APRA
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from APRA, Public Figure, PAF Colony Cant Peshawar, Peshawar.
السلام علیکم
فارما سیلز اینڈ مارکیٹنگ کمیونٹی میں بڑھتی ہوئی اموات کی شرح ایک انتہائی تشویشناک اور دل دہلا دینے والا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
گزشتہ چند ماہ میں ہم نے کئی افسوسناک واقعات دیکھے ہیں —
کسی کی جان روڈ ایکسیڈنٹ میں چلی گئی،
کوئی شدید سیلز پریشر کا شکار ہو کر ذہنی و جسمانی دباؤ میں آ گیا،
کسی کو وقت سے پہلے جان لیوا بیماریاں لاحق ہو گئیں،
اور کچھ کیسز میں تو فیلڈ میں بائیک چلاتے ہوئے اچانک کارڈیک اریسٹ ہو گیا۔
یہ سب صرف حادثات نہیں، بلکہ ایک نظامی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وجوہات: ▪ مسلسل ذہنی دباؤ اور غیر حقیقی سیلز ٹارگٹس
▪ طویل اوقات کار اور آرام کی کمی
▪ غیر متوازن خوراک اور صحت کا خیال نہ رکھنا
▪ روڈ سیفٹی کے ناقص انتظامات
▪ ملازمین کی ذہنی صحت پر عدم توجہ
▪ جاب سیکیورٹی کا خوف اور کارکردگی کا دباؤ
ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ ✔️ کمپنیوں کو انسانی بنیادوں پر پالیسیز بنانی ہوں گی
✔️ سیلز ٹارگٹس کو حقیقت پسندانہ بنایا جائے
✔️ ملازمین کے لیے ہیلتھ چیک اپ اور کونسلنگ لازمی قرار دی جائے
✔️ فیلڈ فورس کے لیے سیفٹی ٹریننگ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کی جائیں
✔️ ورک لائف بیلنس کو یقینی بنایا جائے
✔️ ایمرجنسی رسپانس سسٹم متعارف کروایا جائے
یہ وقت ہے کہ اربابِ اختیار، فارما کمپنیز، اور متعلقہ ادارے اس سنجیدہ مسئلے پر فوری توجہ دیں۔
ہمیں اپنی قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
آئیں مل کر ایک محفوظ، صحت مند اور باوقار ورکنگ ماحول تشکیل دیں۔
خدارا اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے — کیونکہ ہر جان قیمتی ہے۔
لعل محمد مہمند،
صدر ایپرا پاکستان 🇵🇰۔
بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے۔ ایک میڈیکل ریپریزیٹیٹو معاشرہ کے پڑھے لکھے اور سمجھدار افراد میں شمار کیا جاتا ہے یہ ایک highly skilled اور professional جاب ہے حالانکہ ان پر sales کا شدید دباؤ ہوتا ہے اور اکثر اوقات اپنی عزت نفس بھی مجروع کرنی پڑتی ہے جیسا کہ یہاں ہوا بہت بڑا ظلم ہوا ہے مگر نہ تو ہم متحد ہیں اور ناہی کوئی پُرسان حال یہ بات ایک عام سکیورٹی گارڈ بھی جانتا ہے اسی لئے اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ مگر ہونا کچھ بھی نہیں۔ یہ آپس میں متحد ہوکر کوئی تنظیم بنائیں تو شاید مسئلہ اور مشکلات کم ہوں انتظامیہ کی طرف سے کوئی خاطرخواہ ایکشن نہیں ہوگا مگر یہ شعور کب آئیگا ان معصوم بچوں میں یہ اللہ رب العزت ہی بہتر جانتے ہیں بس وہی آپ کی پہلی اور آخری امید ہے
یادوں سے مستقبل کی طرف
الحمدللہ! اب ہم سب مل کر APRWA Pakistan 🇵🇰 کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں، ان شاء اللہ۔
ہم تمام معزز ساتھیوں سے پُرخلوص گزارش کرتے ہیں کہ آنے والی نسل کے میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کے بہتر مستقبل کے لیے اتحاد، یکجہتی اور ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کریں۔
APRWA Pakistan 🇵🇰 ایک مضبوط بنیاد رکھ چکی ہے،
اب اس عمارت کو مضبوط اور پائیدار بنانے کی ذمہ داری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آئیں! ہم سب مل کر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیں جو
ترقی، تحفظ، وقار اور روشن مستقبل کی ضمانت بنے۔
⸻
نیک تمناؤں کے ساتھ،
لعل محمد مہمند،
صدر،
APRWA Pakistan 🇵🇰
کابینہ APRWA Pakistan 🇵🇰
محترم میڈیکل ریپریزنٹیٹوز؛
نہایت مؤدبانہ گزارش ہے کہ براہِ کرم اس ویڈیو کو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس اور تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ضرور شیئر کریں۔ یہ اجتماعی کوشش میڈیکل ریپریزنٹیٹوز کی آواز کو مضبوط بنانے اور اسے APRWA پاکستان 🇵🇰 کے ذریعے حکومتِ پاکستان 🇵🇰 تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
آپ کا ایک شیئر اتحاد، پہچان اور ہمارے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم بن سکتا ہے۔
مل کر ہم مضبوط ہیں، ہمارا مقصد واضح ہے، اور ہمارا مستقبل روشن ہے۔
آئیے وقار، انصاف اور ایک مضبوط پیشہ ورانہ برادری کے لیے متحد ہو جائیں۔
اتحاد میں طاقت ہے، اور طاقت میں تبدیلی۔
خیراندیش،
لعل محمد مہمند
صدر
APRWA پاکستان 🇵🇰
کابینہ APRWA پاکستان 🇵🇰
فارما کمپنیوں اور ڈاکٹروں کا گٹھ جوڑ
آج کل نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے گٹھ جوڑ پر ہر میڈیا پلیٹ فارم پر بات ہو ہی رہی ہے تو آپ کو بتا دیتے ہیں کہ یہ گٹھ جوڑ آج کا نہیں دو دہائیوں سے زیادہ پُرانا ہے
اسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے پاکستان میں دواؤں اور علاج کی قیمت نہ صرف خطے بلکہ دُنیا میں سب سے کم ہے، اسی لیے پاکستانی نوکری یا کاروبار کی خاطر چاہے جس مرضی مُلک میں رہیں مگر کسی بھی علاج یا آپریشن کیلئے پاکستان آتے ہیں۔
اسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے دُنیا بھر کے نامی گرامی ڈاکٹر پاکستانی میڈیکل کانفرنسوں میں آ کر مقامی ڈاکٹروں کو رہنمائی اور تربیت فراہم کرتے ہیں، ورنہ سرکار بتا دے گذشتہ بیس سال میں کتنی سرکاری میڈیکل کانفرنسیں ہوئیں یا کتنے پاکستانی ڈاکٹروں کو ٹریننگ کیلئے باہر بھیجا گیا۔
اسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں تزئین و آرائش اور حتی کہ مشینری تک آتی ہے جس کیلئے سرکار کے پاس فنڈ نہیں ہوتا۔
رہ گئی بات قیمتوں اور معیار کی، سرکار تو چینی اور آٹے کی قیمت کنٹرول نہیں کر سکتی عام استعمال کی قیمت کنٹرول نہیں کر سکتی مگر فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے تعاون کی وجہ سے معیاری ادویات ہر پاکستانی کیلئے کم قیمت پر دستیاب ہیں اور اس حوالے سے کمپنیوں پر الزام لگانے والے دراصل DRAP پر الزام لگاتے ہیں
کسی ایک فرد یا چند افراد کے ذاتی فعل کا الزام پوری فارما انڈسٹری اور تمام ڈاکٹروں کو دینا انتہائی نا انصافی اور بدنیتی ہے، اگر عدالتوں میں انصاف کی خرید و فروخت ہوتی ہے تو اسکا مطلب ہے وکیلوں کے عدالتوں میں داخلے پر پابندی لگا دی جائے ؟ ہر سرکاری دفتر میں رشوت ہے تو کیا وہاں لوگوں کے جانے پر پابندی لگائی جائے ؟
مقامی فارما انڈسٹری پاکستان کا فخر ہے، ہماری بڑھتی ایکسپورٹ ہمارے معیار کی ضامن ہے اور ہمارا میڈیکل ریپ اس مُلک میں جان توڑ محنت اور انسان دوستی کی علامت ہے۔ اسکی قدر کریں ورنہ لندن کا علاج آپکی پہنچ میں نہیں ہے۔
لعل محممد مہمند
صدر ایپرا پاکستان 🇵🇰
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar