World Updates

World Updates

Share

informative & updates

04/07/2025

شیطان کہاں ہے ؟ لا بوبو Labubu میں ؟

**************************************************
عقیدۂ توحید کی روشنی میں:

اسلام میں توحید (اللہ کی یکتائی) کی بنیاد یہ ہے کہ صرف اللہ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد:

> "الطِّیَرَةُ شِرْكٌ"
(بدشگونی لینا شرک ہے)
[ابو داؤد، ترمذی]
************************************************

ایک ڈچ چائنیز ڈیزائنر کیزنگ لنگ کی تخیلاتی پرواز نے ایک کردار بنایا جس کا نام لا بوبو رکھا۔ یہ دو ہزار چودہ میں پہلی بار متعارف ہوا۔

بچپن میں گڑیوں سے تو اکثر افراد کھیلتے آ ئے ہیں ۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ مائیں کپڑے میں روئی بھر کر گڑیا بنا دیتی تھیں۔ سوئی دھاگے سے آ نکھیں ناک اور ہونٹ کاڑھ دیتی تھیں۔ سیاہ اون سے بال بنا دئے اور کترنوں سے گڑیا کے کپڑے سی دئے۔
سچ پوچھیں تو کئی بار وہ گڑیا بھی اچھی خاصی بد شکل ہی ہوتی تھی۔ لیکن بچے اس گڑیا کو پا کر خوش باش گھومتے ۔ بچے ان گڑیوں کی شادیاں بھی کرتے تھے۔

پھر اگلی جنریشن میں باربی جیسی خوبصورت اور طرح دار گڑیاں آ گئیں۔

اور اب لابوبو آ گئی جو روایتی طور پر خوبصورت نہیں ہے۔

اب چونکہ خوبصورت نہیں ہے تو کسی کو اس میں شیطان نظر آ رہا ہے کسی کو اس میں نیگیٹو انرجی نظر آ رہی ہے کسی کو یہ شیطانی قوتوں کی نمائندہ لگ رہی ہے۔

یعنی جب تک خوبصورت گڑیائیں یا کردار بچوں کے کھیل کا حصہ تھے تب تک اعتراض نہیں تھا اب اس کی شکل پسند نہیں آ ئی تو اسے منفیت کا نشان بنا دیا۔ واہ کیا کہنے

اگر گڑیا گھر میں لانا برا ہے تو وہ ہر گڑیا کے لئے ہے یہ نہیں کہ خوبصورت کے لئے تو چشم روشن دل ما شاد اور بد صورت کے لئے اتنی نیگیٹوٹی

گڑیا تو بے جان ہے وہ کیا کسی کی زندگی میں نیگیٹوٹی لائے گی۔ ہم انسان اتنی قوت رکھتے ہیں کہ جس چیز کے بارے میں جیسا گمان رکھیں اس سے وہی رزلٹ پائیں گے۔
اسے پلاسیبو افیکٹ کہہ سکتے ہیں۔

آ پکو لگتا ہے کہ لابوبو آ پکے گھر میں منفی قوتیں لے کر آ ئی ہے تو آ پکا یقین منفی قوتیں لے آ ئے گا۔ آ پکو لگتا ہے کہ ایک کھلونا ہے جیسا کہ دوسرے کھلونے ہیں اور اس کی اتنی ہی اوقات ہے تو کچھ نہیں ہو گا۔

اور یہ بھی سوچیں

آ پکو لگتا ہے کہ ایک انسان کا بنایا ہوا پتلا اتنی قوت رکھتا ہے کہ آ پکی زندگی میں کچھ بدل سکتا ہے تو معاف کیجئے آ پکا عقیدہ انتہائی کمزور ہے۔ وہی بات ہے کہ وہ پتلا تو جہاں پڑا ہے وہاں پڑا ہے خود پر سے مکھی نہیں اڑا سکتا تو آ پ جو اشرف المخلوقات ہیں کہ زندگی پر کیسے اثر انداز ہو سکتا یے۔

کچھ لوگ اس کو شیطان کی شکل قرار دے رہے ہیں۔
شیطان کی شکل نہیں ہوتی۔ شیطانی کردار ہوتے ہیں۔

شیطان بدی کا نام ہے کسی بد صورت شکل کا نام نہیں ہے۔ کوئی تصویر یا پتلا شیطان نہیں ہے۔ برائی ، دھوکہ دہی، خیانت، کسی کا حق مارنا قسم کی اخلاقی کجیاں شیطان کی موجودگی کی نشانی ہیں ۔

لا بوبو کے ہونے نہ ہونے سے منفیت یا شیطانیت میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔

انسان کے خون میں جو بدی اور نیکی گردش کرتی ہے وہ اصل چیز ہے۔

میں کوئی لابوبو کی وکالت نہیں کر رہی نہ میرے پاس لابوبو کے ڈسٹری بیوشن رائٹس ہیں کہ بکے گی تو فائدہ ملے گا۔
میں لابوبو کے حریف کھلونوں کی ڈسٹری بیوٹر بھی نہیں ہوں کہ لابوبو کی مارکیٹ خراب کرنے سے مجھے فائدہ ہو گا۔
نہ میرے گھر میں کوئی گڑیا یا کھلونے ہیں ۔

میرا پوائنٹ صرف یہ ہے کہ جو لوگ اس لابوبو کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ گھر میں منفی قوتیں لے کر آ تی ہے وہ اپنے عقیدے پر غور کریں۔

ایک بے جان پتلے کو آ پ نے کیسے اس قابل سمجھ لیا کہ وہ
آ پکی زندگی پر کوئی بھی اچھا یا برا اثر ڈالنے کی اوقات رکھتا یے۔

ذرا نہیں بہت سا سوچئے۔

Copied

02/07/2025

" ماما جلدی کریں فورا ہسپتال چلیں۔میرا جسم ٹھنڈا ہورہا ہے اور دل ڈوب رہا ہے۔"
یہ تھے میری جان نکال دینے والے وہ الفاظ جو آج رات ڈیڑھ بجے میں نے اپنے اکلوتے جوان بیٹے سے سنے اور نیند کے جھٹکے سے ایکدم حواس بیدار ہوگئے۔
بیٹا رات 8 بجے گھر آیا ۔میں نے کھانے کا پوچھا تو کہتا آج باہر بریانی کھالی تھی۔اب بھوک نہیں مگر وہ شاید سپائسی تھی جو تیزابیت محسوس ہورہی ہے۔میں نے اسے تیزابیت کا کیسپول دیا۔ذرا بہتر ہوا تو میں بےفکر ہوکر سوگئ۔رات ڈیڑھ بجے اس نے مجھے ان الفاظ کے ساتھ بیدار کیا۔میں نے ہڑبڑا کے اسکا ماتھا چھوا تو یخ ٹھنڈا اور جسم بھی۔مجھے اور کچھ نہ سوجھا ایک چٹکی
نمک اسے چٹا دیا ۔وہ بار بار کہے پاپا اٹھیں فورا ہسپتال چلیں ۔مجھے سنگینی کا اندازہ ہوگیا کیونکہ یہ بچہ تو 104 بخار پہ مزے سے پھر رہا ہوتا ہے کبھی بیماری میں اتنا پریشان نہیں ہوا۔۔افتخار صاحب نے بھی فورا گاڑی نکالی اور قریبی ہسپتال کی طرف بھگا دی۔راستہ میں یہی کہتا رہے جلدی چلیں میرا دل ڈوب رہا ہے۔میں اسکا سر گود میں رکھے حواس باختہ کبھی درود پاک کبھی یاسلام یاحفیظ کا ورد کرکے پھونکیں مارتی جارہی تھی۔چندمنٹس کا سفر لمبا لگ رہا تھا۔ہسپتال ایمر جنسی ڈاکٹرز کو بتایا۔انہوں نے فورا انجکشن ڈرپ لگائ۔ای سی جی کی۔
تب تک میرا سانس حلق میں اٹکا رہا۔۔دل دماغ میں ان دنوں سوشل میڈیا پہ دیکھی جانے والی اچانک ہارٹ اٹیکس کی وڈیوز آنے لگیں۔۔ اللہ کریم کا بے حد بےحساب شکر کہ ای سی جی سمیت سب ٹھیک تھا۔مانیٹرنگ میشن پہ بھی سب سائنز اوکے آرہے تھے۔میرا ورد اور اللہ سے آنسوؤں بھری التجائیں جاری تھیں۔دس پندرہ منٹس بعد طبیعت سنبھلنا شروع ہوئ۔ڈرپ ختم ہونے تک مکمل ٹھیک ۔۔جسم کی حرارت بھی واپس آگئ اور دل ڈوبنا بھی ٹھیک ہوگیا۔
دو گھنٹوں بعد گھر ائے۔صدقہ دیا ۔اللہ کریم کا شکر ادا کیا۔
حالانکہ اسے نہ جنک فوڈ کی عادت ہے نہ چائے زیادہ پیتاہے۔بلکہ میں نے بچپن سے اسے چائے کی عادت نہیں ڈالی تھی اب آفس میں سب کے ساتھ ایک دو کپ چائے پینے لگے گیا ہے۔اب اسے سختی سے منع کیا کہ چائے چھوڑ دے اور خاص کر ڈبے کے دودھ کی۔کیونکہ وہ مضر صحت ہے اور ہمیں عادت بھی نہیں کہ ہمارے گھر اپنی بھینس کا خالص دودھ استعمال ہوتا ہے۔
بہرحال وجہ نکلی معدے کی تیزابیت جس کی علامات ہارٹ اٹیک جیسی ہوتی ہیں مگر ہارٹ اٹیک ہوتا نہیں۔۔لیکن کبھی ایسی کیفیات ہوں تو خود فیصلہ کرنے کی بجائے فورا قریبی ہسپتال کی طرف بھاگیں ۔ڈاکٹرز ہی بتائیں گے کہ تیزابیت ہے یا ہارٹ اٹیک۔
اس بارے کچھ معلومات درج ہیں
معدہ کی تیزابیت (ایسڈ)

معدہ کےایسڈ کی زیادتی کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لیکن یہ براہ راست ہارٹ اٹیک کا سبب نہیں بنتا۔ ایسڈ کی زیادتی سے مراد عام طور پر معدے میں تیزابیت کی زیادتی (Acid Reflux یا GERD) ہوتی ہے، جو کہ سینے میں جلن اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ کیفیت دل کے درد (Angina) سے مشابہت رکھتی ہے، لیکن یہ دل کے مسائل سے مختلف ہوتی ہے۔

تاہم، اگر معدے کی تیزابیت کا مسئلہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ دیگر طبی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جو بالواسطہ طور پر دل کی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

1. **سوزش اور تناؤ**: معدے کی تیزابیت کی وجہ سے جسم میں سوزش اور تناؤ بڑھ سکتا ہے، جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

2. **نیند کی خرابی**: GERD کی وجہ سے رات کو نیند میں خلل پڑ سکتا ہے، جو دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

3. **غذائی عادات**: تیزابیت کی وجہ سے لوگ اکثر غیر صحت مند غذائی عادات اپنا لیتے ہیں، جو کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ہے۔(copied)

18/06/2025

افسوس تو تب ہوتا ہے جب آپ کو پتہ چلے کہ آپ کے قرض دار ناران کاغان گھومنے گئے ہوں، عیاشیوں میں گم ہوں، بےشرموں کی طرح دوسرے کو نصیحتیں کرتے پڑتے ہیں قرضے واپس کر دو 🥹😒وغیرہ وغیرہ

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Lahore