FC BLN NORTH

FC BLN NORTH

Share

this group for a organisation

05/05/2023

واصف علی واصف صاحب کیاب گفتگوسوال نمبر 1

04/05/2023

خوف اور ہم

01/05/2023

خاموش چہرہ خاموش لفظ کی طرح صاحب نظر انسان کے سامنے بولتا ہے خاموشی خود گویا ہوتی ہے صاحب نظر سکوت سے ہمکلام ہوتا ہے اس پر عجب عجب انکشافات ہوتے ہیں اس پر راز ہائے سربستہ کھلتے ہیں اس پر افکار عالیہ کا نزول ہوتا ہے اس پر پرانےاسماء (ناموں) کے نئے معانی اپنی نئی جہتوں اور نئی صورتوں کے ساتھ اترتے ہیں اس کیلیے علامات کا در ایسے وا ہوتا ہے کہ وہ رموز مرگ و حیات سے باخبر ہوتا ہے اس کی زندگی میں ہونا اور نہ ہونا مسلسل ہوتا رہتا ہے صاحب نگاہ کے سامنے فاصلے فاصلے نہیں رہتےزمان ومکاں کی وسعتیں اس کی چشم بیناکے سامنے سمٹ جاتی ہیں وہ ماضی اور مستقبل کو بیک وقت حال میں دیکھتا ہے جو واقعات ہو چکے ہیں اس کی نظر کے سامنے دوبارہ ہونے لگتے ہیں اور وہ واقعات جو ابھی پردہ غیب میں ہیں اس کےبسامنے ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں یہ اعجاز ہے چشم بینا کا کہ صاحب نگاہ کے لے شبنم کا پاکیزہ قطرہ ایک مقدس آیت کی طرح ہوتا ہے صاحب نظر اس کائنات کو کتاب مبین کی طرح دیکتا ہے یہ بھی ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ۔۔۔۔خالق ایک ہے ۔۔۔۔تخلیق کا انداز ایک ہے ۔۔۔۔قرآن میں کائنات کا تذکرہ ہی اور کائنات میں اس کی تفسیر و تفہیم ہے-کائنات کو باطل ماننے والا کسی مقدس کتاب کو نہیں مان سکتا ۔۔۔یہ کائنات ایسی نشانیوں کا مرقع جمال ہےکہ ان کی تلاوت اہل نظرحضرات کا شغل ہے۔۔۔اہل فکر حضرات اور اہل ذکر حضرات انہی نشانیون سے اصل کائنات کا پتا معلوم کرتے ہیں۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ بیج کو مٹی میں پالنے والی اور قرآن کو نازل فرمانے والی ایک ہی ذات ہے اور یہی ذات شکم مادر میں انسان کی تشکیل فرماتی ہےہر طرف ایک ہی ذات کے جلوے ہیں رنگ رنگ کے جلوے دراصل بے رنگ کے جلوے ہیں خالق اتنا مخفی ہے کہ اظہار اورآشکار اس کا اپنا ہے وہ اتنا ظاہر ہےکہ ہر مخفی اس کا اپنا ہےچشم بینا کےلےیہ کائنات آئینہ روئے حسن ہے اہل نظر جانتے ہیں کہ تماشائی اور تماشہ ایک ہی شئے ہے ۔۔۔تماشہ لگانا خود تماشائی کےرنگ میں ہےوہ خود ہی ہے خود آئینہ ہے خود نظر ہے اور خود ہی خود کے روبرو ہے ۔۔۔صاحب نگاہ شاید اس کے نور سے دیکھتا ہےاس کے نور سے دیکھنے والا اس کے نور کے علاوہ اور کیا دیکھے گا ۔۔۔۔یہ ذات پات کے جھگڑے یہ عقیدتوں کی تفریقِ یہ اعتقادات کا اختلاف یہ من وتو کی بحث یہ سب دوریوں کے ابواب ہیں تقرب کے جلوے رنگ اور آواز سے بلند ہیں ۔۔۔۔ وہاں صرف نور ہے روشنی ہے روشنی اور صرف روشنی لیکن چشم وا ہو تو معلوم ہو ۔۔۔۔۔قطرہ قلزم کی گہرائی اور پہنائی رکھتا ہے چشم وا ہو تو معلوم ہو ذرے میں صہراؤں کی وسعتیں جلوہ گر ہیں لیکن کوئی دیکھے تو سہی رائی کے دانے میں کائنات کے جلوے موجود ہوتےہیں کون جانے ایک بیج میں تو ہزار ہا درختوں کے ظہور کےلے حرف کن موجود ہوتا ہے ایک انسان کئی ملتوں کے جنم کا باعث ہوسکتا ہے
یہ طلسم ہوشربا نہیں ۔۔۔یہ حقیقت ہے ۔۔۔۔کہ دیکھنے والوں کے لے نظارے اور ہیں ۔۔۔۔ان کے لیے ہر منظر میں نیا منظر ہے ان کے لیے یہی کائنات ورق در ورق نئی کائنات ہے ۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ نہ کوئی مشرق ہے نہ کوئی مغرب ہے اگر چشم بینا ملے تو گوش مشتاق کا میسر آنا لازم ہے ۔۔۔نظر ملے تو دل کیوں نہ ملے۔ دل مل جائے توکیا نہ ملے گا دیکھنے والے سننے والے بنا دیے جاتے ہیں وہ لفظ کو دیکھتے ہیں اس کی آواز کو سنتے ہیں انسان کو دیکھتے ہیں اس کے خاموش چہرے کی آواز کو سنتے ہیں ۔۔۔۔سننے والے اس کائنات میں ہر آن ہر آذان کو سنتے ہیں سننے والےساز کے اندر مخفی نغمے کو سنتے ہیں ۔سنتے ہیں اور مست ہو جاتے ہیں ۔۔۔نغمہ ابھی ساز میں ہے اور اہل دل کا دل ہل جاتا ہے ۔حسن ابھی پردے میں ہے اور عشق پر لرزہ طاری ہے یہی وجہ ہے کہ اہل بینش ،اہل نظر اور دل حضرات دنیا میں رہتے ہوئے بھی کسی اور دنیا میں رہتے ہیں اور اس دنیا میں پرانے چراغوں سے نئی روشنی حاصل کی جاتی ہے یہ کتاب کوشش ہے کہ اس روشنی کا پر تو پیش کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
روشنی تو روشنی ہے کسی کی دسترس میں نہیں نور منور کرتا ہے اور جب انکھ منور ہو تو دل منور ہے. منور دل کو دریا کہا گیا ہے دریا رواں دواں یقین کے رستے پر چلنےوالا ،کناروں سے نکلتا ہوا اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ،، راستے میں کبھی نہ ٹھرنے والا ،ہمیشہ گامزن ،انجام کار اپنی منزل مراد سے واصل ہوتا سمندر کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کیلیے ۔۔۔۔سمندر کا دل دریا ہے اور دریا کا دل سمندر یہ سب چشم بینا کے جلوے ہیں ورنہ کہاں دل ،کہاں دریا،اور کہاں سمندر.
پیار بھرے دل ، میٹھے دریا اور کڑوے سمندر۔لیکن چشم بینا کیلے ورق در ورق نئی کائنات ہے
حاضر ہیں یہ چند مضامین ۔۔۔۔۔پرانے چراغ ۔۔۔۔۔ شاید ان میں نئی روشنی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ چشم بینا آپ کے پاس ہے ،آپ کے اپنے پاس !!
واصف.

27/04/2023

Wasif ali wasif k aqwal

17/04/2023

Welcome to all Fc members in group of only FC News

Telephone

Website