Bhatti sahb
kuch nahi btana
ایک بادشاہ تھا جنگل میں محل تھا وہ بہت خوش رہتا کہ یہاں پہ کسی کی شکایت نہیں آتی ایک دن وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت غستاخی ماف چھوٹے منہ سے بڑی بات کرنا چاہتا ہوں پہلے تو بادشاہ سوچ میں پڑ گیا کہ ایسی کیا بات ہے بادشاہ نے کہا کہو کیا کہنا چاہتے ہو وزیر نے کہا کہ آپ نہیں چاہتے کہ لوگوں کو پتا چلے آپ بادشاہ ہو لوگ آپ کے آگے سر جھکائیں بادشاہ سن کر ہسا اور کہا وزیر کیا تم یہ چاھتے ہو جنگل کٹوا کر شہر بنا دیں تو ٹھیک ہے کٹوا دو وزیر نے کہا کہ جنگل نہ کٹوائے یہ تو اللّه تعالیٰ کی نعمت ہے کیوں نہ آپ شہر میں ہی محل بنوا لو بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے آج رات میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں وزیر چلا گیا ساری رات بادشاہ سوچتا رہا صبح وزیر کو بلایا کہا کہ مجھے تمہاری بات اچھی لگی تم جاؤ وہا پہ زمین خرید کر ایک عالیشان محل تیار کرو وزیر نے زمین خرید کر ایک عالیشان محل تیار کروایا بادشاہ کے پاس گیا اور کہا کہ بادشاہ سلامت محل تیار ہوگیا ہے بس اُس محل میں آپ کی کمی ہے بادشاہ نے سبھی سپاہیوں کو کہا کہ شہر جانے کی تیاری کرو اب بادشاہ کے ساتھ سبھی جا رہے ہیں ابھی بادشاہ محل پہنچا ہی نہیں شہر میں داخل ہوا ایک شخص نے بادشاہ کی سواری روک کر کہا کہ مجھے بادشاہ سلامت سے بات کرنی ہے بادشاہ نے کہا کہ آنے دو جو کہنا ہے کہو اُس شخص نے کہا کہ آپ کو جو مصلہ بتاؤں کیا آپ حل کرو گے بادشاہ نے کہا کہ اگر میرے لائک ہوا تو ضرور کرونگا شخص نے کہا کہ پھر آپ پہلے محل چلو ہم آتے ہیں بادشاہ محل پہنچا کچھ وقت بعد وہ شخص اور لوگوں کے ساتھ محل میں گیا ایک شخص نے کہا کہ بادشاہ سلامت اس شہر میں کوئی طبیب نہیں ہے دوسرے نے کہا کہ سڑک ٹوٹی ہوئی ہے رات کو آنے جانے میں دشواری ہوتی ہے تیسرے نے کہا کہ پانی کی بہت قلت ہے پانی کا ایک کنواں تھا جو کہ وہ خشک ہوگیا ہے سبھی نے اپنا اپنا مصلہ بتایا بادشاہ چپ کر کے سنتا رہا جب سبھی نے سارے مصلے بیاں کر لیے بادشاہ نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر آپکے سارے مصلے ہل ہو جائیں گے سارے لوگ واپس چلے گئے بادشاہ نے وزیر کو پیغام بھیجا کہ ہی سارے مصلے ایک ہفتے کے اندر ہل ہو جانے چاہیے ایک ہفتے میں سارے مصلے ہل ہو گئے لوگ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ بادشاہ سلامت تو نیک دل انسان ہیں ایک بچے نے کہا کہ مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو ابھی پتا چل جائے گا کہ بادشاہ اچھا ہے یا برا لوگ ہیران ہوگئے بچے نے پھر سے کہا کہ مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو ابھی پتا چل جاتا ہے کہ وہ اچھا ہے یا برا اچھا جی بچے کو لے گئے بادشاہ کے پاس بچے نے بادشاہ کو کہا کہ آپ بادشاہ ہو کہا کہ بلکل ہوں بچے نے کہا کہ کیا آپ اچھے بادشاہ نے کہا ہاں ہوں کہا کہ کیا بات ہے بچے یہ کیسا سوال ہے کیا مصلہ ہے بتاؤ ہم ہل کر دیں گے بچے نے کہا کہ جس جگہ پہ آپ کا محل ہے یہ دراصل ہماری زمین ہے جو کہ آپ کے وزیر نے کہا تھا کہ اس زمین پہ بادشاہ سلامت کے لیے محل بننا ہےجو کہ آپ لوگوں کے لیے ہوگا بادشاہ نے کہا وزیر نے بلکل درست کہا تھا ہم آپ لوگوں کے لیے ہی آئے ہیں کیا مصلہ ہے بیاں کرو بچہ ہستے ہوئے کہا کہ تم بادشاہ نہیں ہو پہلے مانو پھر مصلہ بتاؤں گا بادشاہ غصے سے بولا کہ میں بادشاہ ہوں تمہیں علم نہیں ہے کیا میں ہوں بادشاہ بچہ ہستے ہوئے کہا کہ ایک جواب مل گیا اچھا ٹھیک ہے ہو بادشاہ اب صرف اتنا کہو کہ میں کسی کا مصلہ ہل نہیں کر سکتا بادشاہ پھر غصے سے بولا بادشاہ ہوں ہر مصلہ ہل کر سکتا ہوں بچہ ہستے ہوئے کہا کہ دوسرا جواب بھی مل گیا اچھا ایک اور کام ہے آپ بادشاہ ہو ہم مانتے ہیں آپ صرف اتنا کہو کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا بادشاہ غصے سے سپاہی بچے کو قید کر لو بچہ ہستے ہوئے کہا کہ بس سارے سوالوں کے جواب مل گئے بادشاہ نے بچے کو روکہ اور کہا کونسے جواب بچہ ادب سے کھڑا ہوا اور کہا کے پہلے تو مافی چاہتا ہوں آپ سے مجھے ماف کرنا یہ سوال تھے آپ بادشاہ ہو صرف اپنی سلطنت کے اور کسی بھی چیز کے نہیں بادشاہ ہو تو ایک بات بتاؤ ایک ہی سوال ہے میرا ایک کام ہے اگر آپ کر دو تو میرے اور آپ کے لیے اچھا ہے بادشاہ مسکرایا اور کہا کہ کام بتا کروا دیتا ہوں بچہ اب سخت موڈ میں کھڑا تھا اور کہا اوئے بادشاہ بس یہی رک جا توں بادشاہ نہیں ہے چاہے توں مجھے پھانسی پے چڑاہ دےلیکن میں انکار کرتا ہوں تمہاری بادشاہی سے بادشاہ نے کہا اب کیا ہوا مصلہ ہل کروا تو رہا ہوں اور کیا چاہتا ہے بچے نے کیا ہی خوبصورت جواب دیا کہا کہ بادشاہ تو میرا اللّه تعالیٰ ہیں جو کسی کو نہیں کہتا جو بھی کرتا ہے خود کرتا ہے اپنے بندوں کا انتظار بھی نہیں کرتا کہ یہ مانگے تو دوں وہ تو حالات دیکھ کر ہی کہتا ہے کُن اور ہر مصلہ ہل ہو جاتا ہیں بادشاہ سلطنت پہ بیٹھنے کے لیے نہیں لوگوں کی مدد کے لیے ہوتا ہے بادشاہ صرف میرا اللّه تعالیٰ ہے جب نہیں تھی تمہاری بادشاہی تب بھی ہم خوش تھے ابھی بھی ویسے ہی ہیں بادشاہ چپ ہوگیا اور کائی دن تک عوام کی انتظار کرتا رہا کہ کوئی تو اپنا مصلہ بتانے آئے کوئی نہیں آیا آخر کار وہ خود باہر نکلا عوام کو دیکھا کہ لوگ سچے ہیں جیسے بچے نے بتایا ویسا ہی ہے بادشاہ اب خود گھر گھر جاتا مصلہ پوچھتا اور حل کرتا اب سارے لوگ خوش ہیں شہر میں کوئی مصلہ نہیں بچا بادشاہ نے اس بچے کو بلایا اور کہا کہ مجھے ماف کرنا میں غلط تھا مجھے نہیں پتا تھا کہ بادشاہ کیا ہوتا ہے آپکی بات ہی سن کر مجھے پتا چلا ہے کہ میں بادشاہ نہیں ایک انسان ہوں اب وہ شہر ہر مصلے سے آزاد ہے لوگ پہلے سے زیادہ خوش ہیں صرف ایک بچہ کی وجہ سے پورے شہر میں خوش حالی آئی ہے
تو فرنڈز اس کہانی کو لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے ہمارے سر پہ جو بھی وزیراعظم بیٹھتا ہے اسے سیدھا اُس وقت کیا جا سکتا ہے جب ہم سامنے ہوکر اپنے ہک کے لیے سوال کریں گے آپ لوگوں کو کیا سبق ملا اگلی کہانی شاید نہ لکھ سکوں زندگی کا بھروسہ نہیں ہے شیراز بھٹی کے لیے دعا کرنا اللّه نگھیبان
24/08/2023
17/08/2023
My new picture
Aslamu alaikum mujhe shiya party se 4 question krne hai jawab de tanqeed krne walo shiya party
( 1 ) Kia imame Hussain ne Jung ka ilan kiya tha ?
( 2 ) kia ap log bta sakte hai k imame Hussain ki all k kitne admi they?
( 3 ) Sahaba a kram pe ungli uthate ho k wo nahi they jung ma wo they or kitne they?
( 4 ) Karbla a Jung ma imame Hussain k kitne bhai they or name kia kia tha?
Abhi or bhi swal hai pehle in sbke jawab de do baki k baad ma karunga suni bhi jawab de sakta hai
تم سينہ پيٹ كر كہتے ہو يا حسين
ہم سينہ تان كر كہتے ہيں يا حسين
ماتم نہيں ہے كوئى قصہ حسين كا
سڑكوں پر نہ ديكهاؤ تماشہ حسين كا
قرآن كہہ رہا ہے زنده ہيں سب شہيد
اور تم نكالتے ہو جنازه حسين كا