Zeeshan Habib Official

Zeeshan Habib Official

Share

🔹 Dream big, work hard, stay humble. 🚀💙

28/06/2025

گاؤں "چنارپور" کا نام آتے ہی لوگوں کی آنکھوں میں ایک خوف اُبھر آتا تھا۔ اور اس خوف کا دوسرا نام تھا: راجو بدمعاش۔

قتل، چوری، شراب، غنڈہ گردی… راجو کا نام ہر فہرست میں سب سے اوپر تھا۔ پولیس بھی اس سے الجھنے سے گھبراتی تھی۔ گاؤں میں ماں باپ اپنے بچوں کو اُس کا نام لے کر ڈراتے تھے۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ راجو کا ماضی ایسا کیوں تھا؟ وہ کیسے بگڑا؟ کچھ ایسا ضرور تھا جس نے اُسے راہ سے ہٹا دیا تھا… لیکن کیا؟

ایک غیرمعمولی ملاقات:

نئے تعلیمی سال میں گاؤں کے اسکول میں ایک پر اسرار سی لڑکی آئی — نائلہ بی بی۔
باپردہ، خاموش مزاج، آنکھوں میں کچھ راز چھپائے، جیسے وہ کسی خاص مشن پر آئی ہو۔

پہلے دن ہی اسکول کے دروازے پر راجو کھڑا تھا، سگرٹ سلگاتا ہوا۔ نائلہ کی اُس پر نظر پڑی، مگر اُس نے نظر جھکائے بغیر بس اتنا کہا:
"جو خود کو سب سے بڑا سمجھتا ہے، اُس کی کہانی سب سے زیادہ ادھوری ہوتی ہے…"

راجو حیران ہوا۔ نہ وہ ڈری، نہ جھجکی۔ ایک عجیب خاموشی راجو کے دل میں اُتر گئی۔

رازوں کی گتھیاں:

کچھ دنوں بعد راجو کو پتہ چلا کہ نائلہ، اُس کی بہن کی اُستانی ہے۔ لیکن اصل چونکانے والی بات تو یہ تھی: نائلہ اُس شخص کی بیٹی تھی، جس کی زندگی ایک زمانے میں راجو کے ہاتھوں برباد ہوئی تھی۔

یہ جاننے کے بعد راجو رات بھر نہیں سویا۔ کیا یہ سب اتفاق تھا؟ یا نائلہ واقعی اُسے سزا دینے آئی ہے؟
مگر نائلہ نے بدلہ نہ لیا۔ بلکہ اُسے انسان بنانے کی ضد پکڑ لی۔

آزمائش:

جب راجو نے بدلہ لینا چھوڑا اور توبہ کی راہ پر قدم رکھا، تو اس کے اپنے ہی ساتھی اُسے مارنے نکلے۔ راجو پر ایک رات چاقو سے حملہ ہوا، اور زخمی حالت میں وہ نائلہ کے دروازے پر گر گیا۔
نائلہ نے اُسے سنبھالا، مرہم لگایا اور صرف ایک جملہ کہا:

"جب انسان خود کو سزا دے دے، تب بدلہ بے معنی ہو جاتا ہے…"

کہانی کا انجام:

راجو نے اپنا تمام ماضی دفن کر دیا۔ گاؤں والے اب اُسے “راجو استاد” کہتے ہیں۔ مدرسے کا پرانا حصہ اُس نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا، اور نائلہ اب اُس کی شریکِ حیات ہے۔

لیکن ایک راز وہ آج بھی دل میں چھپائے بیٹھا ہے —
نائلہ کی آنکھوں میں وہ ادھورا سوال، جس کا جواب راجو نے کبھی نہیں دیا:
"تم نے میرے ابا کو کیوں توڑا تھا…؟"

---

اختتام (یا شاید آغاز):
یہ کہانی ختم نہیں ہوتی…
بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ بعض اوقات انسان کو سوارنے کے لیے کسی فرشتے کی نہیں، ایک درد جھیلی ہوئی لڑکی کی ضرورت ہوتی ہے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

Multan