Quran Translation&Islamic World
Islamic world
دین اسلام ہمارا پیارا مذہب �
الحمدللہ
آنکھوں میں تمنا ھے رُخسارِ مُحمّد ﷺ کی
حسرت ھے میرے دل میں دیدار مُحمّد ﷺ کی
🙏🙏🙏
العشق ھوالذات Hina Zulfiqar سائیں بادشاہ چشتی صابری ساٸیں اکمل
سیرت النبی کریم ﷺ..قسط 9
آپ ﷺ کی ولادت مبارکہ کے وقت عربوں اور خصوصا" مشرکین مکہ میں جن بتوں کو بہت اھم جانا جاتا تھا ان کی تفصیل درج ذیل ھے..
ھبل..
یہ مشرکین مکہ کے سب سے اھم ترین بتوں میں سے ایک تھا.. دراصل یہ اھل شام کا دیوتا "بعل" تھا جس کے معنی "طاقتور" کے ھیں اور جسے عربوں نے (بعل کی تحریف شدہ شکل) ھبل کا نام دیا.. یہ بت قریش مکہ کو انسانی مورت کی شکل میں ملا جو سرخ عقیق سے تراشا ھوا تھا.. اس کا دایاں ھاتھ ٹوٹا ھوا تھا.. قریش مکہ نے وہ سونے کا بنوا کر لگا دیا.. ھبل خاص خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا.. مشرکین مکہ جنگوں میں اسی ھبل کا نام لیکر نعرے لگاتے تھے.. فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے پاش پاش کیا..
عزی'..
مکہ سے چند میل دور وادی نخلہ میں کیکر کے ایک درخت کے نیچے عزی' کا تھان تھا جہاں عزی' کا بت نصب تھا جبکہ خانہ کعبہ میں بھی عزی' کا بت رکھا ھوا تھا جسے فتح مکہ کے وقت توڑا گیا.. جبکہ وادی نخلہ میں عزی' کے اصل بت کو توڑنے کے لیے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا.. عزی' کا بت مشرکین مکہ کے نزدیک سب سے عظیم ترین بت تھا..
لات..
یہ طائف میں اس جگہ نصب تھا جہاں آج کل مسجد طائف کا بایاں مینار ھے.. لات کے معنی ھے "ستو گھولنے والا".. دراصل یہ ایک شخص تھا جو حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا.. بعد میں عمرو بن لحی کے ایما پر اس کا بت بنا کر اس کی پوجا کی جانے لگی.. قریش رات سونے سے پہلے عزی' اور لات کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور قسم بھی انہی دو بتوں کی کھایا کرتے تھے..
منات..
یہ عرب کا سب سے قدیم ترین بت تھا جو مکہ اور مدینہ کے بیچ میں "مشلل" کے علاقہ میں "قدید" کے مقام پر سمندر کے قریب نصب تھا.. منات کی پوجا کا آغاز بھی عمرو بن لحی نے کیا.. قبائل اوس و خزرج جب حج کرکے واپس مدینہ کو روانہ ھوتے تو منات کے بت کے پاس ھی احرام اتارا کرتے جبکہ بنو ازد اور بنو غسان تو باقائدہ اسی بت کا حج بھی کرتے تھے.. اھل مدینہ کے نزدیک حج کی تکمیل تب تک نہ ھوتی تھی جب تک منات کی پوجا نہ کی جاۓ.. اس بت کو بھی نبی کریم ﷺ کے حکم پر فتح مکہ کے لیے جاتے ھوۓ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منہدم کردیا..
اساف و نائلہ..
یہ انسانی شکل کے بت تھے.. دراصل ایک مرد "اساف" اور عورت "نائلہ" کعبہ میں زنا کے مرتکب ھوۓ اور جب لوگوں نے آکر دیکھا تو وہ پتھر بن چکے تھے.. اھل مکہ نے انہیں عبرت کے لیے صفا اور مروہ پر رکھ دیا تھا مگر انہیں بھی عمرو بن لحی حرم کعبہ میں لے آیا اور زم زم کے پاس رکھ دیا.. لوگ ان کا طواف بھی کرتے اور قربانیاں بھی کرتے تھے..
سواع..
یہ ان پانچ بتوں میں شامل تھا جن کو قوم نوح پوجا کرتی تھی اور جنہیں عمرو بن لحی شام سے لایا تھا.. باقی چار بتوں میں نسر , ود , یعوق اور یغوث شامل ھیں.. یہ بت عورت کی شکل میں تھا اور مدینہ منورہ کے قریب نصب تھا..
نسر..
یہ بت یمن میں حمیر کے علاقے میں نصب تھا.. یہ گدھ کی شکل میں تھا.. اھل حمیر تب تک اس کی پوجا کرتے رھے جب تک انہوں نے یہودی مذھب اختیار نہ کرلیا..
یعوق..
یعوق کے معنی "مصیبت روکنے والا" ھیں.. گھوڑے کی شکل والا یہ بت عمرو بن لحی شام سے لایا تھا اور اسے بنو ھمدان و خولان کے حوالے کیا تھا جو اسے اپنے ساتھ یمن لے گئے اور اسے "صنعاء" سے کچھ فاصلے پر "ارحب" کے مقام پر نصب کرکے اس کی پوجا شروع کردی..
یغوث..
یہ بت بھی یمن کے ایک علاقہ "اکمہ" میں نصب تھا.. یہ شیر کی شکل کا بت تھا.. یغوث کے معنی "فریاد کو پہنچنے والا" ھیں..
ود..
یہ بت دومتہ الجندل کے مقام پر نصب تھا اور بنو کلب اس کی پوجا کرتے تھے جبکہ قریش مکہ بھی اس کی عظمت کے قائل تھے اور اس کو پوجتے تھے..
انکے علاوہ عائم , الضیزنان , اقیصر , الجلسد , ذوالخلصہ , ذوالشری اور ذوالکفین بھی عربوں کے اھم بتوں میں شامل ھیں جبکہ غیر اھم بتوں کی ایک کثیر تعداد ان کے علاوہ ھے..
------------------>جاری ھے.
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری
سیرت النبی کریم ﷺ..قسط 7
قریش اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبہ کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے لہذا حضرت عبدالمطلب نے انہیں کہا کہ سب اپنے بال بچوں اور مال مویشی لیکر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ھو..
پھر وہ قریش کے چند سرداروں کے ساتھ حرم کعبہ پہنچے اور اللہ کے حضور اپنی کمزوری کا اظہار کرکے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر کی خود حفاظت فرماۓ.. مؤرخین نے حضرت عبدالمطلب کے جو دعائیہ اشعار نقل کیے وہ یہ ھیں..
"الہی! بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ھے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما.. کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر غالب نہ آنے پاۓ.. صلیب کی آل کے مقابلے پر آج اپنی آل کی مدد فرما..
اے میرے رب ! تیرے سوا میں ان کے مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا.. اے میرے رب ! ان سے اپنے حرم کی حفاظت فرما.."
یہ دعائیں مانگ کر حضرت عبدالمطلب بھی سرداران قریش کے ساتھ باقی اھل مکہ کے پاس پہاڑوں میں چلے گئے..
دوسرے روز ابرھہ نے مکہ پر حملہ کا حکم دیا اور وہ مکہ میں داخل ھونے کے لیے آگے بڑھا مگر حیرت انگیز طور پر اس کا خاص ھاتھی "محمود" مکہ کی طرف چلنے کی بجاۓ یکایک وھیں بیٹھ گیا اور بےپناہ کوشش کے باوجود بھی اپنی جگہ سے نہ ھلا مگر جب اس کا مونھ شام کی طرف کیا گیا تو اٹھ کر چلنے لگا اور یمن کی طرف رخ ھوا تو ادھر بھی دوڑنے لگا مگر مکہ کی طرف اسے چلانے کی کوشش کی جاتی تو ایک انچ ادھر نہ بڑھتا.. نتیجتہ" باقی ھاتھیوں سمیت سارا لشکر بھی اپنی جگہ انتظار میں رکا ھوا تھا..
ابھی وہ اسی چکر میں پھنسے تھے کہ اللہ کے قہر نے ان کو آ لیا اور اللہ کے حکم سے ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ ان پر نازل ھوگئے.. ھر ابابیل کے چونچ اور دونوں پنجوں میں سنگریزے دبے ھوۓ تھے.. ابرھہ اور اس کے لشکر کے وھم و گمان میں بھی نہ ھوگا کہ ان کے ساتھ کیا ھونے والا ھے.. ابابیلوں نے عین ان کے اوپر آ کر وہ سنگ ریزے گرانا شروع کردیے..
وہ سنگ ریزے , سنگ ریزے کہاں تھے.. وہ تو اللہ کا عذاب تھے.. جس پر جہاں گرتے , بجاۓ صرف زخمی کرنے کے کسی چھوٹے بم کی سی تباھی مچا دیتے.. اللہ کے گھر پر حملہ کرنے کی جرآت کرنے والوں کے لیے کہیں کوئی جاۓ پناہ نہ تھی..
تھوڑی ھی دیر میں ابرھہ اپنے 60 ھزار کے لشکر اور 13 ھاتھیوں سمیت سنگریزوں کی اس بارش میں اپنے انجام کو پہنچا اور یوں پہنچا کہ جیسے کھایا ھوا بھوسہ ھو.. ھر طرف انسانی لاشیں چیتھڑوں کے روپ میں پڑیں تھیں..
یہ واقعہ 571 عیسوی میں محرم کے مہینہ میں مزدلفہ اور منی' کے درمیان وادی محصب کے قریب محسر کے مقام پر پیش آیا.. جس سال یہ واقعہ پیش آیا اھل عرب اسے عام الفیل کہتے ھیں جبکہ اسی سال اس واقعہ کے 50 دن بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارک ھوئی..
------------------------>جاری ھے.
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Address
Multan
61000