Rao Ali Raza
Ask not what your country can do for you; ask what you can do for your country . John F. Kennedy
18/04/2026
اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے
*راجپوت شخصیت*
*حاجی راؤ محمد افضل خان پاکستان کے ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن تھے 1925 میں کلانور ضلع روہتک ھریانہ میں پیدا ھوۓ انکے والد صاحب راؤ محمد الیاس خان اپنے علاقے کے ایک معزز شخصیت اور زمیندار تھے راؤ محمد افضل خان نے ابتدائی تعلیم کلانور سے ھی حاصل کی،*
*پاکستان بننے کے بعد دیپالپور ضلع منٹگمری موجودہ ساھیوال آۓ اور انہیں زرعی زمین کی الاٹمنٹ دیپالپور میں ھوئی برج الیاس خان جو انکے والد صاحب کے نام سے موسوم ھے اور یونین کونسل مظہر آباد جو انکے دادا راؤ مظہر علی خان کے نام سے ھے اسی حلقہ سے اپنی سیاست کا آغاز کیا پہلی مرتبہ 1962 میں مغربی پاکستان سے ایم پی اے منتخب ھوۓ اسکے بعد* *1965 ,1970، 1977کے عام انتخابات میں بھی آزاد حیثیت سے ایم پی اے منتخب ھوۓ1970 میں آپ پنجاب سے واحد ایم پی اے تھے جو پیپلز پارٹی کے خلاف آزاد حیثیت سے الیکشن جیتے وزیراعِظم ذولفقار علی بھٹو کے درخواست کرنے پر پیپلز پارٹی میں شامل ھوۓ* *بلاشبہ راؤ صاحب ایک بااثر رہنما اور عوام دوست شخصیت تھے انہوں نے اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں اور عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ دیپالپور اور گردونواح میں انکا نام آج بھی عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔*
*1982 میں آپکی کاوشوں اور آپکے قریبی عزیز جنرل (ریٹائرڈ) راؤ فرمان علی خان وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل کی* *خصوصی توجہ سے اوکاڑہ کو ضلع کا درجہ ملا حاجی راؤ محمد افضل خان جنرل ضیا الحق صدر پاکستان کی مجلس شوری کے بھی 1981 سے 1985 تک ممبر رھے 1988 میں آپ نے جنرل الیکشن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے لڑا اور اسوقت کے وزیر اعلی پنجاب میاں نواز شریف جو بعد میں 3 مرتبہ وزیر اعظم بھی منتخب*
*ھوۓ انکو قومی اسمبلی کے حلقہ دیپالپور، ضلع اوکاڑہ سے اکثریت سے شکست دی اور ایم این اے منتخب ھوۓ انکے نیچے صوبائی حلقہ سے راؤ اعجاز علی خان ایم پی اے بنے*
*اور ضلع اوکاڑہ دوسرے حلقہ سے آپکے بھتیجے میجر راؤ محمد اقبال خان کے بیٹے راؤ سکندر اقبال ایم این اے منتخب ھوۓ آپکی خواھش پر محترمہ بینِظیر بھٹو وزیر اعظم نے راؤ سکندر اقبال کو وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا وفاقی وزیر خواراک و زراعت کے طور پر، راؤ صاحب کی حیثیت ایک با اثر مقامی عوام دوست اور ھر دالعزیز عوامی شخصیت کے طور پر تھی 1993 کے الیکشن میں آپکے حقیقی بھانجے راؤ قیصر علی خان آپکے مد مقابل تھے اس الیکشن میں راؤ قیصر علی خان کامیاب ھوۓ مجموعی طور پر حاجی راؤ محمد افضل خان 4 مرتبہ ایم پی اے اور دو مرتبہ ایم این اے رھے اور ھر*
*وقت اپنے حلقہ کے عوام کے ساتھ رابطہ میں رھے انہوں نے اپنے علاقے میں بیشمار ترقیاتی کاموں اور عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ دیپالپور اور گردونواح میں ان کا نام آج بھی عزت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ انکے بھانجے راؤ قیصر علی خان 3 مرتبہ مسلسل ایم این اے اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رھے اور بھتیجے راّؤ سکندر اقبال 3 مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر خوراک، زراعت، سپورٹس، ٹوورازم، کلچر، سینئر منسٹر، وفاقی وزیر دفاع و ھوابازی، چیرمین سٹینڈنگ کمیٹی دفاع، چیرمین سوشل ایکشن بورڈ ضلع اوکاڑہ رھے اور قریبی عزیز راؤ محمد ھاشم خان بھی معتتد مرتبہ پاکپتن شریف سے ایم این اے اور چیرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی منتخب ھوۓ، حاجی راؤ محمد افضل کا انتقال 1998 میں ھوا بلا شبہ انکے جنازہ پر ھزاروں لوگوں نے شرکت کی انکے وفات کے بعد انکے صاحبزادے حاجی راؤ محمد اجمل خان اسی حلقہ سے 3 مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ھوۓ اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری صعنت پیداوار، چیرمین قائمہ کمیٹی قومی غزائی تحقیق رھے اور وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں مشیر/ وزیر مملکت کی حیثیت سے کام کیا اور اب بھی اپنے حلقے کے عوام کی خدمت کر رھے ھیں انکے دوسرے بیٹوں میں کرنل راؤ شمشیر خان آرمی میں اپنی خدمات سر انجام دیتے رھے ھیں، راؤ گلشیر خان ڈی سی کسٹم کی حیثیت سے لاھور میں اپنے فرائض سر انجام دے رھے ھیں باقی بیٹے راؤ محمد تجمل خان، اور راؤ محمد اکمل خان، معروف زمیندار ھیں، انکے پوتے انجینئر راؤ سعد اجمل خان، وائس چیرمین ضلع کونسل اوکاڑہ رہ چکے ھیں دوسرے پوتے بیرسٹر راؤ فہد اجمل خان معروف قانون دان ھیں، تیسرے پوتے راؤ رافع افضل خان پاکستان ایڈمنسٹریسن سروس میں CSS آفیسر کی حیثیت سے ڈپٹی کمشنر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رھے ھیں*
*تحریر و تحقیق*
*راؤ محمد افضل خان*
*ایڈمن*
*راؤ راجپوت کیمونٹی*
جنگ سے ڈر نہیں لگ رہا صاحب ، بجلی کا بل میں جنگ ایڈجسٹمنٹ چارجز سے لگ رہا ہے
😞
Click here to claim your Sponsored Listing.