Sufyan Raza
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sufyan Raza, Journalist, Lahore.
10/06/2026
تبصروں میں جھلکتی دوریاں
مظفر آباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ خبر سامنے آئی تو افسوس اور ہمدردی کے اظہار کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر ایسے تبصرے بھی دیکھنے کو ملے جن میں اس سانحے پر خوشی، طنز اور نفرت کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
یہ محض ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ ان فوجی جوانوں کی جانوں کا ضیاع تھا جو اسی ملک کے بیٹے تھے۔ وہ جوان جو دن رات سرحدوں پر کھڑے ہو کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں، سخت موسمی حالات، خطرات اور قربانیوں کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ کسی بھی فوجی کی شہادت یا حادثے میں جان کا ضیاع درحقیقت ایک پاکستانی جان کا ضیاع ہے، جس پر افسوس اور دعا ہونی چاہیے، نہ کہ خوشی اور تمسخر۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بعض تبصرے اس بڑھتے ہوئے سماجی تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں جسے سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر معاشرے کے کچھ طبقات میں ریاستی اداروں کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں تو ان تحفظات کو مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، لیکن انسانی جانوں کے نقصان پر خوشی کا اظہار کسی بھی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک ہی قومی وحدت کے دو اہم ستون ہیں۔ ملک کی سلامتی اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد، احترام اور رابطے کا رشتہ مضبوط ہو۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں پیدا ہونے والی تلخی اور بداعتمادی نے ایک ایسی فضا جنم دی ہے جس کے اثرات سوشل میڈیا کے تبصروں میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کو محض چند تبصروں کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، مذہبی حلقوں اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے ماحول کی تشکیل کرنی چاہیے جہاں اختلاف موجود ہو مگر نفرت نہ ہو، تنقید ہو مگر دشمنی نہ ہو، اور جہاں ہر پاکستانی جان کی قدر کی جائے۔
کیونکہ آخرکار ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد صرف محفوظ سرحدیں نہیں بلکہ متحد دل بھی ہوتے ہیں۔
✍️سفیان رضا
انجنیئر محمد علی مرزا اور مفتی ثمر عباس عطاری کا تنازعہ
295-سی کس پر؟ حقیقت کیا ہے؟
مکمل پوڈکاسٹ دیکھنے کے لیے یوٹیوب چینل وزٹ کریں https://youtu.be/YShjesqbU1I?si=uGFZ4lhKJGQiWTUj
سابق خطیب مسجد داتا گنج بخشؒ علامہ رمضان سیالوی نے محکمہ اوقاف کے احکامات کو عدالت میں چیلنج کر دیا
سورس: لاہور رنگ
انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر حملے کا ذمہ دار کون؟
اسلامی نظریاتی کونسل نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا!
08/05/2026
آج Government College University Lahore کو الوداع کہتے ہوئے دل عجیب کیفیت میں ہے۔
خوشی بھی ہے کہ چار سال کی محنت رنگ لائی، اور اداسی بھی ہے کہ ایک ایسا باب ختم ہو رہا ہے جس نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی بلکہ جینا سکھایا۔
2022 میں جب جی سی کے تاریخی دروازوں سے اندر داخل ہوا تھا، تو دل میں بے شمار سوال تھے، خواب تھے، اور ایک انجانی سی گھبراہٹ بھی۔ مگر آج 2026 میں جب اسی دروازے سے آخری بار باہر نکل رہا ہوں،
جی سی صرف ایک یونیورسٹی نہیں، ایک روایت ہے، ایک تہذیب ہے، ایک احساس ہے۔
اس کی سرخ اینٹوں والی عمارتیں، خاموش راہداریوں کی گونج، اور وہ بلند و بالا جی سی ٹاور—جو ہر روز ہمیں یہ سبق دیتا تھا کہ خواب ہمیشہ اونچے رکھنے چاہئیں۔
Bukhari Auditorium
صرف ایک ہال نہیں تھا، وہ جگہ تھی جہاں ہم نے پہلی بار اپنی آواز کو پہچانا۔
وہاں ہونے والے سیمینارز، مباحثے، تقریریں، اور وہ لمحے جب ہم نے خود کو اظہار کے قابل پایا—آج بھی دل میں زندہ ہیں۔
Amphitheatre
کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ منصوبے بنانا، امتحانات کے دنوں میں ایک دوسرے کو تسلی دینا،اور ایک کپ چائے کے ساتھ پوری زندگی کے فلسفے سمجھ لینا—یہی اصل یونیورسٹی تھی۔
شہاب گارڈن کی شامیں…
جہاں کبھی خاموشی میں اپنے خوابوں سے ملاقات ہوئی، کبھی خود سے سوال کیے، اور کبھی بس بیٹھ کر وقت کو گزرتے دیکھا۔
وہ جگہ آج بھی میرے اندر کہیں زندہ رہے گی۔
صحافت کے طالبعلم کے طور پر میں نے یہاں صرف رپورٹنگ، نیوز رائٹنگ یا میڈیا تھیوریز نہیں پڑھیں، بلکہ یہ سیکھا کہ قلم صرف الفاظ نہیں لکھتا، معاشرے کی نبض بھی محسوس کرتا ہے۔
یہاں میں نے جانا کہ سوال کرنا بغاوت نہیں، شعور ہے۔
اور سچ لکھنا صرف پیشہ نہیں، ذمہ داری ہے۔
چار سال میں بہت کچھ ملا—
دوست، استاد، رہنما، ناکامیاں، کامیابیاں، تجربات، سبق…
اور سب سے بڑھ کر خود کو سمجھنے کا موقع۔
آج جب گریجویشن مکمل ہوئی ہے، تو احساس ہو رہا ہے کہ کچھ رشتے ڈگری ختم ہونے سے ختم نہیں ہوتے۔
کچھ تعلقات عمارتوں سے نہیں، یادوں سے بنتے ہیں—اور جی سی انہی تعلقات میں سے ایک ہے۔
یہ الوداع نہیں، ایک نئی شروعات ہے۔
اب کلاس روم کی جگہ زندگی کا میدان ہوگا، اور کتابوں کی جگہ تجربات۔
مگر جی سی نے جو اعتماد، شعور، اور حوصلہ دیا ہے، وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔
2022 — 2026
From dreams to destiny.
From classrooms to courage.
From a student to a storyteller.
Thank you, Government College University Lahore ❤️
تم نے صرف ڈگری نہیں دی،
تم نے مجھے میری پہچان دی۔
ایئرپورٹ پر🚨 FIA اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کیوں ہوئی؟
اقرار الحسن سے سخت سوالات! اصل حقیقت کیا ہے؟
👍 Like | 🔁 Share | 💬 Comment اپنی رائے دیں
#اقرارالحسن
Firqa Wariat K Peechay Kon? Reality You Must Know #پاکستان
پاکستان کی سفارتی کامیابی 🚨 ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا | بڑی خبر
پاکستان ریلوے کا سفر: ایک تلخ تجربہ اور اصلاح کی ضرورت
پاکستان میں عوامی ٹرانسپورٹ کا ایک اہم ذریعہ پاکستان ریلوے ہے، جس سے روزانہ ہزاروں مسافر سفر کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، اس ادارے کی کارکردگی اکثر سوالیہ نشان بنی رہتی ہے۔ حال ہی میں مجھے بھی پاکستان ریلوے کے ذریعے سفر کرنے کا موقع ملا، جو ایک انتہائی مایوس کن اور پریشان کن تجربہ ثابت ہوا۔
سب سے پہلے تو ٹرین اپنی مقررہ وقت سے تقریباً تین گھنٹے تاخیر سے اسٹیشن پر پہنچی۔ مسافر گھنٹوں انتظار کرتے رہے، اس کے بعد جب سفر شروع ہوا تو امید تھی کہ شاید منزل تک بروقت پہنچ جائیں گے، مگر صورتحال مزید خراب ہو گئی۔
راستے میں ٹرین بار بار مختلف مقامات پر بغیر کسی مقررہ اسٹاپ کے رکتی رہی۔ یہ غیر ضروری رکاوٹیں نہ صرف سفر کو طویل بناتی رہیں بلکہ مسافروں کے لیے شدید کوفت اور پریشانی کا باعث بھی بنیں۔ جس سفر کو دو گھنٹوں میں مکمل ہونا تھا، وہ بالآخر چھ گھنٹوں میں جا کر ختم ہوا۔
یہ تاخیر صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ مسافروں کے لیے ذہنی اذیت، مالی نقصان اور روزمرہ زندگی کے معمولات میں شدید خلل کا سبب بنتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس بدانتظامی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا یہ ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے یا پھر نظام میں موجود مستقل لاپرواہی؟
پاکستان ریلوے کو چاہیے کہ وہ اپنے نظام میں فوری اور عملی اصلاحات کرے۔ ٹرینوں کی بروقت آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے، غیر ضروری اسٹاپس کا خاتمہ کیا جائے، اور مسافروں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔
یہ وقت ہے کہ متعلقہ حکام اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ عوام کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ انہیں مشکلات میں مبتلا کرنا۔
اگر اصلاح نہ کی گئی تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہو جائے گا،
Muhammad Hanif Abbasi
Click here to claim your Sponsored Listing.