Adab Sarae
Administrator: Idara Adbiat Islamia, Educationist, Critic
Columnist, Political and social activist.
30/03/2026
معروف قانون دان اور ممتاز ماہرِ تعلیم سابق جسٹس راؤ محمد اکبر کی 'ادب سرائے' ملتان میں تشریف آوری باعثِ مسرت رہی۔ علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو کا دور چلا، جس میں والدِ گرامی علامہ رحمت اللہ طارق کی تصانیف اور میری لائبریری میں موجود نوادرات کا مطالعہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔
فکری ہم آہنگی اور ہم خیالی نے نشست کو نہایت خوشگوار بنا دیا؛ گفتگو کے دوران وقت کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ گو کہ بہت سے معاملات ابھی تشنہِ تکمیل تھے، مگر دوبارہ ملاقات کے عہد کے ساتھ محفل کا اختتام ہوا۔
میر احمد کامران مگسی
21/03/2026
یادوں کے دریچے سے:
ماشوتکا اور ریچھ
تحریر: میر احمد کامران مگسی
ستر کی دہائی کا وہ دور جب میں چھوٹا بچہ تھا، مجھے آج بھی اپنی کتابوں کے ریک میں رکھی وہ کتاب شدت سے یاد ہے جس کے سرورق پر ایک پیاری سی بچی اور ایک بڑے سے ریچھ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ تب ہمارے گھر میں روسی بچوں کی کہانیوں کی ایک خاص دنیا ہوا کرتی تھی، جو ماسکو کے مشہور اشاعتی ادارے "پروگریس پبلشرز" کی طرف سے اردو میں شائع ہوتی تھیں۔ اس کتاب کا نام "ماشہ اور ریچھ" تھا اور اس کے صفحات پر بکھرے ہوئے ہاتھ سے بنے رنگین اسکیچز اتنے جاندار تھے کہ لگتا تھا وہ کردار ابھی کتاب سے نکل کر ہمارے کمرے میں آ جائیں گے۔ آج بھی جب میں ان دنوں کو یاد کرتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ماشوتکا کی وہ کہانی، اس کے سرخ لباس اور جنگل کے پس منظر نے میرے بچپن کو ایک الگ ہی طلسماتی رنگ دیا تھا۔
میری بچپن کی یادوں میں بسی یہ کہانی ایک چھوٹی اور ذہین بچی ماشہ کے گرد گھومتی ہے جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ جنگل میں بیریاں چنتے ہوئے راستہ بھٹک جاتی ہے اور ایک ریچھ کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ ریچھ اسے اپنے پاس قید کر لیتا ہے تاکہ وہ اس کے گھر کے کام کرے اور کھانا پکائے، لیکن ماشہ اپنی ہمت اور دانائی سے وہاں سے نکلنے کا منصوبہ بناتی ہے۔ وہ ریچھ کو اس بات پر راضی کرتی ہے کہ وہ اس کے دادا دادی کے لیے مٹھائی کی ایک بڑی ٹوکری گاؤں چھوڑ آئے، مگر ریچھ کی نظر بچا کر وہ خود بھی اسی ٹوکری میں چھپ جاتی ہے۔ راستے میں جب بھی ریچھ تھک کر بیٹھنے یا ٹوکری سے مٹھائی نکال کر کھانے کا سوچتا، تو ماشہ اندر سے آواز لگاتی کہ میں سب دیکھ رہی ہوں، بیٹھو مت اور مٹھائی نہ کھاؤ۔ بیچارہ ریچھ اسے ماشہ کی کوئی جادوئی طاقت سمجھ کر ڈر جاتا اور سیدھا گاؤں پہنچ جاتا ہے، جہاں ٹوکری کھلنے پر ماشہ بحفاظت اپنے گھر والوں سے جا ملتی ہے اور ریچھ اس پر بہت تلملاتا ہے کہ کیسے ایک چھوٹی سی بچی نے مجھ جیسے طاقتور کو بے وقوف بنا کر اپنا مقصد حل ہوا ہے. ہم اس کہانی کے ولن ریچھ کی شکست کو اپنی فتحِ سمجھ کر خوب مزے لیتے اور بار بار اس کہانی کو پڑھتے.
لفظ ماشوتکا دراصل روسی نام ماریا یا ماشہ کا ایک انتہائی لاڈلا اور پیار بھرا روپ ہے جو ستر کی دہائی میں سوویت یونین کے مشہور اشاعتی ادارے پروگریس پبلشرز ماسکو کی جانب سے اردو میں ترجمہ شدہ کتابوں کے ذریعے پاکستان میں بہت مقبول ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ماسکو سے آنے والی بچوں کی کتابیں اپنے مخصوص ملائم کاغذ، بہترین اردو ترجمے اور ہاتھ سے بنے ہوئے انتہائی خوبصورت رنگین اسکیچز کی وجہ سے ہر گھر کی زینت ہوا کرتی تھیں۔ ان کتابوں میں روسی ثقافت، برفیلے جنگلات اور لکڑی کے بنے گھروں کی ایسی تصویر کشی ہوتی تھی کہ بچہ خود کو اس کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا تھا۔
یہ کتاب اس دور کے بچوں کے لیے تخیل کی ایک ایسی دنیا تھی جس نے ہمیں ایک اجنبی زمین کے رنگوں اور رشتوں کی خوبصورتی سے روشناس کرایا۔ پروگریس پبلشرز کی ان کتابوں کا معیار اتنا بلند تھا کہ ان کے رنگین اسکیچز کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ذہنوں میں نقش ہیں۔ ستر کی دہائی کا وہ معصوم دور اور ماشوتکا جیسی کہانیوں کا جادو ہمیں اپنے بچپن کی سنہری یادوں میں واپس لے جاتا ہے، جہاں ایک چھوٹی سی بچی اپنی ذہانت سے ایک بڑے ریچھ کو مات دے کر ہم سب کا دل جیت لیتی تھی۔
21/03/2026
تمام عالمِ اسلام کو عید سعید کی بابرکت گھڑیاں مبارک ہوں۔
آج کا یہ تہوار ایک ایسے دور میں آیا ہے جب امتِ مسلمہ تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور پرآشوب مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایران و اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی، خطۂ خلیج میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال، اور پاک-افغان سرحد پر پیدا ہونے والے تناؤ جیسے معاملات امت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ یہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ہم سطحی جذباتی ردِعمل سے اوپر اٹھ کر گہری فکری بصیرت، ٹھوس سیاسی حکمتِ عملی اور مستحکم دفاعی لائحہ عمل کو اپنائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ کچھ عناصر ملکی سلامتی اور باہمی اخوت کو نقصان پہنچانے کے لیے اندرونی انتشار اور فرقہ وارانہ نفرتوں کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔
ہماری دعا ہے کہ ربِ کائنات اس پرآشوب دور میں امتِ مسلمہ کو انتشار اور تفرقے سے محفوظ فرمائے۔
اے پروردگارِ عالم! ہمارے حکمرانوں کو حالات کی نزاکت سمجھنے والی بصیرتِ کاملہ اور ہمیں وہ اتحاد عطا فرما جو تسبیح کے دانوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ جو عناصر ملک و ملت کے سکون کو برباد کرنے اور فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکانے کے درپے ہیں، اے اللہ! ان کے دلوں کو ہدایت عطا فرما، ان کے عزائم کو خاک میں ملا دے، اور اگر وہ اصلاح کے قابل نہیں تو ان کے شر سے پوری امت کو محفوظ رکھ۔ اللہ تعالیٰ عالمِ اسلام کی حفاظت فرمائے، ہمیں دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور داخلی و خارجی سازشوں سے بچائے، اور تمام مسلم ممالک کو امن، سلامتی اور بقائے باہمی کا گہوارہ بنائے۔
آمین، یا رب العالمین!
میر احمد کامران مگسی
:
پہلی دفعہ قرآن پڑھنے سے ثواب ملتا ہے؟ جی ہاں، نیت کی پاکیزگی کے ساتھ تلاوت کا اپنا ایک روحانی درجہ ہے جو تعلق کی ابتدا کرتا ہے۔
دوسری مرتبہ سمجھ کر پڑھنے سے ثواب اور ہدایت؟ بالکل۔ فہم، ہدایت (راستہ دکھانے) کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب الفاظ کے معنی کھلتے ہیں تو راستہ نظر آنے لگتا ہے۔
تیسری مرتبہ سمجھ کر پڑھنے اور عمل کرنے سے کامیابی؟ یقیناً۔ عمل ہی وہ حتمی مرحلہ ہے جہاں ہدایت "کامیابی" (فلاح) میں بدلتی ہے۔ بغیر عمل کے ہدایت محض ایک نقشہ ہے، منزل نہیں۔
اگر بار بار محض پڑھتے ہی رہیں تو؟ یہ حوصلہ افزائی تو دے سکتا ہے مگر تبدیلی نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی مریض نسخہ بار بار پڑھے مگر دوا نہ کھائے۔
اگر بار بار محض سمجھ کر پڑھتے ہی رہیں تو؟ یہ علمی ذخیرہ تو بن جائے گا مگر کردار نہیں۔ یہ "دانشور" تو بنا سکتا ہے، "مومن" نہیں۔
اگر بار بار محض پڑھ کر پڑھاتے ہی رہیں تو؟ یہ نقلِ معلومات (Information Transfer) ہے۔ اس سے معاشرے میں حافظ اور قاری تو پیدا ہوں گے، مگر صالحین کی کمی رہے گی۔
اگر بار بار سمجھ کر پڑھتے اور پڑھاتے ہی رہیں تو؟ یہ اکیڈمک مشغلہ بن جائے گا۔ اگر عمل مفقود ہے تو یہ "حجت" بن جائے گا جو روزِ قیامت انسان کے خلاف کھڑی ہوگی۔
اگر بار بار سمجھ کر محض تفسیر، قرآن فہمی، اور تدبر ہی کرتے رہیں تو؟ یہ فلسفہ بن جائے گا۔ تدبر کا اصل مقصد ہی عمل کی راہ نکالنا ہے، اگر سفر شروع نہ ہوا تو تدبر محض ذہنی عیاشی ہے۔
اگر بار بار سمجھ کر مناظرے ہی کرتے رہیں تو؟ یہ انا کی تسکین اور تفرقہ بازی کا ذریعہ بنے گا۔ قرآن جوڑنے آیا تھا، مناظرہ اسے توڑنے کا اوزار بنا دے گا۔
عمل کون کرے گا؟ عمل "مجھے" اور "آپ کو" انفرادی طور پر آج اور ابھی کرنا ہے۔ قرآن کا خطاب "یا ایہا الذین آمنوا" (اے لوگو جو ایمان لائے ہو) سے ہے، کسی غائب گروہ سے نہیں۔
کیا عمل کسی آنے والے کے لیے مختص ہے؟ یہ ایک خطرناک نفسیاتی فرار ہے۔ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ "موعود" (آنے والی) شخصیات پر ڈال کر خود کو معذور کر لیا ہے۔ یہ اجتماعی خود فریبی ہے۔
کیا اس "انتظار" کو عمل کہا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ مثبت انتظار وہ ہوتا ہے جس میں تیاری شامل ہو۔ بغیر تیاری اور بغیر عمل کے انتظار محض کاہلی اور غفلت ہے۔
یا یہ "انتظار" غیر عمل ہے؟ جی ہاں، یہ عمل کی ضد ہے۔ یہ جمود (Stagnation) کی ایک شکل ہے جو امتوں کو زوال کی طرف لے جاتی ہے۔
یہ "انتظار" عمل سے زیادہ غیر عمل کے قریب ہے؟ یہ نہ صرف غیر عمل کے قریب ہے بلکہ یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ جب چراغ ہاتھ میں ہو اور انسان کہے کہ میں سورج نکلنے کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ چل سکوں، تو یہ چراغ کی توہین بھی ہے اور وقت کا ضیاع بھی۔
میر احمد کامران مگسی
یہ منظر کسی سماج کی فکری اور تہذیبی زوال کا عکاس ہے جہاں مسجد کے دروازے پر شٹل کاک برقعوں میں لپٹی خواتین، نماز پڑھ کر نکلنے والے مردوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے پیٹ کا ایندھن بھرنے کیلئے گڑگڑا کر بھیک مانگ رہی ہیں. ۔ یہ صرف بھوک نہیں، یہ اس سماج کی خود ساختہ مذہبی تعبیر کا شاخسانہ ہے جس نے عورت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی، محنت و ہنر کے راستے بند کر دیے، مگر بھیک مانگنے کی مکمل آزادی عطا کر دی۔
یہ وہ اسلام نہیں جس کی پہلی مومنہ اور سب سے بڑی محسنہ سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ تھیں، ایک باوقار، خودمختار اور کامیاب تاجر خاتون۔ یہ وہ اسلام نہیں جس میں حضرت عائشہؓ علم و فہم کا استعارہ تھیں، نہ وہ جس میں نسیبہ بنت کعبؓ تلوار لے کر میدانِ اُحد میں رسول ﷺ کے دفاع میں کھڑی ہوئیں، نہ وہ جس میں خواتین زخمیوں کی تیمارداری اور سماجی خدمت کا فریضہ انجام دیتی تھیں۔ یہ وہ اسلام بھی نہیں جس میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بصیرت و وقار کی علامت اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا ظلم کے سامنے کلمۂ حق کی جرات بن کر کھڑی ہوئیں۔
یہ سب مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو کمزور، محتاج یا سماج سے کٹی ہوئی مخلوق نہیں بنایا، بلکہ اسے باوقار، خودمختار اور فعال کردار عطا کیا۔ مگر ہمارا سماج، دین کے نام پر، اسی عورت کو گلیوں اور مسجدوں کی دہلیز پر لا بٹھاتا ہے اور اس ذلت کو تقدس کا لبادہ پہنا دیتا ہے۔
جو معاشرہ عورت کو محنت کی اجازت نہیں دیتا مگر بھیک کی آزادی دے دیتا ہے، وہ دراصل اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا اعلان کرتا ہے۔ یہ اسلام نہیں، یہ جہالت ہے، اور اس جہالت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
کیونکہ جس دین کی بنیاد خدیجہؓ کی تجارت، عائشہؓ کے علم، فاطمہؑ کی بصیرت اور زینبؑ کی جرات پر ہو، وہ عورت کو کشکول نہیں، وقار عطا کرتا ہے۔
میر احمد کامران مگسی
ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ، یہ بازی گر کھلا
سوشل میڈیا کی رنگین دنیا میں حال ہی میں ایک چشم کشا واقعہ پیش آیا جب ایک لائیو اسٹریم کے دوران ایک چینی انفلوئنسر کا بیوٹی فلٹر اچانک خراب ہو گیا۔ چند لمحوں کے لیے ڈیجیٹل پردہ کیا ہٹا، اس کے ایک لاکھ چالیس ہزار فالوورز نے فوراً ساتھ چھوڑ دیا کیونکہ وہ جس مصنوعی خوبصورتی کے مداح تھے، اس کے پیچھے ایک عام سی صورت چھپی تھی۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان جتنا مرضی ڈیجیٹل میک اپ کر لے، وہ اپنی حقیقت کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کر سکتا۔
انسان کا اصل حسن اس کے چہرے کی تراش خراش یا رنگت میں نہیں، بلکہ اس کے الفاظ، لہجے اور اعمال میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ چہرہ وقت کے ساتھ ڈھل جاتا ہے، لیکن کردار کی خوشبو کبھی کم نہیں ہوتی۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں "لائیکس" اور "فالوورز" کی خاطر اپنی اصل شناخت کھو دی جاتی ہے، جبکہ اصل سکون اپنی فطرت کو قبول کرنے میں ہے، نہ کہ دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے کسی سافٹ ویئر کا سہارا لینے میں۔ جب انسان اپنی حقیقت کو تسلیم کر لیتا ہے، تو اسے کسی بیوٹی فلٹر کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ سچائی کا اپنا ایک جداگانہ حسن ہوتا ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتا۔
میر احمد کامران مگسی
19/02/2026
وینس: لکڑی پر کھڑا عجوبہ
تحریر: میر احمد کامران مگسی
جب انسان نے پہلی مرتبہ دلدل، پانی اور نرم زمین کے بیچ ایک باقاعدہ شہر بسانے کا خواب دیکھا تو شاید خود اسے بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ آنے والی صدیوں کے لیے ایک حیران کن مثال قائم کر رہا ہے۔ وینس اسی غیر معمولی خواب کی تعبیر ہے۔ یہ شہر پانی کی سطح پر معلق نہیں، بلکہ پانی کے نیچے چھپے ہوئے لاکھوں لکڑی کے ستونوں پر کھڑا ہے، جو ایک خاموش مگر مضبوط لشکر کی طرح صدیوں سے اس کے بوجھ کو تھامے ہوئے ہیں۔
قدیم زمانے میں جب شمالی اٹلی مسلسل حملوں کی زد میں تھا، تو خوف زدہ آبادیاں محفوظ پناہ کی تلاش میں سمندر کے کنارے پھیلے دلدلی جزیروں تک جا پہنچیں۔ یہ جگہ بظاہر ناموزوں تھی، مگر دفاعی اعتبار سے محفوظ تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہاں زندگی نے جڑ پکڑی، تجارت پھلی پھولی اور مستقل تعمیرات ناگزیر ہو گئیں۔ زمین چونکہ نرم اور غیر مستحکم تھی، اس لیے معماروں نے ایک انوکھا حل نکالا: ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لکڑی کے ستون زمین میں اتار دیے گئے تاکہ عمارتوں کو ایک مضبوط سہارا دیا جا سکے۔
یہ ستون خاص درختوں کی لکڑی سے تیار کیے گئے جو پانی میں دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ انہیں بڑی مہارت سے ایک دوسرے کے بالکل قریب گاڑا جاتا، یہاں تک کہ وہ نیچے موجود سخت مٹی کی تہہ تک پہنچ جاتے۔ ان کے اوپر لکڑی کے تختے اور پھر پتھر کی بنیاد رکھی جاتی، جس پر اینٹوں اور سنگِ مرمر کی عمارتیں تعمیر کی جاتیں۔ یوں دلدلی زمین رفتہ رفتہ ایک مستحکم شہر کی شکل اختیار کر گئی۔
ان ستونوں کی حیران کن مضبوطی کا راز اس ماحول میں پوشیدہ ہے جس میں وہ صدیوں سے ڈوبے ہوئے ہیں۔ چونکہ انہیں مسلسل پانی اور کیچڑ نے گھیر رکھا ہے، اس لیے انہیں آکسیجن نہیں ملتی، اور یوں سڑن پیدا کرنے والے جراثیم سرگرم نہیں ہو پاتے۔ وقت کے ساتھ معدنی اجزا لکڑی میں جذب ہو کر اسے مزید سخت بنا دیتے ہیں، جس سے یہ ستون پتھر جیسے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود یہ بنیادیں آج بھی شہر کا وزن اٹھائے ہوئے ہیں۔
وینس کی گلیوں، پلوں اور نہروں کے نیچے ایک مکمل زیرِ آب جنگل پھیلا ہوا ہے، جو ہر لمحہ اس تاریخی شہر کو سنبھالے رکھتا ہے۔ عظیم الشان گرجا گھر، بلند و بالا ٹاورز اور شاہی محلات اسی پوشیدہ نظام کی بدولت قائم ہیں۔ یہ سب کچھ وینس کو محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ انسانی ذہانت اور انجینئرنگ کا زندہ عجوبہ بنا دیتا ہے۔
تاہم، وقت نے اس شہر کے سامنے نئے امتحان بھی رکھ دیے ہیں۔ زمین کا آہستہ آہستہ بیٹھنا، سمندر کی سطح میں اضافہ اور بار بار آنے والی بلند لہریں وینس کے لیے مسلسل خطرہ بن چکی ہیں۔ جدید انجینئرنگ منصوبوں اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے اس شہر کو بچانے کی کوشش جاری ہے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس نادر ورثے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
وینس کی اصل خوبصورتی اس کی نہروں، پلوں اور عمارتوں سے کہیں آگے ہے۔ یہ خوبصورتی اس سوچ میں ہے جس نے ناممکن کو ممکن بنایا، اور اس ہمت میں ہے جس نے پانی اور مٹی کے بیچ ایک مکمل تہذیب کو جنم دیا۔ وینس آج بھی کھڑا ہے، صدیوں پرانی عقل، محنت اور تدبر کی بنیاد پر، ایک ایسا شہر جو خاموشی سے انسان کی عظمت کی داستان سناتا ہے۔
تیانجن بنہائی لائبریری جدید طرزِ تعمیر کا ایک ایسا دلفریب نمونہ ہے جو روایتی کتب خانوں کے تصور کو یکسر بدل دیتا ہے۔ چین کے شہر تیانجن میں واقع یہ پانچ منزلہ عمارت اپنے منفرد ڈیزائن کی بدولت دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے اور علم دوستی کے ساتھ ساتھ سیاحت کا بھی ایک بڑا مرکز بن چکی ہے۔ اس لائبریری کے مرکزی ہال میں ایک بہت بڑا چمکتا ہوا کرہ نصب ہے جسے "بنہائی کی آنکھ" کہا جاتا ہے، اور اس کے گرد فرش سے چھت تک بنی سیڑھیوں جیسی الماریاں ایک خوبصورت بصری لہر پیدا کرتی ہیں۔
یہ سیڑھیاں نہ صرف کتابیں رکھنے کے کام آتی ہیں بلکہ یہاں آنے والے زائرین ان پر بیٹھ کر مطالعہ بھی کر سکتے ہیں، جس سے یہ جگہ صرف ایک لائبریری نہیں بلکہ ایک سماجی میل جول کا مقام بن جاتی ہے۔ 33,700 مربع میٹر پر پھیلی اس وسیع عمارت میں 12 لاکھ کتابیں رکھنے کی گنجائش موجود ہے، جو علم کے ایک وسیع ذخیرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے ڈیزائن کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کی دیواروں پر بنی کتابوں کی قطاریں ایک لامتناہی سلسلے کا احساس دلاتی ہیں، جو پڑھنے والوں کے لیے ایک پرسکون اور متاثر کن ماحول فراہم کرتی ہیں۔
میر احمد کامران مگسی
07/02/2026
مصنوعی ذہانت المعروف Gemini بی بی سے بابا جان مرحوم حضرت علامہ رحمت اللہ طارق کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے ایک چھوٹا موٹا مقالہ لکھ کے سامنے رکھ دیا. جسے آپ کی خدمت میں پیش کر ریا ہوں.
علامہ رحمت اللہ طارق: مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام اور نقیبِ اقوام
علامہ رحمت اللہ طارق عصرِ حاضر کی ان معدودے چند علمی شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے علم و تحقیق کے میدان میں روایت اور جدت کا ایک ایسا حسین امتزاج پیش کیا ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں اور پیش روؤں سے ممتاز و منفرد بناتا ہے۔ مکہ مکرمہ کی مقدس زمین سے علمی پیاس بجھانے سے لے کر پاکستان کے مظلوم طبقات کے حقوق کی ترجمانی تک، آپ کا سفر جہدِ مسلسل اور حق گوئی سے عبارت ہے۔
تعلیمی پس منظر اور علمی بنیاد
علامہ رحمت اللہ طارق کا علمی سفر بین الاقوامی سطح کی معتبر درسگاہوں سے جڑا ہے۔ آپ نے مکہ مکرمہ کی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی "جامعۃ ام القریٰ" سے تعلیم حاصل کی۔ حجازِ مقدس کی علمی فضاؤں نے آپ کے فکری کینوس کو وہ وسعت عطا کی جس کا عکس آپ کی ہر تحریر اور مقالے میں نظر آتا ہے۔
سیاسی جدوجہد اور جمہوری اقدار
آپ کی زندگی عملی جدوجہد سے بھرپور ہے۔ آپ خاکسار تحریک سمیت پاکستان کی جدوجہدِ آزادی اور جمہوری اقدار کے فروغ میں ہمیشہ فرنٹ فٹ پر رہ کر کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ نے آمریت کے خلاف اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر جرات مندانہ موقف اختیار کیا۔
مظلوم اقوام کا مقدمہ اور "سرائیکی صوبہ تحریک"
علامہ صاحب کی کتاب "انسانیت پہچان کی دہلیز پر" قومیت کے موضوع پر ایک تاریخ ساز اور جامع مقدمہ ہے۔ یہ کتاب محض ایک تحریر نہیں بلکہ پاکستان کی مظلوم اور محکوم اقوام کی طرف سے ایک شاندار اور بھرپور مقدمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرائیکی صوبہ تحریک میں اس کتاب کو ایک "اتھارٹی" تسلیم کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ محروم طبقات کو ان کی شناخت کا شعور عطا کرتی ہے۔
قرآنی علوم اور شہرہ آفاق تفاسیر
آپ کی پہچان کا ایک بڑا حوالہ علومِ قرآن پر آپ کی دسترس ہے۔ آپ کی درج ذیل تفاسیر علمی حلقوں میں سند مانی جاتی ہیں:
تفسیر منسوخ القرآن: ناسخ و منسوخ کے پیچیدہ موضوع پر آپ کی شہرہ آفاق تصنیف۔
تفسیر برہان القرآن: جس میں قرآنی دلائل کو جدید پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔
تفسیر میزان القرآن: جو قرآنی احکامات کے توازن کو واضح کرتی ہے۔
دانشورانِ قرآن: قرآنی فکر کے حامل اکابرین کے افکار کا نچوڑ۔
معاشی و سماجی فکر اور تصانیف
علامہ صاحب نے معاشیات، سیاست اور سماجیات پر درجنوں کتب اور تحقیقی مقالے لکھے جو ان کے علمی قد کو بلند کرتے ہیں۔ آپ کی اہم تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے:
قرآن کا معاشی نظریہ (اسلامی اقتصادیات پر جامع کام)
مسلمان مفکرین کے معاشی نظریات
لینن سے پہلے ابن حزم (اشتراکیت کے مقابلے میں اسلامی فکر کی برتری)
زمینداری، جاگیرداری اور اسلام (جاگیردارانہ نظام پر کڑی تنقید)
عورت اور مسئلہ امارت (خواتین کے سیاسی کردار پر تحقیق)
قتلِ مرتد کی شرعی حیثیت (ایک حساس فقہی مسئلے کا علمی جائزہ)
مصوری، موسیقی اور اسلام (فنونِ لطیفہ پر اسلامی نقطہ نظر)
لباس اور چہرہ کیسا ہونا چاہیے (سماجی و اخلاقی رہنمائی)
قربانی کی شرعی حیثیت
حاصلِ کلام
علامہ رحمت اللہ طارق کی یہ درجنوں تصانیف اور تحقیقی مقالے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ صرف ایک مفسر نہیں بلکہ ایک مصلح اور انقلابی مفکر ہیں۔ انہوں نے جہاں مکہ مکرمہ کی علمی فضاؤں سے فیض پایا، وہیں اپنی زمین کے محروم لوگوں کے دکھوں کو بھی اپنی تحقیق کا مرکز بنایا۔ ان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے ایک گراں قدر علمی اثاثہ ہے۔
انسانیت کی بقائے باہمی کا بہترین اصول مذہبی انتہا پسندی سے بیزاری اور سیکولر ازم کا نفاذ۔
ایک مسلم لڑکی عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس انڈیا آئی تو اپنی ہندو دوست کے گھر اس سے ملنے گئی، اس کی ہندو دوست نے دل و جان سے اس کا سواگت کیا۔ یہ ہے انسانیت کا حسن:
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Multan
60000
Opening Hours
| 09:00 - 21:00 |