Muhammad Ahmad

Muhammad Ahmad

Share

Quran and Hadees
Bayanaat
Personal writes
and Tableegh

10/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* *

━━❰・ *پوسٹ نمبر 14* ・❱━━━

*فتنہ کے ڈر سے گائے کی قربانی ترک کرنا*

گائے کی قربانی کرنا اسلام میں بلاشبہ جائز ہے ، اور اس کی قربانی پر پابندی محض ظلم ہے؛ لیکن اگر کسی جگہ ملکی قانون کی خلاف ورزی سے فتنہ کے اندیشہ کی وجہ سے گائے کی قربانی سے احتراز کیا جائے تو یہ جائز ہے اور مجبور لوگ گناہ گار نہ ہوں گے۔

*قانونا ممنوع ہونے کے باوجود گائے کی قربانی اورگوشت کا حکم*
اگر کسی جگہ گائے کے ذبح پر قانونا پابندی ہو پھر بھی کسی نے قربانی میں گائے ذبح کرلی تو یہ قربانی شرعا درست ہے اور اس کے گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، کیوں کہ گائے کی قربانی شرعا جائز ہے اور فی نفسہ حلال جانور ہے جو کسی قانون کی وجہ سے حرام نہیں ہوسکتا۔

📚حوالہ:
☆ فتاوی محمودیہ ڈابھیل 17/333
☆ امداد الاحکام 4/191
☆ کتاب المسائل مع ترمیم یسیر 2/312

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

10/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


* *
━━❰・ *پوسٹ نمبر 9* ・❱━━━

*کیا عشر ادا کرنے کے لیے زرعی اخراجات منہا کیے جائیں گے؟*
باغ اور کھیتی سے حاصل شدہ پیداوار پر جتنے اخراجات ہوتے ہیں یعنی زمین کو کاشت کے قابل بنانے سے لے کر پیداوار حاصل ہونے اور اس کو سنبھالنے تک جو اخراجات ہوتے ہیں مثلا ہل چلانا، زمین کو جڑی بوٹیوں سے خالی کرنا ، اسے ہموار کرنا ، تخم ریزی کرنا ، کھاد ڈالنا ، حفاظت کے لیے سپرے کرنا ، مزدوروں کو کٹائی وغیرہ کی اجرت دینا ، تریشر کا خرچہ وغیرہ ، غرض یہ کہ پیداوار حاصل ہونے تک تمام مراحل میں جتنے اخراجات آتے ہیں ، وہ فقہی اصطلاح میں "مونتہ الزرع" کہلاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ خرچے عشر سے منہا نہیں کیے جائیں گے بلکہ پوری پیداوار سے عشر (دسواں یا بیسواں حصہ) نکالا جائے گا۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/244 بیروت
▪☆ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 41

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

09/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


* *
━━❰・ *پوسٹ نمبر 8* ・❱━━━

*کیا آبیانہ کی رقم عشر میں شمار ہوسکتی ہے؟*
حکومت زمینداروں سے جو رقم آبیانہ کے طور پر وصول کرتی ہے، دراصل یہ اس پانی کاحصول ہوتا ہے جو حکومت نہروں کے ذریعے عوام الناس کو مہیا کرتی ہے۔ یہ رقم عشر کے حکم میں نہیں ہے لہذا اس رقم کو عشر میں شمار نہیں کیا جاسکتا البتہ آبیانہ کی وجہ سے پیداوار سے عشر یعنی 10 فیصد کے بجائے پیداوار کا نصف عشر یعنی 5 فیصد حصہ نکالا جائے گا۔

*اگر پانی خرید کر زمین کو سیراب کیا جائے تو عشر کا حکم؟*
☆۔۔۔اگر پانی خرید کر کسی زمین کو سیراب کیا جائے تو اس صورت میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لازم آئے گا، آسان الفاظ میں 20 بوریوں میں سے ایک بوری اور 20 من میں سے ایک من۔ اور ریاضی کے اصطلاح میں اس کو 5 فیصد کہتے ہیں۔

📚حوالہ:
▪☆الدرالمختار 3/244 بیروت
▪☆ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 40

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

Want your business to be the top-listed Media Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Street No 3
Multan
66000