Columns and Editorials
Shop here online and groom your Kids personality with our latest in fashion clothings.
12/05/2018
Elegant ladies wrist watch.
Price: Rs750
Free Delivery.
31/12/2016
کون غدار نہیں ؟
کالم نگار | غلام اکبر
آئین کی دفعہ6کے تحت سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اسے میڈیا اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ قرار دے چکاہے۔ اس سے پہلے آئین سے غداری کے الزام میں یہاں کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ اس ضمن میں کچھ لوگوں کو شاید بغاوت کا وہ مقدمہ یاد آئے جو بھٹو مرحوم نے خان ولی خان کے خلاف قائم کیا تھا اور جس کے نتیجے میں NAPیعنی نیپ پر پابندی لگا دی گئی تھی اور مرحوم عبدالغفار عرف سرحدی گاندھی کی تعلیمات کے تحفظ کادم بھرنے والی جماعت اپنے موجودہ نام یعنی )ANPاے این پی (کے ساتھ ملکی سیاست میں اپنا روایتی کردار ادا کرنے کیلئے نمودار ہوئی تھی۔ خان ولی خان کیخلاف چلائے جانیوالے مقدمے اور جنرل )ر(پرویزمشرف کیخلاف ہونیوالی کارروائی میں چندبنیادی فرق ہیں ۔ خان ولی خان ملک کے سابق صدر نہیں تھے اور نہ ہی ان کاکوئی تعلق فوجی قیادت سے رہا تھا۔ جہاں تک جنرل )ر(پرویزمشرف کا تعلق ہے وہ تقریباً ایک دہائی تک اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں۔ پورے نو برس تک صدر کے عہدے پر فائز رہنے کیساتھ ساتھ فوج کے چیف آف سٹاف بھی رہے۔ مطلب اس کا یہ ہوا کہ غداری کا مقدمہ صرف کسی فرد پر نہیں ¾ صرف پرویز مشرف نامی ایک شخص پر نہیں ¾ پاکستان کے ایک سابق سربراہ حکومت و مملکت اور پاک فوج کے ایک سابق سپہ سالار پر بھی چلایا جارہاہے۔اگرچہ مقدمے کا سکوپ جنرل )ر(مشرف کے اس اقدام تک محدود رکھا گیا ہے جو انہوں نے 3نومبر 2007ءکو کیا تھا اور جس کے تحت انہوں نے آئین کو عارضی طور پر معطل کرکے سپریم کورٹ کے ججوں کو نظر بند کردیاتھا۔ لیکن اس امکان کو قطعی طورپر مسترد نہیں کیا جاسکتاکہ جیسے جیسے مقدمے کی کارروائی آگے بڑھے گی جنرل )ر(پرویز مشرف کا پورا دورِ حکومت ” پوسٹ مارٹم“ کی زدمیں آجائیگا اور اب تک ہماری فوج کو جتنی بھی ”ملامت“ اور ” کردار کشی “ کاسامناکرنا پڑا ہے وہ ایک نئی توانائی کے ساتھ مجتمع ہو کر قومی زندگی میں سب سے زیادہ کلیدی کردارادا کرنیوالے ادارے پر حملہ آور ہوگی۔
میںفوجی حکمرانی کا حامی کبھی بھی نہیں رہا مگرہم اپنی بدقسمت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکے ہیں کہ صرف لفظ جمہوریت کے پرکشش مفہوم کی خاطر نا اہلی ¾ خود غرضی ¾ کرپشن اور ” قومی بے حسی “ کی حکمرانی کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کئے رکھنا صرف میرے ہی نہیںکسی بھی حساس محب وطن کے بس کی بات نہیں رہی ¾ وطنِ عزیز کو اب تک چار فوجی حکمران ” نصیب “ ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے ناپسندیدہ میری نظروںمیں جنرل )ر(پرویز مشرف ہیں ۔ ان کیلئے میری شدید ناپسندیدگی کی وجہ وہ ” شرمناک انداز “ تھاجس کیساتھ موصوف نے اکتوبر2001ءمیں امریکی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے اور واشنگٹن کواپنا قبلہ بنا لیا تھا۔
اگر میں ایک مورّخ ہوتا اور پاکستان کی تاریخ لکھتا تو قوم کے مجرموں کی فہرست میںایک نام جنرل )ر( پرویزمشرف کا بھی لکھتا۔ آج پاکستان مسائل مصائب اور محرومیت کی جس دلدل میں دھنسا ہوا ہے اس کی ذمہ داری بڑی حد تک جنرل )ر(پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے امریکی جارحیت کے طوفان سے مقابلہ کرنے کیلئے کوئی جرا¿ت مندانہ اور دور اندیشانہ سٹریٹجی تیار کرنے کی بجائے ”گھٹنے ٹیک دینے “ اوراپنی ”خدمات “ کا معاوضہ وصول کرنے کا راستہ اختیار کیا آج قوم اُس کھیتی کا پھل کاٹ اور کھا رہی ہے جو جنرل )ر(پرویز مشرف نے بوئی تھی۔ المیہ پھر یہ ہوا کہ جب جنرل )ر(مشرف کا برسراقتدار رہنا ناممکن ہوگیا تو امریکہ نے ان کی جانشینی کیلئے ایسے ” لیڈر “ منتخب کئے جن کے ضمیر خالی اور خزانے بھرے ہوئے تھے۔اگر جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ چلانا ناگزیر ہی تھا تو پھرآئین کی شق 6کی بجائے کوئی ایسی شق تلاش کی جاتی جس کی زد میں مملکت خدادادِ پاکستان کے بنیادی ملی مفادات کے ساتھ غداری کا جرم آجاتا۔ایساکیوں نہیں کیا گیا ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل نہیں۔ وطنِ عزیز میں ایسے لیڈروں کی کمی کبھی نہیں رہی جنہوں نے کم سے کم مدت میں زیادہ سے زیادہ مال و دولت ”کمانے “ کی خاطر ملک و ملت کے بنیادی مفادات کے ساتھ غداری کی۔
غداری ایک ایسا لفظ ہے جو جسم میں ہی نہیں روح میں بھی سنسنی دوڑا دیتاہے۔میں سمجھتا ہوں کہ متذکرہ شق میں لفظ ” غداری “ استعمال ہی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس بات سے اختلاف ممکن نہیں کہ 3نومبر 2007ءکو جنرل )ر(پرویز مشرف نے جو قدم اٹھایا اور جس انداز میں اٹھایا وہ انتہائی قابلِ مذمت تھا۔ ان کے اس اقدام پر انکے خلاف کارروائی آئین کی سنگین ” خلاف ورزی “ کے الزام میں ہونی چاہئے تھی۔ آئین کے آرٹیکل 6میں ” غداری “ کی اصطلاح کا رکھا جانا اس آئین کے بنیادی خالق بھٹو مرحوم کے مخصوص سیاسی پس منظر کی نشاندہی کرتاہے۔
کون نہیں جانتاکہ بھٹو کی ” وجہ ءظہور “ ان کی اہلیہ کے سکندر مرزا مرحوم کی اہلیہ کے ساتھ مراسم تھے ۔ ان مراسم کی وجہ سے بھٹو مرحوم کو صدر سکندر مرزا کا اعتماد اور قرب حاصل کرنے کا موقع ملا۔ بھٹو غیرمعمولی صلاحیتوں اور قد کاٹھ کے آدمی تھے۔ لیکن ان کاکردار غیر معمولی قد کاٹھ کا نہیں تھا۔ اپریل 1958ءمیں مارشل لاءکے نفاذ سے چندماہ قبل بھٹو مرحوم نے صدر سکندر مرزا کو ایک خط لکھا تھا جس میں وہ خوشامد کی تمام ترقابلِ قبول حدیں تجاوز کرگئے تھے۔ انہوں نے خط کا اختتام اِن الفاظ کے ساتھ کیا تھاکہ ” اگر میں مورّخ ہوتا تو آپ کا مقام یقینی طور پر محمد علی جناحؒ سے بلند تر رکھتا۔“
میں چونکہ ایک عرصے تک بھٹو کے سحر میں گرفتار رہاہوں اس لئے یہ خط پڑھ کر مجھے بے حد صدمہ ہوا۔
اقتدار کی طلب آدمی کو اصول پرستی سے کس قدر دور کردیتی ہے اسکااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ مرحوم بھٹو ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اکتوبر 1958ءکے وسط میں جنرل ایوب خان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سماسکتیں۔ ” آپ سکند ر مرزا سے جان چھڑانے کیلئے کوئی قدم اٹھائیں۔“ جنرل ایوب خان کو ایسے ہی مشوروں کی ضرورت تھی۔ 27اکتوبر1958ءکو سکندر مرزا کو فارغ کردیا گیا اور جنرل ایوب خان ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔بھٹو کی ” سیاسی بصیرت“ میں یہ ادراک کوٹ کوٹ کر بھرا تھاکہ فوج اقتدار کے کھیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دورِ ایوب میں اپنے آپکو بہت سارے جنرلز کے قریب رکھا۔ شیر باز مزاری اپنی خود نوشت A journey in disillusionmentمیں تو اس امکان کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ یہ بھٹو مرحوم ہی تھے۔ جنہوں نے مختلف طریقوں سے جنرل یحییٰ خان کو صدر ایوب سے اقتدار چھیننے پر آمادہ کیا۔اس تھیوری میں وزن اس لئے نظر آتا ہے کہ بھٹو اُس نفرت سے آگاہ تھے جو صدر ایوب اپنے سابق ” بلو بوائے “ سے کرنے لگے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر بازی صدرایوب کے ہاتھ میں رہی تو وہ بھٹو کیلئے دروازے آسانی کے ساتھ کھلنے نہیں دیں گے۔یہ حقیقت ہے کہ بھٹو کو اقتدار میں لانے کا سہرا فوجی قیادتوں کے سر پر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوج سے ڈرتے تھے۔ اور یہی ڈر 1973ءکے آئین میں آرٹیکل 6کی اس انداز میں شمولیت کا باعث بنا جس انداز میں وہ موجود ہے ¾ لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آرٹیکل 6بھٹو کو جنرل ضیاءالحق کا ” شکار “ بننے سے بچا سکا؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ ” نظریہ ءضرورت “ تاریخ میں ہمیشہ ہر آئین سے زیادہ طاقتور اور موثر ثابت ہوا ہے ؟ یہ فیصلہ توعدالت ہی کریگی کہ جنرل مشرف واقعی غداری کے مرتکب ہوئے یا نہیں مگر اس مقدمے نے اس ملک کے حب الوطنوں کے ذہن میں ایسے سوال اٹھا دیئے ہیں جن کا اطمینان بخش جواب انہیں نہ ملا تو آنیوالے ایام میں ہماری قومی سیاست طوفانوں میں گِر جائیگی۔سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ ” لوگ “ اس ملک کے غدار نہیں جو اس ملک کی دولت لوٹ کر چوری چھپے باہر لے گئے ؟“ اگر ہم ایک سو ایسے غداروں کو تلاش کرکے انصاف کے کٹہرے میں لے آئیں اور انہیں مجبور کردیں کہ وہ بیرونِ ملک بنکوں سے پاکستان کا سرمایہ نکال کر واپس لے آئیں تو وہ کشکول جو ہمارے حکمران ہاتھوں میں لئے ملک ملک گھومتے رہتے ہیں وہ خود بخود ٹوٹ جائیگا۔ اس ” کارِ خیر “ کا آغاز اُن ساٹھ ملین ڈالرز سے ہونا چاہئے جن کے بارے میں یہ تصدیق ہوچکی تھی کہ اُن پر پاکستان کا حق ہے مگر جو نہایت شرمناک انداز میں غائب کئے جاچکے ہیں
گورنر پنجاب کی سینئر صحافیوں سے ملاقات
کالم نگار | ادیب جاودانی
پنجاب کے گورنرنے دو روز پیشتر 25-20 مدیران جرائد سینئر کالم نگاروں اور اخبار نویسوں کو گورنر ہا¶س میں مدعو کر رکھا تھا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جی ایس پی پلس کے حوالے سے گذشتہ ادوار کی حکومتوں کی کوششیں بجا ہیں لیکن اس کامیابی پر حتمی مہر موجودہ حکومت کی خصوصی دلچسپی اور بہترین سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خصوصی طور پر وزیراعظم محمد نواز شریف کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اس اہم ایشو کے حصول کیلئے اپنی ٹیم کا بنیادی رکن منتخب کیا۔ انہوں نے کہاکہ تقریباً دس سال بعد پاکستان یورپی یونین میں اپنی جی ایس پی پلس ممبر شپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کیلئے ہماری موجودہ اور پچھلی حکومتوں نے حتی المقدور کوششیں کیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے بجاطور پر بحرانوں کے انبار میں اس ایک اچھی پیشترفت پر قوم اور صنعتکاروں کو مبارکباد دی ہے۔ یورپین یونین کے 182 کے مقابلہ میں 406 ممبران نے دس ممالک کے حق میں G.S. Plus کی منظوری دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ سے پاکستان یورپین یونین کے 27 ممالک اپنی ٹیکسٹائل کی مصنوعات بغیر درآمدی ڈیوٹی کے برآمد کر سکے گا۔
گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کی منظوری کیلئے ممبران یورپی پارلیمنٹ نے نہ صرف پاکستان کی حمایت کی بلکہ اس حوالے سے انہوں نے پاکستان کے اصولی موقف کی ترجمانی تھی کی۔ انہوں نے کہاکہ جی ایس پی پلس سٹیٹس سے نہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ ملے بلکہ پاکستان کی تقریباً تین ہزار مصنوعات کی برآمدات کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی واضح ہدایت ہے کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کو زیادہ سے زیادہ سو مند بنانے کیلئے گیس اور بجلی کے بحران پر جلد سے قابو پایا جائے اور انڈسٹریز کو تعطل کے بغیر انرجی مہیا کی جائے تاک صنعت کا پہیہ تیزی سے رواں دواں رہے۔
گورنر پنجاب نے کہاکہ کچھ عرصہ قبل یورپ نے بنگلہ دیش کو ترجیحی بنیادوں پر تجارت کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس سے معمولی ڈیوٹی پر بنگلہ دیشی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں رسائی حاصل ہو گئی بنگلہ دیش یورپ کم و بیش وہی مصنوعات بھیج رہا ہے جو ہم پاکستان میں بنا رہے ہیں مہنگی پڑنے کے باعث یورپی منڈی کا بڑا حصہ پاکستان کے ہاتھ سے نکلنے کا اندیشہ تھا۔ ہمارے صنعت کار یورپی منڈیوں میں مقابلہ کر رہے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ہمت جواب دیتی جا رہی ہے یورپ میں ہماری ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ جی ایس پی پلس سٹیٹس ملنے سے بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور یورپی مارکیٹوں میں ہماری مصنوعات کی رسائی میں کمی آئی۔ مستقبل میں یہ درجہ ملنے سے ہماری برآمدات میں اسی ارب سے ایک سو بیس دس ارب تک کا اضافہ ہو سکتا ہے بجلی اور گیس کی کمی کے آڑے نہیں آئے گی۔ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری میں یورپی معیار کی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے چنانچہ یورپی یونین کے برآمدی آرڈر باآسانی پورے کئے جا سکتے ہیں جب انڈسٹری پاکستان سے بنگلہ دیش وغیرہ شفٹ ہوئی۔ انہوں نے وہاں کی صنعت کا مقابلہ کرکے ہی غیر ملکی آرڈر حاصل کئے۔ اب بنگلہ دیش وغیرہ سے ہماری انڈسٹری کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے اور گڈگورننس کے باعث عالمی ادارے پنجاب حکومت سے تعاون کرنے کو ہی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات اب یورپی منڈی میں بغیر کسی ٹیکس کے پہنچ سکیں گی۔ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں 406 ممبران نے پاکستان کے حق میں اور صرف 186 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ حیثیت پانے کے بعد اب 20 فیصد پاکستانی مصنوعات پر یورپ کی منڈی میں پہنچنے پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی بالآخر عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے معیار پر اعتماد کر لیا گیا ہے۔ پاکستانی مصنوعات بیرون ملک بہت آسانی سے جگہ بنا سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اب سہولت کے بعد پاکستان ایک ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات بڑھا سکے گا اور صرف ٹیکسٹائل کی صنعت کو ایک ٹرئلین سالانہ کا منافع حاصل ہو گا پاکستانی کپڑے کی مانگ یورپی ممالک کی منڈیوں میں عرصہ دراز سے ہے۔ اس لئے اب مزید اس سیکٹر کو ترقی ملے گی۔ صرف کاٹن انڈسٹری میں اس سے ایک لاکھ ملازمتیں پید ہوں گی۔ ایک لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔
راقم نے ان سے سوال کیا کہ آپ پنجاب میں صاف پانی کیلئے تو تقریباً ایک سو فلٹریشن پلانٹ لگا رہے ہیں لیکن غریبوں کیلئے سستی روٹی کا بھی آپ کو انتظام کرنا چاہئے اور ملک میں غربت مہنگائی بے روزگاری کا بھی آپ کو خاتمہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے میرے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح غربت مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تباہ حال معیشت کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم نے یوتھ قرضہ سکیم کا بھی اجرا کیا ہے جو نہایت مثبت اور احسن اقدام ہے اس کے لئے حکومت نے 100 ارب روپے مختص کئے ہیں جس سے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے ایک لاکھ سے 20 لاکھ تک کے قرضے دیئے جائیں گے۔ اس سے نوجوان اپنی صلاحیتیں منوانے کے ساتھ اپنا جہاں اپنے ہاتھ سے خود ہی پیدا کر سکیں گے
مشرف کے کڑے احتساب اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے آصف زرداری کا حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان....دہشت گردی کے خاتمے اورجمہوریت کی بقاءکیلئے وسیع تر قومی اتحاد ناگزیر ہے
ایڈیٹر | اداریہ
گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی چھٹی برسی کی تقریب پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ہر کام میاں صاحب اکیلے نہیںکر سکتے‘ غربت طالبانائزیشن‘ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نواز شریف حکومت کا ساتھ دینگے‘ جب سے پاکستان بنا ہے ”بِلا“ آ کر دودھ پی جاتا ہے‘ نوازشریف قابو میں آئے ہوئے ”بلے“ کو نہ چھوڑیں‘ ہم ”بلے“ کو انجام تک پہنچانے میں ان کے ساتھ ہیں‘ ملک کے منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑیاں لگانا کوئی مذاق نہیں‘ اب اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ یا کوئی ڈرامہ رچانے نہیں دینگے‘ ہماری جنگ جس مائنڈ سیٹ کے ساتھ ہے اس کیخلاف تمام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو عوام اور دھرتی کی خاطر ساتھ کھڑے ہونا ہو گا۔ انہوں نے خاص طور پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نوازشریف حکومت کو اتنا کامیاب کرے کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر ایک سو بلین ڈالر ہوں تب جا کر یہ ملک ترقی کر سکتا ہے اور ہم مشکلات سے دور رہ سکتے ہیں۔ دریں اثناءپاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر طالبان کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کیلئے انتہائی کڑی شرائط پیش کیں۔ جن میں طالبان سے ہتھیار پھینکے، دہشت گردی میں ہلاک ہونے والوں کا خون بہا دینے اور میثاق مدینہ کی طرح اقلیتوں کی عزت اور احترام کرنے کی بات کی۔ مسلم لیگ (ن) کی طالبان سے مذاکرات کی پالیسی پر انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف اور دہشت گردوں کا نظریاتی خالق ضیاءالحق تھا۔بلاول نے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی شکست پر کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ ہمارے خلاف متحد ہو چکی تھی‘ ہمیں جیتنے نہیں دیا۔ تاہم بلاول نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کو خطرہ ہوا تو وہ نوازشریف کے ساتھ ہونگے۔ آج ملک و قوم کو دہشت گردی‘ لاقانونیت‘ فرقہ واریت‘ غربت و مہنگائی اور بے روزگاری سمیت بہت سے بحرانوں اور مصائب کا سامنا ہے۔ ایسی مشکلات سے نکلنا اسی صورت ممکن ہے‘ جب سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت ہر حلقہ اور طبقہ متحد ہو۔ اس کیلئے نیک نیتی اور اخلاص پہلی شرط ہے ۔
ہر سال بے بینظیر بھٹو کی برسی کی تقریب سرکاری سطح پر منائی جاتی رہی ہے۔ کل کی تقریب میں سندھ حکومت نے صوبے میں تعطیل کا اعلان کر رکھا تھا۔ سندھ اکلوتا صوبہ ہے‘ جہاں پیپلزپارٹی مئی 2013ءکے انتخابات میں اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکی۔ مسلم لیگ (ن) اس کامیابی کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دیتی ہے کیونکہ سندھ میں مبینہ طور پر پیپلزپارٹی اور متحدہ نے ملی بھگت کرکے نگران حکومت بنائی تھی۔ بلاول زرداری نے پنجاب میں اپنی شکست کا ذمہ دار پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیا ہے۔ عمران خان بھی انتخابی نتائج سے مطمئن نہیں‘ وہ ان کو دھاندلی کی پیداوار سمجھتے ہیں۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) بھی ایسا ہی کہتی ہے لیکن سوائے بلاول کے کسی نے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی بات نہیں کی۔ بلاول ایک بڑی پارٹی کے معصوم قائد ہیں‘ انکی طرف سے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی بات سے صوبائی عصبیت کا اظہار ہوتا ہے اور اس سے صوبوں کے مابین نفرتیں پیدا ہونگی۔ پہلے سے مسائل و مشکلات میں گھرے ملک میں ایسی نفرتوں کی گنجائش کہاں ہے؟
اسٹیبلشمنٹ راتوں رات وجود میں نہیں آگئی‘ اسی اسٹیبلشمنٹ کے ہوتے ہوئے پیپلزپارٹی کو چار مرتبہ حکمرانی کا اختیار ملا ہے۔ بلاول سنجیدگی سے اپنی پارٹی کی حکومت کے پانچ سالہ دور کا جائزہ لیں تو ان کو شکست کی وجوہات کا آسانی سے ادراک ہو سکتا ہے۔ اس حکومت کی شکست کی بڑی وجہ توانائی کا بحران‘ خصوصی طور پر بجلی کی 16 سے بیس گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ تھی‘ اس کا اعتراف پیپلزپارٹی کے کئی رہنما کر چکے ہیں۔ انرجی کرائسز کو بدترین کرپشن کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی عوام کو درپیش نہ صرف مسائل حل نہیں کر سکی‘ بلکہ مہنگائی جیسے کئی مسائل مزید گھمبیر ہو گئے ہیں۔ اگر آئندہ اس نے ڈلیور نہ کیا تو یہ بھی عوام کی نظروں میں پیپلزپارٹی کی طرح راندہ¿ درگاہ ہو جائیگی۔
مجموعی طور پر گڑھی خدابخش میں محترمہ کی برسی کے موقع پر گزشتہ برسوں کے برعکس اس مرتبہ الزام تراشی اور طعن و تشنیع سے گریز کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق اور مفاہمت کی بات کی گئی۔ آصف علی زرداری نے نواز حکومت کا کھل کر ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ بلاول نے جمہوریت کو خطرے کی صورت میں نوازشریف کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا۔ سیاست میں مفاہمت کی بڑی اہمیت ہے۔ آصف علی زرداری نے مفاہمت کے باعث اپنی پارٹی کی حکومت اور اپنی صدارت کی آئینی مدت پوری کی۔ موجودہ حکومت بھی مفاہمت ہی کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن مفاہمت کے نام پر قومی مفادات قربان نہیں ہونے چاہئیں جیسا کہ ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران اربوں روپے کی مالیت کے سکینڈلز سامنے آئے۔ اس وقت کی اپوزیشن قومی دولت کو لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کرنے کے وعدے کر رہی تھی‘ آج اس کرپشن سے صرف نظر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مفاہمت اپنی جگہ‘ کرپشن کو تحفظ کسی صورت نہیں دینا چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ہر کرپٹ سیاست دان اور بیوروکریٹ سمیت کسی کے بھی احتساب پر سابق صدر حکومت کا ساتھ دینگے۔ اگر لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میںآئے‘ ٹیکس وصولی کا نظام فول پروف ہو جائے تو آصف علی زرداری کی پاکستان کے ذخائر 100 ارب ڈالر ہونے کی دعا خالق کائنات کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت حاصل کر سکتی ہے۔
آصف زرداری نے سابق فوجی آمر جنرل مشرف کے احتساب اور انہیں راہ فرار نہ دینے کی بات کی ہے۔ ہمارا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ سیاست دانوں کی رکھوالی میں ہی بِلّے دودھ پینے آتے رہے ہیں۔آج کا کونسا سیاست دان ہے‘ جو خود یا اسکے سیاسی و نظریاتی بڑوں نے فوجی بوٹوں کی گرد صاف نہیں کی۔ آج جمہوریت کو مضبوط تر بنانے کا عہد کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق آمر کا آئین اور قانون کے مطابق احتساب ہوا تو یقیناً طالع آزما کبھی جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہیں کرینگے لیکن مشرف پر جو کیس چل رہا ہے‘ اس میں مشرف کے ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے گناہ کو شامل نہیں کیا گیا۔ معاملہ چونکہ عدالت میں ہے‘ اس پر مزید کمنٹس مناسب نہیں‘ تاہم ایک حلقے کی رائے میں اس کیس کو ڈھیلا ڈھالا قرار دیا جا رہا ہے تاکہ مشرف کو محفوظ راستہ مل سکے۔ 12 اکتوبر کے شب خون میں مشرف کے ساتھیوں اور انکے اقدام کو جائز قرار دینے والوں کا احتساب اور حساب بھی ضروری ہے۔ تاہم وزیر اطلاعات پرویز رشید کا یہ بیان حوصلہ افزا ہے کہ مشرف کو باہر نہیں جانے دینگے‘ انکی والدہ کو لانے کیلئے طیارہ بھجوا سکتے ہیں۔
دہشت گردی پاکستان کی بقاءاور سالمیت کیلئے کینسر اور ناسور بن چکی ہے۔ اسکے خاتمہ کے بغیر ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے‘ نہ ترقی و خوشحالی کے خواب کو تعبیر مل سکتی ہے۔ عسکری و سیاسی قیادت نے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی مقدور بھر کوشش کی ہے لیکن فریق مخالف مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں ہو رہا۔ حکومت اب بھی اگر مذاکرات کی بات کرتی ہے تو یہ اسکی طرف سے کمزوری کا اظہار ہے۔ بلاول بھٹو کی شرائط بجا ہیں‘ حکومت ان کو رہنما اصول کے طور پر اپنائے۔ جن لوگوں نے بینظیر بھٹو کی جان لی‘ وہ کسی کی بھی جان لینے سے گریز نہیں کرتے‘ نہ کرینگے
21/09/2013
21-9-2013
Today's Column of Orya Maqbool Jan
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Lahore