S.A.S Traders Multan

S.A.S Traders Multan

Share

Sole Distributor Axon Cosmetics®
Sole Distributor Dream Gold™

29/11/2025

ایک نوجوان سیلز پرسن،
ایک نئی کاسمیٹکس کمپنی میں بھرتی ہوا۔ اسے ایک مشکل علاقہ دیا گیا جہاں بڑے ڈسٹریبیوٹرز پرانی، مشہور کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کے عادی تھے۔
بلال نے پہلے ہفتے 20 ڈسٹریبیوٹرز سے ملاقات کی۔ ہر ایک نے اسے ٹال دیا: "ہمارے پاس پہلے ہی مال موجود ہے"، "گاہک نئی چیز نہیں آزماتے"، "تمہاری قیمت زیادہ ہے"۔
دوسرے ہفتے، بلال صرف 10 ڈسٹریبیوٹرز کے پاس گیا، کیونکہ اس کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ اسے دفتر سے نکلنے سے پہلے ہی ڈر لگنے لگتا تھا کہ آج پھر "ناں" سننی پڑے گی۔
تیسرے ہفتے کے شروع میں، اس نے اپنے سینئر مینیجر، کو بتایا کہ شاید وہ یہ کام نہیں کر سکتا۔
وہ مسکرائے اور بولے، تم ایک بہت بڑی غلطی کر رہے ہو۔ تم ہر 'ناں' کو اپنی ذاتی ناکامی سمجھ رہے ہو۔"
سیلزمین نے حیرت سے پوچھا، "تو پھر یہ کیا ہے؟"
سینیر نے کہا، "یہ صرف ایک عدد (number) ہے۔ ہماری فیلڈ کا ایک قانون یاد رکھو: ہر 100 ملاقاتوں میں سے، 99 لوگ تمہیں 'ناں' کہیں گے، اور صرف 1 شخص 'ہاں' کہے گا جو تمہارا مہینے کا ٹارگٹ پورا کر دے گا۔"
انہوں نے مزید کہا، "ایک ناکام سیلز پرسن 10 'ناں' سن کر ہمت ہار جاتا ہے۔ ایک کامیاب سیلز پرسن جانتا ہے کہ اسے اس ایک 'ہاں' تک پہنچنے کے لیے 99 'ناں' سننا ضروری ہے
آج سے تم اپنا ذہن بدل لو ،
سینیر نے سمجھایا، "جب کوئی ڈسٹریبیوٹر تمہیں 'ناں' کہے، تو مایوس مت ہو، بلکہ خوش ہو کہ چلو، 99 میں سے ایک 'ناں' کم ہوئی۔ اب میں اپنی 'ہاں' کے ایک قدم اور قریب ہو گیا ہوں۔"
سبق برائے سیلز پرسن:
سیلزمین نے اس نصیحت کو پلے باندھ لیا۔ اس نے "ناں" سے ڈرنا چھوڑ دیا۔ اب جب کوئی ڈسٹریبیوٹر اسے منع کرتا، تو وہ مسکرا کر شکریہ ادا کرتا اور اپنی ڈائری میں لکھتا، "ناں نمبر 15 ہو گئی... بس 84 اور!"
اس نئے حوصلے کے ساتھ، اس کا خوف ختم ہو گیا۔ وہ اب ڈیلر سے ملنے سے گھبراتا نہیں تھا، بلکہ پراعتماد طریقے سے اپنی پروڈکٹ پیش کرتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ "ناں" اس عمل کا حصہ ہے، ناکامی نہیں۔
اور بہت جلد، اسے وہ ایک "ہاں" مل گئی... ایک بڑے ڈیلر کا آرڈر، جو اس کی تمام پچھلی "ناں" پر بھاری تھا۔
یاد رکھیں: ناکامی (Rejection) آپ کے کام کا حصہ ہے۔ یہ آپ کی شخصیت پر حملہ نہیں۔ اپنے حصے کی "ناں" جلدی سے پوری کریں تاکہ آپ اپنی "ہاں" تک پہنچ سکیں۔

15/10/2025

کمپنی کی مجبوری بن جائیں
✍🏻ایک لڑکا تین سال تک اپنے والد کی وفات کے بعد چار ہزار روپے ماہانہ پر کام کرتا رہا۔ اس دوران اس لڑکے نے اپنے کام سے محبت کی اور اس کی محبت کا عالم یہ تھا کہ وہ خواتین کے سوٹ سے چوڑیاں یوں میچ کر دیتا تھا کہ جیسے یہ چوڑیاں اور سوٹ ایک ساتھ رنگ کیے گئے تھے یا پھر یہ چوڑیاں اسی سوٹ سے نکالی گئی ہیں اور وہ یہ کام کچھ ہی لمحوں میں تیز رفتاری سے کر دیتا تھا۔۔۔
تین سال بعد وہ اس دکان پر دس ہزار روپے ماہانہ پر کام کر رہا تھا کہ اسے ایک موقع مل گیا۔ اس دکان سے
دس ہزار روپے تنخواہ چھوڑ کر وہ اگلے دن دوسری دکان پر اٹھارہ ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے لگا۔ دو وقت کا کھانا، دوائی کے پیسے اور چھٹی کرنے کے باوجود بھی کوئی کٹوتی نہیں ہونی تھی۔
یہ سب بھی اٹھارہ ہزار روپے کے علاوہ شامل تھا۔ اس دکان پر یہ لڑکا چھ لڑکوں کا جونیئر تھا مگر اپنی مہارت کی وجہ سے وہ پندرہ دن بعد ہی سب کا ہیڈ بن گیا اور مالک کی جگہ پر کرسی سنبھال لی۔ کسی وجہ سے یہاں سے چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا۔

پھر ایک اور دکاندار ان کے گھر گیا اور اس کی
والدہ کی منت سماجت کرتے ہوئے اس لڑکے کو بیس ہزار روپے ماہانہ پر اپنے پاس لے آیا۔

پندرہ دن کے بعد اس دکاندار کو اس کا کام سمجھ نہ آیا تو اسے چھٹی دے دی اور وہ اپنے گھر بیٹھ گیا۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ اب اسے مارکیٹ میں کوئی بھی کام نہیں دے گا لیکن اس لڑکے کے بارے مشہور تھا کہ اس کا انداز اور کمیونیکیشن اتنی کمال ہے کہ کبھی کوئی کسٹمر خالی نہیں گیا۔ ہر طرح کے سوٹ سے چوڑیاں میچ کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ کسٹمر کو مطمئن کرنا جیسے اس کے خمیر میں شامل ہے۔
پھر دس دن بعد یوں ہوا کہ،
یہ لڑکا پہلی جگہ پر جہاں سے دس ہزار روپے ماہانہ لے رہا تھا۔ اسی دکان کا مالک اس کے گھر پہنچ گیا اور مسلسل چکر لگانے کے بعد اس لڑکے کو چھبیس ہزار روپے ماہانہ پر واپس لے آیا۔

یاد رہے کہ چھ ماہ پہلے وہ جہاں دس ہزار لے رہا تھا آج وہاں پر ہی چھبیس ہزار لے رہا ہے۔ آپ میں اتنی مہارت ہونی چاہیے کہ آپ کمپنی کی مجبوری بن جائیں کمپنی آپ کی مجبوری کبھی نہ بنے۔

دس ہزار کی تنخواہ پر پچاس ہزار کا کام کرنا آپ
کو بہت جلد پچاس ہزار لینے کے قابل بنا دیتا ہے لیکن یہ سوچ کہ دس ہزار میں دس ہزار والا کام ہی کرنا ہے۔

یہ سوچ آپ کو ساری زندگی دس ہزار روپے پر دھکے کھانے پر مجبور کر دے گی۔

یہ آپ لوگوں کے لیے شاید بڑی بات نہ ہو لیکن مزدور طبقے میں چھ ماہ میں اتنی ترقی کرنا بہت بڑی کامیابی ہے۔
دو لاکھ یا پانچ لاکھ کا مطلب کامیابی نہیں بلکہ کامیابی تو یہ ہے کہ آپ اوپر جا رہے ہیں۔ پانچ فیصد، دس فیصد یا روزانہ ایک فیصد۔ لیکن آپ خود کو بہتر بنا رہے ہیں۔
سلامت رہیں

10/09/2025

11 ستمبر 74 ویں برسی قائد ملت محترم جناب محمد علی جناح رح
امید ، ہمت اور خود اعتمادی
میرے ہم وطنوں کے لیے میرا یہی پیغام
قائد اعظم محمد علی جناح رح
( قوم سے خطاب 24 اکتوبر 1947 )

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Near Hafiz Jamal Tomb Multan
Multan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00