Freedom Of Expression

Freedom Of Expression

Share

media production

24/10/2022

ماں کا صحت مند ہونا بھی اُتنا ہی ضروری ہے جتنا نئے بچے کا اِس دنیا میں آنا، لیکن بچوں کی پیدائش میں اگر مناسب وقفہ نہ ہو تو زچہ و بچہ دونوں کی آئندہ زندگی خطرے سے خالی نہیں ہوتی

ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے بچوں کی پیدائش میں وقفے نہ کرنے سے ہونے والی نقصانات کی لاعلمی کی وجہ سے لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے ایک بچے کی پیدائش کے فورا بعد ہی دوسری حمل بنا لیتے ہیں جو کہ خواتین کی زندگیوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ میں سے تقریباً 178 خواتین دوران حمل ہونے والی پیچیدگیوں یا زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں جبکہ پیدائش سے لے کر ایک برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ایک ہزار میں سے تقریباً 42 بچے دم توڑ جاتے ہیں۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر بنوں میڈیکل کالج و ہیڈ آف دی دیپارٹمنٹ گائنی اینڈ آبس ایم ٹی آئی بنوں ڈاکٹر ذاکیہ خان نے ہمیں بتایا کہ بچوں کی پیدائش میں وقفے سے متعلق ہونے والی ریسرچ کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک حمل سے دوسرے حمل کے دوران کم از کم 2 سال جبکہ سی سیکشن ہونے کی صورت میں 3 برس کا وقفہ ضروری ہے

ماں اور بچے کی صحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟
ڈاکٹر ذکیہ خان کہتی ہیں کہ بچوں میں مناسب وقفہ نہ ہونے سے خواتین اور بچوں کی صحت پر انتہائی بُرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور حمل کے دوران پیچیدگیاں بڑھنے سے ماں کے مرنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ماں کو اینیمیا کا مرض ہو جاتا ہے جس سے خون کی کمی ہو جاتی ہے، فولک ایسڈ کی کمی ہو جاتی ہے۔ فولک ایسڈ ایک ایسا وٹامن ہے جو بچے کے دماغ اور کمر کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر ماں میں فولک ایسڈ کم ہو تو بچے کے دماغ اور کمر میں پانی جمع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ چند حالیہ مطالعوں میں یہ تک کہا گیا ہے کہ اگر وقفہ کم ہو تو بچوں میں آٹزم کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وقفہ کم ہو تو پیدا ہونے والے بچے کا وزن کم ہوتا ہے اور ڈیلیوری وقت سے پہلے ہو سکتی ہے۔ بچے کی پانی کی تھیلی وقت سے پہلے پھٹ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ماں کو بلڈپریشر کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔‘

معاشرے میں آگاہی کے لیے کیا کرنا ہو گا؟

لوگوں کو اس بارے میں آگاہی دینے کے لیے ڈاکٹرز اور ماہر امراض کو چاہیے کہ وہ حمل کے دوران ہی اپنے مریضوں کو اس بارے میں تعلیم دینا شروع کر دیں بچوں میں وقفے سے متعلق صرف خواتین کو ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی تعلیم دینے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کو بھی اس بارے میں شعور دیا جائے۔

یہاں اکثر خواتین کہتی ہیں ہم پر خاندان کا دباؤ ہے۔ کہیں نند کا یا کسی اور کا بچہ ہو رہا ہوتا ہے تو ساس، سسر کہتے ہیں کہ آپ کا کیوں نہیں ہو رہا، پھر لڑکی ہو جائے تو کوشش ہوتی ہے کہ لڑکا ہو جائے، تو اس کوشش میں بھی بچوں میں وقفہ کم ہو جاتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ماں کمزور سے کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور بچے نظر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔‘

خواتین کی صحت پر نامناسب وقفے کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگیوں کے اثرات ایک لمبے عرصے تک یا زندگی بھر بھی رہ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ذکیہ خان کہتی ہیں کہ ’نارمل ڈیلیوری کی صورت میں پیلوس کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور ہر ڈیلیوری کے بعد اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کا بعد میں کوئی علاج بھی نہیں ہوتا۔ بچہ دانی اور مثانہ اپنی جگہ سے ہٹ کر نیچے آ سکتے ہیں، خواتین کو پیشاب کی جلد حاجت کا مسئلہ ہو سکتا ہے جبکہ قبض کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’زیادہ سی سیکشن ہونے کی صورت میں خواتین کا کافی خون بہہ جاتا ہے، جس سے مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے زچہ کی موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔‘

24/10/2022

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

سینیئر صحافی اور اینکر ارشد شریف کینیا میں حادثے میں جاں بحق

Want your business to be the top-listed Media Company in Karak?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Karak
Karak
1221