Zari Dunya
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zari Dunya, Farmers market, Multan.
01/05/2026
*کپاس کے سینے میں جمخانہ کلب، تحقیق کے دل پر خاموش وار*!
ضلعی انتظامیہ ملتان کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے قریب ہی پنجاب کا کپاس کا تحقیقی ادارہ اور ایک زرعی تعلیمی درسگاہ بھی کپاس کی تحقیق پر کام کر رہے ہیں، اس لیے سی سی آر آئی ملتان کی زمین پر جمخانہ کلب بنا دینے سے تحقیق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ دلیل بظاہر سادہ مگر حقیقتاً نہایت کمزور اور زمینی و سائنسی حقائق کے برعکس ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ پنجاب کا ادارہ ہو یا کوئی وفاقی یا صوبائی تحقیقی ادارہ؛ کپاس کے میدان میں سب کا کردار اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ہم پلہ تاریخی، قومی اور عالمی سطح کی حیثیت رکھتے ہیں؟ کیا ان کے پاس وہ دہائیوں پر محیط تحقیق، وہ مسلسل سائنسی تسلسل، وہ جینیاتی مواد (جرم پلازم) اور وہ کامیاب اقسام موجود ہیں جو سی سی آر آئی ملتان کی پہچان رہی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ سی سی آر آئی ملتان نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر کپاس کی تحقیق میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی بھی محدود تجرباتی دائرہ رکھنے والے ادارے کو متبادل کے طور پر پیش کرنا زمینی حقائق سے صرف نظر کے مترادف ہے۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا ایک تعلیمی درسگاہ کسی مخصوص، ہمہ وقت فعال تحقیقی ادارے کا متبادل بن سکتی ہے؟ یونیورسٹیاں بنیادی طور پر تدریس، ڈگری پروگرامز اور محدود تحقیقی سرگرمیوں کے لیے ہوتی ہیں، جبکہ سی سی آر آئی جیسے ادارے اپنی مکمل توجہ صرف ایک فصل کپاس پر مرکوز رکھتے ہیں۔ یہاں تحقیق کوئی ضمنی سرگرمی نہیں بلکہ واحد مقصد اور سائنسی بنیاد ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مذکورہ زرعی درسگاہ ایک نسبتاً نیا ادارہ ہے، جس کی عمر ابھی ایک دہائی بھی مکمل نہیں ہوئی۔ اب تک اس کے نام پر کوئی نمایاں کپاس کی ورائٹی سامنے نہیں آئی، نہ ہی کپاس کی قومی پیداوار میں اس کا کوئی واضح یا قابلِ ذکر کردار دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس سی سی آر آئی ملتان کی دہائیوں پر محیط خدمات، کامیاب اقسام اور کسانوں سے براہِ راست جڑا ہوا نظام اس کی سائنسی و عملی اہمیت کا واضح ثبوت ہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محدود وسائل اور کم افرادی قوت کے باوجود پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی اور اس کے ذیلی ادارے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ انہی محدود حالات میں بھی اس نظام نے اہم پیش رفت دکھائی ہے، جس کی نمایاں مثالیں سیٹو 547 اور کریسس 682 جیسی اقسام ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال 2025 میں کپاس کی پیداوار، برداشت اور موافقت میں اپنی صلاحیت منوائی ہے۔ گزشتہ سیزن پنجاب میں سیٹو 547 لاکھوں ایکڑ پر کاشت ہوئی اور کاشتکاروں میں بے پناہ مقبول رہی، جبکہ 2026 میں اس کے مزید پھیلاؤ کے قوی امکانات ہیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ قسم اپنے بہترین نتائج کے باعث گندم کے بعد ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھری ہے۔
اسی طرح سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ سکرنڈ، سندھ کی کپاس کی قسم کریسس 682 گزشتہ سال سندھ میں 40 فیصد سے زائد رقبے پر کاشت ہوئی۔ مزید یہ کہ کپاس کی یہ نئی قسم بی ٹی کریسس 682 کو حال ہی میں باقاعدہ طور پر پلانٹ بریڈر رائٹس عطا کیے گئے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ وسائل، تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام کا ہے۔
مزید برآں، ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے مجوزہ انضمام سے کپاس کی تحقیق ایک مرکزی چھتری کے تحت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس طرح تحقیق کے بکھرے ہوئے نظام کو یکجا کر کے قومی سطح پر ایک مربوط، مؤثر اور سائنسی بنیادوں پر استوار حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکتی ہے، جو کپاس کی بحالی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ اصل ضرورت ادارے ختم کرنے کی نہیں بلکہ انہیں ایک مضبوط نظام کے تحت جوڑنے کی ہے۔
مزید برآں، اگر کپاس سے وابستہ تمام ادارے واقعی مؤثر انداز میں کام کر رہے ہوتے تو ملک میں کپاس کی پیداوار مسلسل زوال کا شکار کیوں ہوتی؟ حقیقت یہ ہے کہ تحقیق کے مرکزی اداروں کو کمزور کیا گیا، وسائل محدود کیے گئے اور پالیسی سطح پر سنجیدگی کا فقدان رہا۔ اس خلا کو بعض اوقات غلط بیانیے اور سطحی دلائل سے پر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اصل مسئلہ سائنسی تسلسل کے ٹوٹنے کا ہے۔
عام عوام کے ذہنوں میں مختلف فورمز پر سوشل میڈیا پر یہ بیانیہ پروپیگنڈہ بنایا گیا کہ پی سی سی سی ایک ناکام ادارہ ہے ،کوئی کام نہیں کرتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی سی سی سی کے اندر سنگین مالی مشکلات اور انتہائی قلیل افرادی قوت و وسائل کا عام لوگوں کو پتا ہی نہیں وہ بس سنی سنائی باتوں اور پروپیگنڈہ پر یقین کرلیتے ہیں۔ اور اگر باقی ادارے کام کر رہے ہیں تو پھر گرتی ہوئی کپاس کی پیداوار کا زمہ دار اکیلا پی سی سی سی کیوں ہے؟ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے خلاف پروپیگنڈہ ناکام ہو گا، انشاللہ ۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ تحقیقی ادارے ایک دن میں نہیں بنتے۔ یہ دہائیوں کی محنت، مسلسل تجربات اور سائنسی ارتقاء کے بعد ایک مضبوط بنیاد قائم کرتے ہیں۔ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان اسی تسلسل اور سائنسی روایت کا امین ہے۔ اسے جمخانہ میں تبدیل کرنے کی سوچ نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ قومی زرعی مفاد کے بھی خلاف ہے۔
اگر واقعی کپاس کی بحالی مقصود ہے تو اداروں کا تقابل کر کے ایک کو کمزور کرنے کے بجائے سی سی آر آئی ملتان جیسے مرکزی تحقیقی ادارے کو مضبوط کیا جائے، اس کے وسائل بڑھائے جائیں اور اس کے کردار کو تسلیم کیا جائے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ تعلیمی ادارے معاون ہو سکتے ہیں، مگر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان جیسے تحقیقی ادارے کا متبادل ہرگز نہیں۔
منقول
29/04/2026
فروری- مارچ اگیتی کپاس پر پھول آنے پر اقدامات:
فروری-مارچ کاشتہ اگیتی کپاس پر پھول آنے کا مرحلہ (45-60 دن بعد کاشت) انتہائی حساس ہوتا ہے۔جس میں پودے کی غذائی ضروریات اور دیکھ بھال دوگنی ہو جاتی ہے۔ اس مرحلے پر کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ پانی کے وقفوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ نمی کی کمی یا زمین کا سخت سوکھا لگنے سے پھول اور ڈوڈیاں بڑے پیمانے پر گر سکتی ہیں، لہٰذا زمین کی ضرورت کے مطابق ہلکی اور بروقت آبپاشی کو یقینی بنائیں۔ پودے کی بڑھوتری اور پھل کے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے نائٹروجن کی باقی اقساط کے ساتھ پوٹاش (اگر ابتدائی طور پر نہیں دیا تو 15 دن کے وقفے سے آدھی بوری فی ایکڑ) کا استعمال کریں۔ جبکہ پھولوں کو جھڑنے سے روکنے اور زیرگی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے بوران کا فولیئر سپرے نہایت معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس دوران رس چوسنے والے کیڑوں، بالخصوص سفید مکھی اور تھرپس کے ساتھ ساتھ گلابی سنڈی کی کڑی نگرانی (پیسٹ اسکاؤٹنگ) کریں اور معاشی حد عبور ہونے کی صورت میں محکمہ زراعت توسیع کے آفیسران یا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے زرعی ماہرین کے مشورے سے مناسب زہروں کا انتخاب کریں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں تاکہ پودے کو دستیاب خوراک میں کوئی شراکت دار نہ رہے اور گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے سپرے ہمیشہ ٹھنڈے وقت میں کریں تاکہ پودا کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہ ہو۔
نوٹ: تمام سپرے ٹھنڈے وقت (صبح یا شام) میں کریں تاکہ پودے پر گرمی کا اضافی دباؤ نہ پڑے۔
29/04/2026
پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (PCCC) کے لیے یہ ایک تاریخی اور قابلِ فخر لمحہ ہے کہ اس کے تحقیقی نظام کے تحت سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ سکرنڈ (سندھ) کی تیار کردہ کپاس کی نئی قسم Bt. CRIS-682 کو حال ہی میں باقاعدہ طور پر سرٹیفکیٹ آف پلانٹ ورائٹی پروٹیکشن (Plant Breeder Right) عطا کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ادارے کی سائنسی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی روشن دلیل بھی ہے کہ قومی سطح پر کی جانے والی تحقیق عالمی معیار پر پوری اتر سکتی ہے۔
یہ کامیابی دراصل برسوں کی مسلسل محنت، عزم اور سائنسی مہارت کا نچوڑ ہے، جس نے پاکستان کے کپاس کے شعبے کو ایک نئی امید اور مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ PCCC کے پلیٹ فارم سے ہونے والی یہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ اگر تحقیق کو درست سمت، وسائل اور سرپرستی میسر ہو تو ملک زرعی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
کپاس کے کھیت میں دھان کی پرالی سے کی گئی ملچنگ اور اس کے فوائد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
MULTAN-60000