں ہے"
سپاہی نے ان سے کہا ،
لائٹ بھی نہیں۔ بریک بھی نہیں،
چالان ہو گا ، کاغزات نکالیں۔۔
صاحب نے جواب دیا ۔
کاغذات گھر پر ہیں۔۔۔۔
سپاہی نے غصہ سے کہا ،
کاغذات نہیں ہے ڈرائیونگ لائسنس نکالیں ۔۔
انہوں نے جواب دیا ،
"بنوایا ہی نہیں"
سپاہی شدید غصے میں آگیا ،
منہ سے کف اڑاتا بولا،
کاغذات بھی نہیں، لائسنس بھی نہیں ، بریک بھی نہیں، لائٹ بھی نہیں۔
گاڑی بند ہوگی ، سائیڈ پر کھڑی کرو ، موبائل میں صاحب سے بات کرو ۔۔
وہ صاحب گاڑی سائڈ میں لے گئے اور اسکوٹر کو روڈ پر لٹا دیا،،
سپاہی کہنے لگا کہ یہ کیا کر رہے ہو ، " اسٹینڈ پر لگاؤ "
صاحب نے بتایا " سائڈ اسٹینڈ نہیں ہے"
سپاہی نے کہا مین اسٹینڈ پر گاڑی کھڑی کر دو ،
صاحب نے کہا٫
" بہت پہلے ٹوٹ گیا تھا"
سپاہی نے کہا بھائی اسکوٹر روز کیسے کھڑی کرتے ہو۔
صاحب نے بتایا کہ
٫" بہت ساری موٹر سائیکلوں کے درمیان پھنسا دیتا ہوں یا کسی دیوار یا گاڑی کے سہارے کھڑا کر دیتا ہوں۔"
کبھی کبھی گاڑی والا اپنی گاڑی نکال لے جاتا ہے تو یہ مجھے روڈ پر سوتی ملتی ہے۔
سپاہی کا غصہ کافور ہو گیا ،
اس نے ہنستے ہوئے پوچھا بھائی اس پر روز کام پر جاتے اور آتے ہو یہ چلتی بھی ہے؟
صاحب نے جواب دیا بڑی غریب پرور ہے ، اس حالت میں بھی ہمیں منزل تک پہنچا دیتی ہے۔
سپاہی نے ان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ بھائی آپ جاؤ
خدا حافظ۔۔
ہمارا شہر کراچی بھی اسی موٹر سائیکل کی طرح ہر سہولت سے محروم ہے ،
تمام مافیائیں اس شہر میں لوٹ مار کرتی ہیں،
پانی ، بجلی ، گیس ، سیوریج کا نظام تباہ و برباد ہے۔
دوسرے ملکوں کے شہری حیران ہیں کہ یہ شہر کیسے چل رہا ہے۔۔؟

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

MI/281 Hussainabad Karachi
Karachi