Fikr e deen
Qari Muhammad Shoaib
#رمضان المبارک
08/05/2026
مولانا کی آنکھوں میں اُترے یہ آنسو صرف دکھ نہیں، ایک دردناک حقیقت کا اعلان ہیں یہ آنسو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم تھک چکے ہیں ہم مزید لاشیں اٹھانے کے قابل نہیں رہے یہ آنسو اُن ماؤں کی سسکیوں کی ترجمانی ہیں جن کے بیٹے واپس نہیں آئے یہ اُن بہنوں کے خوابوں کا ماتم ہیں جو ادھورے رہ گئے یہ اُن بچوں کی خاموش فریاد ہیں جو اپنے سہارے کھو بیٹھے ہیں
ایوان نہیں میدان
ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا...
29 اپریل سے 12 مئی تک صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کوئی بھی شخص باہر (کھلے آسمان کے نیچے) نہ جائے کیونکہ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے اگر کسی شخص کو سانس لینے میں دشواری ہو یا اچانک بیمار ہو جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، ہوا کو گردش کرنے کے لیے گھر کے دروازے کھلے رکھیں، موبائل فون کا استعمال کم کریں، موبائل فون کے پھٹنے کا خدشہ ہے، براہ کرم احتیاط کریں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں، ٹھنڈے مشروبات جیسے دہی، گھی، پان کا جوس وغیرہ زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
انتہائی ضروری معلومات
محکمہ شہری دفاع شہریوں اور رہائشیوں کو درج ذیل کے بارے میں خبردار کر رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 47 سے 55 ڈگری سیلسیس کے درمیان بڑھنے اور کمولس بادلوں کی موجودگی کی وجہ سے کچھ احتیاطی تدابیر اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ان اشیاء کو گاڑی سے ہٹا دینا چاہیے۔
1. گیس کے آلات 2. لائٹر 3. کاربونیٹیڈ ڈرنکس 4. عام طور پر پرفیوم اور آلات کی بیٹریاں 5. کار کی کھڑکیوں کو ہلکا سا کھلا رکھنا چاہیے (وینٹیلیشن کے لیے) 6. گاڑی کے فیول ٹینک کو مکمل طور پر نہ بھریں 7. کار کو شام کے وقت ریفیول کریں 8. گاڑی میں سفر کرنے سے گریز کریں، خاص طور پر صبح کے وقت گاڑی میں سفر کرنے سے گریز کریں۔
بچھو اور سانپوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ اپنے سوراخوں سے نکل کر کسی ٹھنڈی جگہ کی تلاش میں پارکوں اور گھروں میں داخل ہو سکتے ہیں۔
وافر مقدار میں پانی اور سیال چیزیں پئیں، گیس سلنڈروں کو دھوپ میں نہ رکھیں، بجلی کے میٹر پر زیادہ دباؤ نہ ڈالیں اور ایئر کنڈیشنر کا استعمال صرف گھر کے ان علاقوں میں کریں جو خاص طور پر گرمی کی شدید گرمی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اور ہر دو سے تین گھنٹے میں 30 منٹ کا وقفہ لیں۔ اگر باہر کا درجہ حرارت 45-47° ہے تو گھر میں AC کو 24-25° پر رکھیں، یہ آپ کی صحت اور تندرستی کو بہتر بنائے گا۔ براہ راست سورج کی روشنی سے بچیں، خاص طور پر صبح 10 بجے سے 3 بجے کے درمیان۔
آخر میں: براہ کرم اس معلومات کا اشتراک کریں، کیونکہ دوسرے لوگ اسے نہیں جانتے اور اسے پہلی بار پڑھ رہے ہیں۔
11/04/2026
🟠 ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کی ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ان کی بہن عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے۔
امی عائشہ صدیقہ
پہلی تراویح
18/02/2026
ہر مسجد میں تراویح ہر مسجد میں قرآن💫🍂🍃
اے عمر بن خطاب آپ کی عظمت کو میرا سلام 🫡🫶🥀
https://www.youtube.com/-e-deenofficial
تراویح پڑھانے والے حفاظ کرام کے لیے چھ ہدایات۔
حفاظ کرام ان چھ باتوں کا خیال رکھیں ان شاء اللہ بہت راحت کے ساتھ تراویح پڑھائیں گے۔
(1) سپارہ یاد کرتے وقت اسی انداز سے تلاوت کریں جیسے تراویح میں پڑھتے ہیں، زبان جس لہجہ اور نشیب و فراز سے عادی ہو تراویح میں بھی اسی انداز پڑھنا آسان ہوتا ہے۔
(2) پارہ یاد کرتے وقت جن مقامات پر وقف کریں تراویح میں بھی انہی مقامات وقف پر کرنا چاہیے دوسرے مقامات پر وقف کرنے سے بعض دفعہ غلطی ہو جاتی ہے۔
(3) سپارہ یاد کرتے وقت پہلی بار قرآن میں دیکھ کر پڑھیں اس کے بعد پھر قرآن بند کر کے یاد کریں، بعض حضرات سپارہ دہراتے وقت اگر چہ زبانی پڑھتے ہیں لیکن قرآن کا صفحہ ہمیشہ سامنے کھلا رکھتے ہیں اور جہاں غلطی کرتے ہیں فورا قرآن میں دیکھ لیتے ہیں یہ طریقہ درست نہیں اس سے غلطی یاد نہیں رہتی، اگر قرآن بند کر کے آپ زبانی پڑھیں گے اور غلطی آنے پر قرآن کھول کر دیکھیں گے تو وہ جگہ ذہن میں یاد رہے گی۔
(4) تراویح سے پہلے سپارے کو تمام رکعات پر تقسیم کرنا چاہیے جہاں رکوع کرنا ہے وہ جگہ پہلے سے معلوم ہو دوران تراویح اندازے سے رکوع کرنے پر جگہ یاد نہ رہنے کا احتمال رہتا ہے۔
(5) سپارے کو بیس رکعات پر برابر تقسیم کریں اگر سوا سپارہ سنا رہے ہیں تو ہر پاو میں چار رکعات پڑھیں، بعض حفاظ شروع کی چار رکعات میں آدھا سپارہ پڑھتے ہیں اور بقیہ پون سپارہ سولہ رکعات میں پڑھتے ہیں اس سے مقتدیوں کو تکلیف ہوتی ہے مناسب یہ ہے مطلوبہ مقدار تمام رکعات پر برابر تقسیم کیا جائے۔
(6) اگر آپ عالم ہیں یا قرآن کا ترجمہ جانتے ہیں تو سپارہ یاد کرتے وقت مضامین ذہن میں رکھیں، میں خود بھی اس طریقے پر عمل کرتا ہوں جس سے نہ صرف منزل اچھی یاد ہوتی ہے بلکہ پڑھتے وقت روحانی طور پر لطف و سرور کی ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے۔
رمضان 2026/1447ھ کے دوران مسجد الحرام میں تراویح اور تہجد کے امام
1. الشیخ عبدالرحمان السدیس
2. الشیخ ماھر المعیقلی
3. الشیخ عبداللہ الجہنی
4. الشیخ بندر بن عبد العزیز
5. الشیخ یاسر الدوسری
6. الشیخ بدر التركی
7. الشیخ ولید الشمسان
یہ ائمہ مسجد الحرام میں تراویح اور تہجد کی نمازوں کی امامت کریں گے
18/01/2026
اے کاتبِ وحی
ص
حضرت امیر معاویہ تیری عظمت پر قربان
Click here to claim your Sponsored Listing.