Information Gate

Information Gate

Share

Authentic and Conform Everyday News Page.

03/09/2023

ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداﷲ بن زید رحمۃ ﷲ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:*''جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو ﷲ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا''۔*
جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا ﷲ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟
پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے کہ:''میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں''۔پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداﷲ بن زید بصریٰ گئے وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتائے بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آئے ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چرہاتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئی ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا۔
حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئی ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئی ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقع ہی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔
پہلا یہ کہ میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جائے نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔
دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتیں کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔
آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئی لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئی آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشان کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:*''اے عبدﷲ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے''۔*
آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا
تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبدﷲ جس ﷲ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی ﷲ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے
آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا یہ کیسے معاملہ ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے بھی میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

28/06/2023

ایک معاشرتی المیہ
قربانی کے جانور خریدے کے بعد ٹینٹ لگا کر گلیوں کو بند کر دیا جا رھا ھے۔گلیوں میں کرسیاں اور چارپیاں ڈال کر جتھے کے جتھے وھاں بیٹھے ھوئے ھیں۔ اور راہگیروں کے گزرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔ یہ قربانی کر کے کس پر احسان کر رھے ھو۔کیا یہ درس ھے قربانی کے فلسفے کا؟ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم خدا کے حقوق پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انسانوں کے حقوق سے مکمل لا تعلق ہو جاتے ہیں۔حکم تو یہ ھے کہ راستے یا گزرگاہ سے ایک پتھر کا ٹکرا پرے کرنے کا بھی ثواب ھے۔
روز قیامت منہ پر ماری جائیں گی ایسی دکھلاوے کی اور مِخلوق خدا کو تنگ کر کے کی گئی نیکیاں۔

06/08/2022

ابن سینانے ایک تجربہ کیا۔اور دو میمنوں کو پنجرے میں رکھا۔
میمنے ایک ہی عمر ، وزن ، ایک ہی نسل کے تھے اور دونوں کوایک ہی قسم کا چارہ کھلایا گیا۔تمام حالات برابر رکھے۔

ابن سینانے میمنوں کے پنجروں کی ایک طرف ایک اور پنجرارکھا اور اس پنجرے میں ایک بھیڑیا رکھا اور میمنوں میں سے صرف ایک میمنااُس بھیڑیے کو دیکھ سکتا تھا۔

کئی مہینوں بعد ، میمنا جو بھیڑیا کو دیکھتا ہے مر جاتا ہے کیونکہ وہ بے چین ، خوفزدہ اور کمزور ہوتا ہے۔ اگرچہ بھیڑئے نے میمنے کو کچھ نہیں کیا ، لیکن میمنہ اس خوف اور دباؤ کی وجہ سے مر گیا جو اس نے محسوس کیا۔

جبکہ دوسرا میمنا ، جو بھیڑیا و نہیں دیکھ سکتا تھا ، اچھی طرح سے کھاتا تھا اور اُسکا وزن بھی بڑھا گیا کیونکہ وہ کافی پرامن رہا۔

اس تجربے میں ابن سینا نے صحت اور جسم پر ذہنی اثرات کے مثبت اور منفی اثرات کا مشاہدہ کیا۔ غیر ضروری خوف ، فکر ، اضطراب اور تناؤ انسانی جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اگر آپ کو زندگی کی مشکلات کاسامنا کرکے آگے بڑھنا ہے تو اپنی راہ میں آنے والے ہر خوف کو نظر انداز کر نا سیکھیں پھر ہی آپ کامیابی کی سیڑھیوں پہ چڑھ سکیں گیں۔

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Punjab
Lahore
54000