Malaika Sheikh Writer
I want to live every moment with u and I want to love u till my last Breath❤️🌹🖇️😘
20/03/2026
قسط نمبر 7
از ہاشمی ہاشمی
نور گھر ائی تو بھاگ کر اپنے بابا کے سینے سے لگئی بابا آپ ٹھیک ہو نور نے پریشان ہو کر پوچھا
عبداللہ صاحب اس کی حرکت پر پریشان ہو
جی بابا کا بیٹا بابا ٹھیک ہے آج میرا بچا جلدی اگئے
عبداللہ صاحب نے اس کو خود سے الگ کرنے کی کوشسش کی لیکن نور نہیں ہوئی
بابا آپ کہاں تھے نور نے پوچھا میں تو کام پر تھا کیوں کیا ہوا نور بچے کوئی پریشانی کی بات ہے
اس بات پر نور ان سے الگ ہوئی
بابا آپ کو پتا ہے میں آج ڈدر گئی تھی نور نے پیار بھرئ نظرو سے عبداللہ صاحب کو دیکھا
کیوں میری بیٹی تو کیسی سے ڈدرتی نہیں ہے انہوں نے پیار کرتے ہوے کہا
نہیں بابا میں ڈدرتی ہو آپ کو کھو دینے سے نور نے کہا اور پھر سے ان کے سینے لگ گئی
میرا بچا کیا ہو ہے کیوں اپنے بابا کو پریشان کررہی ہو اس کی باتوں سے اب وہ پریشان ہو گئے تھے
بابا آپ کو پتا ہے نا کہ میں نے آج تک آپ سے جھوٹ نہیں بولا آج بھی نہیں بولو گئی لیکن مجھے کچھ وقت دے سچ بتانے کے لیے نور افسوس سے بولی
نور بچے کیا بات ہے یونی میں کچھ ہوا ہے ان نے پوچھا
بابا پلیز ابھی نہیں نور سے کہا
کچھ وقت وہ خاموش رہے پھر بولے ٹھیک ہے میرے بچے بابا انتظارا کرے گئے میری بیٹی مجھے کب پریشانی بتائے گئی
شکریہ بابا آپ کو پتا ہے آپ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہے نور نے کہا
اس کی بات پر وہ مسکرائے چلو کچھ وقت آرام کر لو پھر دونوں مل کر بریانی بناے گئے
اس پر مسکرائ جی بابا اور اپنے روم میں چلی گئی
اللہ میری بچی کی پریشانی دور فرما انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا کر کہا
نور اپنے روم میں آئ یہ میں نے کیا کیا اگر بابا کو پتا چلا تو کیا ہو گا یا اللہ میری مدر فرما مجھے صبر دے آمین
__________________________
وارث بلال کے روم میں ایا بلال میرے بھائی ناراض ہے مجھے سے کیا بلال جو اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشسش کر رہا تھا اس کی بات سن کر اور آیا
اس وقت وہ وارث سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے چپ کر کے روم سے جانے. لگا تو وارث اس کے راستہ میں دیوار بن کر کھڑا ہو گیا بلال پلیز میری بات تو سن وارث نے کہا
اس کی بات اور حرکت پر وہ پہلے ضبط کیے ہو تھا
ایک مکار وارث کے منہ پر مارا سالے تم نے میری ڈول کو مجھے سے اغوہ کرویا اور اس سے زبردستی نکاح کیا یہ تو نے اچھا نہیں کیا شاہ جتنے غصہ سے بلال نے بات شروع کی آخر میں انتا ہی بے بس ہوا
وارث کو پتا تھا کہ وہ ناراض ہو گا لیکن اس طرح ری اکٹ کرے گا اس کو اندزہ نہیں تھا
بلال پلیز ناراض نہیں ہو مجھے خود دو دن پہلے پتا چلا ہے کہ وہ ڈول ہے میں پھر اس کو محفوظ کرنا چاہتا تھا
شاہ مجھے ڈول سے ملنا ہے بلال نے کہا بلال میرے پیارے بھائ ایسا ممکن نہیں ہے تو جانتا ہے نا
شاہ مجھے نہیں پتا تو جانتا ہے نا میں ڈول سے کتنی محبت کرتا ہوں بلال نے کہا اور ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا
اس کی تڑپ پر شاہ نے جلدی سے اس کو گلے لگیا
ٹھیک ہے میں کچھ کرتا ہو لیکن تو اس کو بھابھی بولے گا
اس کی بات پر بلال مسکرایا ٹھیک ہے شاہ میں خوش ہو میری ڈول کی شادی میرے دوست سے ہوئی ہے
اس کی بات پر شاہ نے اس کو گھورا اس لیے تم نے اپنی بہن کے شوہر کو مارا ہے
اس کی بات پر بلال نے قہقہا لگایا یار میرے دوست نے حرکت ہی ایسی کی تھی
اچھا سالے ابھی توجے بتاتا ہو شاہ نے کہا اور ایک مکار بلال کو مارا
دونوں ایک دوسرے کو مارنے میں مصروف تھا کہ حنسں روم میں ایا اور پریشان ہو گیا
بھائ کیا ہو آپ لڑ کیوں رہے ہو حنسں نے پوچھا
اس کی بات پر دونوں چونکے تم دونوں ایک ساتھ بولے اور پھر ہسنے لگے
جبکہ حنسں کو دونوں کی دماغی حالت پر شک ہو
بھائ آپ دونوں ٹھیک ہو نا آپ دونوں ہسنے کیوں رہے ہو
دونوں مسکرائے اور دونوں نے حنسں کو گلے سے لگیا
یار ہم بہت خوش ہیں کیوں بھائ حنسں نے پوچھا
کیوں کہ شاہ نے نکاح کر لیا ہے بلال نے شرارت سے کہا
کیا اس کی بات پر حنسں کو کرنٹ لگ
بھائ حنسں نے صدمہ سے کہا جبکہ شاہ سے بلال کو آنکھیں دیکھائی
بھائ میں نہیں بولتا آپ سے حنسں نے. کہا اور روم سے چلا گیا
یار یہ کیا کیا ہے تم نے حنسں ناراض ہو گیا ہے مجھے سے شاہ نے کہا
اچھا ہوا تمہیں کس نے کہا تھا اس طرح نکاح کرو بلال نے کہا اور روم سے بھاگ گیا کیونکہ اب بلال کو پتا تھا شاہ اس کو نہیں چھورنے والا ہے
______________________
آج نور یونی ائی خود کافی حد تک نارامل کر لیا تھا
کلاس لیے کر باہر ائی اس کی نظر سر توحید پر پرئی وہ اس کی طرف ارہے تھے
ھلیو مس نور کیسی ہے آپ کل کیوں نہیں ائی سر نے پوچھا
ٹھیک ہو سر نور نے سر جھکائے کر جواب دیا سر مجھے. آپ سے ضروری بات کرنی ہے
ہاں کہے سر نے کہا
سر مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی نور نے کہا اس کی بات پر توحید کو غصہ ایا وجہ کیا میں جان سکتا ہوں کیوں
سر آپ اچھے انسان ہے میں نہیں چاہتی آپ میرے ھاتھوں سے قتل ہو جائے آئند اس لہجے میں مجھے سے بات نہیں کریے گا نور نے سخت لہجہ میں کہا اور وہاں سے چلی گئی
دو آنکھیں اس کی بات پر مسکرائ
توحید وہ بھی اس کی بات پر غور کرنے لگا
_____________________
ایک ہفتہ گزرا گیا نور کا یونی میں شاہ سے سامنا بھی ہو جاتا تو دونوں ایک دوسرے کو اگنور کرتا
نور آج نہیں جاو بچے آپ کو بخار ہے عبداللہ صاحب نے فکر سے کہا
اوووو بابا میں ٹھیک ہو اور ایک ضروری کلاس ہے آج نور نے کہا تیار ہونے لگئی
اچھا ٹھیک ہے لیکن پہلے دوائی کھاو پھر جانا عبداللہ صاحب کو دوائی ھاتھ میں لیے کھڑا تھے بولا
ٹھیک ہے لائے نور نے کہا اور دوائی کھا لی اور عبداللہ صاحب کو خدا حافظ کہا اور چلی گئی
قسط نمبر 8
از ہاشمی ہاشمی
بوس ایک بری خبر ہے آزان نے کہا
بوس جو کسی گہرائی سوچ میں تھا آزان کی آواز پر ہوش میں ایا کیا ہو بوس نے پوچھا
بوس ہمارے مال پکڑا گیا ہے آزان نے پریشانی سے کہا
اس کی بات پر بوس کو غصہ ایا
کس (گالی) کی انتی ہمت ہوئی ہے بوس نے پوچھا
بوس یہ کام کسی پولیس والا کا نہیں ہے یہ کام آرمی والوں کا ہے آزان نے. بتایا
اووو تو R D کا مقابلہ اب آرمی والوں سے ہے مزہ ائے گا بوس نے مسکراتے ہوے کہا
اب کیا کرنا ہے بوس آزان نے پوچھا
جو کرنا ہے اب میں کرو گا تم بس اب لڑکیوں کو دبئی میں بیجنے کی تیاری کرو بوس نے کہا
اوکے بوس آزان نے کہا اور چلا گیا
آزان کے جانے کے بعد بوس نے فون کیا
ھلیو ہاں کراچی میں بلاسٹ کرو دو ہاں ٹھیک ھے بائے بوس نے کہا اور فون بند کیا
اہم ہم اب R,D کا نقصان ہوا ہے تو کچھ نقصان اس ملک کا بھی بناتا ہے R,D نے مسکراتے ہوے کہا
_____________________
نور کلاس لیے کر باہر آئ تو اچانک آنکھیں کے اگے اندھیر ایا
اللہ لگتا ہے طعبیت زیادہ خراب ہو گئی ہے نور نے کہا اور بیج پر بیٹھ گئی مجھے سے تو اٹھا بھی نہیں جارہا ہے چکرا ارہے ہے اب کیا کرو
اس ہی وقت شاہ نور کے پاس ایا
شاہ آج بلال کو نور سے ملونے لایا تھا کیونکہ. آج سر توحید چھٹی پر تھے
نور نے سر اٹھا کر شاہ کو دیکھا وہ اس وقت نور کو فرشتہ ہی لگا اس سے پہلے شاہ کچھ کہتا نور بولی
مسٹر سنئیر پانی پلیز
شاہ اس کی بات پر پریشان ہوا نور تم ٹھیک ہو
جی میں. ٹھیک ہوں پانی پلیز نور نے اٹک اٹک کے کہا
ھاں بلال پانی لینے چلا گیا اور
شاہ نے پانی کی بوتل نور کو دی نور اس سے پہلے پانی پیتی آنکھیں کے سامنے اندھیر ایا اور وہ بے ہوش ہو گئی
شاہ اور بلال دونوں پریشان ہوگئے نور شاہ نے اگر ہو کر نور کے چہرہ پر ھاتھ رکھا اوشٹ اس کو بہت بخار ہے شاہ نے کہا اور نور کو اٹھا کر ہپستال لے ایا
______________________
دونوں پریشان سے باہر بیٹھے تھے جب ڈاکٹر باہر آیا
پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے پی بی لو کی وجہ سے یہ بے ہوش ہوئی ہے کچھ وقت بعد ہوش اجاگا ڈاکٹر نے کہا اور چلے گیا
کچھ وقت بعد نور کو ہوش ایا تو خود کو ہپستال کے روم میں پایا
اس ہی وقت شاہ روم میں ایا
اووو شکر ہے تم ٹھیک ہو نور شاہ نے کہا جی ٹھیک ہو اب نور نے سنجیدر لہجہ میں کہا
تمہیں بخار تھا تو یونی ائی کیوں شاہ نے پوچھا
نور اس کے جواب میں چپ رہی
اس ہی وقت بلال اندر ایا نور بلال کو دیکھا کر پریشان ہوئی اور شاہ کی طرف دیکھا جیس پوچھ رہی ہو یہ کون ہے
شاہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر بولا
یہ بلال ہے میرا دوست اور بھائ شاہ نے کہا
اور بلال یہ نور ہے تمہاری بھابھی شاہ نے شرارت سے کہا
اسلام و علیکم بھابھی بلال نے کہا
نور نے پہلے شاہ کو گھورا پھر بلال کو
و علیکم اسلام بلال بھائ میں آپ کی بھابھی نہیں ہو نور نے منہ بنتے ھوے کہا
بلال کو وہ بہت کیوٹ لگئی اوکے بہنا طعبیت ٹھیک ہے اب آپ کی بلال نے پوچھا
جی الحمداللہ ٹھیک ھے نور نے کہا
میرا پرس کہاں ہے نور نے شاہ سے پوچھا تو شاہ نے اس کو پرس دی یا نور نے اپنے بابا کو فون کیا
اچھا بہنا میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا بلال نے کہا اور نور کے سر پر ھاتھ رکھا
یہ لمس نور کو اتنا اپنا لگا تھا بلال بھائ نور کے منہ سے بے ساختہ نکالا
بلال جو جانے کے لیے مڑا تھا نور کو دیکھا
کچھ وقت نور بلال کو کنفثور نظروں سے دیکھتی رہی اللہ حافظ نور سے جلدی سے کہا
بلال اس کی بات پر مسکرایا اور چلا گیا اس کے جانے کے بعد نور پریشان سی بلال کے بارے میں سوچتی رہی
شاہ نور کو پریشان دیکھ کر مسکراتا ہوا باہر چلا گیا
بلال جو ضبظ کر رہا تھا جب نور نے کہا بلال بھائ بلال کا دل کیا کہ نور کو اپنی ڈول کو گلے سے لگ لے
بلال تو ٹھیک ہے شاہ نے پوچھا
شاہ میں بہت خوش ہو تم نے دیکھا اس نے مجھے رکا اس کی نظروں میں دیکھ تم نے بلال نے خوشی سے کہا
ھاں یار ایک بات ہے اس کی چٹھی حسس تیز ہے شاہ نے سوچتا ہوے کہا
عبداللہ صاحب ہپستال ائے نور کے پاس ائے نور میں بچا کہا بھی تھی نہیں جاو یونی عبداللہ صاحب پریشان ہوتے کہا
بابا میں ٹھیک ہو بس اب تو ڈاکٹر نے بھی چھٹی دے دی ہے نور نے اپنے بابا کو پریشان ہوتے ہوئے دیکھ کر پیار سے کہا
میری بچا عبداللہ صاحب نے اس کی بات پر نور کو خود سے لگیا اور نور مسکرا دی
جبکہ روم سے باہر شاہ اور بلال دونوں یہ سب دیکھا کر گہرائی سوچ میں چلے گئے
_________________
بلال گھر آیا تو حریم اس کا انتظارا کر رہی تھی بلال حریم کو دیکھا کر مسکرایا ماما آپ سوئی نہیں بلال نے پوچھا
نہیں میں کھانا لاو آپ کے لیے حریم نے کہا
جی آپ گرم کرے میں فریش ہو کر آتا ہو بلال نے کہا
کچھ وقت بعد بلال کھانا کھا رہا تھا اور حریم اس کو دیکھا رہی تھی
کیا ہوا ماما ایسے کیا دیکھ رہی ہے بلال نے پوچھا
دیکھ رہی ہوں ابھی کل کی بات تھی جب تم ضد کرتے تھے کہ میں نے بابا کے ھاتھ سے کھانا کھانا ہے
اور آج بلال میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا ہے وقت کا پتا نہیں چلا
ان کی بات پر بلال مسکرایا جی ماما یاد ہے مجھے
بلال میری جان اب شادی کر لو حریم نے کہا
اس کی بات پر بلال خاموش ہو گیا اور گہرا سانس لیا
ماما مجھے نہیں کرنی شادی ابھی بلال نے کہا
کیوں ابھی تو شاہ نے بھی کر لی ہے وہ افسوس سے بولی
ماما آپ کو پتا ہے میں آج نور سے ملا ہوں بلال نے خوشی سے کہا
کیا کیسی ہے میری ڈول حریم نے بیھگی لہجہ میں پوچھا
ماما بہت اچھی ہے اور اتنی پیاری ہے بلال نے کہا
بلال ڈول کب ائے گئی گھر حریم نے پوچھا ماما بہت جلد ہماری فمیلی مکمل ہو جائے گئی انشاءاللہ
انشاءاللہ حریم نے کہا
_____________
کسی لگئی آج کی اپیی سو پلیز جلدی بتائیں اگر یہ ناول بھی اچھا نہیں لگ رہا تو سٹوپ کر دیتی ہوں ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.