Hammer and Bricks.
This page is an activity log book for our Solar cooking projects. We have been creating awa The project is currently being run in Canada and Pakistan.
06/01/2026
کسی کی اصلیت جاننے کے 15 آزمودہ طریقے
انسان ایک اداکار ہے اور دنیا ایک اسٹیج۔ ہر شخص نے ایک "مہذب" چہرے کا ماسک پہن رکھا ہے۔ اگر آپ کسی کی اصلیت، اس کے ڈی این اے کی سچائی، جاننا چاہتے ہیں، تو آپ کو اسے ایسے حالات میں ڈالنا ہوگا جہاں اس کا ماسک گرنے پر مجبور ہو جائے۔
1. انہیں تھوڑا سا اختیار (Power) دے کر دیکھیں۔
ابراہم لنکن نے کہا تھا، "اگر کسی کا کردار آزمانا ہو تو اسے طاقت دے دو۔" جو شخص اپنے سے کمزور (ماتحت، ڈرائیور، ویٹر) کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے، وہی اس کی اصلیت ہے۔ اگر وہ طاقت ملنے پر فرعون بن جاتا ہے، تو وہ ہمیشہ سے فرعون ہی تھا، بس اس کے پاس موقع نہیں تھا۔
2. پیسے کا معاملہ کریں (Money talks)۔
پیسہ انسان کا دوسرا خدا ہے۔ کسی کے ساتھ چھوٹا سا مالی لین دین کریں، یا اسے ادھار دیں۔ دیکھیں کہ وہ واپس کرتے وقت کیا رویہ اپناتا ہے۔ کیا وہ وعدہ پورا کرتا ہے؟ کیا وہ 100 روپے کے لیے بے ایمان ہو جاتا ہے؟ پیسہ کردار کا ایکسرے (X-Ray) ہوتا ہے۔
3. انہیں "نہیں" (No) کہہ کر دیکھیں۔
کسی کی اصلیت تب سامنے نہیں آتی جب آپ اس کی بات مان رہے ہوں، بلکہ تب آتی ہے جب آپ اسے انکار کرتے ہیں۔ ان کی کسی خواہش پر "نہیں" کہیں۔ کیا وہ آپ کی حد (Boundary) کا احترام کرتے ہیں یا غصہ ہو کر، جذباتی ڈرامہ کر کے یا دھمکی دے کر آپ کو منانے کی کوشش کرتے ہیں؟ ان کا ردعمل بتائے گا کہ وہ آپ کی عزت کرتے ہیں یا صرف آپ کے استعمال کی۔
4. اپنی کامیابی کی خبر سنائیں۔
جب آپ کامیاب ہوتے ہیں، تو دوست کے چہرے پر آنے والا پہلا تاثر (Micro-expression) نوٹ کریں۔ کیا وہاں چمک اور خوشی ہے، یا ایک لمحے کے لیے حسد اور ٹھنڈک؟ جو آپ کی جیت پر خوش نہیں ہو سکتا، وہ آپ کا دشمن ہے جو دوست کے بھیس میں چھپا ہوا ہے۔
5. دیکھیں کہ وہ دوسروں کے راز کیسے سنبھالتے ہیں۔
اگر وہ آپ کے سامنے کسی اور کی برائی کر رہے ہیں یا کسی کا راز کھول رہے ہیں، تو لکھ کر رکھ لیں کہ وہ کسی اور کے سامنے آپ کی برائی بھی کریں گے اور آپ کا راز بھی کھولیں گے۔ غیبت کرنے والا کبھی وفادار نہیں ہوتا۔
6. شدید غصے یا دباؤ کے وقت مشاہدہ کریں۔
خوشی میں ہر کوئی اچھا ہوتا ہے۔ انسان کی اصلیت تب نکلتی ہے جب وہ شدید دباؤ (Pressure) میں ہو یا غصے میں۔ کیا وہ گالی گلوچ پر اتر آتا ہے؟ کیا وہ آپ کے ماضی کے زخموں پر وار کرتا ہے؟ غصے میں انسان وہ سچ بولتا ہے جو وہ ہوش میں چھپاتا ہے۔
7. ان کے ساتھ سفر (Travel) کریں۔
سفر کا مطلب ہے "سفرنگ" (تکلیف)۔ جب فلائٹ لیٹ ہو، کھانا خراب ملے، یا راستہ بھٹک جائیں،تب دیکھیں کہ وہ کیسے ردعمل دیتے ہیں۔ کیا وہ حل ڈھونڈتے ہیں یا صرف شکایت کرتے ہیں اور دوسروں کا موڈ خراب کرتے ہیں؟ سفر انسان کا صبر نچوڑ لیتا ہے۔
8. ان کی "مظلومیت" کی کہانی سنیں۔
اگر ان کی زندگی کی ہر کہانی میں وہ "مظلوم" (Victim) ہیں اور باقی سب "ظالم"، تو ہوشیار ہو جائیں۔ جو شخص اپنی غلطی نہیں مانتا اور ہمیشہ خود کو بیچارہ ظاہر کرتا ہے، وہ ایک زہریلا ہیرا پھیری کرنے والا (Manipulator) ہے۔
9. انہیں انتظار کروائیں۔
کسی میٹنگ میں 10 منٹ لیٹ پہنچیں (کبھی کبھار)۔ دیکھیں کہ ان کا رویہ کیسا ہے۔ کیا وہ صبر سے کام لیتے ہیں یا آپ پر چڑھ دوڑتے ہیں؟ یہ آپ کو بتائے گا کہ ان کے اندر برداشت اور دوسرے کی مجبوری سمجھنے کی کتنی صلاحیت ہے۔
10. جب آپ ان کے کام کے نہ رہیں (Uselessness)۔
سب سے بڑا امتحان۔ جب آپ ان کو فائدہ دینا بند کر دیں، تو کیا وہ پھر بھی آپ سے رابطہ رکھتے ہیں؟ یا وہ غائب ہو جاتے ہیں؟ اصلیت تب کھلتی ہے جب تعلق "لین دین" سے پاک ہو۔
11. مذاق (Joke) میں چھپی سچائی۔
فرائیڈ نے کہا تھا کہ "کوئی مذاق، مذاق نہیں ہوتا"۔ لوگ اکثر مذاق کے پردے میں آپ کو طنز کرتے ہیں یا اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر ان کا مذاق آپ کی تذلیل کر رہا ہے، تو وہ مذاق نہیں، ان کے دل کا سچ ہے۔
12. غلطی پر ان کا ردعمل دیکھیں۔
جب ان سے کوئی غلطی ہو جائے، تو کیا وہ صاف دل سے معافی مانگتے ہیں؟ یا وہ "اگر" اور "مگر" لگا کر، یا الٹا آپ پر الزام لگا کر (Gaslighting) بات گھما دیتے ہیں؟ ذمہ داری قبول نہ کرنا کمینہ پن کی نشانی ہے۔
13. تنازعات (Conflict) میں ان کا طریقہِ جنگ۔
جب آپ کی ان سے لڑائی ہو، تو کیا وہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا وہ جنگ جیتنے کی کوشش کرتے ہیں؟ جو شخص لڑائی میں آپ کے کردار پر کیچڑ اچھالے، وہ کبھی مخلص نہیں ہو سکتا۔
14. ان کے دشمنوں کو دیکھیں۔
کسی شخص کو صرف اس کے دوستوں سے نہ پہچانیں، اس کے دشمنوں سے بھی پہچانیں۔ اگر تمام شریف اور ایماندار لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص میں گڑبڑ ہے، چاہے وہ آپ کے ساتھ کتنا ہی میٹھا کیوں نہ ہو۔
15. اپنی چھٹی حس (Gut Feeling) پر بھروسہ کریں۔
ہمارا دماغ لاکھوں سالوں کے ارتقاء سے خطرہ بھانپنا سیکھ چکا ہے۔ اگر کوئی شخص بہت میٹھا ہے، سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن آپ کے پیٹ میں عجیب سی بے چینی ہے کہ "کچھ گڑبڑ ہے" تو یقین کریں، واقعی کچھ گڑبڑ ہے۔ آپ کا لاشعور وہ سگنل پکڑ رہا ہے جو آپ کی آنکھیں نہیں دیکھ رہیں۔
بچپن سے لے کر جوانی تک، ہر قدم پر بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ فیصلہ وہی ہوتا ہے جو بڑے کریں۔
یہ پہن لو۔ یہ کھاؤ۔ یہ مضمون چُنو۔ یہ یونیورسٹی جاؤ۔ یہی فیلڈ بہتر ہے۔
اور پھر یہی بچہ جب زندگی کے کسی چوراہے پر کھڑا ہوتا ہے، تو فیصلہ کرنے سے ڈر جاتا ہے۔
کیونکہ اُسے کبھی سکھایا ہی نہیں گیا کہ خود کیسے سوچا جاتا ہے، خود سے choice کیسے کی جاتی ہے۔
پھر وہ approval کے پیچھے بھاگتا ہے۔
کوئی بزرگ ہاں کرے تو آگے بڑھے، کوئی رشتہ دار support کرے تو فیلڈ بدلے۔
نہیں تو wait کرتا رہتا ہے اور وقت اُس سے آگے نکل جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لاکھوں نوجوان “independent” ہوتے ہوئے بھی اپنی زندگی میں “dependent” ہوتے ہیں۔
نہ وہ خود اپنے فیصلے کرتے ہیں، نہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔
📊 World Economic Forum کی 2023 کی رپورٹ کہتی ہے:
"آنے والے وقت میں فیصلہ سازی (decision-making) سب سے قیمتی سکل ہوگی۔"
لیکن پاکستان کے 63٪ نوجوان اپنی فیلڈ یا کریئر کا فیصلہ خود نہیں کرتے۔
اور اُن میں سے 41٪ بعد میں پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں۔
جب decision-making سکل ہی develop نہ ہو، تو leadership کہاں سے آئے گی؟
entrepreneurship کہاں سے جنم لے گی؟
نئی سوچ کیسے بنے گی؟
ترقی یافتہ ممالک جیسے فن لینڈ، سویڈن، جاپان وہاں بچوں کو ابتدائی عمر میں decisions لینے کی آزادی دی جاتی ہے:
کیا پہننا ہے، کون سا مضمون لینا ہے، کیا بننا ہے، کس سے دوستی کرنی ہے۔
یہ freedom اُنہیں ایک ایسا individual بناتی ہے جو خود پر بھروسہ کرتا ہے، اور یہی لوگ دنیا بدلتے ہیں۔
ایک Harvard Business Review کے مطابق:
"جو نوجوان 15 سے 18 سال کی عمر میں decision-making سیکھ لیتے ہیں، اُن کی adulthood میں کامیابی 30 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔"
ہمارے ہاں؟
ہم بچپن سے بچوں کی آزادی کو control کرتے ہیں اور بعد میں شکوہ کرتے ہیں کہ بچے ذمہ دار نہیں۔
یاد رکھو:
جس بچے کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختیار نہیں دیا جائے گا، وہ بڑے فیصلوں میں صرف دوسروں پر depend کرے گا۔
اور جو ہمیشہ دوسروں پر depend کرے گا، وہ کبھی زندگی کا مالک نہیں بنے گا۔
جب بچہ خود فیصلے کرے گا تو وہ بہادر بنے گا۔
اسے یہ confidence ملے گا کہ "ہاں، میں کر سکتا ہوں۔"
پھر وہ چھوٹے چھوٹے challenges سے ڈرنے کی بجائے ان کا سامنا کرنا سیکھے گا۔
جب بچہ خود فیصلہ کرے گا، تو اس کا exposure بڑھے گا۔
وہ خود مختلف opinions، results، اور دنیا کو سمجھنے لگے گا۔
غلط فیصلے بھی کرے گا، لیکن انہی سے اُس کے فیصلے mature ہوں گے۔
بچے کو اپنا مشیر بناؤ۔
اپنے فیصلوں میں اُسے شامل کرو۔
اُسے سمجھاؤ کہ کیوں یہ option چنا، دوسرے option کیوں نہیں۔
پھر وقت آنے پر اُسے بھی وہی situation دو اور اس کے فیصلے کی output اسے explain کرو۔
یہی real-time learning ہے یہی character-building ہے۔
بچے کو چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے دو:
کیا پہننا ہے، کہاں جانا ہے، کیا project لینا ہے، کیا topic لکھنا ہے۔
اور ہر بار "یہ نہ کر بیٹھو گے" والا خوف اُس کے ذہن میں نہ ڈالو۔
بچوں کو ہر وقت ڈرا کر، اُن کی شخصیت کو گھٹایا جاتا ہے۔
اُنہیں اعتماد نہیں ملتا وہ grown-up ہوتے ہیں، mature نہیں۔
اپنے بچوں کو فیصلہ کرنا سکھاؤ۔
چاہے وہ فیصلے چھوٹے ہوں، چاہے وہ غلط ہوں۔
بچوں سے decisions مت چھینو بلکہ اُنہیں فیصلہ ساز بناؤ...
29/05/2025
پھیپھڑوں کی صفائی نزلہ ، زکام ، کھانسی اور بلغم کی زیادتی کیلئے
ایسا نسخہ جو کہ پھیپھڑوں کےلیے بہت اچھا ہے۔ پھیپھڑوں میں جو آپ کے ریشہ بنتا ہے ۔ یہ وہ نسخہ ہے جو کہ آپ کے لنگس کے اندر جتنا ریشہ ہوتا ہے اس کو حاجت میں نکال دیتا ہے۔ اور نظام ہضم کے لیے بہت ہی اچھا ہے۔ ان لوگوں کے لیے جن کی ہر وقت سینے میں جکڑن رہتی ہے۔ ریشہ رہتا ہے ۔ اور وہ ختم نہ ہورہا ہے۔ تو اس کی وجہ سے اور بہت سے مسائل آرہے ہوں۔
ان کے پھیپھڑے بہت کمزورہوگئے ہوں۔ تو ان کے لیے بہت ہی اچھا نسخہ ہے۔ اس کے لیے سب سےپہلے آپ نے اجوائن سوگرام لینی ہے۔ سوگرام سونف لینی ہے۔ پودینہ سوگرام لیناہے۔ برگد بانسہ ہمارے ہاں کمال کی چیز ہے اس کے متعلق ہے کہ آپ کے لنگس بہت ہی کمزور ہوگئے ہوں۔ اور پھیپھڑے کام نہ کررہے ہوں۔ تو اس کے لیے یہ کمال کا نسخہ ہے۔ برگد بانسہ بڑا اہم کردار اداکرتا ہے.
ھوالشافی:
۔برگد بانسہ آ پ نے سوگرام لینا ہے۔ سناء مکھی ، کالی ہریراورگل سرخ ان ساری چیزوں کو ہم وزن لینا ہے۔ یہ تقریباً ہم وزن سوسوگرام لے کر اچھی طرح صاف ستھرا کرکے باریک پیس لینا ہے۔ یہ اتنا کمال کا نسخہ ہے کہ آپ کے لنگس کے اندر جو ریشہ ہے وہ ریشہ اگرختم نہ ہورہا ہوتو اس کے لیے کمال کا نسخہ ہے ۔ اس کی ترکیب استعمال یہ ہےکہ ان سب چیزوں کو آپ نے باریک پاؤڈر بنا لینا ہے۔
جب یہ پاؤڈر بن جائے تو اس کا آدھی چمچ پاؤڈر نیم گرم پانی کے ساتھ دن میں کم ازکم تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔ ویسے یہ نظام ہضم کے لیے بہت اچھا ہے۔ خاص طور پر جب آپ کا لنگس کمزو ر ہوگئے ہوں۔ اور آپ کے لنگس کے اندر بہت زیادہ ریشہ بنتا ہے۔ یہ اس کے لیے کمال کا نسخہ ہے۔ آپ کے پھیپھڑوں کے اندرجتنا بھی ریشہ ہوگا اس کو حاجت کے ذریعے سے باہر نکال دے گا۔
اس کے ساتھ ہی آپ کے نظام ہضم کو ٹھیک رکھے گا۔ ہاضمے کو ٹھیک رکھے گا۔ معدے کےلیے بہت اچھا ہے۔ ان لوگوں کےلیے جن کابلغمی مزاج ہوگیا ہو۔ ان کےلیے کمال کا نسخہ ہے۔ آپ کو جتنی بھی چیزیں بتائی گئی ہیں۔یہ ساری کی ساری مجرب چیزیں ہیں۔ آپ ا س نسخہ کو استعمال کریں۔ انشاءاللہ ! اللہ تعالیٰ آپ پر کرم فرمائے گا۔ آمین۔
شکریہ: الحسن شفاء خانہ
01/05/2025
سقراط نے ایک بار کہا تھا۔
"اگر کوئی گدھا مجھے لات مارتا ہے تو کیا میں اس پر مقدمہ کروں گا، شکایت کروں گا یا اسے واپس لات ماروں گا؟"
بات یہ نہیں کہ ہر مباحثہ جیتا جائے یا ہر دلیل میں کامیابی حاصل کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اپنی توانائی ان لوگوں پر صرف کی جائے جو اس کے مستحق ہوں۔
جہالت چیختی ہے، جبکہ عقل خاموش رہتی ہے۔ جب کسی کے پاس دینے کے لیے توہین اور شور شرابے کے سوا کچھ نہ ہو، تو سب سے طاقتور جواب خاموشی ہے۔
کسی ایسے شخص کی سطح پر مت گریں جو محض تنازعات کے لیے کوشاں ہو۔
سچی ذہانت کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ اپنی روشنی سے خود بخود نمایاں ہو جاتی ہے۔...!
Click here to claim your Sponsored Listing.