Awaz-e-Nau
Ideas over Power. Justice over Silence.
28/01/2026
🚨 Afghan Taliban have announced a permanent ban on woman access to schools, declaring women education as "haram" and against the Shariah.
— A few days ago, Taliban also issued a decree institutionalizing slavery in the country and giving it legal status.
یہ ملک جل رہا ہے—اور سب سے زیادہ وہ علاقے جل رہے ہیں جہاں کے لوگوں کے نام بھی اقتدار کے ایوانوں میں مشکل سے لیے جاتے ہیں۔
کراچی کے ایک پلازہ میں آگ لگی۔ صرف دیواریں نہیں جلیں، مزدوروں کی محنت، دکانداروں کی عمر بھر کی کمائی، اور کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ ابھی اس سانحے کا زخم تازہ ہی تھا کہ کوئٹہ میں ایک اور پلازہ آگ کی نذر ہو گیا۔ چیخیں، دھواں، لاشیں، راکھ… اور ریاست؟ ریاست حسبِ معمول تماشائی بنی رہی۔ یہ حادثات نہیں، یہ ایک ایسے نظام کا چہرہ ہیں جو انسانی جان سے زیادہ منافع اور فائلوں کی مہر کو اہم سمجھتا ہے۔ فائر سیفٹی کاغذوں میں مکمل، عمارتیں نقشوں میں شاندار، مگر حقیقت میں موت کے جال۔
ادھر قبائلی اضلاع میں روز لاشیں اٹھتی ہیں۔
ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے، دہشت گردی—یہاں خوف کوئی خبر نہیں، روزمرہ کی حقیقت ہے۔ بچے لاشیں دیکھ کر بڑے ہو رہے ہیں، مائیں ہر لمحہ اپنے بیٹوں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، مگر بدلے میں اسے امن نہیں، صرف مزید آزمائشیں ملیں۔
اور اب خیبر میں، اس شدید سخت سردی میں، آپریشن شروع ہو چکا ہے۔
برفانی ہواؤں میں گھر خالی ہو رہے ہیں،
بے سروسامان خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں،
خیمے، سرد زمین، بھوکے بچے اور خوف زدہ چہرے—یہ ہیں جنگ کے وہ مناظر جو کبھی ٹی وی اسکرین پر پورے نہیں دکھائے جاتے۔ سوال یہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہر بار اس کی قیمت صرف عام عوام ہی ادا کریں گے؟ کیا بندوق ہی ہر مسئلے کا واحد حل رہ گیا ہے؟
اسلام آباد اور بڑے شہروں کے ایوانوں میں مگر سکوت ہے۔
اشرافیہ حکمرانوں کو نہ کراچی کے جلتے پلازے جھنجھوڑتے ہیں،
نہ کوئٹہ کے سسکتے خاندان،
نہ خیبر کی سرد راتیں۔
وہ اپنی عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، عوام کے دکھ ان کے لیے صرف خبروں کی سرخیاں ہیں۔
یہ کیسی ریاست ہے جہاں آگ عوام کو جلاتی ہے، بم عوام کو مارتے ہیں، اور آپریشن عوام کو بے گھر کرتے ہیں—مگر جواب دہی کہیں نہیں؟
یہ خاموشی محض بے حسی نہیں، ایک اجتماعی جرم ہے۔
قبائلی اضلاع مزید لاشوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔۔
اس ملک کو نعروں، بیانات اور وقتی آپریشنز نہیں، ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو انسانی جان کو اولین ترجیح دے، جو احتساب کرے، جو عوام کو دشمن نہیں، شہری سمجھے۔
سوال اب یہ نہیں کہ سانحے کیوں ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کب تک یہ ملک جلتا رہے گا اور اقتدار کے ایوان ٹھنڈے رہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.