Boli
Let's Learn & Teach! ✅😊👍
Here's Poetry, Religion, and English
کراچی کی ایک نامور شاعِرہ نے اپنے شوھرِ نامدار کی موجُودگی میں ھمیں بتایا کہ مشاعرے میں اُن کے شوھر اُن کو ڈائس پر نہیں بیٹھنے دیتے بلکہ بالکل آخری صَف میں اَپنے پہلو میں بٹھا کر خود خزانے کے سانپ کی طرح رَکھوالی کرتے ھیں۔
جب اُن کا نام پُکارا جاتا ھے تو وہ ڈائس تک خُدا حافِظ کہنے جاتے ھیں. شعر کی داد کے جَواب میں جُھک جُھک کے آداب ، آداب کہنے سے بھی سَختی سے منع کرتے ھیں. کہتے ھیں ، بعضا بعضا مَرد اِس سے بھی Excite ھو جاتا ھے. تُم نہیں جانتیں کہ ھم مَرد کِتنے حَرامی ھوتے ھیں.
کلام سُنا کر جب وہ واپس حصّارِ زَوجیت میں آجاتی ھیں تو سُوں سُوں کرتے ھُوئے سُونگھتے ھیں کہ کپڑوں سے دیویوں اور پریوں کی داستانوں والی مانس گند (آدم بُو) تو نہیں آ رھی۔
بیگم صَاحبہ نے یہ بھی کہا کہ میرے اَشعار میں جِتنے بھی سَکتے ھیں وہ سب اُسی شوھرانہ اِصلاح کے باعث ھیں. ھِجر و فراق سے متعلق جِتنے بھی اَشعار ھوتے ھیں اُن پر سِیاہ مارکر پھیر دیتے ھیں اور کہتے ھیں کہ جب میں چوبیس گھنٹے تمہارے کُولھے سے لگا بیٹھا رھتا ھُوں تو پھر دُوری و مہجُوری کا رانڈ رونا کاھے کو؟
وہ جب بیان کر چُکیں تو شوھر مَوصُوف نے فَرمایا ٫ بَخُدا مُجھے تُمہاری پاکدامنی میں ذرہّ برابر شُبہ نہیں ، مگر تمہاری حَماقت پر کامِل یقین ھے۔
❞مُشتاق احمّد یُوسفی❝
آنکھ لگ جائیں تو ہم خواب میں چل پڑتے ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Multan
60000