Progressive Group LCCI
Progressive Group LCCI
Lahore Chamber of Commerce & Industry
A Project of Lahore Chamber of Commerce & Industry (LCCI).
09/01/2026
29/12/2025
ارب ڈالر کا نیا قرضہ — لیکن حقیقی معیشت تباہی کے دہانے پر
جولائی سے نومبر تک کے اعداد و شمار ایک خوفناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف حکومت زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اربوں ڈالر کا قرضہ لے رہی ہے، وہیں دوسری طرف ملکی صنعت (Real Economy) تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔
یہ "اسٹیبلائزیشن" کا وہ دھوکہ ہے جہاں ہم قرض لے کر خود کو زندہ تو دکھا رہے ہیں، لیکن پیداواری صلاحیت ختم کر رہے ہیں۔
1. قرضوں کی تفصیلات: پیسہ کہاں سے آیا؟
جولائی تا نومبر، پاکستان نے مجموعی طور پر 3.03 ارب ڈالر (تقریباً 850 ارب روپے سے زائد) کا غیر ملکی قرضہ حاصل کیا:
📉 1.25 ارب ڈالر: بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IFIs) سے موصول ہوئے۔
🤝 807.6 ملین ڈالر: دو طرفہ ذرائع (Bilateral sources) سے ملے۔
💰 965.9 ملین ڈالر: نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (NPCs) کے ذریعے آئے (جو کہ مہنگا قرضہ ہے)۔
اس کے علاوہ، 531 ارب روپے غیر منصوبہ بند امداد (Unplanned Aid) کی مد میں آئے، جس میں 273 ارب روپے براہ راست بجٹ سپورٹ شامل ہے۔
2. زمینی حقائق: انڈسٹری بند، خسارہ بے قابو
اتنے بڑے پیمانے پر فنڈنگ ملنے کے باوجود، معاشی اعشاریے (Economic Indicators) منفی سمت میں جا رہے ہیں:
🏭 144 ٹیکسٹائل ملیں بند: پاکستان کی ایکسپورٹ کا سب سے بڑا ذریعہ ٹیکسٹائل ہے، اور اس کا بند ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔
📉 ایکسپورٹس میں کمی: برآمدات میں 6.4 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے (کیونکہ جب ملیں بند ہوں گی تو ایکسپورٹ کیا ہوگا؟)۔
📈 امپورٹس میں اضافہ: اس کے برعکس درآمدات میں 13 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم ادھار کے پیسوں سے غیر ملکی سامان خرید رہے ہیں۔
💸 تجارتی خسارہ: ان پانچ مہینوں میں تجارتی خسارہ (Trade Deficit) بڑھ کر 15.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
نتیجہ: قرضہ حل نہیں ہے
توانائی کی ہوشربا قیمتیں اور ٹیکسوں کا ناجائز بوجھ ملک میں ڈی انڈسٹریلائزیشن (De-industrialization) کا سبب بن رہا ہے۔
حکومت قرضے لے کر "ڈیفالٹ" سے تو بچ سکتی ہے، لیکن "بے روزگاری" اور "صنعتوں کی بندش" سے نہیں۔ قرضے معیشت کو نہیں بچا سکتے، صرف "اسٹرکچرل ریفارمز" (Structural Reforms) ہی نوکریاں اور انڈسٹری بچا سکتی ہیں۔
#معیشت #پاکستان #مہنگائی
19/12/2025
🚨 پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی! 📉
پاکستان کی معیشت کا ستون کہلانے والی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں مسلسل چوتھے ماہ بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اہم اعداد و شمار:
نومبر میں گراوٹ: برآمدات میں 2.57 فیصد کی کمی۔
تقابلی جائزہ: نومبر 2024 میں برآمدات 1.464 ارب ڈالر تھیں، جو اب گر کر 1.423 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔
ماہانہ کارکردگی: اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں 11 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
بڑے چیلنجز:
رواں مالی سال کے آغاز (جولائی) میں 30 فیصد اضافے کے بعد، یہ مسلسل گراوٹ عالمی منڈیوں میں غیر مستحکم طلب اور مقامی سطح پر درپیش سنگین مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ملک کی مجموعی برآمدی کارکردگی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
آل پاکستان چیمبرز کانفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے
انجینئر خالد عثمان
سابق سنیئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس
چیئرمین پروگریسیو گروپ
18/10/2025
🌟 وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کا لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ 🌟
انجینئر خالد عثمان، صدر پروگریسو گروپ و سابق سینئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ جناب قیصر احمد شیخ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکاء سے خطاب کیا۔
تقریب میں ملکی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور کاروباری ماحول کی بہتری سے متعلق اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انجینئر خالد عثمان نے کہا کہ نجی شعبہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، حکومت اور بزنس کمیونٹی کے باہمی تعاون سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔
اسٹیٹ بینک کے شرح سود کو برقرار رکھنے پر سنیئر وائس پریزیڈنٹ
انجینئیر خالد عثمان کا اظہار خیال
خالد عثمان
پریزیڈینٹ پراگریسیو گروپ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Opening Hours
| Monday | 08:30 - 05:30 |
| Wednesday | 08:30 - 05:30 |
| Sunday | 08:30 - 05:30 |