Majeeb Blogs
My suggestions....
*جاوید چوہدری کا کالم*(ضرور پڑھیں)
*جیک رسل*
*”دنیا پاکستان کو خطرناک سمجھتی ہے‘ آپ جب تک یہ حقیقت نہیں مانیں گے آپ پھنستے چلے جائیں گے*
“ فضا میں سگار کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی‘ وہ ناک اور منہ دونوں سے دھواں اگل رہے تھے‘ مجھے تمباکو کی بو سے الرجی ہے‘ میرا سانس گھٹنا شروع ہو جاتا ہے لیکن میں ان کی گفتگو کی وجہ سے تمباکو اور تمباکو کی بو دونوں برداشت کر رہا تھا‘
*وہ فنانشل ایکسپرٹ تھے‘ والد انڈین تھا اور والدہ امریکن‘ ورجینیا میں پیدا ہوئے، ٹیرر فنانسنگ میں پی ایچ ڈی کی اور عالمی مالیاتی اداروں کے ایڈوائزر بن گئے۔*
مذہبا ً مسلمان تھے‘ میری ان سے ایک دوست کے ذریعے ملاقات ہوئی‘ وہ ملٹی نیشنل کمپنی کی دعوت پر پاکستان آئے تھے‘ میرے دوست نے انہیں اور مجھے کھانے پر بلا لیا‘ ہم ریستوران میں ملے‘ ڈنر کیا اور وہ ٹیرس پر بیٹھ کر سگار پینے لگے اور میں ان کے تجربے سے لطف اندوز ہونے لگا‘ ان کا کہنا تھا
”دنیا پاکستان کو خطرناک سمجھتی ہے‘
*آپ لانگ رینج میزائل بھی بنا ر ہے ہیں*
*"آپ ایٹمی طاقت بھی ہیں*
*مگر آپ معاشی لحاظ سے کمزور ہیں چنانچہ آپ دنیا کےلئے کسی بھی وقت مسئلہ بن سکتے ہیں"*
وہ رکے‘ سگار کا لمبا کش لیا اور بولے *”آپ لوگوں کو دنیا کی اس آبزرویشن کو سیریس لینا ہو گا ورنہ آپ اپنا نقصان کر لیں گے“*
میں خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا‘ وہ بولے
*”معیشت دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے، آپ اگر معاشی طور پر طاقتور ہیں تو آپ ایٹم بم بھی رکھ سکتے ہیں اور میزائل بھی بنا سکتے ہیں* یہ دونوں چین اور روس کے پاس بھی ہیں لیکن دنیا کو ان سے کوئی خطرہ نہیں! کیوں؟ کیونکہ دنیا سمجھتی ہے یہ دونوں ملک معاشی لحاظ سے مستحکم ہیں۔ یہ کبھی اس دنیا کےلئے خطرہ نہیں بنیں گے جو انہیں کما کر دے رہی ہے لیکن پاکستان کمزور ملک ہے‘ یہ زیادہ دیر تک ایٹمی اثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکتا‘ یہ رقم کےلئے اپنے اثاثے فروخت بھی کر سکتا ہے اور نفسیاتی دباؤ میں آ کر ان کو استعمال بھی۔ چنانچہ آپ دنیا کےلئے ناقابل برداشت ہیں۔
*میں آپ کو یہ ایشو ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں‘ فرض کر لیجئے آپ ایک غریب انسان ہیں اورآپ کے پاس ایک نہایت ہی مہلک اور قیمتی رائفل ہے، آپ اس رائفل سے کیا کیا کر سکتے ہیں؟ آپ پیسے کمانے کےلئے یہ رائفل فروخت بھی کر سکتے ہیں اور آپ دوسرے کی کنپٹی پر رکھ کر اسے لوٹ بھی سکتے ہیں، دنیا کا خیال ہے آپ ایک ایسے ہی بھوکے اور غریب رائفل بردار ہیں اور آپ کسی بھی وقت دونوں میں سے کوئی ایک آپشن اڈاپٹ کر سکتے ہیں*
وہ رکے! سگار کا ایک اور کش لیا اور بولے ”آپ کے خلاف یہ تاثر انڈیا نے پھیلایا ہے‘ *بھارتی حکومت نے 1990ء کی دہائی میں بے شمار طالب علموں کو وظائف دے کر امریکا‘ کینیڈا‘ یورپ اور مشرق بعید کے ملکوں میں بھجوایا‘ اعلیٰ اداروں سے ڈگریاں کرائیں اور پھر انہیں عالمی اداروں میں بھرتی کرا دیا‘ یہ لوگ امریکی کانگریس میں اور سینیٹرز کے سٹاف میں بھی شامل ہیں اور یہ میڈیا انڈسٹری اور تھنک ٹینکس میں بھی بیٹھے ہیں‘ یہ لوگ وہاں بیٹھ کر روزآپ کے خلاف خوف پھیلاتے ہیں اور دنیا اس خوف کو سچ مان لیتی ہے۔*
آپ کا ماضی بھی اس سچ کی دلیل بن جاتا ہے‘ دنیا جانتی ہے آپ لوگوں نے تنہا سوویت یونین جیسی طاقت کو توڑ کر پھینک دیا تھا‘ آپ نے اکیلے بھارت جیسی طاقت کو اٹھنے نہیں دیا اور آپ تمام معاشی کمزوریوں کے باوجود جو چاہتے ہیں آپ کر گزرتے ہیں‘ آپ نے جے ایف تھنڈر تک بنا لئے ہیں چنانچہ عالمی پالیسی ساز سمجھتے ہیں آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں“ وہ رکے، ایک اور کش لیا اور بولے ”پاکستان کے بارے میں میری سٹڈی ہے عالمی طاقتیں آپ کو جنگ کا موقع نہیں دیں گی۔
یہ سمجھتی ہیں آپ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے ‘ آپ جنگ کا آغاز ہی آخری ہتھیار سے کریں گے اور یہ پوری دنیا کےلئے خطرناک ہو گا چنانچہ یہ آپ کو اس لیول پر نہیں جانے دے گی، آپ چند ماہ پیچھے چلے جائیں، بھارت نے بالاکوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کی، پاکستان نے شور کیا لیکن دنیا کا کوئی ملک پاکستان کی مدد کےلئے سامنے نہ آیا، کیوں؟ کیونکہ دنیا اندازہ کرنا چاہتی تھی آپ کس لیول تک ری ایکٹ کر سکتے ہیں، آپ نے اگلے ہی دن بھارت کے دو طیارے مار گرائے‘ بھارت نے 27فروری کی درمیانی رات سرحد پر 9 میزائل نصب کر دیئے، آپ نے 14 کر دیئے۔
27 فروری کی رات کولڈ وار کے بعد دنیا کی خطرناک ترین رات تھی، ایک چھوٹی سی شرارت پوری دنیا کو تباہ کر سکتی تھی چنانچہ دنیا فوراً متحرک ہوئی اور بڑی مشکل سے آگ ٹھنڈی کی، یہ ایک ٹیسٹ تھا، اس ٹیسٹ سے پتہ چلا آپ لوگ ہر وقت حتمی جنگ کےلئے تیار رہتے ہیں لہٰذا یہ آپ کو آئندہ کبھی اس سطح تک نہیں جانے دیں گے، یہ اب آپ کو میزائل باہر نکالنے کا موقع نہیں دیں گے، یہ سرحدوں پر بھی آپ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے۔
* عالمی طاقتیں آپ کو معاشی لحاظ سے تباہ کریں گی* میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”آپ میری بات نوٹ کر لیں* آئی ایم ایف نے جان بوجھ کر آپ کا پیکج لیٹ کیا* یہ اب بھی آپ کو بار بار ترسائے گا‘ یہ ڈالر مزید مہنگا کرائے گا‘ یہ مہنگائی کو بارہ فیصد تک لے جائے گا‘ یہ پٹرول‘ گیس اور بجلی بھی مزید مہنگی کرائے گا ‘ یہ ترقیاتی بجٹ بھی کم کرادے گا ‘یہ بے روزگاری بھی بڑھائے گا‘ یہ ریاست کے ذریعے کالعدم تنظیموں پر بھی اتنا دباؤ بڑھائے گا کہ یہ حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں گی‘ یہ پاکستان کی ایکسپورٹ بھی نہیں بڑھنے دے گا۔
یہ سٹاک ایکسچینج بھی نہیں اٹھنے دے گا اور یہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ کرا دے گا تاکہ عوام اس معاشی بوجھ تلے آ کر کریش ہو جائیں اور یہ حکومت اور ریاست دونوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘
وہ بولے ” اور یہ پاکستان کے خلاف ایک گرینڈ ڈیزائن ہے‘ آپ نے کتوں کی جیک رسل نسل کے بارے میں سنا ہوگا‘ یہ چھوٹے سائز کا خوفناک کتا ہوتا ہے‘ یہ ریچھ کا پیچھا کرتا ہوا اس کے غار میں گھس جاتا ہے‘ یہ سائز میں اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ریچھ اس کو پکڑ نہیں سکتا۔
یہ ریچھ کے پیچھے چھپ کر اس کو اتنا زخمی کر دیتا ہے کہ وہ اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہو سکتا‘ جیک رسل مکمل تسلی کے بعد غار سے نکلتا ہے‘ مالک کو اطلاع کرتا ہے اور شکاری غار کے دہانے پر پہنچ کر ریچھ کو گولی مار دیتا ہے
*‘ عالمی مالیاتی ادارے بھی جیک رسل ہوتے ہیں‘* یہ اپنے چھوٹے چھوٹے دانتوں اور جبڑوں سے دیو ہیکل ریچھوں کو زخمی کر دیتے ہیں‘ ریچھ جب اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتے تو پھر بڑا شکاری آتا ہے اور ریچھ کو گولی مار دیتا ہے۔
آپ نوٹ کر لو آپ کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے
*‘ پاکستان پر جیک رسل چھوڑ دیئے گئے ہیں‘* یہ آپ کو زخمی کر رہے ہیں‘ یہ آپ کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیں گے کہ آپ میزائل چلانا تو دور آپ انہیں باہر نکالنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے‘ آپ کے پاس سرکاری ملازموں کی تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں رہیں گے اور آپ ٹیکس کولیکشن فوج کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور یہ جس دن ہو گیا آپ اس دن اپنے دن گننا شروع کر دینا کیونکہ ٹیکس کولیکشن فوج کی بدنامی کا باعث بن جائے گی۔
لوگوں کے دلوں میں محبت کم ہونا شروع ہو جائے گی اور عالمی ادارے یہی چاہتے ہیں‘ یہ آپ کو معاشی طور پر بھی زخمی کرنا چاہتے ہیں اور یہ عوام کے دل سے ملک اور اداروں خاصکرفوج کی محبت بھی کھرچنا چاہتے ہیں اور آپ جس دن اس لیول پر آ گے یہ آپ کو اس دن بھارت کے قدموں میں بٹھا دیں گے‘ یہ آپ کو بھوٹان اور مالدیپ بنا دیں گے‘ آپ امداد لیتے جائیں گے اور ملک چلاتے جائیں گے اور بس!
وہ خاموش ہو گئے‘ میں انہیں خوف سے دیکھنے لگا، وہ بولے! پاکستان کا مستقبل کیا ہے‘ یہ فیصلہ چھ ماہ میں ہو جائے گا۔
آپ کی اکانومی اگر ٹیک آف نہیں کرتی‘ اگر مارکیٹ میں استحکام نہیں آتا تو پھر آپ کو کوئی معجزہ ہی بچا سکے گا‘ آپ گرداب میں پھنس جائیں گے“ وہ سیدھے ہوئے‘ سگار بجھایا‘ ایش ٹرے میں مسلا اور اٹھ کھڑے ہوئے‘ وہ رخصت ہونا چاہتے تھے‘ ہم ریسپشن کی طرف بڑھنے لگے‘ میں نے چلتے چلتے پوچھا” بچت کا راستہ کیا ہے“ وہ مسکرا کر بولے!
*”پاکستان کی بچت کے تین راستے ہیں*
*معیشت‘ معیشت اور معیشت“*
صرف اور صرف معیشت پر دھیان دیں‘ ملک کو چلنے دیں‘ آپ سب بچ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ کا پورا ملک انا اور حماقت کی نذر ہو جائے گا‘
آپ مقدمے چلانے کےلئے بھی قرض لینے پر مجبور ہو جائیں گے‘ آپ آئی ایم ایف سے رقم لے کر ججوں اور وکیلوں کو تنخواہ دیں گے اور جیلوں میں بند ملزموں کے کھانے کا بندوبست کریں گے“۔ انہوں نے بات مکمل کی‘ گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور رخصت ہو گئے
*لیکن میں کھڑا ہو کر سوچتا رہا‘ کیا یہ شخص واقعی سچ کہہ رہا ہے؟ مجھے جواب نہیں ملا، شاید آپ کو مل جائے۔*
کاپی پیسٹ
اسلام و علیکم
اگر کوی دوست جلال پور ٹانڈہ موٹا یا بڑیلا شریف دربار کے ایریا سے تعلق رکھتا ہو تو رابطہ کرے ۔مہربانی ہو گی۔
اس علاقہ کے بارے کچھ انفارمیشن لینا ہے۔
ٹھنڈی رات کی تنہای ہو اور اللہ کے حضور جھکنے کی سعادت مل جاےنصیب کی بات ہے۔
منصوبہ بندی
اسلام و علیکم
ملکی حالات کو مدنظر رکھ کرہر محب وطن پاکستانی پریشان ہے اور کچھ حیران ہیں۔نہ تو پریشانی سے کچھ ہونے والا ہے اور نہ حیرانی سے۔ہنوز دہلی دور است تو سب نے سنا ہے۔پچھلے کچھ عرصہ سے سے ماہرین معشیات اور اندر کی خبر رکھنے والے ڈھول توبجا رہے تھے مگر بادشاہ سلامت ہنوز دہلی دور است کہتے رہے۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کو حالات کادرست ادراک ہوتا ہے۔ اگر اپ نے محلے میں دشمنی پال رکھی ہو تو بےفکر ہو کر سو نہی سکتے۔یہ تو ایسا ہی ہونا تھا جو ہو رہا ہے کیوں کہ پلین ہی ایسا کیا گیا تھا۔اس طرح کے پلین کو ملک کے کچھ ادارے روکتے ہیں اپنی زہانت اور حاصل کی گی تربیت کی روشنی میں مگر ہم نے ان کو جانے انجانے میں ایسے کاموں میں الجھا دیا کہ ان کے لیے اپنی عزت بچانا مشکل ہو گیا۔ہم نے دشمنی تو پال لی محلے میں اس کے بعد بےفکرہو کر سو گیے۔اور دشمن جاگتا رہا۔جاگنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں۔یہ سب کچھ اچانک نہی ہوا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے بڑی محنت کی جا رہی تھی مگر کچھ محب وطن سر ڈھڑ کی بازی لگاے ہوے تھے اور دشمن کی ہر چال کو ناکام بناتے رہتے تھے قوم ان لوگوں کے ہیچھے تھی۔ پھر ہوا یوں کہ دشمن نے اپنا منصوبہ تبدیل کر لیا اور ایک بار پھر برسوں پہلے ازماے ہوے طریقہ کو اپنا لیا۔ دشمن کو مارنے کے لیے جانے کی بجاے دشمن کے اندر سے ہی کچھ لوگوں کو بلیک میل کر کے اور کچھ کو لالچ دے کر اگے لگا دیا اور خود پردے میں رہ کر سہولت کاری کرتے رہے۔قوم کو ان سے بدزن کیا گیا سمجھانے والے دماغ سر کھپاتے رہے مگر قانون کی أڑ میں وہ لاقانونیت کھیلی گی کہ اج دشمن کی الجھای ہوی گتھی کو جتنا سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی وہ مزید الجھتی جا رہی ہے۔
صاحب ہر مشکل کا حل موجود ہے۔ اگر کوی کرنا چاہے تو۔
پاکستانی معیشت بھی ۔
مگر ہم نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ گتھی کو سلجھانا نہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس ملک کو تباہ کرنے کا سب نے ٹھیکہ لے رکھا ہے۔جھوٹ در جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔لوگوں کی ٹانگیں قبروں میں لٹکی ہیں ہوس ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے۔جھوٹ بےایمانی اورنفرت اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے۔ ایسےمیں اچھے کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے۔
اگر اس ملک کو بچانا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ غلطی کیا ہے اور کہاں پر ہے۔ہر وہ بندہ جس نے غلطی کی ہے وہ اس کو مان لے تبھی تو اس کو ٹھیک کیا جاے گا۔ اور یہ اس ملک پر ان کا بڑا احسان ہو گا۔ تاریخ رقم ہو جاے گی ورنہ تاریخ تو رقم ہو ہی رہی یے اپ کے سیاہ کارناموں کی۔ اللہ کا واسطہ ہے بس کرو اب بس ہی کر دو ۔ظالمو اب اور کیا کرنا چاہتے ہو۔
ایک دفعہ اس ملک کو پیروں پر کھڑا ہو لینے دو پھر دوبارہ أ کر لوٹ لینا۔
کیا ہمارے حالات افغانستان سے برے ہیں۔ کیا ہم 1948 والے چاینہ سے بھی برے حالات میں ہیں۔کیا ہم اس بنگلہ دیش سے بھی برے حالات میں ہیں جس کو بوجھ سمجھتے رہے نہی ہم ابھی بھی بہت اچھے حالات میں ہیں۔ہم اس دلدل سے نکل سکتے ہں اور نکلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اور ہمارے پاس ابھی راستے بھی کھلے ہیں۔ بس یہ سمجھنا سمجھانا ہے کہ ہم حضور پاک کی امت ہیں أج سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے سارے زاتی مفادات اور اختلافات کو چھوڑ کر صرف وہی کریں گے جو ملکی مفاد میں ہو گا۔ہم زندہ قوم بن کر دکھاٸیں گے۔ پھر دیکھنا اللہ بھی کیسے اس قوم کی مدد کرتا ہے۔
أج افغانستان اوربنگلہ دیش اوربھارت کی کرنسی دیکھ کر دل بہت کڑھتا ہے۔ خون کے انسو نکلتے ہیں۔ملک کی اشرافیہ کا ایک ایک فرد ملکی دولت سے کٸی گنا دولت مند ہے۔یہ سب دولت بھی پاکستان کی ہی ہے پاکستان کے کام أ سکتی ہے چاہے ملکیت زاتی رہے۔ملک کے اندر بہت پڑھے لکھے اور سمجھدار دماغ موجود ہیں۔ ان سب کو اکھٹا کیا جاے اور ایک مشن لے کر ایک نٸے سرے سے کام شروع کیا جاے۔ایک دفعہ ہر غیر منافع بخش پراجیکٹ روک دہا جاے۔ فوری طور پر زرعی ماہرین پر مشتمل ایک گروپ بنا کر زرعی اصلاحات کی جایٸں جو اگلے تین مہینے میں اپ کو رزلٹ دے سکتی ہیں۔ غیر ضروری أخراجات پر سختی سے روک لگا دی جاے۔ تمام دفاتر اور سٹاف کی سہولیات کو پوری ایمانداری سے ضرورت تک محدود کر دیا جاے۔مارکیٹ اور دفاتر کے اوقات نٸے سرے سے طے کیے جایٸں۔سرکاری ٹرانسپورٹ کی سہولت فوری روک دی جاے۔حکومتی سطح پر کام کرنے والوں کی تمام مراعات کچھ عرصہ کے لیے بند کر دی جایٸں۔ بجلی صرف ضرورت پوری کرنے کے لیے استعمال کی جاے۔باہر سے صرف جان بچانے والی دوای اور خوراک کے علاوہ ہر شے پر روک لگا دی جاے۔ خود انحصاری پولیسی کو ملکی پولیسی کا درجہ دیا جاے۔قوم سب قسم کےفاسٹ فوڈ چھوڑ کر بیکری چھوڑ کر صرف سادہ غزا پر أ جاے۔جہاں جہاں سرکاری زمین قابل استعمال ہو وہاں پر درخت لگاے جایٸں۔ہر شہری پر فرض ہو کہ اس نے ١٠ درخت پروان چڑھانے ہیں
پھر دیکھو ملک اس بحران سے نکل بھی اے گا اور صحتمند بھی ہو گا۔
مگر یہ سب تو زندہ قومیں کرتی ہیں ہم تو ایک مردہ قوم ہیں۔ دن بدن اپنے ہاتھوں سے اپنی قبریں خود ہی کھودے جا رہے ہیں۔
میرے ملک کے رہنے والوں اٹھو۔ ااپنے ماضی کو دیکھو اور کمر کس لو حکومت کی طرف مت دیکھو۔ خود سے کچھ کرو۔ تم وہ قوم ہو جس کے اجداد خالد بن ولید جیسے لوگ تھے۔ تمہارا لیڈر عمر تھا۔ تم ایوبی کی نشانی ہو۔ اور سب سے بڑھ کر تم أخری نبی پاک کی امت ہو۔
خدا را جاگ جاو۔ اب تو جاگ ہی جاو۔ کب جاگو گے۔ کس انتظار میں ہو۔ کوی معجزہ نہی ہونے والا۔ تم کو خود ہی سب کچھ کرنا ہے۔کل نہی اج ہی۔ابھی ہی اٹھ جاو۔ اب تو بس اٹھ ہی جاو۔
بہترین منصوبہ بندی سے اپنے ملک کو بچا لو۔
خدا نے اج تک اس قوم کی حات نہی بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا
اس أرٹیکل کے مندرجات اور خیالات میرے زاتی علم اور خیالات پر مبن ہیں۔ جس میں اصلاح کی گنجاٸش ہے۔
مجیب الرحمان کاہلوں
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینجرز(ر)
انداز گفتگو
اسلام و علیکم۔
اپنے اپنے لیڈر سے جزباتی یا مفاداتی وابستگی قدرتی امر ہے۔مگر اپ کا انداز گفتگو رویہ اور معاشرے میں کردار اپ کی گھریلو تربیت کو ظاہر کرتا ہے۔اپ کم تعلیم یافتہ صحیح کم عقل ہرگز نہی ہیں۔اپ کا ادراک کم ہو سکتا ہے مگر اپ اندھے بہرے اور کوڑھ مغز بلکل بھی نہی۔
اپ کسی سے متاثر ہو سکتے ہیں مگر فیصلہ کرتے وقت دماغ اپ کے اپنے سر میں ہی ہوتا ہے۔ اپ کے سوشل میڈیا پر لکھے اور کہےنا مناسب الفاظ جہاں لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں وہیں اپ کی گھریلو تربیت کا بھی پول کھولتے ہیں۔سیاست دان تو اپ کا نام تک نہی جانتے اور اپ ان سے وابستگی میں اپنے کتنے عزیز رشتے گنوا دیتے ہیں۔اپ کے مرنے کے بعد یہی عام لوگ اپ کے جنازے میں ہوں گے یہ ساست داں نہی ۔
سوشل میڈیا پر ہر عمر اور صنف کے لوگ ہوتے ہیں اپ کی وجہ سے ان کے کردار سازی غلط سمت چل پڑتی ہے۔ اور اس میں اپ کی اپنی اولاد فیملی اور رشتے دار بھی ہوتے ہیں۔
میرے اج کے لکھے کچھ الفظ سخت ضرور ہیں مگر معاشرے کی تصحیح کے لیے ضروری بھی۔اٸیے اج سے عہد کریں کہ ہم اپنی گھریلو تربیت میں رہ جانے والی کمزوریاں دوسروں پر عیاں کر کے اپنے والدین کے لیے باعث ندامت نہی بنیں گیں۔
یاد رکھیں اپ کے لکھے اور کہے ہوے الفاظ جب تک زندہ رہیں گے اپ کے لیے ثواب گناہ کا باعث بنتے رہیں گےمفت میں۔
اس لیے کسی کو گالی دینے برا بھلا کہنے کسی کے خلاف الزام لگانے کسی کو بدنام کرنے کسی کو ناجاٸیز سپورٹ کرنے کسی کی کردار کشی کرنے کسی کے خلاف جھوٹا یا سچا پرپیگنڈہ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں اپ نے اپنے ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہے۔ اور حساب لینے والا بہت سخت ہے جس کے پاس ہر طرع کے ثبوت فلم کی صورت محفوظ ہیں۔
مجیب الرحمان کاہلوں
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینجرز(ر)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
55050