Pakistan YOUTH Organization
just positive for Pakistan
کیا پاکستان میں ایسا لیڈر ہے ۔ جو اسلام کی تبلیغ کرتا ہو ، اپنی قوم کو ایک ہونے کا درس دیتا ہو۔ گروہ بندی سے بچنے کی تلقین کرتاہو۔ فرقہ پرستی سے دور کرنے کی کوشش کرتاہو۔ میں اکبر اویسی کو سن رہا تھا جو انڈیا میں اپنی عوام کو درس دیتا ہے مجمعوں میں آکر۔ کہ نماز پڑھو۔ روزہ رکھو، قرآن پڑھو، قرآن و حدیث کو اپنی زندگی پر لاگو کرو، خود کو اسلامی اصولوں پر چلنے والے بناؤ۔ کیا پاکستان میں کوئی ایسا لیڈر ہے ، جو اپنی تقریر میں ، عوام کو ایک کلمہ پر اکٹھا کر رہا ہو۔ فرقے تو سب بعد میں بنتے ہیں ۔ لیکن کلمہ پڑھ کر انسان مسلمان ھوتا ہے۔
ہمارا کلمہ ایک،
ہمارا اللہ ایک،
ہمارا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک،
ہمارا قبلہ ایک،
ہم سب کا ایمان زندگی کے ختم ہونے پر،
ہم سب کا ایمان قبر پر ،
ہم سب کا ایمان آخرت پر،
ہم سب کا ایمان جنت اور جہنم پر،
ہم سب کی اذان ایک ،
ہم سب کا نماز پڑھنے کا طریقہ وہ ہی جو حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا،
تو میرے بھائیو ہم ایک کیوں نہیں ہو سکتے ۔
ہم گروہوں میں، پارٹیوں میں، فرقوں میں، صوبوں میں، قوموں میں تقسیم کیوں ہو گئے۔
ہمارا گروہ ایک ، پارٹی ایک، فرقہ ایک، قوم ایک، کہ ہم مسلم ہیں۔
میرے دوستو، بھائیو، بزرگو ، ہم ایک بنیں، جو جس طریقے سے اللہ کے حکم کی اطاعت کرتا ہے ، جو جس طریقے سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے ، اپنی عقیدت و احترام سے کرتا ہے، اگر وہ کوئی غلطی بھی کر رہا ہو تو اس پر تنقید نہیں، بلکہ اس کو اپنے فعل سے سیکھاؤ اور اس کی درستگی کریں، تا کہ انتشار نہ ہو اور اس کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو، اور اس کی غلطی کی درستگی ہو جائے غیر محسوس طریقے سے ۔،
آپکی دعا کا طالب ، آپکا بھائی آپکا دوست، عبدالواجد راؤ
14/07/2014
جناب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوز شریف صاحب
گذارش ہے کہ آج پاکستان بہت ہی مشکل حالات سے گزر رہا ہے ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امۃ مسلمہ سخت آزمائیش سے گزر رہی ہے، جناب عالی آپ کے منہ بولے انڈین دوست آپ کے ملک پر بھونک رہے ہیں ، آپ کیوں ڈرتے ہیں، آج بلوچستان میں انڈیا ملوث ہے ، خیبر پختونخواہ میں انڈیا ملوث ہے ، آپ کیوں نہیں بولتے، کیا آپ کفارسے ڈرتے ہیں، کیا آپ صرف اپنے کاروبار کی فکر رکھتے ہیں، کیا امن کی آشا صرف آپ کو چاہیے، آخر وجہ کیا ہے، آپ ملک کی نمائیندگی کر رہے ہیں آپ کو اللہ نے سپہ سالار بنا رکھا ہے اس ملک کا، کیا آپ بس اپنے لیے اس ملک کے سربراہ بنے ہیں، آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کفار کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ، جو کفار کو اپنا دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے ہوگا، کیا آپ کو معلوم نہیں، کیا آپ قوم کو ایک پلیٹ فارف پر اکٹھا نہیں کر سکتے ، بہت افسوس ہوتا ہے مسلمان حکمرانوں پر ، قسم سے اتنا افسوس ہوتا ہے کہ کل کے مسلمان حکمران قوم کی حفاظت کرتے تھے لیکن آج کے حکمرانوں کی حفاظت یہ قوم کر رہی ہے، محترم نواز شریف صاحب آپ ایک اعلان کر دیں تو یہ قوم متحد ہو سکتی ہے، آپ اعلان کر دیں کہ اے کلمہ حق پڑھنے والو ایک ہو جاؤ اللہ کی رضا کے لیے، اپنے اپنے فرقوں میں رہو لیکن ایک دوسرے کے خلاف نہ لڑو، آج یہ کلمہ ہمیں ایک کرنے کے لیے بلا رہا ہے ، مسلمانوں ایک ہو جاؤ، آج سے ملک پاکستان کا قانون کلمہ کا قانون ہے، قرآن کا قانون ہے۔ آج کفار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ ، آج تک جس کے جو گناہ تھے وہ اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیے گئے جیسے فتح مکہ پر مکہ والوں کو عام معافی دی تھی، آج سے نہ میں ٖغلطی کروں گا نہ آپ غلطی کریں، جو بھی غلطی کرے گا اس کی سزا قرآن پاک میں جو تجویز کی گئی ہے وہ ہو گی،
تو دیکھنا محترم نوازشریف صاحب پوری پاکستانی قوم ایک ہو جائے گی ، نہ صرف پاکستانی بلکہ تمام مسلم قوم ایک ہو جائیں گی بیشک وہ صعودیہ میں ہو یا شام میں، مصر میں ہوں یا عراق میں، پاکستان میں ہو یا عمان میں، سب ایک ہو جائیں گی، کیونکہ پاکستان مسلم ممالک کی سربراہی کرتا ہے۔
ہاں کفار میں کھلبلی مچ جائے گی، کفار کو گہری ضرب لگے گی، اور دیکھنا اسی دن فلسطین پر ظلم ہونا بند ہو جائے گا، اور دیکھنا اسرائیل اپنے وجود کی بھیک مانگے گا مسلمانوں سے،
لیکن میاں صاحب یہ اعلان آپ تو نہیں کریں گے، کیونکہ آپ کے تو بہت دوست ہیں یہود و نصٰاریٰ والے ، طاہرالقادری بھی نہیں کریں گے، عمران خان بھی نہیں کریں گے، نہ کریں اعلان لیکن اتنا اپنے ذہنوں میں رکھیں ، کہ موت بہت قریب ہے انسان کی، ایک دن مر جائے گا، دشمن کے ہتھیار سے مرے یا اپنی موت ، مر نا ضرور ہے، ہمارا تو حساب تھوڑا ہوگا ، زیادہ حساب تو آپ کا ہی ہے کیوں کہ آپ اکثریت کی نمائیندگی کر رہے ہیں،
دنیا میں جتنا بھی بنا لیں ، سب یہیں کا ہے ، نام ، شہرت اور دولت ساتھ تو صرف عمل جائے گا،
عبدالواجد راؤ
10/07/2014
کتنے عظیم تھے وہ لوگ جو اپنے گھر کو بنانے میں سب مل کر کام کرتے تھے ، ایک خالی میدان ہوتا ہے اس میں ایک گھر کی تعمیر کرنا کتنا مشکل ھو تا ہے ، یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن گھر بنانے میں سب کو ایک ہونا پڑتا ہے۔ کیونکہ اکیلا آدمی گھر تو بنا لے گا لیکن میں رہنے والا وہ خود ہی ھوگا۔ اگر سب مل کر گھر بنائیں تو سب ساتھ ہوتے ہیں۔ اور ویسے بھی اکیلے گھر بناتے بناتے انسان اگلے گھر کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے۔آج جب بھی پاکستان کی بات ہوتی ہے تو یہ ہی سنتے ہیں وہ ٹھیک نہیں یہ ٹھیک نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ وجہ یہ ہی ہے شاید کہ ہم ٹھیک نہیں اس لیے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ اگر میں یہ کہوں کہ پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پیار محبت سے رہنا چاہیے، ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے، رشوت سے پاک ہو، ایمانداری ہو، شرافت ہو، سود نہ ہو، امن ہو ، ترقی ہو، خوشحالی ہو ۔ لیکن میں خود میں کیوں نظر نہیں دوڑاتا کہ میں کتنا پیارسے رہتاہوں؟ میں کتنی مدد کرتا ہوں دوسروں کی؟ کیا میں رشوت سے دور ہوں؟ کیا ایماندار ہوں؟ کیا میں شریف انسان ہوں؟کیا میں سود سے پاک ہوں؟ کیا میں امن پسند ترقی پسند ہوں؟ اگر میں اسلامی نظام چاہتا ہوں تو میں کتنا اسلام پر عمل کرتا ہوں؟ کیا میں جھوٹ سے بچا ہوا ہوں، نہ جانے کتنے کیا ہیں جو جواب طلب ہیں لیکن خود کے کیا کا جواب نہیں ملتا کیونکہ کبھی ہم نے غور ہی نہیں کیا۔ ہم تو دوسروں کو اچھی طرح نوٹ کرتے ہیں۔ لیکن میں بذات خود اتنا مطمئین ہوں کہ ہم سب مل کر پورا نظام بنا سکتے ہیں ، ہم سب مل کر امن لے کر آ سکتے ہیں، ہم سب مل کر نفرت ختم کر سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہم سب مل کر اپنے پیارے ملک پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں کوئی اخراجا ت نہیں کرنے پڑیں گے ۔ صرف ہم 2 گھنٹے اس پیارے پاکستان کو دیں تو یہ 110٪ ممکن ہے۔کہیں دور بالکل نہیں جانا بس جہاں ہم رہتے ہیں جس ایریا میں، گاؤں میں، محلہ میں، وارڑ میں، شہر میں،ضلع میں ، ڈویژن میں جہاں بھی ہوں ساتھ رہنے والوں کو منظم کریں، جو بھی قریب رہنے والے لوگ ہیں کوئی اختلاف کی وجہ سے لڑائی کا شکار ہیں ان میں صلاح کرائیں، اپنے ایریا کے نوجوان اور پڑھے لھکے لوگوں کو ساتھ لے کر ان پڑھ لوگوں کی اصلاح کریں، پیار کو بڑھائیں، جو لوگ غریب ہیں ان کی مدد اس طرح کریں کے اپنے ایریا کے صاحب اسطاعت لوگوں کے پاس جا کر ان سے ڈائریکٹ ان لوگوں کی مدد کریں جو حقدار ہیں۔ آپ کے ایریا میں جو بچے سکول نہیں جاتے ان کا ریکارڈ بنا کر ان کے والدین سے رابطہ کریں، اور کوئی بچہ بوجہ مجبوری سکول نہیں جاتا فیس ادا نہیں کر سکتا کتابیں اور بڑھائی کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتا تو ہم کسی بھی سکول میں جا کر اس کا فیس معافی کے کوٹے میں داخلہ کرائیں، اور کسی بھی مخیر حضرات کے ذمے اس کی پڑھائی کے اخراجا ت لگائیں۔ کیونکہ مجھے اپنی قوم پر فخر ہے کہ جن کے پاس اللہ نے بہت کچھ دیا ہو وہ ضرور ایسے خرچے کو اٹھانے میں ہچکچا ہٹ نہیں کرتے۔ عورتوں ، بزرگوں اور اپنے سے بڑوں کا احترام خود بھی کریں اور اس کا درس بھی دیں، نوجوان اور پڑھے لکھے لوگ روزانہ ایک مثبت میٹنگ کریں اور اپنے مثبت احداف کی جانب گامزن ہوں ، تو میں پورے اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ جس دن ہر پاکستانی نوجوان اور پڑھے لکھے لوگ یہ کام شروع کر دیں گے اس وقت ہماری پاکستان کی پہچان بہت ہی اعلٰی ہوگی۔ تو میرے بھائیو ، دوستو، اور بزرگو ہم اس کام کو شروع کردیں اور کسی بھی قسم کی تاخیر نہ کریں۔
پاکستان زندہ باد پائندہ باد
آپ کا بھائی آپ کا دوست
عبدالواجد راؤ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Lodhran
63000