Raees Muhammad
Advocate High Court at Peshawar. Constitutional, Criminal, Service, Educational Institutes, Civil & Family Laws of Pakistan.
18/06/2026
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل وقار الدین سید پر عہدے کے دوران کرپشن اور مِس کنڈکٹ کے الزامات اور ماتحت افسران کی جانب سے اعترافی بیانات و ویڈیو اعترافات پر وزیراعظم شہباز شریف نے وقار الدین سید کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دے دیا. گریڈ 21 کے ایڈیشنل سیکرٹری سلمان چوہدری کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے. چارج شیٹ بھی جاری کر دی گئی، وقار الدین سید نے تکنیکی بنیادوں پر محکمانہ انکوائری رکوانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے
ڈکی بھائی کیس میں کرپشن اور رشوت ستانی پر گرفتار ہونے اور بعدازاں استعفیٰ دینے والے این سی سی آئی اے کے افسران افسران چوہدری سرفراز (ایڈیشنل ڈائریکٹر، این سی سی آئی اے لاہور)، زوار احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر، این سی سی آئی اے لاہور) اور محمد عثمان (ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز، ہیڈکوارٹرز) نے تحریری بیانات اور ویڈیو پیغامات میں اعتراف کیا کہ وقار الدین سید نے اپنے ماتحت افسران کے ذریعے مختلف سرکل دفاتر میں مبینہ طور پر بھتہ خوری اور غیر قانونی رقوم کی وصولی کی حوصلہ افزائی کی، مختلف سرکل دفاتر میں تعینات ماتحت افسران سے تقرریوں اور دفتری امور کے حوالے سے مبینہ طور پر غیرقانونی مالی فوائد اور رشوت وصول کی، یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مختلف علاقوں میں سرگرم غیر قانونی کال سینٹرز کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کیا اور اس کے عوض ’’پروٹیکشن منی‘‘ وصول کی، جس سے ان کی دیانتداری، غیر جانبداری اور سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر سوالات اٹھے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے عائد کردہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ وقار الدین سید نے مبینہ طور پر اپنے ہم خیال افسران کو مختلف سرکل دفاتر اور آپریشنل عہدوں پر مالی اور ذاتی مفادات کے تحت تعینات کیا اور برقرار رکھا، جس سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا تاثر پیدا ہوا، مزید برآں ان پر این سی سی آئی اے کی ناقص انتظامی نگرانی اور کمزور قیادت کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ادارے کی ساکھ کو میڈیا اور عوامی سطح پر نقصان پہنچا، دستاویز میں ان کے اثاثوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، ریکارڈ کے مطابق 2002 میں ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 24 لاکھ 60 ہزار روپے تھی جو 2018 میں بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 9 لاکھ 92 ہزار روپے تک پہنچ گئی، اس غیرمعمولی اضافے کے بارے میں ان سے آمدن کے معلوم ذرائع اور قانونی حیثیت کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق مذکورہ الزامات بادی النظر میں سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، دیانتداری کے فقدان اور سرکاری ملازم کے شایانِ شان طرزِ عمل سے انحراف کے زمرے میں آتے ہیں
11/06/2026
پریس ریلیز
،ملک بھر کی ضلعی عدالتوں کی ہفتہ وار 6 دن کی ورکنگ بحال ، کفایت شعاری کے تحت لیا گیا فیصلہ واپس لے لیا گیا ، قومی عدالتی پالیسی سازی کمیٹی کا فیصلہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000