Meer Mohsin
Silent Writer
05/12/2021
تھک چکا ہوں میں دُنیا کی محفلوں سے
مجھے تنہائیوں کے گھروں سے اک گھر چاہیے۔
میر محسنؔ
05/12/2021
میں اب دامن بچا کے چلتا ہوں
کبھی کبھی مسکرا کے چلتا ہوں
یوں تو حسینائیں بہت ہیں یہا بھی
پر میں اُس کو دل میں بسا کے چلتا ہوں
وہ چاہے کسی اور کے نام کی ہو گئی ہے
پر میں خود کو اب بھی اُس کا بتا کے چلتا ہوں
میر محسنؔ
05/12/2021
اور میں نہیں ہوں لیلیٰ کا مجنوں
جب بھی ہوا، کسی کا سر تو توڑوں گا۔
ہمارے دل کی کیفیت کاش کبھی اُن پہ اُترے
وہ بھی تو جانے آخر ہم پہ گزرتی کیا ہے
میر محسنؔ
My Lines on the lips of My Beloved Brother Muhammad Abdullahwaris(MPG Guru).
Thank You So Much My Beloved Brother
05/12/2021
میں آج بھی خود سے جھوٹ بولتا ہوں
اور جب بھی بولتا ہوں، دبا کہ بولتا ہوں
وہ آج بھی میرے پیار اور انتظار میں ہوگی
خود کو چُپ کرانے کے لیے بار بار بولتا ہوں
اُڑتے پرندے بھی لوٹتے ہیں کبھی؟
اس بات پہ بھی جھوٹ ہزار بولتا ہوں
میری شاعری میں تیرا ذکر تو ہے پر نام نہیں
یہ بات میں کھا کے قسمِ پرودگار بولتا ہوں
میرے مرنے پہ کیا وہ بھی روئے تھے محسنؔ
کبھی میں خود کو اقرار تو کبھی انکار بولتا ہوں
05/12/2021
جوڑے کو توڑ اور ٹوٹے کو جوڑ سکتا ہوں
میں اک لکھاری ہوں، کہانی کا رُک موڑ سکتا ہوں
Click here to claim your Sponsored Listing.