Payam-e-Chitral
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Payam-e-Chitral, News & Media Website, Abbottabad.
نورالدین زنگی چترالی, ویڈیو کی حقیقت — ایک مکمل جائزہ
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
چند دنوں سے سوشل میڈیا خصوصاً مختلف چترالی پیجز اور واٹس ایپ گروپس میں ایک نوجوان “نورالدین زنگی چترالی” کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ مختلف دعوے، الزامات، ویڈیوز اور تبصرے منظرِ عام پر آ رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف چترالی عوام بلکہ پورے ملک میں تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ مذکورہ شخص نے کاروبار اور سرمایہ کاری کے نام پر کئی چترالی افراد سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے حاصل کیے اور بعد ازاں اچانک غائب ہو گیا۔
آج صبح سے ایک نئی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں نورالدین زنگی مبینہ طور پر کچھ مسلح افراد کے قبضے میں دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ویڈیو میں اغواء کار کروڑوں روپے تاوان کا مطالبہ کرتے سنائی دیتے ہیں۔ یہی ویڈیو اس وقت عوامی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اس معاملے پر عوام کے تاثرات دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک طبقہ اس ویڈیو کو حقیقت قرار دے رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی نورالدین زنگی اغواء ہو چکا ہے تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہے، جس میں فوری حکومتی اور ریاستی مداخلت ناگزیر ہے۔ ایسے افراد کا مؤقف ہے کہ انسانی جان ہر چیز سے مقدم ہے اور اگر کوئی شخص ڈاکوؤں یا جرائم پیشہ عناصر کے قبضے میں ہے تو اسے فوری بازیاب کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب ایک بڑا طبقہ اس پورے واقعے کو “ٹوپی ڈرامہ” قرار دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام منصوبہ بندی پہلے سے تیار کی گئی تاکہ چترالی عوام سے لیے گئے پیسے ہضم کیے جا سکیں اور ہمدردی حاصل کر کے مزید وقت خریدا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی اغواء ہوا ہے تو پھر اس کی مکمل تفصیلات، مقام، شواہد اور قانونی کارروائی کیوں منظرِ عام پر نہیں آ رہی؟ بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جدید دور میں جعلی ویڈیوز، منصوبہ بند ڈرامے اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا عام ہو چکا ہے، اس لیے ہر ویڈیو کو بغیر تحقیق کے سچ مان لینا دانشمندی نہیں۔
چترالی عوام اس وقت شدید کشمکش اور ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ ایک طرف ہمدردی اور انسانی درد کا جذبہ ہے، تو دوسری طرف مالی نقصان اٹھانے والوں کا غصہ اور بے یقینی بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ معاملہ محض سوشل میڈیا بحث نہیں رہا بلکہ ایک سنجیدہ قومی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔
ایسے حساس اور پیچیدہ معاملے میں ضروری ہے کہ ریاستی ادارے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں تاکہ حقیقت جلد از جلد قوم کے سامنے لائی جا سکے۔ اگر نورالدین زنگی واقعی اغواء ہوا ہے تو حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ سیکیورٹی ایجنسیاں پوری قوت کے ساتھ اسے بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کریں، اور اغواء میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
لیکن اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ سب ایک منصوبہ بند ڈرامہ تھا، جس کا مقصد عوام کو دھوکہ دینا اور مالی فراڈ کو چھپانا تھا، تو پھر اس کے اصل کرداروں کو بھی نشانِ عبرت بنایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص عوامی اعتماد اور جذبات سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے چترال کے وقار، اعتماد اور ساکھ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں افواہیں آگ کی طرح پھیلتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص جذبات کے بجائے تحقیق اور ثبوت کو ترجیح دے۔ بغیر تصدیق کے کسی کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینا مزید انتشار پیدا کر سکتا ہے۔
اب نظریں ریاستی اداروں پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کتنی سنجیدگی، دیانتداری اور تیزی کے ساتھ اس معمے کو حل کرتے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ آیا واقعی ایک نوجوان ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے یا پھر یہ سب ایک سوچا سمجھا کھیل ہے؟
قوم انتظار کر رہی ہے کہ سچ جلد سامنے آئے، مظلوم کو انصاف ملے، اور اگر کسی نے عوام کو دھوکہ دیا ہے تو اسے قانون کے مطابق عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے۔
04/05/2026
پرنس شاہ رحیم آغا خان کی چترال آمد اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
چترال کی پُرفضا وادیوں میں جب بھی کسی معزز شخصیت کی آمد ہوتی ہے تو یہاں کے پہاڑ، دریا اور لوگ سب ایک خاص سرشاری اور مسرت میں ڈوب جاتے ہیں۔ ایسے ہی پُرمسرت لمحات اس وقت جنم لیتے ہیں جب اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا کے خانوادے سے تعلق رکھنے والی عظیم ہستی Prince Shah Rahim Aga Khan کی چترال آمد متوقع ہو۔ یہ محض ایک آمد نہیں بلکہ محبت، رواداری، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک روشن پیغام ہے جو دلوں کو قریب لاتا ہے اور معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔
ہم سب کی جانب سے اسماعیلی کمیونٹی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے کہ انہیں یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے چترال اور گلگت بلتستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اس موقع پر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مہمانِ گرامی کو بھرپور محبت، احترام اور خلوص کے ساتھ خوش آمدید کہیں، تاکہ ہماری تہذیب، مہمان نوازی اور اعلیٰ اقدار کا عملی مظاہرہ ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس خطے میں سنی اور اسماعیلی برادری صدیوں سے باہمی احترام، بھائی چارے اور امن کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ یہی وہ خوبصورت روایت ہے جس نے چترال کو امن کا گہوارہ بنایا ہوا ہے۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے بعض شرپسند عناصر ایسی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عناصر متنازعہ مواد پھیلا کر غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں برادریوں کے درمیان دوریاں بڑھیں اور عدم استحکام پیدا ہو۔
لہٰذا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب، خصوصاً نوجوان نسل، سوشل میڈیا کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتیں۔ کسی بھی خبر، ویڈیو یا تحریر کو شیئر کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں۔ یاد رکھیں، ایک غیر مصدقہ بات نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ نفرت اور انتشار کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
ہمیں بطور ذمہ دار شہری اپنے اردگرد کے ماحول پر گہری نظر رکھنی ہوگی، خاص طور پر ان عناصر پر جو سوشل میڈیا کے ذریعے زہر گھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنی اور اسماعیلی دونوں برادریوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں، افواہوں سے دور رہیں اور ہر اس کوشش کو ناکام بنائیں جو ہمیں تقسیم کرنے کے لیے کی جائے۔
آخر میں، Prince Shah Rahim Aga Khan کی چترال آمد کو ہم ایک نئے عزم، اتحاد اور بھائی چارے کے موقع کے طور پر لیں۔ یہ آمد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم سب ایک ہیں، ہمارا مستقبل ایک ہے، اور ہماری طاقت بھی ہمارے اتحاد میں ہے۔ اگر ہم نے ہوش مندی، صبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو کوئی بھی قوت ہمیں تقسیم نہیں کر سکتی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امن، اتحاد اور بھائی چارے کی اس فضا کو ہمیشہ قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
۔
01/05/2026
یومِ مزدور — پسینہ، صبر اور عزت کی داستان
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
یکم مئی کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو اپنے ساتھ صرف ایک دن کی روشنی نہیں لاتا، بلکہ اُن لاکھوں کروڑوں محنت کشوں کی داستانیں بھی لے کر آتا ہے، جن کے پسینے سے زمینیں سیراب، کارخانے آباد اور شہر روشن ہوتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی ہر اینٹ کے پیچھے کسی مزدور کے ہاتھوں کی محنت، کسی ماں کی دعائیں اور کسی بچے کی محرومی چھپی ہوتی ہے۔
پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور کھیتوں میں نظر دوڑائیں تو ہر طرف مزدور کی محنت کے رنگ بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں تپتی دھوپ میں اینٹیں اٹھاتا مزدور، کہیں سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں رکشہ چلاتا باپ، تو کہیں فیکٹریوں کے شور میں اپنی جوانی کھپاتا نوجوان—یہ سب اس ملک کی اصل طاقت ہیں۔ مگر افسوس کہ اکثر انہی ہاتھوں کو وہ عزت، وہ سہولتیں اور وہ تحفظ نہیں ملتا جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔
اسلام نے تو محنت اور مزدور کو وہ مقام عطا کیا ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
"مزدور کی اجرت اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔"
یہ صرف ایک حکم نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ انصاف کی بنیاد ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مزدور صرف ایک کارکن نہیں بلکہ عزت و تکریم کا مستحق انسان ہے، جس کے حقوق کی حفاظت معاشرے پر فرض ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی اُس مزدور کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ہے جو دن بھر کی محنت کے بعد بھی اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے میں ناکام رہتا ہے؟
کیا ہم نے اُس کے دل کی تھکن کو محسوس کیا ہے جو اپنے خوابوں کو قربان کر کے ہمارے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیتا ہے؟
یومِ مزدور ہمیں صرف تقریبات منانے یا نعرے لگانے کا نہیں، بلکہ خود احتسابی کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے رویّوں کو بدلیں، اپنے معاشرتی نظام کو بہتر بنائیں اور اُن لوگوں کو وہ مقام دیں جو درحقیقت اس کے مستحق ہیں۔
پاکستان کا مستقبل صرف بڑے منصوبوں، اونچی عمارتوں یا ترقیاتی نعروں سے روشن نہیں ہوگا، بلکہ اُس وقت روشن ہوگا جب ایک مزدور کا بچہ بھی تعلیم، صحت اور عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزار سکے گا۔ جب مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے گا، جب اس کے ہاتھوں کی محنت کو عبادت سمجھا جائے گا، تب ہی ایک حقیقی اسلامی اور فلاحی معاشرہ وجود میں آئے گا۔
آئیے، اس یومِ مزدور پر ہم صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ عمل کے ذریعے یہ عہد کریں کہ ہم ہر مزدور کی عزت کریں گے، اس کے حقوق کا خیال رکھیں گے اور ایک ایسا پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں کوئی بھی محنت کش محرومی کا شکار نہ ہو۔
کیونکہ یاد رکھیں—
قومیں محلات سے نہیں، مزدوروں کے پسینے سے بنتی ہیں۔
#یومِ_مزدور
#پاکستان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
25000